ایران میں جہازوں پر میزائل حملے: جب ایک پاکستانی ملاح بستر میں ہلاک جبکہ دوسرا 24 گھنٹے سمندر میں رہنے کے باوجود بچ گیا

،تصویر کا ذریعہWajid Khan

،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والے پاکستانی ملاح یاسر خان
    • مصنف, محمد زبیر خان اور گریس سوئی
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر پہلے حملے کیے تو ملک کی جنوبی بندرگاہ پر حسن کے بحری جہاز پر سیمنٹ رکھا جا رہا تھا۔

ان حملوں کے بعد نہ رُکنے والے دھماکے معمول بن گئے اور بندرگاہ پر ہر طرف آگ اور ملبہ نظر آیا۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے جہاز کے رُکن کہتے ہیں کہ یہ ’کسی فلم‘ کے منظر جیسا ماحول تھا۔

’جو بھی حملے ہو رہے تھے وہ ہمارے قریب ہی ہو رہے تھے۔‘

پہلے حملوں کے کچھ دن بعد بالآخر سفر کا فیصلہ کیا گیا لیکن ان کے جہاز پر میزائل حملے ہوئے اور یہ ڈوب گیا۔ بحری جہاز پر سوار تمام افراد سمندر میں بہہ گئے اور حسن کا کہنا ہے کہ تمام افراد لائف جیکٹس اور جہاز کے تیرتے ملبے کا سہارا لے رہے تھے۔

’22 سالہ پاکستانی شہری کا کہنا ہے کہ سمندر کا پانی بپھرا ہوا تھا اور یخ ٹھنڈا تھا۔‘ جہاز ڈوبنے کے بعد انھیں امید تھی کہ کوئی جلد ہی ان کی مدد کو آ جائے گا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ امید ختم ہو رہی تھی اور جہاز کا عملہ ایک دوسرے پر نگاہ تک نہیں ڈال رہا تھا۔

حسن کہتے ہیں کہ ’ہمیں لگا کہ ہم سمندر میں ڈوب جائیں گے اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوگی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وقت رُک سا گیا ہو اور ہم کسی بھی لمحے مر جائیں گے۔‘

سمندر میں تقریباً 24 گھنٹے گزرنے کے بعد حسن اور ان پانچ ساتھیوں (ایک پاکستانی اور چار ایرانی باشندے) کو پاس سے گزرتے ایک ایرانی جہاز نے ریسکیو کیا۔

حسن کہتے ہیں کہ ’مجھے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی، لیکن جب جہاز نے ہمیں ریسکیو کیا اور ہمیں کھانا اور پانی دیا تو یہ کسی معجزے جیسا لگا، جیسے مجھے نئی زندگی ملی ہو۔‘

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دیا تھا اور خلیج فارس میں تقریباً تین ہزار جہاز پھنس چکے تھے۔ حسن ان ہی جہازوں میں سوار عملے کے 40 ہزار افراد میں سے ایک ہیں۔

یہ اندازہ بنگلہ دیش مرچنٹ مرین آفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر کیپٹن انعم چودھری کا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شاید اس بندش کے سبب پھنسنے والے جہازوں کی تعداد اور بھی زیادہ ہو۔

،تصویر کا ذریعہAFP / Royal Thai Navy

حسن ان چند خوش نصیبوں میں شامل ہیں جو اپنے گھر پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جب ریسکیو کے بعد حسن اور ان کے ساتھی واپس ایران پہنچے تو جہاز کے مالک نے دونوں پاکستانیوں کو ان کے پاسپورٹ اور سفر کے لیے کچھ پیسے دے دیے۔

تاہم انھیں پانچ مہینے کی تنخواہ کی ادائیگی نہیں ہوئی تھی، جو تقریباً ڈھائی لاکھ روپے بنتی ہے۔

تنازع کے سبب ایران ایک نو فلائی زون بن چکا ہے اور اسی سبب حسن نے پاکستان پہنچنے کے لیے 24 گھنٹوں پر محیط ’دشوار‘ زمینی سفر کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ٹریفک بہت زیادہ تھا کیونکہ لوگ مزید میزائل حملوں کے امکانات کے سبب لوگ تہران سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

حسن کہتے ہیں کہ ’ٹیکسی ڈرائیور بھی خوفزدہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ انھیں گزر بسر کے لیے پیسے نہ چاہیے ہوتے تو وہ کبھی اپنے گھر سے نہیں نکلتے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ہر طرف پولیس کے ناکے تھے اور اہلکار صرف مسافروں کو ہی وہاں سے گزرنے دے رہے تھے۔

راستے میں کھانے اور پینے کی چیزیں دستیاب نہیں تھیں اور حسن اور ان کے ساتھی کو دو چپس کے پیکٹوں اور دو پانی کی بوتلوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔

غمزدہ خاندان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تاہم ایران سے ہر کوئی زندہ بچ نکلنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ملاح یاسر خان 24 مارچ کو اسی بندرگاہ پر ایک میزائل حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

انعم چودھری کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے تجارتی بحری جہازوں پر حملوں میں ایک درجن سے زائد ملاح جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

گذشتہ چند دنوں سے کراچی کے علاقے منوڑہ میں یاسر کے گھر سینکڑوں افراد تعزیت کے لیے آ رہے ہیں اور کھانا بھی لا رہے ہیں کیونکہ پاکستان میں سوگوار خاندانوں کے گھر پر روایتی طور پر کھانا نہیں پکایا جاتا۔

یاسر کو ان کے اہلِ خانہ اور دوست ایک زندہ دل، خوش مزاج اور نہایت مہربان انسان کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

یاسر کے بھائی واجد کہتے ہیں ’میرے والد صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کر رہے ہیں، لیکن میری ماں اور بھابھی کی حالت بہت خراب ہے۔ میں کسی طرح اپنی ماں کو تھوڑا سا کھانے پر مجبور کر لیتا ہوں، لیکن یاسر کی بیوی کچھ بھی نہیں کھاتی۔‘

ایک نئے ملاح کے طور پر 24 سالہ یاسر نے ایک ٹگ بوٹ پر ملازمت حاصل کی اور وہ گذشتہ ستمبر میں پہلی بار ایران گئے تھے۔ واجد کہتے ہیں کہ ’ان کے بڑے خواب تھے۔ وہ کامیاب ہونا چاہتے تھے، اپنی بیوی اور بچے کی کفالت کرنا چاہتا تھا، انھیں ایک بہتر زندگی دینا چاہتا تھا۔ اسی لیے وہ وہاں گیا تھا۔‘

21 مارچ کو عید کے پہلے روز یاسر نے حسبِ معمول اپنے گھر والوں کو فون کیا، لیکن جنگ کا ذکر نہیں کیا۔ تاہم اس کے بعد انھوں نے واجد سے علیحدگی میں بات کرنے کو کہا۔

واجد کہتے ہیں ’اس نے مجھ سے کہا کہ اسے وہاں سے نکالنے کا کوئی راستہ تلاش کرو۔‘

آنے والے دنوں میں واجد کا یاسر سے بالکل کوئی رابطہ نہیں ہو سکا اور انھیں اندازہ ہو گیا کہ کچھ غلط ہو گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’ہم ہر جگہ سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ شروع میں مجھے امید تھی کہ وہ بچ گیا ہوگا، شاید کنارے تک پہنچ گیا ہوگا، کسی اور جہاز پر چلا گیا ہوگا یا کہیں زخمی حالت میں ہوگا۔‘

بالآخر انھیں معلوم ہوا کہ یاسر اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب وہ گہری نیند میں تھے اور ان کے جہاز پر ایک میزائل آ کر لگا۔ چند ہی منٹوں میں جہاز مکمل طور پر ڈوب گیا اور اس پر سوار تمام افراد پانی میں جا گرے۔ صرف ایک ملاح، جو پاکستان سے تعلق رکھتا تھا، زندہ بچ سکا۔

زندگی اور موت

،تصویر کا ذریعہWajid Khan

حسن کے لیے ان کے جہاز کا ڈوب جانا کسی نعمت سے کم نہیں تھا کیونکہ دوسری صورت میں ان کے بقول وہ اب بھی ایران میں پھنسے ہوتے۔

ایران اور پاکستان سرحد سے اپنے گھر پہنچنے میں انھیں مزید پانچ دن لگے، ان کی ماں، بہنیں اور خالہ دروازے پر ان کا انتظار کر رہی تھیں اور ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔

حسن کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ کتنی دیر میری والدہ نے مجھے سینے سے لگائے رکھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا ک مجھے اب کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔‘

اس کے بعد انھیں دبئی میں مقیم ان کے والد کی فون کال آئی۔

’وہ بھی فون پر رو رہے تھے۔ انھوں نے مجھے تسلی دی کہ میں فکر نہ کروں اور وہ وہاں بالکل محفوظ ہیں۔ میں نے انھیں واپس پاکستان آنے کو کہا۔‘

حسن کو اپنے ملاح بننے پر کوئی افسوس نہیں ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ اب کبھی ایران نہیں جائیں گے۔

دوسری جانب ایران میں ہلاک ہونے والے پاکستانی ملاح یاسر کی تدفین کی جا چکی ہے اور واجد کہتے ہیں کہ ان کے خاندان کو اس موت کے غم سے نکلنے میں لمبا عرصہ لگے گا۔

واجد مزید کہتے ہیں کہ ’یاسر کا بیٹا صرف تین برس کا ہے۔ میں ہر وقت اسے دیکھتا رہتا ہوں، اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔‘