ٹرمپ کا 15 نکاتی منصوبہ اور نیتن یاہو کی خواہش: ’مشرق وسطیٰ میں تبدیلیوں کا سلسلہ ابھی تھما نہیں‘

    • مصنف, جیرمی بوون
    • عہدہ, انٹرنیشنل ایڈیٹر
  • مطالعے کا وقت: 13 منٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں سب سے بڑی امید یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے پاس جنگ روکنے کی مضبوط وجوہات موجود ہیں۔

لیکن ان مذاکرات کی کامیابی کی سب سے بڑی رکاوٹ دونوں کے درمیان عدم اعتماد، کسی بھی مشترکہ مؤقف کی عدم موجودگی اور یہ حقیقت ہے کہ اسرائیل، جو اس جنگ میں امریکہ کا شراکت دار ہے، نے لبنان پر اپنے حملوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اس جنگ کے بارے میں ماضی کے صیغے میں بات کر رہے ہیں۔ انھوں نے فتح کا اعلان کر دیا ہے اور اب انھیں جنگ سے نکلنے کا راستہ درکار ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس ماہ کے آخر میں ان کے شیڈول میں برطانیہ کے بادشاہ چارلس کا سرکاری دورہ شامل ہے، جس کے بعد مئی میں چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ سربراہی ملاقات طے ہے، اور نومبر میں امریکہ میں وسط مدتی انتخابات ہونے ہیں۔

امریکہ میں موسمِ گرما کی تعطیلات قریب آ رہی ہیں۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آجائیں۔ شاہانہ دورے، سربراہی اجلاس اور انتخابات، یہ سب جنگ کے ساتھ نہیں چل سکتے۔

،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

،تصویر کا کیپشنبیروت پر اسرائیلی حملے جاری ہیں

ایران کی حکومت کے پاس بھی جنگ ختم کرنے کی اپنی وجوہات موجود ہیں۔ وہ اب بھی ڈٹ کر کھڑی ہے، میزائل اور ڈرون داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور اس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ڈونلڈ ٹرمپ کا مذاق اڑاتے ہوئے اے آئی ویڈیوز کی بھرمار ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ شہروں کی معیشت تقریباً رک چکی ہے، اور حکومت کو دوبارہ منظم ہونے کے لیے وقت درکار ہے۔ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کو وہ اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

پاکستانی ثالث، جو دونوں وفود کے درمیان رابطہ کاری کریں گے، ایک مشکل ذمہ داری نبھانے جا رہے ہیں۔ دونوں فریقوں کے سرکاری مؤقف ایک دوسرے سے انتہائی دور ہیں۔

ٹرمپ کا 15 نکاتی منصوبہ، جو باضابطہ طور پر جاری نہیں ہوا لیکن جس کے لیک ہونے والے حصے سامنے آئے ہیں، مذاکرات کی بنیاد سے زیادہ ایک ’ہتھیار ڈالنے کی دستاویز‘ جیسا دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب ایران کا 10 نکاتی منصوبہ ایسے مطالبات پر مشتمل ہے جنہیں امریکہ ماضی میں ہمیشہ مسترد کرتا آیا ہے۔

ایک زیادہ پائیدار جنگ بندی کے لیے کم از کم اس بات پر اتفاق ضروری ہوگا کہ دونوں فریق اپنے متضاد اور مشکل مسائل کی فہرست پر بات چیت جاری رکھیں۔ ان نکات پر امن کے زمانے میں بھی پیش رفت کرنا آسان نہ ہوتا۔

جنگ کے دوران، جب باہمی اعتماد بالکل موجود نہ ہو، تو محض ایسا الفاظی فارمولا بھی مثبت سمجھا جائے گا جو وسیع تر معاملات پر اتفاق نہ ہونے کے باوجود جنگ بندی کو برقرار رکھ سکے۔ لیکن اگر کوئی اتفاق رائے نہ ہو پایا تو اس کا مطلب جنگ کی طرف واپسی ہوگا۔

آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا وہ نیا اور فوری مسئلہ ہے جس کا فریقین کو سامنا ہے۔ خلیج سے نکلنے والا یہ تنگ راستہ اگر بند رہے تو ایران کو عالمی معیشت پر دباؤ ڈالنے کا طاقتور ذریعہ مل جاتا ہے۔

یہ آبی راستہ، جس سے روزانہ سیکڑوں جہاز گزرتے تھے، امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد بند ہو گیا تھا۔ اب اسے دوبارہ کھولنا مذاکرات کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے لاکھوں شہری، جو اس تنازع کا براہِ راست شکار بنے ہیں، امید کر رہے ہیں کہ یہ مذاکرات جنگ کے خاتمے کا راستہ ثابت ہوں گے۔

کوئی فتح کا جشن نہیں

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

امریکی حکام کو یہ توقع نہیں تھی کہ وہ اپریل کے اوائل میں جنگ بندی مذاکرات میں بیٹھے ہوں گے، خاص طور پر اس کے بعد کہ 28 فروری کو انھوں نے اسرائیل کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے جن میں ایران کے رہبر اعلیٰ، ان کی اہلیہ اور ان کے خاندان کے دیگر افراد ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک تیز اور فیصلہ کن فتح کی امید کر رہے تھے۔ کچھ ویسا ہی جیسا کہ جنوری میں وینیزویلا کے رہنما نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی ڈرامائی گرفتاری، جنھیں امریکی فوج نے پکڑا تھا۔ دونوں اس وقت نیویارک میں منشیات سے متعلق الزامات پر مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں، اور امریکہ نے ان کے سابق نائب کو صدارتی محل میں بٹھا دیا ہے۔

یہ توقع کہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت سے ایرانی حکومت تیزی سے بکھر جائے گی، بالکل غلط ثابت ہوئی۔ ان کے بیٹے مجتبیٰ، جنھیں ان کا جانشین مقرر کیا گیا تھا، حملے کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے۔ قیاس آرائیاں ہیں کہ وہ اس حملے میں شدید زخمی ہوئے جس میں ان کے والدین، مبینہ طور پر ان کی بہن، ان کی اہلیہ اور ان کے ایک بیٹے کی بھی موت ہوئی۔

نئے رہبر اعلیٰ کی فعال موجودگی ہو یا نہ ہو، ایران کی حکومت نے ایسی مضبوطی اور برداشت کا مظاہرہ کیا ہے جس نے ٹرمپ کو حیران کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمجتبیٰ خامنہ ای ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آئے

اب ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندوں، جن کی قیادت ان کے نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، کو اُن مخالفین کے ساتھ مذاکرات کرنا ہوں گے جن کے بارے میں وہ یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ انھیں شکست دے چکے ہیں، حالانکہ یہ دعویٰ درست نہیں۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے الفاظ میں یہ ایک ’بڑی فوجی فتح‘ تھی۔

آبنائے ہارمز، ایک سٹریٹجک طاقت

امریکہ اور اسرائیل کی شروع کی گئی جنگ پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست کو بدل رہی ہے۔ جیسے جیسے اس جنگ کے طویل المدتی نتائج سامنے آئیں گے، یہ عمل مزید گہرا ہوتا جائے گا۔

امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی مسلح افواج، اس کے فوجی ڈھانچے اور شہری انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم، اگرچہ ایرانی حکومت کو سخت دھچکا لگا ہے، وہ اب بھی قائم ہے۔ حکومت کی تبدیلی نہیں ہو رہی۔ ایران اب بھی میزائل اور ڈرون داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بلند بانگ دعووں کے باوجود، امریکہ اور اسرائیل اپنی فوجی کامیابیوں کو سٹریٹجک برتری میں تبدیل نہیں کر سکے۔

دوسری جانب ایران نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اسے ایسی سٹریٹجک طاقت دیتی ہے جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے یا تو نظرانداز کیا یا پھر سمجھا ہی نہیں، خاص طور پر جب وہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے ایران کے خلاف جنگ کے دلائل سن رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے مقاصد کو جارحانہ انداز میں آگے بڑھایا ہے

جب ایران پر حملہ ہوا تو اس نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، اور یہ کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔ ایران ماضی میں بھی اس راستے کو بند کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے، اور 1980 کی دہائی میں عراق کے ساتھ جنگ کے دوران اس نے وہاں تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں بھی پیدا کی تھیں۔

دہائیوں سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے اثرات کا جائزہ لینا ان تمام ممالک کی خارجہ اور دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ رہا ہے جو اس راستے سے گزرنے والی بحری تجارت پر انحصار کرتے ہیں، جن میں امریکہ بھی شامل ہے۔ لیکن اس کے باوجود، ڈونلڈ ٹرمپ نے جلد بازی میں ایک ایسی جنگ چھیڑ دی جسے بہت سے ماہرین غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے پہلے، دنیا کے تیل اور گیس کا تقریباً 20 فیصد روزانہ اسی آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ پیٹروکیمیکل صنعت کی وہ اہم مصنوعات بھی اسی راستے سے جاتی تھیں جو زرعی کھاد اور ہائی ٹیک مصنوعات بشمول سیمی کنڈکٹرز میں استعمال ہوتی ہیں۔

موجودہ باہم مربوط عالمی معیشت کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں شاید اس سے بھی زیادہ جتنی توقع ایران کی قیادت نے کی ہوگی۔

آبنائے ہرمز جو دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک ہے میں بحری جہازوں کی آمدورفت روک دینے کی صلاحیت ایک طاقتور ہتھیار ہے، اور ایران چاہتا ہے کہ اسے طویل المدتی سٹریٹجک فائدے میں تبدیل کیا جائے۔

خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی بندش، جنگی نقصانات کے ازالے، یورینیم کی افزودگی کی بحالی اور پابندیوں کے خاتمے جیسے مطالبات کے ساتھ ساتھ ایران یہ بھی چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول باضابطہ طور پر تسلیم کیا جائے۔

آبنائے ہرمز پر کسی معاہدے تک پہنچنا ایران کی جوہری صلاحیتوں پر بات چیت جتنا ہی مشکل ہوگا۔ ایران کا جوہری پروگرام دشمنوں کو باز رکھنے کے لیے زیادہ آپشنز پیدا کرنے کے مقصد سے بنایا گیا تھا، چاہے افزودہ یورینیم کو بم میں تبدیل کیا جائے یا نہیں۔ لیکن اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا کہیں سستا، ہمسایہ ممالک اور مخالفین کی معیشتوں کے لیے زیادہ تباہ کن، اور عملی طور پر کہیں آسان ہے۔

دو ہفتے کی جنگ بندی کے دوران ایران اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو ایرانی مسلح افواج سے اجازت لینا ہوگی، ورنہ اسے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جائے گا۔ جن چند جہازوں کو گزرنے کی اجازت ملی ہے، ان سے ایران نے لاکھوں ڈالر کے ٹول وصول کیے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ایران اربوں ڈالر کما سکتا ہے اور یہی امکان خلیجی عرب ریاستوں کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔

عالمی معیشت کے لیے مشکلات کو دوگنا کرنے والی ایک اور حقیقت یہ ہے کہ یمن میں ایران کے اتحادی حوثیوں نے غزہ جنگ کے دوران یہ دکھا دیا کہ وہ بحیرہ احمر کے جنوبی دہانے، باب المندب، کو بھی بند کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سعودی عرب اس وقت اپنا وہ تیل جو عام طور پر خلیج اور آبنائے ہرمز کے راستے برآمد ہوتا ہے، پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ احمر کی بندرگاہوں تک پہنچا رہا ہے، جہاں سے اسے ایشیا بھیجا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر حوثیوں نے باب المندب کا جنوبی راستہ بند کر دیا تو یہ برآمدات بھی رک جائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجنگ کے آغاز کے بعد سے ایران میں امریکہ مخالف جذبات میں کوئی کمی نہیں آئی

جنگ کے آغاز میں اسرائیل کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکہ، اسرائیل اور مغرب کے بارے میں سخت گیر شکوک رکھتے تھے، لیکن ان کی شہرت احتیاط پسندی کی بھی تھی۔ اب جو نسبتاً کم عمر رہنما، زیادہ تر پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے اقتدار میں ہیں، وہ ان کے نظریات تو ضرور رکھتے ہیں مگر لازمی نہیں کہ ان کی طرح انتظار اور مشاہدے کی حکمتِ عملی اپنائیں۔

ان کے لیے محض بچ جانا ہی فتح کے مترادف ہے، اور یہی دعویٰ حکومت کے ترجمان زور و شور سے کرتے رہے ہیں۔ اب انھیں یہ موقع بھی مل سکتا ہے کہ وہ جنگ میں ہونے والے اپنے نقصانات کی تلافی کے لیے دوبارہ تعمیر کا عمل شروع کریں۔

نیتن یاہو کی خواہشات

اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اپنی برسوں کی جارحانہ بیان بازی کے باوجود احتیاط پسند رہنما سمجھے جاتے تھے، لیکن 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں کے بعد یہ تاثر بدل گیا۔ اب وہ کھلے عام جنگی حکمتِ عملی کو اپنا چکے ہیں۔ وہ بارہا اسرائیلی عوام سے وعدہ کر چکے ہیں کہ وہ ملک کی طاقت اور صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کو اس انداز میں بدل رہے ہیں جو اسرائیل کو مزید مضبوط کرے گا۔

نیتن یاہو کے اپنے مقاصد کے جارحانہ تعاقب نے اسرائیل کو خطے میں وہ ملک بنا دیا ہے جسے اس کے ہمسائے سب سے زیادہ عدم استحکام پیدا کرنے والی قوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ایران کی جانب سے اسرائیل کو لاحق خطرات، چاہے براہِ راست ہوں یا اتحادیوں اور پراکسی گروہوں کے ذریعے، کو ختم کرنا نیتن یاہو کی طویل سیاسی زندگی کا ایک مرکزی ہدف رہا ہے۔

ایران کے لبنانی اتحادی حزب اللہ پر حملے جاری رکھنے کی ان کی خواہش پاکستان میں ہونے والے جنگ بندی مذاکرات کو بھی متاثر کر سکتی ہے، چاہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر بمباری روکنے کا مطالبہ ہی کیوں نہ کریں۔

جنگ بندی کے پہلے ہی دن، اسرائیل نے لبنان پر بڑے فضائی حملے کیے جن میں بیروت کی وزارتِ صحت کے مطابق 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلبنان میں 11 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں

اس کے بعد ایران نے امریکہ کو بتا دیا کہ ان کے پاس دو ہی راستے ہیں: جنگ بندی یا پھر جنگ کی طرف واپسی۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ضبط و تحمل کی درخواست کی۔ نیتن یاہو نے لبنان کی براہِ راست مذاکرات کی درخواست تو مان لی، لیکن ساتھ ہی مزید فضائی حملوں کا حکم بھی دے دیا۔

ایران اور پاکستان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہوتا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ اس کی تردید کرتے ہیں۔ برطانیہ اور دیگر ممالک، جو صورتحال سے پریشان ہیں مگر اثرانداز ہونے کے محدود ذرائع رکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ جنگ بندی لبنان پر بھی لاگو ہونی چاہیے۔

پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کی شرائط کے گرد پھیلی ہوئی یہ الجھن دراصل ٹرمپ کی جنگی حکمتِ عملی کی الجھن کی عکاسی کرتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے فتح کا اعلان تو کر دیا ہے، لیکن مذاکرات کا عمل آسان نہیں ہوگا

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کو نشانہ بنا رہا ہے۔ لیکن لبنان میں بڑھتی ہوئی تعداد میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حقیقت میں اسرائیل پورے لبنان کو نشانہ بنا رہا ہے، کیونکہ وہ اب ملک کے جنوبی حصے میں ایک وسیع پٹی پر قبضہ کیے ہوئے ہے۔ اس نے ہزاروں لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا ہے، بعض صورتوں میں وہ گھروں کو تباہ بھی کر رہا ہے، بالکل اسی طرح جیسے اس نے غزہ کے بڑے حصے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا تھا۔

جنگ کے طویل المدتی اثرات مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے تک محسوس کیے جائیں گے۔

خلیجی عرب ریاستوں نے برسوں اور اربوں ڈالر خرچ کر کے اپنے ممالک کو کاروبار، سیاحت اور فضائی سفر کے عالمی مراکز میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ چند ہفتوں کے ایرانی حملوں نے اس جدیدیت اور ترقی کی حکمتِ عملی کو مستقل نقصان پہنچایا ہے۔

یہ ممالک اب امریکہ کے ساتھ اپنے اتحاد پر بھی نظرِ ثانی کر رہے ہیں۔ وہ واشنگٹن سے تعلق نہیں توڑیں گے، انھیں امریکہ کی ضرورت ہے۔ لیکن وہ اپنی مستقبل کی سلامتی کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔ امریکہ کے زیادہ سے زیادہ قریب رہنے کا پرانا ماڈل کامیاب نہیں رہا۔

چین اور روس اب اس صورتحال کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹرمپ ایک بار پھر نیٹو اتحادیوں پر تنقید کر رہے ہیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکہ کے مشکل وقت میں ساتھ نہیں تھے۔

چین نے ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا ہے اور غالب امکان ہے کہ وہ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہے گا۔ چین مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر انحصار کرتا ہے۔ ایران نے اپنے وہ ٹینکر جو چین جا رہے تھے، آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ لیکن وہ ٹرمپ کی غیر منظم خارجہ پالیسی سے پیدا ہونے والے خلا سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی تیار ہوگا۔

ایران کے عوام کا کیا؟

وہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے باعث دنیا سے کٹے ہوئے ہیں، ہفتوں کی بمباری، ہلاکتوں اور خوف کے بعد، چاہے ان کے حکومت کے بارے میں جو بھی خیالات ہوں۔

28 فروری کو ٹرمپ اور نیتن یاہو نے حکومت کے مخالفین سے وعدہ کیا تھا کہ انھیں اپنا ملک واپس اپنے ہاتھوں میں لینے کا موقع ملے گا۔ وہ وعدہ اب پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔

جنگ بندی سے کچھ ہی پہلے تک ٹرمپ کے بیانات حکومت کے مخالفین کو تحفظ دینے کے وعدوں سے لے کر تمام ایرانیوں کو ’پتھر کے زمانے‘ میں واپس دھکیل دینے کی دھمکیوں پر مبنی تھے۔

اب ایرانی عوام کے لیے مستقبل کے بارے میں واحد یقینی بات یہ ہے کہ آنے والا وقت سخت ہوگا اور یہ کہ وہ حکومت جو تقریباً نصف صدی سے ان کی زندگیوں پر قابض ہے، پہلے سے زیادہ مضبوط، غصے میں بھری ہوئی اور اپنی طاقت اور ایران کے اسلامی نظام کو کسی بھی چیلنج سے بچانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔