راولپنڈی: چلتی گاڑی میں مبینہ گینگ ریپ، ’ملزمان نے لڑکی کو زبان کھولنے پر ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکیاں دیں‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
راولپنڈی پولیس نے چلتی ہوئی گاڑی میں ہونے والے مبینہ گینگ ریپ کے واقعہ میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ اس کے علاوہ گاؤں کی پنچائیت کے ایک شخص کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے جنھوں نے مبینہ طو پر گینگ ریپ کا شکار ہونے والی لڑکی اور اس کے ورثا کو ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے روک دیا تھا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس واقعہ کا سن کر اور ’اپنی بیوی کی سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے پر متاثرہ لڑکی کے شوہر یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکے، انھیں ہارٹ اٹیک ہوا جس سے وہ وفات پا گئے۔‘
گینگ ریپ کا یہ واقعہ تھانہ روات کے علاقے چک بیلی روڈ پر پیش آیا جہاں پر چار افراد نے چلتی گاڑی میں شادی شدہ لڑکی کو مبینہ گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔
اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل سب انسپکٹر وسیم سرور کا دعویٰ ہے کہ حراست میں لیے جانے والے افراد نے تفتیش کے دوران پولیس کے سامنے اقرار جرم بھی کر لیا ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں نامزد چاروں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ ان کی شناخت پریڈ بھی کروائی گئی جس میں متاثرہ لڑکی نے ملزمان کو شناخت کر لیا جس کے بعد ملزمان کا متعلقہ عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے۔
اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ملزمان اور متاثرہ لڑکی ایک ہی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق پولیس نے اس مقدمے سے متعلق ’جو معلومات حاصل کی ہیں اس کے مطابق ’متاثرہ لڑکی کا خاوند ایک بااثر شخص کے فارم ہاؤس پر کام کرتا تھا جس کو ملزمان نے اپنے کسی عزیز کے فارم ہاوس پر کام کرنے کا کہا جس پر متاثرہ لڑکی کے شوہر نے یہ آفر قبول کرنے سے انکار کر دیا۔‘
پولیس اہلکار کا دعویٰ ہے کہ وقوعہ سے چند روز قبل اس معاملے پر متاثرہ لڑکی کے شوہر اور ملزمان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا تھا جس کے بعد پولیس اہلکار کا دعویٰ ہے کہ ’ملزمان نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے ان کی آفر کو ٹھکرا کر ان کی عزت کا خیال نہیں رکھا تو اس کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کی تفتیش کے دوران ملزمان کے قبضے سے وہ ویڈیوز بھی برآمد کر لی گئی ہیں جو انھوں نے متاثرہ خاتون کے گینگ ریپ کے دوران بنائیں تھیں۔
پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ملزمان نے وقوعہ کے دوران بنائی گئیں ویڈیوز میں سے چند کو سوشل میڈیا پر وائرل بھی کیا تھا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پولیس اہلکار کا دعویٰ ہے کہ ’اپنی بیوی کی سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے پر متاثرہ لڑکی کے شوہر یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکے، انھیں ہارٹ اٹیک ہوا جس سے وہ وفات پا گئے۔‘
پولیس اہلکار کے مطابق اس جوڑے کی چند سال قبل شادی ہوئی تھی اور ان کے دو بیٹے ہیں جن کی عمریں تین اور ایک سال کی ہیں۔
اس مقدمے کی مدعیہ اور متاثرہ خاتون کی والدہ نے الزام عائد کیا ہے کہ گینگ ریپ کے واقعہ میں متاثرہ لڑکی کی نند اور ساس بھی شامل ہیں۔
اس مقدمے کے تفتیشی افسر وسیم سرور کے مطابق متاثرہ لڑکی کی نند اور ساس کو بھی اس مقدمے میں شاملِ تفتیش کیا گیا ہے اور اس ضمن میں ان کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اس واقعہ کے بعد علاقے کے بااثر لوگ پنچائیت کے ذریعے متاثرہ خاتون اور ان کے رشتہ داروں پر دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی نہ کروائیں اور اس کے بدلے میں پنچائیت اپنے طور پر ملزمان کو سزا دے گی اور اس کے ساتھ ساتھ لڑکی کا علاج معالجہ بھی کروایا جائے گا۔‘
تاہم تفتیشی ٹیم کے بقول ’نہ تو ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی اور متاثرہ لڑکی کی والدہ کے بقول ان کی بیٹی کا علاج معالجہ بھی نہیں کروایا گیا جس سے اس کی حالت دن بدن خراب ہوتی جارہی تھی۔‘
تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ مدعی مقدمہ نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’جب پنچائیت میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور وہ اپنی بیٹی کی دن بدن خراب ہوتی ہوئی صورت حال کو نہیں دیکھ سکتی تھی تو اس کے بعد اس کے پاس ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں تھا۔‘
اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ پولیس نے اس پنچائیت میں شامل ایک شخص کو بھی حراست میں لیا تھا جس نے پولیس اہلکار کے بقول متاثرہ لڑکی کی والدہ کو ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
تفتیشی افسر وسیم سرور کا کہنا تھا کہ پولیس نے ملزمان اور متاثرہ لڑکی کے ڈی این اے ٹسیٹ پنجاب کی فرانزک لیبارٹر ی میں حتمی رپورٹ کے لیے بھجوا دیے ہیں جس کی رپورٹ اگلے چند روز میں مل جائے گی۔
متاثرہ لڑکی نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ساتھ گینگ ریپ کرنے والوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ’اس وقوعہ سے متعلق پولیس ان ملزمان کے قبضے سے برآمد ہونے والی تمام ویڈیوز کو ڈیلیٹ کر دے تاکہ کہیں پولیس کے ریکارڈ سے بھی یہ ویڈیوز سوشل میڈیا کی زینت نہ بن جائیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟
روات پولیس سٹیشن میں گینگ ریپ کا شکار ہونے والی لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں انھوں نے موقف اختیار کیا کہ ان کی انیس سالہ بیٹی اپنے گاؤں سے روات بازار جانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے طور پر چلنے والی وین میں سوار ہوئی تھی کہ وین کے کنڈیکٹر نے دروازہ بند کر کے گاڑی کا رخ چک بیلی روڈ کی طرف موڑ دیا۔
اس مقدمے میں مدعیہ کی طرف سے یہ موقف بھی اختیار کیا گیا کہ ملزمان نے پہلے بگا شیخاں کے قریب ان کی بیٹی کو ایک خالی گھر میں لے جانے کی کوشش کی تاہم مدعیہ کے مطابق ان کی بیٹی کی طرف سے شور شرابہ کرنے پر ملزمان اسے گاڑی میں بٹھا کر علاقے میں گھماتے رہے اور چار ملزمان مدعیہ کی بیٹی کو چلتی گاڑی میں گینگ ریپ کا نشانہ بناتے رہے۔
اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے متاثرہ لڑکی کو زبان کھولنے پر ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔
اہم خبریں
فیچر اور تجزیے
مقبول خبریں
مواد دستیاب نہیں ہے