حوثی جنگجو: بحیرہ احمر کی تجارت کو متاثر کرنے والے وہ عناصر جو عالمی معیشت کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہیں, سیباسٹین اشر مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حوثیوں نے جنگ کے ابتدائی چار ہفتوں کے دوران، ایران سے وابستگی اور اس کی حمایت کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی۔
اب یہ تحریک جو اب بھی یمن کے دارالحکومت صنعاء، شمالی علاقوں اور ملک کے دیگر حصوں پر قابض ہے اپنی پہلی بڑی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب میزائل داغ چکی ہے۔
یہ درست ہے کہ میزائل حملوں کے ذریعے اسرائیل کے لیے حوثیوں کا خطرہ ایران کے مقابلے میں کہیں کم ہے لیکن یہ گروہ یمن کے ساحل کے قریب ایک خطرہ ضرور پیدا کرتا ہے۔
غزہ میں حماس کی حمایت کے ساتھ اس گروہ نے بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع آبنائے باب المندب سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جو یمن اور افریقہ کے درمیان واقع ہے۔
ان کی اس کارروائی نے اس اہم تجارتی سمندری راستے کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔
اگر وہ دوبارہ ایسا کرتے ہیں تو یہ عالمی معیشت کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہو سکتا ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی تقریباً بندش کے ساتھ تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے دنیا کی دو اہم آبی گزرگاہیں ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتی ہیں۔










