’پرہیز گار مسلمان‘ کا روپ دھار کر 20 سال تک پولیس کو چکمہ دینے والا ’نریش ڈاکو‘ کیسے پکڑا گیا؟

،تصویر کا ذریعہIndian police

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دلی
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

انڈین پولیس کے ریکارڈ میں نریش ریاست اتر پردیش کے مرادآباد ضلع کے ایک پیشہ ور مجرم اور ’ہسٹری شیٹر‘ تھے۔

وہ مبینہ طور پر ڈکیتی، لوٹ مار اور اس طرح کے کئی واقعات میں پولیس کو مطلوب تھے۔

مگر تقریباً 21 برس قبل وہ اپنے گاؤں ہاشم پور، گوپال پاکباڑا سے اچانک لاپتہ ہو گئے۔ کچھ عرصے تک پولیس انھیں تلاش کرتی رہی لیکن ان کے بارے میں کچھ پتا نہ چلنے پر لوگ انھیں بھول ہی گئے۔

21 برس بعد گذشتہ دنوں پڑوسی ضلع سنبھل میں پولیس ایک ناکے پر مسافروں اور گاڑیوں کی چیکنگ کر رہی تھی تو اسے ایک کرتا پاجامہ پہنے اور لمبی داڑھی رکھے سلطان نامی شخص پر شک ہوا۔

جب مزید جانچ کی گئی تو سلطان نام کا یہ شخص دراصل مرادآباد کا ’نریش ڈاکو‘ نکلا جو 21 برس سے ایک مسلمان کا روپ دھار کر پولیس کو دھوکہ دے رہا تھا۔

نریش نے 20 سال تک پولیس کو دھوکہ کیسے دیا؟

نریش نے اپنی جعلی شناخت کو ٹھوس بنانے کے لیے جعلی ووٹر آئی ڈی، آدھار کارڈ اور ٹیکس کا پی اے این کارڈ بھی بنوا رکھا تھا تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔

سنبھل کے ایڈیشنل ایس پی رنووجے سنگھ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’نریش ایک ہسٹری شیٹر ہے اور وہ 20 برس سے لاپتہ تھا۔ اس عرصے میں وہ سنبھل کے ایک گاؤں میں سلطان کے فرضی نام سے رہ رہا تھا۔ ہم اس کے خلاف اُن کیسز کا جائزہ لے رہے ہیں جو 20 برس قبل درج کیے گئے تھے۔‘

مرادآباد کے پاکباڑا پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او یوگیش کمار کے مطابق پولیس کی ایک ٹیم سنیچر کو ہاشم پور کے چوراہے پر مشتبہ گاڑیوں اور مسافروں کی ’یکش‘ (YAKSH) ایپ کے ذریعے چیکنگ کر رہی تھی۔

پولیس اس ایپ کے ذریعے شناختی کارڈوں اور تصویروں کی تصدیق کرتی ہے۔ جانچ کے دوران ’پولیس کے ایک مخبر نے اطلاع دی کہ نریش پاکباڑا گاؤں میں کسی سے ملنے کے بعد اسی چوراہے سے گزرنے والا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہIndian police

،تصویر کا کیپشننریش نے اپنی جعلی شناخت کو ٹھوس بنانے کے لیے جعلی ووٹر آئی ڈی، آدھار کارڈ اور ٹیکس کا پی اے این کارڈ بھی بنوا رکھا تھا تاکہ کسی کو شک نہ ہو

چیکنگ کے دوران پولیس نے ایک بزرگ نما شخص کو روکا اور ان سے شناختی کارڈ مانگا۔ شناختی کارڈ میں ان کا نام سلطان اور والد کا نام جمال الدین درج تھا۔

پولیس افسر کے مطابق سلطان نے ووٹر آئی ڈی، آدھار کارڈ اور پی اے این کارڈز دکھائے۔ سب میں ان کا نام سلطان ہی درج تھا۔

جب پولیس نے ’یکش ایپ‘ میں ان کا آئی ڈی کارڈ چیک کرنے کے لیے ڈالا تو اسی تصویر کے دو شناختی کارڈ ظاہر ہوئے۔ دوسرے کارڈ پر ان کا نام نریش تھا۔

پولیس نے ان کے بیگ کی تلاشی لی تو نریش کا اصل شناختی کارڈ برآمد ہوا۔ پولیس نے موقع پر ہی نریش کو گرفتار کر لیا جس کی وہ 21 برس سے تلاش کر رہی تھی۔

’نریش ڈاکو‘ سے ’سلطان مُلا‘، گاؤں والے بھی حیران

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اے ایس پی مرادآباد ست پال انتل نے بتایا کہ نریش کے خلاف ڈکیتی اور لوٹ مار کے 12 مقدمے درج ہیں اور وہ پاکباڑا تھانے کا ایک ’ہسٹری شیٹر‘ تھا۔

نریش نے پوچھ گچھ کے دوران بتایا کہ اس کے خلاف کئی کیسز درج تھے، اسے جیل کی سزا بھی ہو چکی تھی اور پولیس بار بار اس کے گھر آتی رہتی تھی۔ پولیس کی جانچ سے بچنے کے لیے اس نے گھر بار چھوڑ کر سنبھل کے ایک گاؤں میں پناہ لے لی۔

مقامی صحافی ندیم علی کے مطابق نریش سنبھل میں مسلمانوں کی آبادی والے گاؤں ناہر ٹھیر میں رہتا تھا۔ ’شروع میں اس نے مزدوری اور چھوٹے موٹے کام کیے۔‘

ایک پڑوسی محمد مناظر نے بتایا کہ ’نریش سلطان کے نام سے گاؤں آیا اور کرائے کے مکان میں رہنے لگا۔ اس نے 12 برس قبل زمین کا ایک پلاٹ بھی خرید لیا تھا۔

’سلطان نے داڑھی رکھ لی تھی اور نماز بھی پڑھتا تھا۔ شکل و صورت اور لباس سے وہ نہایت مذہبی اور پرہیزگار مسلمان دکھائی دیتا تھا۔‘

ندیم نے بتایا کہ کچھ وقت بعد نریش نے ’اپنے ایک بھائی کو بھی وہیں بلا لیا تھا۔ اس عرصے میں اس نے کھانا پکانے کا ہنر بھی سیکھ لیا تھا۔ دونوں بھائی شادیوں میں کھانا پکانے اور روٹی بنانے کا کام کرتے تھے۔‘

سلطان کی گرفتاری پر گاؤں کے لوگ حیران رہ گئے۔

گاؤں میں وہ ایک نیک سیرت شخص کے طور پر مشہور تھا اور لوگ اسے ’سلطان مُلا‘ کہتے تھے۔

کسی کو شک نہیں ہوا کہ سلطان دراصل ایک مفرور ڈاکو ہے۔ گرفتاری کی خبر ملتے ہی گاؤں والے پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔ جب پولیس نے بتایا کہ وہ ایک مفرور مجرم ہے تو گاؤں والے حیرت زدہ رہ گئے۔

پولیس اب نریش کے خلاف تمام معاملوں کی چھان بین کر رہی ہے۔ وہ یہ جاننے کی بھی کوشش کر رہی ہے کہ اس نے نماز، روزے اور مسلم رہن سہن کیسے سیکھے۔