ناک میں پایا جانے والا جرثومہ جو معمولی زخم سے ہڈیوں تک پہنچ کر جسم کو مفلوج کر سکتا ہے

    • مصنف, اولیویا گرسٹ
    • عہدہ, بی بی سی ویلز
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

ویلز کے ایک بین الاقوامی رگبی کھلاڑی کو ناک پر ایک بظاہر معمولی چوٹ لگی لیکن اس کے بعد ان کا نہ صرف 15 پاؤنڈ وزن کم ہو گیا اور بلکہ وہ بستر سے لگ گئے۔

یہ چوٹ جنوری میں اس وقت لگی جب 32 سالہ سیم ڈیوس گرینوبل کے لیے کھیل رہے تھے۔ شدید خون بہنے کے باوجود وہ کھیلتے رہے۔

چند ہفتوں بعد ڈاکٹروں نے دریافت کیا کہ انھیں سٹیف انفیکشن ہو گیا ہے۔ جو سٹیفیلوکوکس نامی جرثومے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

یہ جرثومہ ہر تین میں سے ایک شخص کی ناک میں پایا جاتا ہے اور کسی زخم کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔

جب سیم ڈیوس میں اس کی تشخیص ہوئی اس وقت تک انفیکشن ان کی ہڈیوں تک پھیل چکا تھا، جس کی وجہ سے ان کی ٹانگوں میں احساس ختم ہو گیا اور وہ شدید درد میں مبتلا ہو گئے۔

اگرچہ علاج انفیکشن کو قابو میں لا رہا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ کب دوبارہ کھیل سکیں گے۔

سیم ڈیوس کہتے ہیں کہ ’میرے لیے مثبت بات یہ ہے کہ میں بہتر ہوں، میں چل پھر رہا ہوں۔ میں اس مقام سے آیا ہوں جہاں میں بالکل چلنے کے قابل نہیں تھا، اور اب میں چل پھر سکتا ہوں اور روزمرہ کے کام کر سکتا ہوں۔ میرا پہلا مقصد یہی تھا کہ معمول کی زندگی میں واپس آؤں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’اب میں روزمرہ کی زندگی کے لحاظ سے معمول پر ہوں۔ بس مجھے دوبارہ رگبی کے پروٹوکول میں واپس آنا ہے۔‘

مائیکرو بایولوجسٹ ڈاکٹر سارہ ہوپر نے کہا کہ ڈیوس کا ’شدید‘ کیس تشخیص کرنا مشکل تھا کیونکہ اس کی علامات ’کافی مبہم‘ تھیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ انفیکشن علاج کے لیے زیادہ مشکل تھا کیونکہ یہ جسم میں پھیل چکا تھا۔‘

عام طور پر، اس انفیکشن والے لوگوں کو دردناک گلٹیاں، چھالے یا سوجی ہوئی جلد ہوتی ہے لیکن ڈیوس میں کوئی واضح علامات نہیں تھیں، اور ان کے پاؤں پر جلنے جیسے نشانات تب ظاہر ہوئے جب انفیکشن نے جڑ پکڑ لی تھی۔

اپنے بدترین مرحلے میں، اس انفیکشن نے انھیں صوفے سے اٹھنے یا نہانے کے قابل بھی نہ چھوڑا۔ لیکن اب وہ آہستہ آہستہ زندگی کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں۔

سوانزی میں پیدا ہونے والے ڈیوس کو 2013 میں دنیا کے بہترین جونیئر کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا تھا، جب انھوں نے ویلز کو انڈر-20 ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچانے میں مدد کی۔

انھوں نے اپنا پیشہ ورانہ کیریئر اوسپریز کے ساتھ شروع کیا، پھر نیوپورٹ میں قائم ڈریگنز کے لیے کھیلا اور ویلز کے لیے آٹھ میچوں میں نمائندگی کی۔

ڈیوس کا کہنا تھا کہ ’یہ ذہنی اور جسمانی طور پر بہت مشکل چند ماہ رہے ہیں۔ میں سب سے بنیادی کام بھی نہیں کر پا رہا تھا، اس لیے ایسا لگتا تھا جیسے میری بیوی کے پاس دو بچے ہیں۔‘

واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے ڈیوس نے کہا کہ ’کھیل کے تقریباً 50 منٹ کے بعد مجھے ایک سخت چوٹ لگی۔ ناک ٹوٹی نہیں تھی، لیکن اندرونی حصہ بری طرح متاثر ہوا تھا، خون مسلسل بہہ رہا تھا۔ مجھے لگا کہ یہ ٹھیک ہو جائے گا کیونکہ یہ صرف ایک دھچکے جیسا محسوس ہو رہا تھا۔‘

شدید خون بہنے اور ناک کی ہڈی ٹیڑھی ہونے کے باوجود، ڈیوس کھیلتے رہے۔

وہ ابھی چار ماہ کے کندھے کی انجری کے بعد میدان میں واپس آئے تھے، اس لیے کھیل جاری رکھنے کے خواہشمند تھے۔

انھوں نے میچ مکمل کیا، لیکن چند دن بعد انھیں طبیعت خراب محسوس ہونا شروع ہوئی۔

سیم کی اہلیہ ایلیانا نے بتایا کہ میچ کے چند دن بعد ڈیوس کو کولہوں میں اکڑن ہونے لگی اور بنیادی حرکات کرنے میں دشواری پیش آنے لگی۔

ابتدائی طور پر انھوں نے سوچا کہ یہ کھیل کی وجہ سے ہے، کیونکہ ان کا کردار آؤٹ سائیڈ ہاف کا ہے، جس میں ہاتھ سے اور پاؤں سے بہت زیادہ ککنگ شامل ہوتی ہے اور ڈیوس گرینوبل کے مرکزی گول ککر بھی ہیں۔

ایلیانا نے کہا ’سیم نے مجھے صبح تقریباً 4 بجے خوفزدہ کر کے جگایا کیونکہ وہ اپنی ٹانگیں حرکت نہیں دے پا رہا تھا، اور اس نے مجھ سے ایمبولینس بلانے کو کہا۔‘

تاہم وہ فون پر ایمرجنسی سٹاف کو ڈیوس کی حالت کی سنگینی سمجھانے میں مشکل محسوس کر رہی تھیں، اس لیے انھیں تقریباً 84 کلوگرام وزنی ڈیوس کو کار تک لے جانے میں مدد کرنا پڑی۔

پھر وہ انھیں فوراً ہسپتال لے گئیں۔

اگرچہ ڈیوس کچھ فرانسیسی بولتے ہیں، لیکن وہ یہ سمجھانے میں مشکل محسوس کر رہے تھے کہ وہ کتنے شدید درد میں ہیں۔ وہ آٹھ دن ہسپتال میں رہے اور پھر ٹیسٹ کروائے۔

ان ٹیسٹوں میں سٹیفیلوکوکس کے آثار ظاہر ہوئے، لیکن انھیں صرف درد کم کرنے کی دوا دے کر گھر بھیج دیا گیا۔

دو ہفتے بعد جا کر انفیکشن کی تصدیق ہوئی اور اس وقت تک یہ ان کی ہڈیوں تک پھیل چکا تھا۔

سٹیف انفیکشن کیا ہے؟

پبلک ہیلتھ ویلز کے مطابق سٹیف انفیکشن ایک بیکٹیریا سے ہونے والا انفیکشن ہے جو سٹیفیلوکوکس کہلاتا ہے یہ جرثومہ ہر تین میں سے ایک شخص کی ناک میں پایا جاتا ہے۔

یہ جسم میں کسی کٹ یا زخم کے ذریعے داخل ہو سکتا ہے۔

سٹیف انفیکشن کی علامات میں شامل ہو سکتی ہیں:

  • دردناک سرخ گلٹی یا ابھار
  • سرخ اور سوجی ہوئی جلد
  • زخم، پپڑی یا چھالے
  • سرخ اور دردناک پلکیں یا آنکھیں

زیادہ تر معاملات میں، اس کا علاج اینٹی بایوٹکس سے کیا جا سکتا ہے۔

تاہم، اگر علاج نہ کیا جائے تو یہ انفیکشن زیادہ سنگین ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر بیکٹیریا جسم کے اعضا، خون یا ہڈیوں تک پھیل جائے۔

کارڈف سکول آف اسپورٹ اینڈ ہیلتھ سائنسز میں مائیکرو بایولوجی اور انفیکشن کی ریڈر ڈاکٹر سارہ ہوپر نے کہا کہ ڈیوس جیسا شدید کیس عام نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر ہوپر کا کہنا ہے کہ ’کچھ مطالعات میں مصنوعی گھاس پر موجود بیکٹیریا کی اقسام کا جائزہ لیا گیا ہے اور عام طور پر وہاں جو جراثیم پائے جاتے ہیں وہ انسانی ماخذ کے ہوتے ہیں، یعنی جلد، پسینے یا تھوک سے۔ سٹیفیلوکوکس دونوں میں عام طور پر پایا جاتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مصنوعی گھاس پر کھلاڑیوں سے جراثیم منتقل ہو سکتے ہیں، اور یہ بیکٹیریا کئی دن تک وہاں زندہ رہ سکتے ہیں۔ اس قسم کے گھاس نما قالین پر اکثر جلنے جیسے زخم ہو جاتے ہیں، اور چونکہ جلد پھٹ جاتی ہے، اگر بیکٹیریا پہلے سے موجود ہوں تو وہ اسی راستے سے جسم میں داخل ہو کر انفیکشن پیدا کر سکتے ہیں۔‘

ڈیوس کا پیلوک سکین ہونے والا ہے اور انھیں مزید طاقتور اینٹی بایوٹکس کی ضرورت پڑ سکتی ہے، کیونکہ ان کے آرتھوپیڈک سرجن کا خیال ہے کہ جسم میں اب بھی کچھ بیکٹیریا موجود ہو سکتے ہیں۔

ڈیوس نے کہا ’میں دوبارہ کھیلوں گا، یہ کیریئر ختم کرنے والی بات نہیں ہے۔ لیکن میرے ذہن میں یہ بھی آتا ہے کہ یہ کتنا لمبا چل سکتا تھا؟ یہ واقعی مزید پھیل سکتا تھا اور پھر میرا کیریئر خطرے میں پڑ جاتا۔