آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان: جب برف باری میں تفریح ایک بھیانک خواب بن گئی
- مصنف, دانیال آدم خان
- عہدہ, صحافی
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
برف باری ایک ایسا قدرتی امر ہے جس سے دنیا بھر کے لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں اور اسے براہ راست دیکھنے کے لیے لوگ جوق در جوق میدانی علاقوں سے پہاڑوں تک کا سفر کرتے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے انتباہ کے باوجود سیاحوں نے گذشتہ ہفتے پاکستان کے شمالی علاقوں کا رخ کیا تاہم کئی لوگوں کے لیے یہ تفریحی دورہ بہت جلد بھیانک خواب میں بدل گیا جب ان کی گاڑیاں گھنٹوں تک شدید برفباری میں پھنسی رہیں۔
کراچی سے آنے والے کوہ پیما عمر احسن ان سیاحوں میں سے ایک تھے۔
وہ اپنے تین ساتھیوں سمیت نتھیا گلی کے قریب مُشکپوری نامی چوٹی کو سر کرنے کے ارادے سے آئے تھے لیکن رات آٹھ بجے ان کی جیپ توہید آباد کے گاؤں میں پھنس گئی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’وہاں پہلے سے ایک گاڑی رکی ہوئی تھی جس کے مالک اسے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اتنی شدید برفباری میں ہماری گاڑی بھی پھنس گئی اور بھرپور کوششوں کے باوجود بھی ہم اس کو نکال نہ سکے۔‘
عمر کے مطابق ’آہستہ آہستہ ہمارے پیچھے تقریباً 13 اور گاڑیاں جمع ہو گئیں، جن میں اکثر لوگ خاندان اور بزرگوں سمیت تھے۔ ہم نے اتر کر گاڑی کو دھکے لگائے اور رسیوں کا استعمال بھی کیا لیکن سٹرک پر پہلے سے پڑی برف کے اوپر مزید برف گرنے کی صورت میں ہم کچھ نا کر سکے۔ 11 بجے جا کر میں نے کسی کو فون کر کے مد مانگنے کا سوچا۔‘
ان حالات میں پھنسے عمر نے اپنی وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی جس میں وہ کہتے ہیں 'یہاں موسم نقطۂ انجماد سے نیچے ہے۔ ہمارے پاس پیٹرول بہت کم رہ گیا ہے اور یہاں کافی خاندان پھنسے ہوئے ہیں۔'
اس وڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ڈی جی آئے ایس پی آر نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا 'نتھیا گلی میں توہید آباد کے قریب لاچار سیاحوں کی میڈیا کے ذریعے رپورٹس سن کر فوج اور پی اے ایف کی ریسکیو ٹیم کو سیول انتظامیہ کی امداد کرنے بھیجا جا رہا ہے۔ ان کے پاس دوائیاں اور کھانے کی اشیا موجود ہیں۔ سڑک تیز برفباری اور خراب گاڑیوں کی وجہ سے بند ہے لیکن راستہ صاف کیا جا رہا ہے۔'
عمر کہتے ہیں منگل کی رات 12 بجنے کے بعد ان کو سیاست دانوں کے فون بھی آنا شروع ہو گئے اور صبح تین بجے برف میں سے راستہ کاٹتے ہوئے فوجی جوان، فضائیہ اور ریسکیو 1122 کے اہلکار، عمر اور ان کے ساتھیوں تک پہنچے۔ 'ایک ایک کر کے ہم نے خواتین، بچوں اور بزرگوں کو بھجوانا شروع کیا۔ ایک ایکسکویٹر بھی برف ہٹانے کے لیے موقعے پر پہنچا لیکن کچھ کیے بغیر ہی اس کا ٹائر پھٹ گیا۔'
عمر کہتے ہیں کہ کالا باغ کے فضائیہ بیس تک پہنچتے دوپہر کے 12 بج چکے تھے کیونکہ ہر چند قدم ان کو رک کر سڑک سے برف صاف کرنی پڑی۔ ریسکیو ٹیم نے ان سیاحوں کو محفوظ مقام تک پہنچا کر تمام ٹریفک کے لیے سڑک بند تو کر دی لیکن گذشتہ رات سے پھنسی ہوئی زیادہ تر گاڑیاں اپنی جگہ پر کھڑی ہی رہ گئیں۔
عمر کا کہنا ہے کہ اگر مقامی انتظامیہ نے سیاحوں کو آنے سے روکنا تھا تو ان کو سڑک بند کر دینی چاہیے تھی۔ 'ہمارے راستے میں نا کوئی رکاوٹ تھی اور نا کوئی روکنے والا بلکہ ہم تو پولیس والوں سے راستہ پوچھ پوچھ کر آئے ہیں۔'
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کے ترجمان احسن حمید نے کہا 'ہم نے تین دن پہلے سے شدید برفباری کی پیش گوئی سن کر نوٹس کے ذریعے اطلاع عام کر دی تھی۔ کل جو گاڑیاں یہاں پھنسی ہوئی تھیں ان سب کو سفر کرنے سے منع کیا گیا تھا لیکن مری اور ایبٹ آباد کے درمیان 56 کلومیٹر کے راستے پر ہر گاڑی پر نظر رکھنا ممکن نہیں ہے۔'
احسن کا کہنا ہے ’تین فٹ برف میں اگر ایک بھی گاڑی پھنس جائے تو پیچھے سے کسی کا بھی آگے نکلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ رات کے وقت یا پھر صبح سویرے جب سڑک پر برف جمی ہوتی ہے تو گاڑیوں کے 15 یا 20 فٹ پھسلنے کا خطرہ ہوتا ہے، خاص طور پر آٹومیٹک گاڑیوں کا۔‘
سرد موسم کی شدت نے پاکستان کے بیشتر شمالی علاقوں میں مقامی لوگوں اور سیاحوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دیں ہیں۔ گذشتہ ہفتے شروع ہونے والی برفباری چند روز میں گلیات، سوات، دیر بالا اور شانگلہ میں کئی فٹ تک پڑی، جبکہ کاغان میں جنوری میں برفباری کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔