’مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ مر چکے ہیں‘: فوجی اڈے کے قریب پیدا ہونے والے کئی بچے جن کے والد برطانوی ہیں
- مصنف, جوزفین کیسرلی
- مصنف, ایوانا ڈیوڈوک
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
کینیا کے نو سالہ ’ایڈورڈ‘ کو ہمیشہ سے معلوم تھا کہ ان کے والد برطانوی فوج کے لیے کام کرتے تھے۔ اپنے ساتھیوں کے مقابلے میں جلد کے ہلکے رنگ کی وجہ سے انھیں کئی برسوں سے ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایڈورڈ (شناخت کے تحفظ کے لیے فرضی نام) کی پیدائش سے پہلے ہی ان کے والد غائب ہو گئے تھے۔ ان کی والدہ شدید غربت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئیں اور خاندان کے کچھ افراد نے بھی انھیں الگ تھلگ کر دیا۔
وہ کینیا میں برطانوی فوجی اڈے پر کنٹریکٹر تھے۔ اب ڈین این اے اور قانونی عمل کے ذریعے انھیں اور وہاں فوجی اہلکار کے طور پر خدمات انجام دینے والے 19 دیگر افراد کو، فوجی اڈے کے قریب پیدا ہونے والے بچوں کے والد کے طور پر شناخت کر لیا گیا ہے اور ان کا سراغ بھی لگا لیا گیا ہے۔
اب تک 12 مقدمات میں برطانیہ کی اعلیٰ ترین خاندانی عدالت کے جج کی جانب سے قانونی طور پر ولدیت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اس عمل سے ان بچوں کو جواب ملا ہے جو نہیں جانتے تھے کہ ان کے والد کہاں ہیں، یا بعض صورتوں میں یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ان کے والد کون ہیں، یا جنہیں یہ بتایا گیا تھا کہ ان کے والد وفات پا چکے ہیں۔
یہ تمام بچے اپنے نسب کے بارے میں جواب تلاش کر رہے تھے اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ تصدیق شدہ 12 میں سے اکثر کیسز اب برطانوی شہریت کے لیے رجسٹریشن کے اہل ہیں۔ جن کی عمریں 18 سال سے کم ہیں یا مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ چائلڈ سپورٹ کے لیے اہل ہوں گے۔
برطانوی وکیل جیمز نیٹو اور کینیا میں مؤکل تلاش کرنے والے وکیل کیلون کبائی کا کہنا ہے کہ کینیا میں برٹش آرمی ٹریننگ یونٹ (باتک) کے قریب برطانوی فوجیوں سے پیدا ہونے والے بچوں کے تقریباً 100 کیسز ریکارڈ پر موجود ہیں۔ جیمز کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
باتک سنہ 1964 میں قائم کیا گیا تھا اور ہہاں سے ہر سال پانچ ہزار سے زائد برطانوی فوجی اہلکار اپنی تربیت مکمل کرتے ہیں۔ یہ نیروبی سے 185 کلومیٹر شمال میں واقع تجارتی قصبے نانیوکی میں واقع ہے۔ یہ مرکز کئی دہائیوں سے تنازعات کا شکار رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ دسمبر شائع ہونے والی کینیا کی پارلیمنٹ کی دو سالہ تحقیقاتی رپورٹ میں برطانوی فوجیوں پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اس اڈے پر ’جوابدہی سے آزاد ماحول‘ میں کام کرتے رہے، جس کے نتیجے میں جنسی استحصال، قتل کے دو الزامات، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، ماحولیاتی تباہی اور مقامی بچوں کو لاوارث چھوڑ دیے جانے اور نظرانداز کیے جانے جیسے سنگین مسائل سامنے آئے۔
برطانیہ کی وزارت دفاع نے جواب میں کہا کہ وہ ’کینیا میں برطانیہ کی دفاعی موجودگی سے پیدا ہونے والے ان مسائل اور چیلنجز پر گہرے افسوس کا اظہار کرتی ہے اور جہاں بھی ممکن ہو، ان سے نمٹنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جیمز نیٹو کو پہلی بار سنہ 2024 میں ان بچوں کے مسئلے کا علم ہوا جو نانیوکی میں اپنے والدین، بالخصوص اپنے والد کی تلاش میں تھے۔ انھوں نے جینیات کی ممتاز پروفیسر ڈینیس سائنڈرکومبی کورٹ کے ساتھ شراکت کی اور وہ دونوں ’ڈی این اے کٹس سے بھرا ایک سوٹ کیس لے کر‘ کینیا جا پہنچے۔
اس کے بعد انھوں نے جمع کیے گئے ڈی این اے نمونوں کا موازنہ ان ڈیٹابیسز کی جینیاتی پروفائلز سے کیا جو تجارتی طور پر دستیاب تھیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ تین سال سے لے کر 70 سال کی عمر تک کے مؤکلین کے لا پتہ برطانوی فوجی والدین کو تلاش کیا جا سکے۔
جیمز نیٹو کے مطابق اس نوعیت کا کام پہلے کبھی نہیں ہوا، کہ برطانیہ کی عدالتوں میں ’اتنے بڑے پیمانے پر‘ ڈی این اے ٹیسٹنگ کو استعمال کیا گیا ہو۔ موازنے کے لیے ان کے اور ان کی ٹیم کے پاس جینیاتی معلومات کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ گذشتہ سال تک تجارتی مقاصد کے لیے بنائی گئی ڈی این اے کی ویب سائٹ انسیسٹری ڈاٹ کام پر تقریباً تین کروڑ جینیاتی پروفائل دستیاب تھے۔ سائنڈرکومبی کورٹ نے اسی ویب سائٹ کو اپنا بنیادی ذریعہ بنایا۔
جیمز نیٹو کے مطابق انھیں اندازہ نہیں تھا کہ انھیں کتنے سراغ ملیں گے، اور نتائج دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ ’ہمیں نہایت دور کے رشتہ دار بھی ملے، نسبتاً قریبی رشتہ دار بھی، اور پھر یہاں تک کہ بالکل درست نتائج بھی آئے، باپوں کے نام سامنے آئے اور ان کی باقاعدہ شناخت ہو گئی۔‘
یہ پیش رفت ممکنہ طور پر ایڈورڈ اور ان کی والدہ نصیبو کی زندگی بدل دینے والی ہے، کیونکہ اب ایڈورڈ اپنے والد سے مالی معاونت کے حق دار ہوں گے۔
نصیبو برطانوی فوج کے بارے میں کہتی ہیں: ’میں انھیں شریف لوگ سمجھتی تھی۔‘ ان کا ماننا تھا کہ ایڈورڈ کے والد واقعی ان سے محبت کرتے تھے اور ان کا خیال رکھتے تھے۔ ہم نے وہ خط بھی دیکھا ہے جو نصیبو کے حاملہ ہونے سے پہلے فوجی کی والدہ نے انھیں لکھا تھا۔ اس خط میں بیٹے کو خوش رکھنے پر نصیبو کا شکریہ ادا کیا گیا تھا۔
نصیبو کہتی ہیں کہ جب انھوں نے اپنے امید سے ہونے کا بتایا تو وہ (ایڈورڈ کے والد) بہت خوش دکھائی دیے۔ نصیبو کے مطابق انھوں نے کہا کہ لڑکا ہوا تو اس کا نام ان کے بھائی کے نام پر رکھا جائے، اور برطانیہ کے ایک سفر سے واپسی پر وہ منگنی کی انگوٹھی بھی لے کر آئے۔
نصیبو کے مطابق جب وہ چار ماہ کی حاملہ تھیں تو ایڈورڈ کے والد نے ان سے کہا کہ ایک ہنگامی صورتحال کے باعث برطانیہ واپس جانا پڑ رہا ہے۔ اس کے بعد ہر قسم کا رابطہ ختم کر دیا۔
نصیو کہتی ہیں کہ کچھ رشتہ داروں نے زبردستی انھیں خاندانی گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا، اور جلد کی ہلکی رنگت کی وجہ سے ان کے بیٹے کو سکول میں ہراساں کیا جاتا رہا۔
نصیبو نے ہمیں بتایا کہ ’وہ ایڈورڈ کو ’برطانوی نو آبادیاتی حکمران‘ کہتے تھے۔‘ برطانیہ نے سنہ 1895 سے 1963 تک کینیا پر حکومت کی ہے۔
عدالت کے حکم پر جب وزارت دفاع، محکمہ برائے محنت و پینشن اور محصولات کو اس شخص کا نام اور پتہ فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی، تو جیمز نیٹو ایڈورڈ کے والد تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ایڈورڈ کے والد نے جیمز سے کہا ہے کہ ان کی رابطے کی معلومات نصیبو یا ان کے بیٹے کو نہ دی جائیں، تاہم وکیل اب ایسے عدالتی اقدامات شروع کرنے جا رہے ہیں جن کے تحت ایڈورڈ کے والد کو بچے کے اخراجات ادا کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
18 سالہ ایوون کینیا کی ایک اور شہری ہیں جو اپنے والد کے بارے میں ایڈورڈ سے بھی کم جانتی تھیں۔ انھیں صرف یہ بتایا گیا تھا کہ ان کے والد برطانوی فوج میں تھے۔ انھیں والد کا نام تک معلوم نہیں تھا اور وہ یہی سمجھتی رہیں کہ وہ وفات پا چکے ہیں۔ ایوون کی والدہ ان کے بچپن میں ہی انتقال کر گئی تھیں، اور مبینہ طور پر باتک میں موجود فوجیوں نے ان کے دادا دادی کو بتایا تھا کہ ان کے والد مر چکے ہیں۔
اس قانونی منصوبے سے انسیسٹری ڈاٹ کام پر اپ لوڈ کیا گیا اس شخص کی والدہ کے کزن کا ڈی این اے میچ کر گیا اور معلوم ہوا کہ ایوون کے والد زندہ ہیں اور برطانیہ میں قیام پذیر ہیں۔
پانچ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے بعد، وہ بالآخر اس دن عدالت میں پیش ہوئے جب ان کا مقدمہ سنا جا رہا تھا۔ وہ ایوون کے والد ہیں یا نہیں، اس کی تصدیق کے لیے انھوں نے ڈی این اے ٹیسٹ کی درخواست کی۔ ایک ہفتے بعد آنے والے نتائج سے ثابت ہو گیا کہ وہی ایوون کے والد ہیں۔
فی الحال وہ ایوون سے رابطہ نہیں چاہتے، تاہم ان کی والدہ کے کزن ایوون سے ملنے کے لیے بے تاب ہیں۔
جن باپوں کی شناخت ہوئی، ایسا نہیں ہے کہ سبھی نے لا تعلقی کا مظاہرہ کیا ہو۔
فل ایک سابق برطانوی فوجی ہیں اور سنہ 2004 میں نانیوکی میں تعینات تھے۔ ان کے مطابق وہ اپنی 20 سالہ بیٹی کیتھی کو جاننے کے عمل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ وہ پہلے کیتھی کی والدہ میگی کو شادی کی پیشکش بھی کر چکے تھے اور کیتھی کی پیدائش کے بعد کے چند مہینوں میں انھوں نے اپنی بیٹی کے ساتھ کافی وقت بھی گزارا تھا۔ تاہم، جب ان کا تبادلہ ہوا تو فل کے بقول ان کا فون چوری ہو گیا اور فون میں موجود رابطوں کی تفصیلات کھو گئیں۔
میگی نے سوچا کہ کیتھی کو یہ بتانا آسان ہو گا کہ ان کے والد کا انتقال ہو چکا ہے۔ لیکن بڑے ہونے پر کیتھی نے جان لیا کہ ان کے والد زندہ ہیں۔ کیتھی نے فیس بک پر اپنے والد کو پیغامات بھیجنے کی کوشش کی، مگر فل کے بقول، وہ پہچان نہیں پائے اور ان اکاؤنٹس کو بلاک کر دیا۔
فل کہتے ہیں کہ اُس وقت تک وہ فوج چھوڑ چکے تھے اور کچھ عرصے کے لیے بے گھر بھی رہے اور ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’سویلین زندگی میں منتقلی آسان نہیں تھی۔‘
اسی دوران کیتھی بھی مشکلات کا شکار تھیں اور مشکلات سے تنگ آ کر انھوں نے اپنی جان لینے کی کوشش بھی کی۔
’بچپن میں مجھے ایک باپ جیسی شخصیت کی کمی محسوس ہوتی تھی، کیونکہ کچھ باتیں ایسی تھیں جنھیں میری ماں سمجھ نہیں سکتی تھیں۔ اس وجہ سے مجھے بہت اکیلا پن محسوس ہوتا تھا۔‘
’آپ کی شخصیت کا ایک حصہ ایسا ہوتا ہے جس کے بارے میں آپ کچھ نہیں جانتے۔ جیسے وہ آپ کے لیے مکمل طور پر ایک راز ہو۔‘
حال ہی میں برطانیہ کی عدالتوں میں ولدیت کی تصدیق ہونے کے بعد، فل کہتے ہیں کہ وہ تلاش کر لیے جانے پر خوش ہیں، وہ اس تجربے کو ’انتہائی خوشگوار حیرت‘ قرار دیتے ہیں۔
فل کے مطابق اب ان کا کیتھی سے رابطہ ہے اور وہ کیتھی اور میگی دونوں کی کچھ مالی مدد بھی کر رہے ہیں۔
’میں نے کیتھی سے کہا کہ میں جو بھی کر لوں، اس وقت کی تلافی کبھی نہیں کر سکتا جو میں ان کے ساتھ نہیں گزار سکا۔ لیکن میں صرف یہی کر سکتا ہوں کہ اب اپنی طرف سے پوری کوشش کروں۔‘
کیتھی اب برطانیہ کا دورہ کرنے کی امید رکھتی ہیں۔
جیمز نیٹو کا کہنا ہے کہ ان کے علم کے مطابق، ان کے مؤکلین کے باپوں میں سے فل واحد ہیں جو واقعی اپنے بچوں کو پیسے بھیج رہے ہیں۔
ہم نے کینیا کے ایک مقامی وکیل کیلون کوبائے سے بات کی۔ انھوں نے برطانوی فوجیوں کے بچوں کی مالی مدد کے لیے کنکٹنگ روٹس کینیا نامی فلاحی ادارہ قائم کیا ہے۔
ہم نے ان سے پوچھا کہ غیر شادی شدہ جوڑوں کے بچوں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے کیا وہ ایسے تعلقات پر مکمل پابندی کے حق میں ہیں۔ انھوں نے اس سے دوٹوک اختلاف کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ فطری طور پر بہت نسل پرستانہ ہوگا کیونکہ اس میں آپ بنیادی طور پر سفید فام فوجیوں سے یہ کہہ رہے ہوں گے کہ وہ سیاہ فام خواتین سے دور رہیں، صرف اس لیے کہ وہ ان کے لیے مسئلہ بن سکتی ہیں۔
’واحد قابل عمل حل یہی ہے کہ ان مردوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے جو کینیا میں اپنی تربیت کے دوران بچے پیدا کرتے ہیں۔‘
نیٹو اور کوبائے کے مطابق ان کا کام جاری ہے اور آئندہ چند مہینوں میں مزید مقدمات ہائی کورٹ میں دائر کیے جانے کی توقع ہے۔
وزارت دفاع نے ہمیں بتایا کہ ’جہاں برطانوی فوجی اہلکاروں کے خلاف کسی غیر قانونی سرگرمی کا کوئی فوجداری الزام موجود نہ ہو اور مقامی پولیس کی جانب سے کوئی مخصوص خدشات سامنے نہ آئے ہوں تو برطانیہ کی وزارت دفاع تحقیقات نہیں کرے گی۔ ولدیت کے بعض دعوے باہمی رضامندی سے قائم تعلقات سے متعلق ہو سکتے ہیں جو وزارت دفاع کی پالیسی کے خلاف نہیں ہیں۔‘
کلیکٹو ٹریننگ گروپ کے کمانڈنگ افسر بریگیڈیئر سائمن رج وے نے کہا کہ ان معاملات سے متاثرہ افراد کو کینیا میں بچوں کے ادارے سے رجوع کرنا چاہیے۔ ’وہ پھر برطانیہ سے رابطہ کرتے ہیں اور اس کے بعد ہم سوالات کے جواب دینے اور سامنے آنے والے الزامات سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرتے ہیں۔‘
دسمبر میں ہونے والی کینیا کی پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی نے نیروبی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ ایسے نئے طریقہ کار متعارف کرائے ’جن کے ذریعے فوجیوں کو باہمی رضامندی سے قائم تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کی کفالت کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔‘
انھوں نے اس حوالے سے ڈی این اے ٹیسٹنگ اور ان بچوں کے لیے نفسیاتی اور سماجی مدد کا مطالبہ کیا ہے۔
اہم خبریں
فیچر اور تجزیے
مقبول خبریں
مواد دستیاب نہیں ہے