آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فیفا ورلڈکپ: بوسہ لینے کی کوشش پر خاتون صحافی برہم
ایک برازیلی سپورٹس رپورٹر کو لائیو کوریج کے دوران اس وقت ایک شخص سے لڑنا پڑا جب اس نے ان کا بوسہ لینے کی کوشش کی۔
یہ واقعہ روس میں جاری فٹبال ورلڈ کپ میں جاپان اور سینیگال کے درمیان ہونے والے میچ کے دوران پیش آیا۔
جولیا غیمارائس اتوار کو جاپان اور سینیگال کے میچ کی براہ راہست رپوٹنگ کر رہی تھیں جب ایک شخص ان کی جانب بڑھا اور ان کو بوسہ دینے کی کوشش کی۔
خاتون صحافی اس شخص کی اس حرکت سے خود کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہیں اور اس کی سخت الفاظ میں مزمت کی۔
انھوں نے اسے کہا کہ 'ایسا پھر کبھی مت کرنا۔ کبھی نہیں۔ میں نے تمھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ نہ تو صحیح ہے اور نہ ہی مہذب۔ عورتوں کی عزت کرنا سیکھو'۔
اس شخص کو ویڈیو میں معافی مانگتے سنا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیے
ٹی وی گلوبو اور سپورٹ ٹی وی کے لیے کام کرنے والی جولیا غیمارائس نے کہا کہ ان کے ساتھ برازیل میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ لیکن روس میں ان کے ساتھ ایسا دو بار ہوچکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس واقعے کے بعد انھوں نے گلوبل سپورٹے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خوفناک واقعہ تھا اور وہ بے بس اور کمزور محسوس کر رہی تھیں۔
'میں نے تو اس بار اس شخص کو جواب دے دیا لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ لوگ ایسی حرکت کرنا ٹھیک کیوں سمجھتے ہیں'
یاد رہے کہ مارچ میں برازیل سے تعلق رکھنے والی متعدد خاتون سپورٹس رپوٹروں نے ایک ویڈیو بنائی تھی جو انھیں ہراساں کیے جانے کے مسئلے کے بارے میں تھی۔
یہ ویڈیو DeixaElaTrabalhar # نامی مہم کا حصہ تھی اور اس کا مطلب ہے 'اسے کام کرنے دو'۔
گذشتہ ہفتے کولمبیا سے تعلق رکھنے والی نامہ نگار جولیتھ گونزیلز تھریان جرمن ٹیلی ویژن ایسپینل کے لیے ماسکو میں ٹی وی کیمرے کے سامنے کھڑی تھیں جب ایک شخص نے زبردستی انھیں دبوچ کر بوسہ لیا۔
وہ خاتون صحافی اپنی نشریات کے دوران شائقین کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے مسئلے پر بات کر رہی تھیں۔