لائیو, ایران کی 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت خوش آئند اور قابل ستائش قدم: اسحاق ڈار

نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کے مطابق یران کی حکومت نے پاکستانی پرچم کے تحت مزید 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے، جس کے بعد دو بحری جہاز روزانہ کی بنیاد پر آبنائے ہرمز عبور کریں گے۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں وزیرِاعظم شہباز شریف نے اُمید ظاہر کی کہ اجتماعی کوششوں سے کشیدگی کے خاتمے کی کوئی مؤثر راہ نکلے گی۔

خلاصہ

  • پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وفاقی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق ایرانی حکومت نے پاکستانی پرچم کے تحت چلنے والے مزید 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
  • پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری دو مختلف بیانات میں مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اور ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان کی اسلام آباد آمد کے حوالے سے خبر دی گئی ہے۔
  • اسرائیلی فوج نے ایک حالیہ بیان میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے اس ہفتے کے آخری دو دنوں میں ایران اور حزب اللہ کے 250 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے ہیں۔
  • ایران پر حملے ٹرمپ کی سفارت کاری کے لیے دی گئی مہلت کے منافی ہیں: عراقچی
  • جی سیون کا عام شہریوں پر حملے روکنے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کا مطالبہ

لائیو کوریج

  1. حوثی جنگجو: بحیرہ احمر کی تجارت کو متاثر کرنے والے وہ عناصر جو عالمی معیشت کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہیں, سیباسٹین اشر مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کار

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حوثیوں نے جنگ کے ابتدائی چار ہفتوں کے دوران، ایران سے وابستگی اور اس کی حمایت کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی۔

    اب یہ تحریک جو اب بھی یمن کے دارالحکومت صنعاء، شمالی علاقوں اور ملک کے دیگر حصوں پر قابض ہے اپنی پہلی بڑی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب میزائل داغ چکی ہے۔

    یہ درست ہے کہ میزائل حملوں کے ذریعے اسرائیل کے لیے حوثیوں کا خطرہ ایران کے مقابلے میں کہیں کم ہے لیکن یہ گروہ یمن کے ساحل کے قریب ایک خطرہ ضرور پیدا کرتا ہے۔

    غزہ میں حماس کی حمایت کے ساتھ اس گروہ نے بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع آبنائے باب المندب سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جو یمن اور افریقہ کے درمیان واقع ہے۔

    ان کی اس کارروائی نے اس اہم تجارتی سمندری راستے کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

    اگر وہ دوبارہ ایسا کرتے ہیں تو یہ عالمی معیشت کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہو سکتا ہے۔

    ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی تقریباً بندش کے ساتھ تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے دنیا کی دو اہم آبی گزرگاہیں ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتی ہیں۔

  2. امریکہ اور اسرائیلی حملوں میں ایران کی آبی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے: خبر رساں ادارے فارس کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایران میں ایک بڑی آبی تنصیب کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

    فارس نے صوبہ خوزستان کے سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے امور کے نائب کے حوالے سے بتایا کہ مغربی ایران کے شہر ہفتکل میں ’10000 مکعب میٹر‘ کے پانی کے ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے فارس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور یہ بھی کہا کہ ہفتکل میں پانی کے ذخیرے اور ان پر لگے سسٹم بھی کام کر رہے ہیں۔

  3. ایران کی 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت خوش آئند اور قابل ستائش قدم: اسحاق ڈار

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وفاقی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق ایرانی حکومت نے پاکستانی پرچم کے تحت چلنے والے مزید 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

    سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ایکس پر جاری بیان میں پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ’مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں آپ سب تک ایک اچھی خبر پہنچا رہا ہوں اور وہ یہ کہ ’ایران کی حکومت نے پاکستانی پرچم کے تحت مزید 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے، اس اجازت کے بعد دو بحری جہاز روزانہ کی بنیاد پر آبنائے ہرمز عبور کریں گے۔‘

    اسحاق ڈار کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’یہ ایران کی جانب سے ایک خوش آئند اور قابل ستائش قدم ہے اور اس کی قدر کی جانی چاہیے۔ یہ امن کی علامت ہے اور خطے میں استحکام لانے میں مدد دے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ مثبت اعلان امن کی جانب ایک بامعنی قدم ہے اور اس سمت میں ہماری مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنائے گا۔‘

    اسحاق ڈار نے ایکس پر جاری بیان کے آخر پر کہا کہ ’مذاکرات، سفارت کاری اور اس طرح کے اعتماد سازی کے اقدامات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔‘

  4. مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں: دفترِ خارجہ کی تصدیق

    @ForeignOfficePk

    ،تصویر کا ذریعہ@ForeignOfficePk

    ،تصویر کا کیپشنترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان

    پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری دو مختلف بیانات میں مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اور ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان کی اسلام آباد آمد کے حوالے سے خبر دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے سنیچر کے روز تصدیق کی تھی کہ ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ 29 اور 30 مارچ کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کہا گیا تھا کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اسلام آباد آئیں گے۔

    بیان کے مطابق یہ وزارئے خارجہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سمیت دیگر اُمور پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔ وزرائے خارجہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔

    @ForeignOfficePk

    ،تصویر کا ذریعہ@ForeignOfficePk

    ،تصویر کا کیپشنمصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی
  5. اسرائیلی فوج کا ہفتے کے آخر میں ایران اور لبنان میں 250 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج نے ایک حالیہ بیان میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے اس ہفتے کے آخری دو دنوں میں ایران اور حزب اللہ کے 250 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے ہیں۔

    ایک تازہ بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ انھوں نے لبنان اور ایران میں ’وسیع پیمانے پر حملے‘ کیے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق انھوں نے ایران میں 100 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں ’بیلسٹک میزائل بنانے والی اہم تنصیبات، لانچ کے لیے تیار میزائل‘ اور ’میزائل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات‘ کو نشانہ بنایا۔

    جبکہ لبنان میں آئی ڈی ایف نے ’حزب اللہ کے 170 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا۔‘

    فوج نے مزید کہا کہ ’چار آئی ڈی ایف ڈویژنز جنوبی لبنان میں سرگرم ہیں تاکہ زمینی کارروائی کو مزید گہرای میں جا کر کیا جا سکے اور دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔‘

  6. حوثی جنگجوؤں کی جانب سے اسرائیل پر دوسرا میزائل داغا گیا ہے: سی این این اور ٹائمز آف اسرائیل کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں اداروں سی این این اور ٹائمز آف اسرائیل دونوں کے مطابق یمن میں حوثی جنگوؤں نے اسرائیل کی جانب دوسرا میزائل داغا ہے۔

    ایران کے حمایت یافتہ اس گروہ نے اسرائیل کی طرف ایک کروز میزائل داغا جسے مار گرایا گیا، رپورٹس کے مطابق یہ اس کے چند گھنٹوں بعد ہوا جب اس نے ایک بیلسٹک میزائل اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اطلاع دی تھی۔

    تاہم اسرائیلی میڈیا چینل 12 اور ٹائمز آف اسرائیل نے جنوبی اسرائیل کے شہر ایلات پر ڈرون حملے کی بھی اطلاع دی ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ یمن کی جانب سے مُلک کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔

    اس سے قبل، حوثیوں نے کہا تھا کہ انھوں نے اسرائیل کی جانب سے ایران، لبنان، عراق اور فلسطینی علاقوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں ’اہم اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے‘ بیلسٹک میزائلوں کی بوچھاڑ کی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے یمن سے آنے والے ایک میزائل کو فضا میں تباہ کر دیا تھا۔

  7. اسرائیلی دفاعی افواج کا ایرانی بحریہ کی اہم تنصیبات پر حملے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اُن کا کہنا ہے کہ انھوں نے تہران میں ایرانی حکومت کی میرین انڈسٹریز آرگنائزیشن کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے اپنے اس بیان میں دعویث کیا ہے کہ ’یہ ہیڈکوارٹر بحری ہتھیاروں کی وسیع رینج کی تحقیق، ترقی اور پیداوار کا مرکز کا کردار ادا کر رہا تھا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ایم آئی او کے ہیڈکوارٹر کو رات کے وقت تہران بھر اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے حملوں کی ایک نئی لہر کے دوران نشانہ بنایا گیا۔

  8. ضلع بنوں میں پولیس موبائل پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک جبکہ جوابی کارروائی میں دو عسکریت پسند مارے گئے: پولیس, بلال احمد، بی بی سی پشاور

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع بنوں میں پولیس موبائل پر حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ جوابی کارروائی میں دو عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

    بنوں پولیس ترجمان کے مطابق تھانہ ہوید پولیس موبائل معمول کی گشت پر تھی کہ زرگر ممہ خیل میں گھات لگا کر موبائل پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں دلنواز پولیس اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ تین اہلکار زخمی ہوئے عسکریت پسندوں نے حملے کے بعد پولیس موبائل کو نذرآتش بھی کیا۔

    ڈی آئی جی بنوں سجاد خان کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا گیا ہے اور جوابی کارروائی کے نتیجے میں دو عسکریت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ چار زخمی ہوئے ہیں۔

    ڈی آئی جی کے مطابق عسکریت ہسندوں کے قبضے سے دو موٹرسائیکل بھی برآمد ہوئے ہیں۔

    سجاد خان نے مزید بتایا کہ عسکریت پسندوں کا ہر صورت پیچھا کیا جائیگا اور کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں دی جائیگی۔ انھوں نے واضح کیا کہ بزدلانہ ہتھکنڈوں سے پولیس کے حوصلے پست نہیں کئے جاسکتے۔

    وزیر اعلی خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس سے واقعے کی رہورٹ طلب کرلی ہے۔ انھوں نے ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کے لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا بھی کی اور کہا کہ مُلک کے لیے جان دینے والے پولیس اہلکار کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔

  9. لبنان میں اسرائیلی حملے میں تین صحافی ہلاک

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کے جنوب میں ایک اسرائیلی حملے میں تین لبنانی صحافیوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں ان تینوں ہلاکت کی اطلاعت ہیں۔

    علی شعیب، جو حزب اللہ کے زیرِ انتظام ٹی وی نیٹ ورک المنار کے رپورٹر تھے اور المیادین کے رپورٹرز فاطمہ اور محمد فطونی جزین کے قصبے میں فضائی حملے میں مارے گئے۔

    لبنانی صدر جوزف عون نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’سنگین جرم‘ قرار دیا جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت جنگ کے دوران صحافیوں کو تحفظ دیا جانا چاہیے۔

    اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے ایک حملے میں علی شعیب کو ہلاک کیا، لیکن ان کا الزام ہے کہ وہ ایک صحافی کے روپ میں حزب اللہ کے کارندے تھے۔

    یہ دوسری بار ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد لبنان میں اسرائیل پر صحافیوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    گزشتہ ہفتے المنار ٹی وی کے ایک معروف میزبان محمد شری اور ان کی اہلیہ ایک حملے میں مارے گئے تھے۔

    اب تک لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 1100 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 120 بچے اور 42 طبی امداد دینے والے افراد شامل ہیں۔

    لبنان میں بہت سے لوگ تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اسرائیل وہی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے جس کا اسے غزہ میں استعمال کرنے کا الزام دیا جاتا رہا ہے، جس میں جان بوجھ کر شہریوں، صحافیوں اور طبی عملے کو نشانہ بنانا شامل ہے، جس کی اسرائیل تردید کرتا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  10. گزشتہ روز کی چند اہم خبروں کا خلاصہ

    دن میں آگے بڑھنے سے قبل گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں

    • یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ ڈیاگو گارشیا میں امریکہ-برطانیہ کے مشترکہ اڈے اور خلیج میں واقع امریکہ اور برطانیہ کے فوجی اڈوں پر حملہ کرنے میں ایران کو مدد فراہم کر رہا ہے۔
    • لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی لبنان میں میڈیا کی ایک گاڑی پر اسرائیلی حملے میں تین لبنانی صحافی مارے گئے ہیں۔ مارے جانے والوں میں علی شعیب، فاطمہ اور محمد فتونی شامل ہیں۔ علی شعیب عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے زیر انتظام نیٹ ورک المنار ٹی وی کے رپورٹر تھے جبکہ فاطمہ اور محمد فتونی المیادین کے نامہ نگار تھے۔ یہ تینوں جنوبی لبنان کے قصبے جزین میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔
    • یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سعودی عرب اور قطر کے ساتھ الگ الگ دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت یوکرین سعودی عرب کے ساتھ ڈرون سے دفاع کی اپنی مہارت اور ٹیکنالوجی شیئر کرے گا۔
    • ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک مشرق وسطیٰ کی جنگ کے حل کے لیے ’تعمیری کردار‘ ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
  11. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔