طورخم پر دستاویزات کی پابندی، 1135 داخل ہو سکے

مطالعے کا وقت: 2 منٹ

پاکستان میں حکام نے افغان سرحد پر طورخم کے مقام پر سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے سرحد پار آنے جانے والوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہو رہی ہے۔

پاکستان کے حکام نے پیر کو طورخم سرحد پر اعلانات کر کے مطلع کر دیا تھا کہ منگل سے صرف وہ افراد سرحد عبور کر سکیں گے جن کے پاس مکمل دستاویزات ہوں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق افغانستان جانے کے لیے سرحد پر موجود پاکستانی شہریوں کے ویزے بھی سختی سے چیک کیے جا رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق طورخم سے روزانہ 10 سے 15 ہزار افراد سرحد عبور کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایک اندازے کے مطابق طورخم سے روزانہ 10 سے 15 ہزار افراد سرحد عبور کرتے ہیں

طورخم سرحد پر خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل تحصیلدار غنچہ گل نے بی بی سی کو بتایا کہ سرحد پر صرف ان لوگوں کو افغانستان سے پاکستان آنے کی اجازت دی جاری تھی جن کے پاس پاسپورٹ ہوں یا پھر سفری دستاویزات یعنی راہداری پاس۔

ان کا کہنا تھا کہ شنواری قبائل جو آدھا پاکستان اور آدھا افغانستان میں ہے ان کے پاس راہداری پاس ہوتے ہیں جن پر ان کو سرحد عبور کرنے کی اجازت دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ بدھ کے روز طورخم سرحد سے 1135 افغان پاکستان میں داخل ہوئے جن کے پاس پاکستان کے ویزے موجود تھے جبکہ 1264 افغان باشندے پاکستان سے افغانستان گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے پاکستان 50 پاکستانی آئے جبکہ پاکستان سے افغانستان جانے والے پاکستانیوں کی تعداد 69 رہی۔

نامہ نگار نے بتایا کہ پاکستانی حکام افغانستان سے پاکستان آنے والوں کے دستاویزات کی سختی سے چیکنگ کر رہے تھے۔ پاکستان سے افغانستان جانے والوں کی چیکنگ سخت نہیں تھی کیونکہ افغانستان نے مکمل دستاویزات کی پابندی عائد نہیں کی ہوئی۔

پاکستان آنے والے زیادہ تر افغان علاج کے لیے پشاور آتے ہیں اور انھیں ڈاکٹر کی ہدایات پر یا راہداری کارڈ ہونے پر سرحد عبور کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تاہم اب ان کے لیے پاسپورٹ اور ویزہ لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

نامہ نگار کے مطابق ماضی میں بھی شدت پسندی کے واقعات اور سرحد کے قریب فوجی کارروائیوں کے دوران سرحد کو بند کر دیا جاتا تھا تاہم اتنی زیادہ سختی پہلی بار دیکھنے میں آئی ہے۔

اس سے پہلے اپریل میں بھی پاکستانی حکام نے سفری دستاویزات کی سخت چیکنگ کا سلسلہ شروع کیا تھا اور حکام نے افغانستان سے غیر قانونی طور پر خفیہ راستوں سے پاکستان داخل ہونے کی کوششوں کو روکنے کے لیے طورخم سرحد پر باڑ کی تنصیب کا کام شروع کیا گیا تھا۔

تاہم رواں ماہ ہی باڑ کی تنصیب پر دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہو گئے تھے جس کی وجہ سے سرحد چار دن تک بند رہی تھی۔

13 مئی کو پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر زخیلوال اور پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے درمیان ملاقات میں سرحد کھولنے پر اتفاق ہوا۔

اس پیش رفت کے تقریباً ایک ہفتے بعد 22 مئی کو پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان کے ساتھ ملنے والی پاک افغان سرحد پر قائم انگور اڈا کی چیک پوسٹ افغان حکام کے حوالے کر دی تھی تاہم افغان حکام نے چیک پوسٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اسے دونوں طرف سے آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔