ٹرمپ ایران جنگ میں آگے کیا کر سکتے ہیں، 20 منٹ کی تقریر سے جنم لیتے سوالات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, گیری او ڈونوگھو
    • عہدہ, چیف رپورٹر، شمالی امریکہ
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پہلے سے کچھ قیاس آرائیاں ہونے کے باوجود بدھ کی شام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس سے کی گئی تقریر زیادہ تر انھی باتوں کا اعادہ تھی جو وہ ایران کی جنگ کے بارے میں کئی دنوں سے کر رہے ہیں۔

20 منٹ کی پرائم ٹائم تقریر میں انھوں نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی کے ’بنیادی سٹریٹجک مقاصد‘ ایک ماہ کی جنگ کے بعد ’تکمیل کے قریب‘ ہیں، اور انھوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ یہ کارروائی مزید دو سے تین ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

ان کی تقریر میں ایران کے خلاف معمول کے مطابق دھمکیاں بھی موجود تھیں، جن میں ملک کو ’پتھر کے زمانے میں واپس بھیج دینے‘ کا بار بار دہرایا جانے والا وعدہ بھی شامل تھا۔

اگر کوئی صرف ان کی پچھلے ہفتے کی ٹروتھ سوشل پوسٹس کو کاپی پیسٹ کر دے، تو وہ اس قومی خطاب سے بہت مختلف نہیں ہوں گی۔

صدر نے امریکیوں کو اس جنگ کی افادیت پر قائل کرنے کی بھی کوشش کی۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ ووٹروں کی اکثریت اس فوجی کارروائی کو ناپسند کرتی ہے جو انھوں نے 28 فروری کو شروع کی تھی۔

ٹرمپ نے امریکیوں پر زور دیا کہ وہ اس جنگ کو اپنے مستقبل میں ’سرمایہ کاری‘ کے طور پر دیکھیں، اور یہ بھی کہا کہ یہ پچھلی ایک صدی کے دوران ہونے والے اُن تنازعات کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہے جن میں امریکہ کہیں زیادہ عرصے تک الجھا رہا۔

لیکن اُن لوگوں کے لیے بہت کم بات کی جو اس بات کا واضح جواب چاہتے تھے کہ یہ جنگ کیا رُخ اختیار کر رہی ہے اور اس جنگ سے نکلنے کے ممکنہ راستےکیا ہیں۔

ٹرمپ کی تقریر سے کئی نمایاں چیزیں غائب تھیں، جن کی وجہ سے بے شمار سوالات کے جوابات نہیں مل سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناسرائیل نے ایران پر حملے بند نہیں کیے

سب سے پہلے، اسرائیل اب بھی ایران پر حملے کر رہا ہے اور خود بھی ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں ہے — جن میں بدھ کو تل ابیب میں پاس اوور کے آغاز سے صرف چند گھنٹے پہلے ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت اس ٹائم لائن سے متفق ہے جو ٹرمپ نے چند مزید ہفتوں کی بتائی ہے۔ اس وقت ہمارے پاس اس بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں ہیں۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کی وہ 15 نکاتی امن منصوبہ کہاں گیا، جسے چند روز پہلے امریکہ ایران سے قبول کروانے کی کوشش کر رہا تھا؟

بدھ کی شب ٹرمپ نے اس کا بالکل ذکر نہیں کیا۔ کیا واشنگٹن اب ان مطالبات سے پیچھے ہٹ رہا ہے، جن میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی واپسی بھی شامل ہے؟

یہ بات بھی ابھی واضح نہیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی جو دنیا کے مصروف ترین تیل برداری کے راستوں میں سے ایک ہے اور جسے ایران نے مؤثر طور پر بند کر رکھا ہے اس تنازعے کا مرکزی مسئلہ ہے۔

تاہم، صدر اس معاملے پر کوئی واضح اور مستقل موقف رکھتے ہوئے نظر نہیں آتے۔

ایک لمحے وہ ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئل ٹینکرز کو گزرنے دیا جائے اور اگلے ہی لمحے وہ اتحادیوں سے کہتے ہیں کہ وہ خود جا کر اس مسئلے کو حل کریں۔

انھوں نے بدھ کو کہا کہ ’آبنائے ہرمز پر جائیں اور بس اسے لے لیں، اس کا تحفظ کریں، اسے اپنے لیے استعمال کریں۔ مشکل کام ہو چکا ہے، اب یہ آسان ہونا چاہیے۔‘

پھر انھوں نے بغیر مزید وضاحت کیے صرف اتنا کہا کہ جنگ ختم ہونے پر آبنائے ’قدرتی طور پر‘ دوبارہ کھل جائے گی۔

یہ بیان اُن لوگوں کے لیے شاید تسلی بخش نہ ہو جو تیل کی قیمتوں سے متعلق فکر مند ہیں۔

ٹرمپ نے کچھ اتحادیوں پر سخت تنقید بھی کی ایک موقعے پر کہا کہ انھیں ’اپنی سست ہمت جمع کرنی چاہیے‘ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کارروائی کی قیادت کرنی چاہیے۔

یہ تنقید اُس وقت سامنے آئی جب انھوں نے بدھ کو پہلے ایک انٹرویو میں نیٹو عسکری اتحاد سے نکلنے کے امکان کا اشارہ دیا تھا۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اُن کی تقریر میں یہ بیانیہ بالکل غائب تھا، حالانکہ قبل از تقریر بریفنگز میں یہی کہا جا رہا تھا کہ آج رات اُن کی گفتگو کا یہ ایک اہم حصہ ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکہ میں گیس کی اوسط قیمت تقریبا چار سال میں پہلی بار چار ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے

ایک اور اہم سوال جس کا جواب ابھی تک نہیں دیا گیا، وہ زمینی فوج سے متعلق ہے۔

جو ہزاروں میرینز اور پیرا ٹروپرز خطّے میں پہنچ رہے ہیں، وہ وہاں آخر کرنے کیا جا رہے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ اس قومی خطاب کے بعد بھی ہمیں اس بات کی زیادہ سمجھ نہیں آئی کہ صدر اس جنگ میں فتح کو کس چیز سے تعبیر کرتے ہیں۔

اور چونکہ اُن کے اکثر بیانات آئے دن گذشتہ دن سے متصادم ہوتے ہیں، اس لیے کچھ بھی کسی بھی وقت بدل سکتا ہے۔

ادھر امریکہ میں اوسط پٹرول قیمت تقریباً چار سال بعد پہلی بار 4 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔

چند ہی ماہ میں ہونے والے اہم وسط مدتی انتخابات جو کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ کریں گے سے پہلے صدر کی مقبولیت تیزی سے گرتی جا رہی ہے۔

یہ ایک ایسے امریکی صدر ہیں جو اس جنگ سے نکلنے کی راہ تلاش کر رہے ہیں۔

اور وہ ابھی بھی کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔