’ترقی یافتہ اور جدید‘ سمجھی جانے والی ہزاروں برس قدیم وادیِ سندھ کی تہذیب کا خاتمہ کیسے ہوا؟

،تصویر کا کیپشنایک آرٹسٹ کی جانب سے بنایا گیا وادی سندھ کی تہذیب کا خاکہ
    • مصنف, ڈیزی سٹیفنز
    • عہدہ, بی بی سی
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

کثیر منزلہ اینٹوں سے بنے گھر، ایک جیسی گلیاں اور نکاسی آب کا بہترین نظام اور فلشنگ ٹوائلٹس۔۔۔

یہ آپ کو ایک جدید شہر کی علامات لگ رہی ہوں گی، لیکن درحقیقت یہ ہزاروں سال قبل وادی سندھ کی تہذیب کی نشانیاں ہیں، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تہذیب بھی اُسی زمانے میں تھی، جب قدیم مصر کی تہذیب اپنے عروج پر تھی۔

لیکن وادی سندھ کی تہذیب کے بارے میں قدیم مصر کی تہذیب کے مقابلے میں ہم کم ہی جانتے ہیں۔

بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معاشرہ (وادی سندھ کی تہذیب) اُس وقت دُنیا میں موجود کئی معاشروں سے بہتر تھا اور اس کا رہن سہن اور جدت اسے دیگر تہذیبوں سے ممتاز کرتی تھی۔

وادی سندھ کی تہذیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا ترقی کا دور 1900 سے 2600 قبل مسیح پر محیط تھا۔

یونیورسٹی آف آکسفورڈ اور یونیورسٹی کالج لندن کے لیکچرار ڈاکٹر سنگارالنگم رمیش کہتے ہیں کہ چار ہزار قبل مسیح سے پہلے بھی اس تہذیب کا وجود تھا۔

اس کا مرکز دریائے سندھ کے ارد گرد کا وہ علاقہ تھا جو اب پاکستان اور انڈیا میں موجود ہے۔ یہ دیہاتی کاشتکار برادریوں کے ساتھ ساتھ 1400 سے زیادہ قصبوں اور شہروں پر مشتمل تھا، جن میں سب سے بڑا علاقہ ہڑپہ اور موئن جو دڑو تھا۔

ڈاکٹر رمیش کہتے ہیں کہ وادی سندھ کی تہذیب قدیم مصر اور قدیم میسوپوٹیمیا (موجودہ عراق) کی تہذیبوں سے کافی بڑی تھی۔ 80 ہزار بستیوں پر مشتمل اس تہذیب میں تقریباً 10 لاکھ باشندے تھے اور انھیں چند وجوہات کی بنا پر بہت ترقی یافتہ سمجھا جاتا تھا۔

جدید شہری منصوبہ بندی

،تصویر کا ذریعہDEA / W Buss via Getty Images

،تصویر کا کیپشنماہرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں سال قبل یہاں اینٹوں سے بنے پکے گھر اور اجتماعی حکومت کا نظام تھا

ڈاکٹر رمیش کے مطابق وادی سندھ کی تہذیب کا شمار اُن اولین آبادیوں میں ہوتا ہے جہاں اینٹ کے ذریعے گھر بنانے کا سلسلہ شروع کیا گیا اور یہ لوگ گھر بنانے کے لیے ایک ہی حجم کی اینٹیں استعمال کرتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہاں شہروں کو ایک ہی جیسی گلیوں اور سیدھے زاویوں پر تعمیر کیا گیا تھا۔ یہاں کنویں بھی تھے جبکہ گھروں میں لیٹرینیں (باتھ روم) تھیں جبکہ بہترین سیوریج سسٹم بھی موجود تھا۔

ڈاکٹر رمیش کہتے ہیں کہ غسل خانوں کے طرز تعمیر اور سیوریج سسٹم سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تہذیب گندے پانی سے ہونے والی بیماریوں کے بارے میں شعور رکھتی تھی اور صفائی پر زور دیتی تھی۔

اس تہذیب میں شہری آبادی کے پھیلاؤ سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہاں ذرائع آمد و رفت فعال تھے جس کے نتیجے میں تجارت کی راہ بھی ہموار ہوئی۔

ڈاکٹر رمیش کہتے ہیں کہ ’وادی سندھ کی تہذیب کے لوگ قدیم میسوپوٹیمیا کے ساتھ لکڑی، موتیوں، تانبے، سونا اور کپاس کی تجارت کرتے تھے۔‘

اجتماعی حکومت

،تصویر کا ذریعہLeemage/Corbis via Getty Images

،تصویر کا کیپشناس ٹیراکوٹا مجسمے سمیت وادی سندھ کے مقامات سے بہت کچھ کھود کر نکالا گیا ہے لیکن ابھی بھی بہت کچھ ہے جو ہم نہیں جانتے

رمیش کہتے ہیں کہ آثار سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں شہری علاقوں کی طرز پر ایک بہترین شہری حکومت موجود تھی۔

’یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایک اچھی طرح سے کام کرنے والی شہری اتھارٹی تھی، جو شہروں اور بستیوں کے بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال اور تعمیر پر مامور تھی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ان کا طرز حکمرانی کسی فرد واحد تک محدود نہیں تھا یعنی کوئی حکمران اشرافیہ نہیں تھی، بلکہ اس میں اجتماعیت کی جھلک نظر آتی تھی یعنی زیادہ سے زیادہ لوگ حکومت کا نظم و نسق سنبھالے ہوئے تھے۔

اُن کے بقول یہ چیز وادی سندھ کی تہذیب کو دیگر معاشروں اور تہذیبوں سے الگ کرتی تھی۔

آثار بتاتے ہیں کہ یہاں مصر میں فرعون یا میسوپوٹیمیا کے بادشاہوں کی طرح کا کوئی حکمران نہیں تھا اور نہ ہی کوئی بڑے شاہی محل یا عمارتیں تھیں۔

ڈاکٹر رمیش کے بقول مصر اور میسوپوٹیمیا میں طاقت ایک شخص تک مرکوز تھی اور ان تہذیبوں کی پرانی عمارتوں میں بھی اسی کی جھلک نظر آتی ہے، جہاں نوکر شاہی اور شاہی نمائش کا عنصر بھی نمایاں تھا۔

پُرامن خطہ

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ وادی سندھ میں کسی حد تک سماجی درجہ بندی تھی، لیکن یہ اُس وقت کے دیگر معاشروں کے مقابلے میں انتہائی کم تھی۔

رمیش کہتے ہیں کہ ’مصر اور میسوپوٹیمیا کے آثار کے ذریعے سماجی درجہ بندی کا پتہ لگانا آسان ہے، لیکن سندھ میں گھروں کے حجم میں فرق موجود ہے، لیکن اس بات کی نشاندہی کرنا مشکل ہے کہ یہاں طبقاتی فرق کتنا وسیع تھا۔

رمیش کہتے ہیں کہ آثار قدیمہ کے ماہرین کو کچھ ایسے انسانی ڈھانچے ملے ہیں، جس سے تشدد کے کچھ شواہد ملتے ہیں، تاہم کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ سندھ کی تہذیب دوسرے معاشروں کے مقابلے میں زیادہ پرامن تھی۔

رمیش کہتے ہیں کہ یہاں کسی بڑی جنگ کے آثار نہیں ملتے، حالانکہ دیگر قدیم معاشروں میں یہ عام تھا۔

لیکن ڈاکٹر رمیش تسلیم کرتے ہیں کہ ’اگر ہمیں کسی تشدد کے نشان نہیں ملتے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہاں کبھی ایسا ہوا ہی نہیں ہو گا۔ اُن کے بقول اگر کوئی معاشرہ اپنی جنگوں کو زیادہ نمایاں نہیں کرتا یا تاریخ میں اس کی کوئی نشانی نہیں ملتی تو ہم یہ سمجھنے میں غلطی کر سکتے ہیں کہ وہ پرامن تھے یا نہیں۔‘

پراسرار باقیات

،تصویر کا ذریعہDEA / G Nimatallah via Getty Images

،تصویر کا کیپشن

لیکن ہم ابھی بھی وادی سندھ کی تہذیب کے بارے میں بہت کچھ نہیں جانتے ہیں۔ رمیش کہتے ہیں ابھی بھی بہت سی کھدائی نہیں ہو سکی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اب بھی مغربی انڈیا میں ایسے مقامات کی تلاش کی جا رہی ہے، کیونکہ یہ قدیم تہذیب افغانستان تک پھیلی ہوئی تھی اور افغانستان کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے اس وقت اس تہذیب سے متعلق کھنڈرات کی کھدائی کرنا بہت مشکل ہے۔

رمیش کہتے ہیں کہ مصر اور میسوپوٹیمیا کی تہذیبوں کے آثار سے وہاں کی تہذیبوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرے میں آسانی ہوئی، کیونکہ اُنھوں نے وہاں پتھر کی پائیدار یادگاریں چھوڑی ہیں۔ لیکن دوسری جانب سندھ تہذیب میں بڑے پیمانے پر مٹی کی اینٹوں اور پکی اینٹوں کا استعمال کیا گیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’بڑے پتھروں، محلات یا شاہی مقبروں کے بغیر سندھ تہذیب کے بارے میں زیادہ جاننا مشکل ہے اور یہ اس لیے بھی مشکل ہے کہ ہم یہاں کا رسم الخط سمجھنے میں بھی مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکے۔ ‘

اس تہذیب کے ساتھ ہوا کیا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وادی سندھ کی تہذیب کے زوال کے اہم نظریات میں سے ایک ماحولیاتی تبدیلی ہے۔

رمیش کہتے ہیں کہ ’یہ مقامات 1900 قبل مسیح کے آس پاس چھوڑے جانے لگے تھے اور ماہرین آثار قدیمہ اور موسمیاتی تبدیلی کے ماہرین اس کی وجہ مون سون سیزن میں آنے والی تبدیلیوں کو قرار دیتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ موئن جو درڈو میں کھدائی سے یہ ثبوت بھی ملے ہیں کہ اس تہذیب کے ختم ہونے سے قبل لوگ سیلاب کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

رمیش کا خیال ہے کہ وادی سندھ کی تہذیب کو سمجھنے سے جدید معاشروں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ اگر ہمالیہ کے گلیشیئرز آج تیزی سے پگھل جائیں تو تاریخ اپنے آپ کو دہرا سکتی ہے۔

ان کے مطابق، سندھ کی تہذیب میں رائج اتفاق رائے پر مبنی طرز حکمرانی یعنی گورننس انھیں بچانے کے لیے کافی نہیں تھی۔ لیکن آج کے دور کے جدید معاشرے موسمیاتی تبدیلیوں سے بچنے کے لیے کہیں بہتر اقدامات کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر رمیش کے بقول ’سندھ تہذیب کے لوگوں کے پاس یہ جاننے کی ٹیکنالوجی نہیں تھی کہ اصل میں ہو کیا رہا تھا۔ لیکن آج ہمارے پاس یہ تیکنیکی صلاحیت موجود ہے۔ ہم اپنی ٹیکنالوجی کو زیادہ دانشمندی سے استعمال کر سکتے ہیں تاکہ ہماری تہذہب برقرار رہ پائے۔‘