محمد باقر ذوالقدر: علی لاریجانی کے جانشین اور ایران میں سخت گیر قدامت پسند کیمپ کے اہم رکن کون ہیں؟

Tasnim News Agency

،تصویر کا ذریعہTasnim News Agency

،تصویر کا کیپشنباقر ذوالقدر پاسدارانِ انقلاب کور کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

بریگیڈیئر جنرل محمد باقر ذوالقدر کو ممتاز ایرانی رہنما علی لاریجانی کی جگہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔

علی لاریجانی حال ہی میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس وقت مارے گئے جب ایک اسرائیلی میزائل نے ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔

باقر ذوالقدر کی تقرری ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیل کی قیادت میں جاری اس جنگ کے دوران ہوئی ہے جس میں ان دونوں ممالک کا ہدف ملک کی اہم عسکری اور سیاسی شخصیات ہیں۔

ذوالقدر پاسدارانِ انقلاب کور کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں اور ان کی تقرری کا اعلان ایرانی صدر کے دفتر کے ایک اہلکار نے کیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ ذوالقدر کو ایران کی جس سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے اس کی باضابطہ صدارت ایرانی صدر کرتے ہیں۔

یہ ادارہ ملک کی سلامتی اور خارجہ پالیسیوں میں ربط قائم رکھنے کا ذمہ دار ہے اور اس میں سینیئر فوجی، انٹیلی جنس اور حکومتی اہلکاروں کے علاوہ رہبرِ اعلیٰ کے نمائندے بھی شامل ہیں، جن کا تمام ریاستی امور پر فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔

Tasnim News Agency

،تصویر کا ذریعہTasnim News Agency

،تصویر کا کیپشنایران-عراق جنگ کے دوران، ذوالقدر پاسدارانِ انقلاب کے رمضان ہیڈکوارٹر کے کمانڈر تھے

باقر ذوالقدر کون ہیں؟

ایران کی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق ذوالقدر پاسداران انقلاب کے ان ابتدائی ارکان میں سے ایک ہیں، جنھوں نے ایران-عراق جنگ میں حصہ لیا۔ انھوں نے جنگ کے بعد کچھ عرصہ کے لیے آئی آر جی سی کے نائب کمانڈر انچیف کے طور پر خدمات انجام دیں۔

اس کے علاوہ وہ وزارت داخلہ اور عدلیہ کے ساتھ بھی بطور معاون کام کرتے رپے اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری کے طور پر تقرری کے وقت وہ سیکرٹری اور ایکسپیڈینسی کونسل کے رکن بھی تھے۔

1951 میں صوبہ فارس کے شہر فاسا میں پیدا ہونے والے محمد باقر ذولقدر منصورن نامی اس مسلح گروہ کے پہلے ارکان میں شامل تھے، جس نے 1979 کے انقلاب سے پہلے شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت کے خلاف خاص طور پر جنوبی ایران میں کارروائیاں کیں۔

اس گروہ پر ایک امریکی مشیر اور ایرانی آئل کمپنی کے ایک اہلکار کے قتل کے بھی الزامات ہیں۔

’منصورون: بنیاد سے اتحاد تک‘ کے عنوان سے ایک مضمون میں، جو ’ہسٹوریکل سٹڈیز‘ نامی جریدے میں شائع ہوا، باقر ذوالقدر نے اس گروپ کو قتل کی وارداتوں کے لیے دستیاب قانونی تحفظ کے بارے میں بات کی، اور کہا کہ انھوں نے اور ان کے دیگر ساتھیوں نے بہبہان کے تھانے کے سامنے دو پولیس افسران کو 15 گولیاں مار کر قتل کیا۔

ایران-عراق جنگ کے دوران، ذوالقدر پاسدارانِ انقلاب کے رمضان ہیڈکوارٹر کے کمانڈر تھے، جو غیر روایتی طریقوں سے بیرون ملک کارروائیاں انجام دیتا تھا اور جسے بعد ازاں قدس فورس کے قیام کا مرکز سمجھا گیا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

1984 تک، رمضان ہیڈکوارٹر پاسدارانِ انقلاب کے اندر ایک غیر منظم جنگی فورس کے طور پر قائم ہو چکا تھا، اور اس کی ساخت میں عراق کے کرد، شیعہ، افغان اور دیگر عناصر شامل تھے، اور یہ آئی آر جی سی کے بیرونِ ملک کام کو بڑھانے کے لیے ایک اہم نقطہ آغاز تھا۔

جنگ کے اختتام کے بعد، وہ جنرل سٹاف آف دی گارڈز کے سربراہ بنے، جسے 1991 میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا نام دیا گیا اور 1997 میں محسن رضائی کے استعفے اور یحییٰ رحیم صفوی کی گارڈز کمانڈر کے طور پر تقرری کے بعد، ذوالقدر نے ڈپٹی کمانڈر انچیف کا عہدہ سنبھالا۔

1990 کی دہائی میں، انھیں انصار حزب اللہ جیسے گروپوں کی تنظیم کی ذمہ داریوں میں شامل کیا گیا، اور غلام حسین کربسجی کے دور میں سکیورٹی اور عدالتی دستاویزات کی رپورٹس میں بھی ان کا ذکر ہوا۔

محمود احمدی نژاد کے 2005 میں صدر منتخب ہونے کے بعد، ذوالقدر کو نائب وزیر داخلہ برائے سلامتی امور مقرر کیا گیا، جو ایران کے اندر سکیورٹی فائلز کے انتظام میں ایک اہم عہدہ تھا۔

اس وقت، انھیں احمدی نژاد کو اقتدار میں لانے کے لیے کردار ادا کرنے والے رہنماؤں میں شمار کیا جاتا تھا، اور بعد میں انھوں نے ایک ’کثیر سطحی منصوبے‘ کے وجود کو تسلیم کیا تاکہ قدامت پسند تحریک انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکیں۔

تاہم، 2007 میں اس وقت کے سرکاری حکام کے ساتھ اختلافات کی خبریں سامنے آنے کے بعد انھوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

إيران - 1984: الحرب الإيرانية العراقية. جنود إيرانيون خلال مراسم في مقبرة شهداء الثورة في بهشت ​​زهراء، قرب طهران، إيران، في أكتوبر/كانون الأول 1984

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنذوالقدر پاسداران انقلاب کے ’رمضان ہیڈ کوارٹر‘ کے رہنماؤں میں سے ایک تھے جو غیر روایتی طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے سرحد پار کارروائیاں کرنے کا ذمہ دار تھا

اسی سال، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ان کا نام جوہری اور میزائل پروگراموں سے منسلک 15 ایرانی حکام کی فہرست میں شامل کیا، جس میں سفری اور اثاثوں کے انجماد کی پابندیاں عائد کی گئیں۔

جب صادق امیلی لاریجانی ملک کی عدلیہ کے سربراہ تھے تو باقر ذوالقدر نے اس دور میں ان کے سماجی مشیر اور سٹریٹجک امور کے نائب کے طور پر خدمات انجام دیں۔

ستمبر 2021 میں، انھیں ایکسپیڈینسی کونسل کے سربراہ اور سپریم لیڈر کی منظوری سے کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا۔

ذوالفقار ایرانی حکومت کے اندر سخت گیر فوجی سکیورٹی تحریک کے قریب ہونے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

انھوں نے بار بار ایران پر کسی بھی امریکی حملے کے بارے میں خبردار کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب ردعمل کے لیے تیار ہیں۔ 2007 میں مہر نیوز ایجنسی کے حوالے سے ایک بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو ’امریکہ کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہو گی‘ اور تہران امریکی اہداف پر ’روزانہ ہزاروں میزائل‘ داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وہ ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں جس کا عنوان ’اسرائیل کا زوال‘ ہے۔

اسے انھوں نے مہدی حمد الفتلوی کی 2001 میں پہلی بار بیروت سے شائع ہونے والی کتاب کے ’ترجمے اور تحقیق‘ کے طور پر پیش کیا اور یہ اسرائیل کے ساتھ تنازعے کے مذہبی نظریاتی وژن سے متعلق ہے۔

اگست 2025 میں، 12 دن کی لڑائی کے بعد، ذوالقدر نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی بات چیت کو ’امریکیوں کو جوابدہ ٹھہرانے‘ پر مرکوز ہونا چاہیے۔

پریس ٹی وی نے آئی آر جی سی کے حوالے سے ایک بیان میں محمد باقر ذوالقدر کی اس حساس عہدے پر تقرری کا خیر مقدم کرتے ہوئے انھیں اسلامی انقلاب کے ’باقی ماندہ اثاثوں‘ میں سے ایک قرار دیا، اور اسلامی جمہوریہ کی تاریخ میں ان کے اہم کردار کی تعریف بھی کی۔

اس بیان میں ان کی جانب سے شاہ کے نظام اور ایم ای کے کا مقابلہ کرنے اور ایران-عراق جنگ میں ان کی شرکت کو اجاگر کیا گیا تھا۔