آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈین ملاحوں کی حراست کی رودادا: ’ایرانیوں نے ہمیں خطرناک مجرموں کے بیچ رکھا، رات بھر آسمان سے میزائل برستے دیکھتے تھے‘
- مصنف, محمد سرتاج عالم
- عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
گذشتہ سال 8 دسمبر کو ایرانی حکام کی طرف سے قبضے میں لیے گئے بحری جہاز ’ایم ٹی ویلیئنٹ روور‘ کے عملے کے آٹھ انڈین ارکان تقریبا ڈھائی ماہ بعد اتوار کی صبح انڈیا واپس لوٹ آئے ہیں۔
آٹھ دسمبر کو متحدہ عرب امارات کی دِبّہ بندرگاہ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں پکڑے جانے والے جہاز پر سٹاف کے کل 16 افراد سوار تھے جن میں سے آٹھ افراد کو 10 فروری کو انڈیا بھیج دیا گیا تھا لیکن باقی آٹھ 27 فروری کو رہا ہونے کے بعد بھی وہیں بے یارو مددگار پڑے رہے۔
ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کی وجہ سے کپتان سمیت بقیہ آٹھ ارکان خطے میں کشیدہ حالات کے سبب 29 مارچ کو آرمینیا کے راستے انڈیا پہنچے۔
یہ ارکان جو اپنی زندگی کی امید چھوڑ چکے تھے اب انڈیا واپسی پر نئی زندگی شروع کرنے کے منتظر ہیں۔ ان میں سے ایک تو جلد شادی کرنے والے ہیں۔
بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے عملے کے ان ارکان نے ایران میں گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والے انتہائی مشکل حالات کو بیان کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں ایسا لگا کہ اب ہم کبھی انڈیا واپس نہیں پہنچ پائیں گے۔‘
ایرانی حکام نے دبہ بندرگاہ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ایم ٹی ویلیئنٹ روور کو قبضے میں لے لیا اور اس کے عملے کے 18 ارکان کو گرفتار کر لیا، اس جہاز کو 6000 میٹرک ٹن غیر قانونی ڈیزل لے جانے کے الزام میں روکا گيا تھا۔
جہاز کے کپتان وجے نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی دبہ بندرگاہ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں جہاز اچانک فائرنگ کی زد میں آ گیا۔ بعد میں انھیں معلوم ہوا کہ ایرانی سکیورٹی فورس پاسداران انقلاب نے یہ کارروائی کی تھی۔
’پیسے، کپڑے، پاسپورٹ اور سرٹیفیکیٹ سب ضبط‘
اس کے بعد ایرانی سکیورٹی فورسز نے جہاز کو بین الاقوامی پانیوں سے ایرانی بندرگاہ بندر عباس پہنچا دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ اس دوران ایرانی حکام نے ان کے ساتھ ساتھ جہاز کے عملے کے تمام ارکان کے پیسے، سامان، موبائل فون، لیپ ٹاپ، ان کے تمام کپڑے، پاسپورٹ اور یہاں تک کہ ان کے تعلیمی سرٹیفکیٹس بھی ضبط کر لیے۔
کیپٹن وجے نے کہا: ’ہم سے کئی دستاویزات پر دستخط کرنے کو کہا گیا، لیکن ہم نے انکار کر دیا۔‘
جہاز کے عملے کے 18 ارکان میں سے 16 انڈین تھے۔ ان میں سے 10 کو جیل بھیج دیا گیا اور چھ کو 27 فروری تک ایرانی محافظوں کی کڑی نگرانی میں جہاز کے میس روم میں حراست میں رکھا گیا۔
عملے کے ارکان کا دعویٰ ہے کہ انھیں انتہائی خراب حالات میں رکھا گیا تھا۔
ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران جہاز کے سیکنڈ انجینئر راج شیکھر ڈونگا جذباتی ہو گئے۔ انھوں نے بتایا: ’راشن کی کمی کے سبب ہم نے نمک کے ساتھ چاول کھایا اور انڈسٹریل واٹر ابال کر پیا، جو پینے کے قابل نہیں تھا۔‘
دریں اثنا، عملے کے اہل خانہ نے پریشانی کے عالم میں جنوری میں دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ ہائی کورٹ نے وزارت خارجہ سے 15 جنوری تک جواب طلب کیا، جو وزارت خارجہ نے 20 جنوری کو جمع کرایا۔
جواب میں کہا گیا کہ ’وزارت خارجہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور گرفتار عملے کو قونصلر امداد فراہم کر رہی ہے۔‘
جہاز راں ستیش کے مطابق انڈین سفارت خانے نے جنوری کے دوسرے ہفتے میں قونصلر ایکسس فراہم کرائی۔
بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے ان ملاحوں نے وضاحت کی کہ قونصلر تک پہنچ ملنے سے پہلے انھیں لگا کہ وہ کبھی اپنے ملک واپس نہیں لوٹ پائیں گے، کیونکہ بہت سے افراد ایسے ہی حالات میں برسوں سے بحری جہازوں میں پھنسے ہوئے تھے۔
رہائی کے بعد کیا ہوا؟
بہر حال 10 فروری کو عملے کے آٹھ ارکان کو رہا کیا گیا اور وہ انڈیا پہنچے۔ تاہم جن لوگوں کو حراست میں رکھا گیا ان میں دہلی کے کیتن مہتا، اتر پردیش سے انیل کمار سنگھ، ہریانہ کے ستیش کمار، آندھرا پردیش کے وینکٹ راؤ اور بہار کے مسعود عالم شامل ہیں۔
انھوں نے وضاحت کی کہ ایرانی گارڈز انھیں جہاز پر واپس لے آئے، جہاں اتر پردیش کے کیپٹن وجے، آندھرا پردیش کے راج شیکھر ڈونگا اور نندکی وینکٹیش کو پہلے ہی حراست میں لیا گیا تھا۔
غیر یقینی صورتحال، خوف اور مشکلات کے درمیان عملے کے ان ارکان کو 27 فروری کی شام کو ان کا رہائی کا حکم ملا۔
رہائی کے حکم کے بعد انڈین سفارت خانے نے مداخلت کی اور عملے کے تمام آٹھ ارکان کے پاسپورٹ ایرانی گارڈز سے واپس کروائے۔ اس سے انھیں یہ احساس ہوا کہ وہ آخر کار آزاد ہو گئے ہیں، لیکن جیسے ہی رات ہوئی اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا۔
کیپٹن وجے کمار کا کہنا ہے کہ ’ریلیز آرڈر ملنے کی خوشی جنگ کی وجہ سے چند گھنٹے میں ہی ختم ہو گئی۔‘
اسرائیل-امریکہ-ایران جنگ کے ساتھ، ایران کی سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر ٹریفک روک دیا گیا، جس کی وجہ سے وہ رہائی کے بعد بھی انڈیا کے لیے روانہ نہ ہو سکے۔
’بے بسی سے اپنے اردگرد گرتے میزائلوں کو دیکھ رہے ہیں‘
ان کا جہاز بندر عباس میں ایرانی بحریہ کے اڈے کے بالکل قریب واقع تھا۔ جنگ شروع ہونے سے ہر ایک کے سامنے ایک نئی پریشانی تھی۔
کیپٹن وجے نے وضاحت کی کہ اگر وہ چاہتے تو بھی جہاز کو نہیں لے جا سکتے تھے کیونکہ ایرانی حکام نے جہاز کے تمام نیوی گیشن آلات کو پہلے ہی ہٹا دیا تھا۔
انھوں نے بتایا: ’لہٰذا، ہم نے پوری رات بے بسی میں آسمان سے گرتے میزائلوں کو دیکھتے ہوئے گزاری، وہ سب ہمارے اردگرد گر رہے تھے۔‘
کیپٹن وجے نے کہا کہ انھوں نے اپنی کمپنی کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس آگ بجھانے یا زندگی بچانے والے آلات کی کمی ہے۔ تاہم، کمپنی نے سب کو بورڈ پر رہنے کا حکم دیا۔
بی بی سی نے کیپٹن وجے کے الزامات کے حوالے سے کمپنی کے مالک جوگویندر برار سے رابطہ کیا، لیکن انھوں نے کال کا جواب نہیں دیا۔
تین مارچ کی رات انڈین سفارت خانے نے سب کو بچایا اور بندر عباس کے ایک ہوٹل میں پناہ دی۔
کیتن مہتا کا کہنا ہے کہ وہاں بھی آس پاس ملبہ دیکھ کر وہ دن بھر جاگتے رہتے اور راتیں مسلسل میزائلوں کے خوف میں گزرتی تھیں۔
چیف انجینئر انیل کمار سنگھ نے کیتن مہتا سے روکتے ہوئے کہا: ’پچاس سال کی عمر تک میں نے کبھی دکھ، درد یا خوف کا کوئی منظر نہیں دیکھا تھا۔‘
’لیکن اس سفر کا ہر لمحہ موت کا لمحہ تھا۔‘
بغیر پیسے کے دو ممالک کا سفر
انڈین عملے کے مطابق حالات ایسے تھے کہ قرب و جوار میں ہونے والے بم دھماکوں کی وجہ سے رات بھر ان کے ہوٹل کی دیواریں زور زور سے لرزتی رہیں۔
اتر پردیش کے رہنے والے انیل کمار سنگھ کا کہنا ہے کہ 3 مارچ سے 11 مارچ تک حالات بے حد خراب رہے لیکن 11 مارچ کے بعد حملے کم ہو گئے۔
15 مارچ کو انڈین سفارت خانے نے کیپٹن وجے کو اطلاع دی کہ آرمینیائی سرحد کھل گئی ہے۔
عملے کے ارکان نے دعویٰ کیا کی کہ ایرانی حکام نے ان کی گرفتاری کے وقت ان کی رقم اور کپڑے ضبط کر لیے تھے، اس لیے انھیں واپسی کے لیے رقم ادھار لینا پڑی۔
اس کے بعد انھوں نے ایک ٹیکسی لی۔ سفر کے دوران وہ بمباری کے زیر اثر ایک علاقے سے گزرے۔ انھیں آرمینیائی سرحد سے 60 کلومیٹر دور ایران کے شہر جُلفا میں رکنا پڑا۔
تین دن کے انتظار کے بعد سب کو آرمینیا کے ویزے مل گئے۔ 27 مارچ کو وہ سب آرمینیا کے دارالحکومت پہنچے اور سب نے ہوائی اڈے کے قریب ایک ہوٹل میں رات گزاری۔
وہ 28 مارچ کی شام دبئی پہنچے، جہاں سے وہ 29 مارچ کی صبح 5 بجے ممبئی پہنچے۔
عملے کے ارکان نے اطلاع دی کہ ان پروازوں کے لیے فلائٹ ٹکٹ انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل آف شپنگ کی ایما پر ہر ایک کو فراہم کیے گئے تھے۔
کیپٹن وجے کا کہنا ہے کہ ’ایرانی حراست کے دوران، کمپنی کے مالک جہاز کے تمام اخراجات کے ذمہ دار تھے، جن میں کھانا پینا، ضروری سامان، وکلا، ہوٹل، کیب، اور ہماری سکیورٹی شامل تھی۔ لیکن ان کا جواب نہ دینا ہمارے لیے مایوس کن تھا۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ انڈین سفارت خانے کی مداخلت کی وجہ سے کمپنی نے صرف بندر عباس میں ہوٹل کے اخراجات پورے کیے جبکہ سفارت خانے نے جولفا میں ہوٹل کے اخراجات اٹھائے تھے۔ عملے نے آرمینیا پہنچنے کے بعد ہوٹل کے اخراجات ادا کیے۔
کیپٹن وجے سے اتفاق کرتے ہوئے مسعود عالم کہتے ہیں: ’ہم تمام عملے کے ارکان کو کئی مہینوں سے تنخواہ نہیں ملی، مجھے بتاؤ، ہم دوبارہ اس کمپنی کے جہاز پر سوار ہونے کی ہمت کیسے کریں گے؟‘
خطرناک مجرموں کے ساتھ قید سے لے کر شادی کی تیاریوں تک
مسعود کا خیال ہے کہ یہ سفر ایک حقیقت ہے جس سے نکل پانا بہت مشکل ہو گا۔
وہ دعویٰ کرتے ہیں: ’ایرانیوں نے ہمیں عصمت دری، منشیات کی سمگلنگ اور قتل جیسے سنگین جرائم کے مرتکبوں کے درمیان رکھا۔ یہ بہت تکلیف دہ تھا، کیونکہ ہم سب بے قصور تھے۔ ہم اسے کبھی نہیں بھول سکتے۔ کمپنی اس کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ہے۔‘
تاہم انڈیا واپس آنے کے بعد یہ تمام افراد کافی راحت محسوس کررہے ہیں۔
مسعود کی شادی عید کے بعد ہونی تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ شادی خطرے میں پڑ جائے گی، لیکن اب امید اور جوش لوٹ آیا ہے۔
شادی کی نئی تاریخ طے کی جا رہی ہے، اور ان کے گھر پر نئے سرے سے تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔
بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے مسعود کے بہنوئی نے خوشی کا اظہار کیا اور بتایا کہ ان دنوں ہر کوئی شادی کی خریداری میں مصروف ہے۔