تحریک انصاف کی ساری توجہ پنجاب پر

تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ 30 ستمبر کو رائیونڈ تک مارچ کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتحریک انصاف کے رہنما عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ 30 ستمبر کو رائیونڈ تک مارچ کریں گے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سڑکوں پر آ کر احتجاج کرنے پر راضی نہیں ہے اور متحدہ قومی موومنٹ اس وقت اپنی تنظیمی مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ ایسے میں تحریکِ انصاف نے پہلے انتخابات میں دھاندلی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اب پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔

تحریک انصاف نے پہلے تو ’تحریک احتساب‘ کے نام سے پشاور، راولپنڈی اور لاہور میں ریلیاں نکالی اور اب وہ 30 ستمبر کو وزیراعظم نواز شریف کی رہائش گاہ رائیونڈ میں جاتی عمرہ تک مارچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

لیکن کیا تحریک انصاف حکومت کے لیے حقیقی اپوزیشن کا کرادر ادا کرتے ہوئے اُسی کے انتخابی گڑھ پنجاب پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر رہی ہے؟

سیاسی تجزیہ کار اور سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے آپ کو اپوزیشن جماعت کے طور پر منوایا ہے اور یہی وجہ ہے بعض قومی مسائل پر واضح موقف ظاہر کرنے پر عمران خان کو عوامی پذایرائی بھی ملی ہے۔

اسی عوامی پذیرائی کو بنیاد بناتے ہوئے تحریک انصاف کی نظریں اور تمام تر توجہ حکومت کے مرکز پنجاب پر مرکوز ہے اور سندھ یا ملک کے دوسرے علاقے اُن کی توجہ کا مرکز نہیں ہیں۔

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاست کی ساخت ایسی ہے کہ جو پنجاب میں جیتے گا وہی مرکز میں حکومت بنائے گا ’اسی لیے پاکستان تحریک انصاف جانتی ہے کہ حکومت بنانے کے لیے انھیں پنجاب میں جیتنا ہو گا۔‘

کوئی بھی سیاسی جماعت اپنی حکمتِ عملی آئندہ ہونے والے انتخابات کو مدنظر رکھ کر بناتی ہے لیکن اب جبکہ عام انتخابات میں دو سال کا وقت باقی ہے ایسے میں تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل، سیاسی کارکنوں کو منظم کرنا، ناراض دھڑوں سے مذاکرات شاید جماعت کے قائد عمران خان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق ’انتخابات میں ہم پلہ مقابلے یا کامیاب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ پی ٹی آئی پہلے پولنگ سٹیشن کے انتظامی اُمور، بڑے رہنماؤں کے دمیان اختلافات، پارٹی کی تنظیم سازی اور الیکٹورل مشینری کو بہتر بنائے۔ ووٹ تو انھیں ملیں گے کیونکہ یہی واحد متبادل ہیں لیکن جیتنے کے لیے انھیں اپنی مینجمنٹ بہتر کرنا ہو گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty

دوسری جانب پنجاب میں تحریک انصاف کے تمام تر زور کے باجود بھی ضمنی انتخابات میں انھیں کامیابی نہیں ملی بلکہ اُن نشستوں پر بھی انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جہاں سے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو برتری حاصل ہوئی تھی۔

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’پی ٹی آئی دھرنوں پر زیادہ توجہ دیتی ہے لیکن الیکٹورل سیاست پر اُن کی توجہ کم ہے پر اور اُنھیں اس کا تجربہ بھی اتنا زیادہ نہیں ہے۔

پنجاب کی سیاست پر نظر ڈالی جائے تو بظاہر لگتا یہ ہے کہ یہاں صرف پی ٹی آئی اور پی ایم ایل این ہی سرگرم ہیں جبکہ ماضی کی طرح اب پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ق کی جگہ بنتی دکھائی نہیں دے رہی۔

سینیئر صحافی فرخ سعید خواجہ اس بات سے متفق ہیں کہ پی ٹی آئی پنجاب میں دوسری بڑی جماعت ہے اور ضمنی انتخابات میں گو کہ وہ کامیاب نہیں ہوئے لیکن اُن کے امیدوار دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ لینے والے اُمیدوار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’2013 کے انتخابات میں پی ٹی آئی قومی اسمبلی تیسری بڑی جماعت بنی، پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف ان کا ہے اور کے پی کے میں حکومت ہے۔ اگر یہ اپنی تنظیم سازی کرتے، کارکردگی بہتر بناتے اور پارلیمانی سیاست کرتے تو یقینی طور پر اگلے انتخابات میں پی ٹی آئی کے حکومت بنانے کے امکانات بڑھ جاتے لیکن یہ مواقعے انھوں نے کسی حد تک ضائع کر دیے ہیں۔‘

فرخ سعید خواجہ کے مطابق پنجاب کی سطح پر آئندہ انتخابات میں مقابلہ مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی ہے لیکن اگر لوڈ شیڈنگ ختم ہوتی ہے، ترقیاتی منصوبے مکمل ہو جاتے ہیں تو ممکنہ طور پر نواز لیگ واضح اکثریت سے جیتے گی۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں پنجاب کی 115 نشستیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف نے بھی پنجاب کو اپنا سیاسی ہدف بنایا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دھرنوں اور ریلیوں کی سیاست پی ٹی آئی کے لیے کارگر ثابت ہوئی ہے لیکن برادری اور علاقائی نظام پر مبنی سیاسی نظام میں کامیاب جلسوس کے انعقاد کے مقابلے میں الیکٹورل نظام کو سمجھ کر حکمتِ عملی بنانا زیادہ اہم ہے۔

اس لیے تحریک انصاف کو بھی سیاسی پختگی اور تنظیم کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔