آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’بلیک لائیوز میٹر‘: انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے میچ کے دوران مائیکل ہولڈنگ اور ناصر حسین کی نسلی تعصب پر بات اور سوشل میڈیا پر ردعمل
کورونا وائرس کی وبا کے باعث رکے بین الاقوامی کرکٹ سیزن کا برطانیہ میں آغاز ہو چکا ہے اور بدھ سے انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز شروع ہوگئی ہے۔
حالانکہ یہ بین الاقوامی سطح پر مارچ کے بعد سے پہلا باقاعدہ ٹیسٹ میچ ہے لیکن شائقین گراؤنڈ سے غائب ہیں۔کورونا وائرس کا زمانہ ہے اسی لیے سٹیڈیم بھی حسب توقع خالی ہیں۔
دھ کو جب کھیل کا آغاز ہوا تو معلوم ہوا کہ کھلاڑیوں کے ذہنوں پر کورونا کی وبا کے ساتھ ساتھ نسلی تعصب کے خلاف بین الاقوامی مہم ’بلیک لائیوز میٹر‘ بھی چھائی ہوئی ہے۔
کھیل کے آغاز پر جب دونوں ٹیمیں پچ پر اتریں تو ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کو ایک ہاتھ میں کالا دستانہ پہنے دیکھا جا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے سیاہ فام افراد کے ساتھ پیش آنے والے امتیازی سلوک اور نسل پرستی کے خلاف گھٹنا ٹیک کر کھیل کا آغاز کیا۔ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں نے اپنا ایک ہاتھ اٹھا کر ’بلیک پاور سلوٹ‘ بھی کیا۔
یہ سب امریکہ میں چھ ہفتے قبل سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی پولیس حراست کے دوران ہلاکت اور اس کے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر میں ہونے والے عوامی مظاہروں کی گونج تھی اور جب بارش کی وجہ سے کھیل رکا تو کامنٹری کرنے والے ماہرین کی باتوں کا موضوع بھی اس بنا پر طے ہوا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرکٹ میں نسلی تعصب کی باتیں نئی نہیں ہیں کیونکہ یہ کھیل بھی برطانوی سامراج کی وجہ سے پھیلا۔ یہ وہی سامراج ہے جس نے افریقہ میں لوگوں کو غلام بنا کر انھیں یورپ اور امریکہ جیسے دور دراز علاقوں تک لے جا کر فروخت کیا اور برصغیر پر دو سو سال تک راج کیا۔
زمبابوے ہو یا جنوبی افریقہ، آسٹریلیا ہو یا سری لنکا، تقریباً ہر کرکٹ کھیلنے والا ملک کسی نہ کسی وقت میں برطانوی راج کے سائے میں رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس کھیل میں سامراج اور اس زمانے کے سفید فام افراد کا دیگر نسلوں کے خلاف تعصب نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وہ بات تھی جو کرکٹ کے مایہ ناز کمنٹیٹرز، سابق ویسٹ انڈین فاسٹ بولر مائیکل ہولڈنگ اور انگلینڈ کی ٹیم کے سابق کپتان ناصر حسین نے اس ویڈیو میں کی ہیں، جو اب تک پاکستان کیا، پوری دنیا میں وائرل ہو چکی ہے۔
بات شروع تب ہوئی جب ہولڈنگ سے یہ پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اپنے کیرئیر میں کبھی اس طرح کے تعصب کا سامنا کیا۔ اگرچہ ان کا کہنا تھا کہ پوری زندگی جمیکا میں گزارنے کے باعث شاید انھیں اس طرح کا تعصب نہیں دیکھنے کو ملا جس کے خلاف بلیک لائیوز میٹر کی مہم چلائی جا رہی ہے۔
تاہم اگلے چند منٹ میں انھوں نے اس معاملے کو اتنی خوبصورتی سے کوزے میں بند کیا کہ لوگ تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔۔
ان کا خیال ہے کہ تاریخ کے بارے میں تعلیم کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے مثال کے طور حضرت عیسی کی نیلی آنکھوں اور گوری رنگت کے ساتھ تصاویر کا حوالہ دیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے انسانی ارتقا اور سائنسی پیشرفتوں میں سیاہ فام افراد کے کردار کو نظر انداز کرنے کی بات بھی کی۔ انہوں نے اساتذہ اور پولیس والوں میں سیاہ فام بچوں اور افراد کے بارے میں پہلے سے پائے جانے والے تعصب کا بھی تذکرہ کیا۔
اس کے بعد جب یہی سوال انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین سے پوچھا گیا تو ان کا جواب بھی شائقین کے لیے کوئی کم متاثرکن نہ تھا۔
انہوں نے لندن میں گزارے جوانی کے دنوں کا ذکر کیا اور ایک انڈین باپ اور انگریز ماں کی اولاد ہونے کے ناطے اپنے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کا حوالہ دیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سیاہ فام افراد کے ساتھ اب تک جو ہوتا رہا ہے اس کے مقابلے میں انھوں نے جو کچھ دیکھا، وہ کچھ بھی نہیں ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ اس مسئلے کو پہچانا جائے اور اس سے نمٹا جائے۔‘
یہ ویڈیوز سکائی سپورٹس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ ہونے کے بعد سینکڑوں بار ری ٹیویٹ اور شیئر ہوئی ہیں اور اس معاملے پر سوشل میڈیا پر اچھی خاصی بحث بھی شروع ہوگئی ہے۔
انڈین نژاد برطانوی موسیقار نتن شوانی نے بھی دونوں کرکٹ لیجنڈز کے تبصروں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بچپن میں مائیکل ہولڈنگ کو بولنگ کرتے دیکھ کر ان کا سانس رک جاتا تھا اور ان کی نسل پرستی کے حوالے سے باتیں سن کر انھیں وہی احساس ہوا۔
جنوبی ایشیا کی بات کی جائے تو انڈین ٹوئٹر نے بھی اس پر ردعمل کا اظہار کیا اور مائیکل ہولڈنگ کی ’صاف گوئی‘ اور تبصرے کو سراہنے کے ساتھ ساتھ کئی لوگوں نے یہ بھی پوچھا کہ وہ دن کب آئے گا جب انڈین کرکٹ کے ستارے بھی اسی طرح ذات اور مذہب کی بنا پر ہونے والے تعصب کے بارے میں ایسے ہی کھل کر بات کریں گے اور اپنے مؤقف کو واضح کریں گے۔
ٹوئٹر صارف ٹی ایم کرشنا نے ٹویٹ میں کہا ’اس دن کا انتظار ہے جب گواسکر، منجریکر، ڈراوڈ، شاستری اور تندولکر جیسے لوگ اسی طرح کھل کر ذات پات، انڈیا میں دلتوں کی جدو جہد اور اس میں اپنے کردار پر بات کریں گے۔‘
اس پر ایک اور صارف نے جواب دیا کہ ’ایسا نہیں ہوگا۔ یہ تو تب بھی کچھ نہیں بولے جب ان کے قریبی ساتھیوں کو نسلی یا مذہبی تعصب کا نشانہ بنایا گیا، جیسا کہ ڈیرن سیمی اور عرفان پٹھان کے ساتھ جو ہوا۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ڈیرن سیمی نے ایک ویڈیو جاری کر کے اپنی آئی پی ایل ٹیم ’سن رائزرس حیدر آباد‘ کے ساتھی کھلاڑیوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہاں ان کے لیے ایک لفظ استعمال کیا جاتا تھا جس کے بارے میں انھیں بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا مطلب اچھا نھیں اور وہ نسلی تعصب کے زمرے میں آتا ہے۔