پاکستان افغانستان کشیدگی اور ڈیورنڈ لائن کی دوسری جانب پھنسے شہری: ’حکومت چاہے تو یہ چند گھنٹوں میں واپس آ سکتے ہیں‘

مطالعے کا وقت: 8 منٹ

افغانستان کے ساتھ سفارتی تناؤ کے دوران جہاں پاکستان نے لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجا ہے وہیں پاکستان کے سینکڑوں شہری ڈیورنڈ لائن کی دوسری جانب عید منانے پر مجبور ہوئے۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس ستمبر کے آخر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور جھڑپوں کے باعث طورخم سرحد ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کردی گئی تھی۔ تاہم کچھ عرصہ بعد پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کے لیے سرحد کو جزوی طور پر کھول دیا گیا تھا۔

بعد ازاں رواں سال 26 فروری کو دونوں ملکوں کے درمیان ایک بار پھر بڑھتی کشیدگی کے باعث بارڈر کراسنگ مکمل طور پر بند کردی گئی تھی۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو کہا کہ عید الفطر کے اسلامی تہوار کے لیے اعلان کردہ عارضی وقفے کے خاتمے کے بعد پاکستان افغانستان کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے محکمہ داخلہ کی جانب سے 26 مارچ کو جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق ملکی پالیسی کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو انکے وطن واپس بھجوایا جا رہا ہے اور اب تک پاکستان سے مجموعی طور پر 21 لاکھ 32 ہزار افغان باشندے وطن واپس بھجوائے گئے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے تعلق رکھنے والے احسان اللہ ان سینکڑوں پاکستانی شہریوں میں شامل ہیں جو کہ افغانستان میں پھنس جانے کی وجہ سے اس مرتبہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ عید تک نہیں منا سکے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے احسان اللہ کے والد سردار محمد نے بتایا ان کا بیٹے محنت مزدوری کے لیے افغانستان گئے تھے لیکن گزشتہ سال اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی بڑی جھڑپ کے بعد سرحد کی بندش کے باعث وہ واپس نہیں آ سکے۔

انھوں نے بتایا کہ’ بیٹے کی گھر سے دوری کی وجہ سے ہمارے خاندان کے لوگ پریشان ہیں۔‘

چمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبدالنافع اچکزئی نے بتایا کہ افغانستان میں چمن کے سینکڑوں لوگ سرحد کی دوسری جانب تین کلومیٹر کی حدود میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر باب دوستی کو ایک دن کے لیے کھولا جائے تو یہ تمام لوگ چند گھنٹوں میں ہی وطن واپس آ سکتے ہیں۔‘

چمن سے تعلق رکھنے والے یہ افراد کیسے اور کب سرحد پار پھنس گئے؟

چمن سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے روزگار اور معاش سرحد پار افغانستان میں واقع سرحدی منڈیوں سے وابستہ ہے۔

پہلے یہ افراد قومی شناختی کارڈز پر روزانہ کی بنیاد پر صبح افغانستان کی سرحدی منڈیوں میں جاتے اور شام کو واپس آتے تھے لیکن بعد میں پاسپورٹ کی شرط لاگو ہونے پر ان لوگوں نے پاکستانی پاسپورٹ پر آمدورفت کا سلسلہ شروع کیا۔

گزشتہ سال اکتوبر کے وسط میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑی جھڑپ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرحد کی بندش سے چمن سے تعلق رکھنے والے تین ہزار سے زائد تاجر اور مزدور افغانستان میں پھنس گئے۔

سردار محمد نے بتایا کہ ان کا بیٹا احسان اللہ نے پاسپورٹ پر محنت مزدوری کے لیے سرحدی منڈیوں میں آنا جانا شروع کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر میں ہونے والی جھڑپ کے بعد سرحد کی بندش کی وجہ سے وہ واپس نہیں آ سکے۔

انھوں نے بتایا کہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ’میرے بیٹے کے لیے افغانستان سے پرواز کے ذریعے واپسی ممکن نہیں ہے اس لیے وہ گزشتہ سال اکتوبر کے وسط سے بارڈر کھلنے کا منتظر ہے۔‘

سردار محمد نے بتایا کہ تاحال احسان اللہ کی شادی نہیں ہوئی تاہم ان کی والدہ اور دوسرے بہن بھائی ان کے لیے بہت زیادہ پریشان ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہماری طرح چمن شہر اور ضلع کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں ایسے خاندان ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہماری دونوں ممالک کی حکومتوں بالخصوص پاکستانی حکام سے اپیل ہے کہ وہ ہمارے پیاروں کی واپسی کے لیے اقدام کرے تاکہ ان کے حوالے سے ہماری جو پریشانی ہے وہ ختم ہو سکے۔‘

’پھنسے ہوئے افراد کی واپسی کے لیے متعلقہ محکموں کے حکام سے ملاقاتیں کی گئیں‘

چمن سے تعلق رکھنے والے تاجر رہنما صادق اچکزئی نے بتایا کہ چمن شہر سمیت پورے ضلع چمن کے اکثر علاقوں کے لوگوں کے معاش اور روزگار کا انحصار افغانستان میں واقع سرحدی منڈیوں پر ہے ۔

انھوں نے کہا کہ ’جب حکومت نے شناختی کارڈ پر آمدورفت کی شرط ختم کرکے پاسپورٹ کو لازمی قرار دیا تو چمن کے لوگوں نے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیا اور اس کے خاتمے کے خلاف چمن کی تاریخ کا طویل ترین احتجاجی دھرنا دیا مگر چمن کے عوام کے احتجاج کو اہمیت نہیں دی گئی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’چونکہ چمن اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں روزگار کے مواقع نہیں ہیں اس لیے ہزاروں مزدوروں اور تاجروں نے پاسپورٹ پر افغانستان آنے اور جانے کا سلسلہ شروع کیا لیکن سرحد بند ہونے کے باعث اب وہ پاسپورٹ اور ویزے پر بھی اس سلسلے کو جاری نہیں رکھ پا رہے۔

انھوں نے کہا کہ ’پیسے نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ فضائی راستوں سے بھی نہیں آسکتے اور اگر غیر قانونی طور پر افغانستان سے آنے کی کوشش کریں گے تو ان کو یہاں جیل اور جرمانے کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

چمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبدالنافع اچکزئی کا کہنا ہے کہ تاجروں اور چمن کے عمائدین نے نہ صرف کوئٹہ بلکہ اسلام آباد میں ان لوگوں کی واپسی اور سرحد کو تجارت کے لیے کھولنے کے لیے متعلقہ حکام سے ملاقاتیں کیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے اسلام آباد میں بھی دفتر خارجہ، وزارتِ صنعت و تجارت کے حکام کے علاوہ دیگر متعلقہ اداروں کے حکام سے ملاقاتیں کیں لیکن وہ تاحال بارآور ثابت نہیں ہوسکیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سرحد کی بندش کی وجہ سے نہ صرف چمن میں کاروبار اور روزگار بری طرح سے متائثر ہوئی ہے بلکہ اب ہمارے سینکڑوں لوگ دوسری جانب پھنس چکے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف وہ بلکہ یہاں ان کے خاندان ایک اذیت سے دوچار ہیں۔‘

’پھنسے ہوئے تمام افراد چند گھنٹوں میں واپس آسکتے ہیں‘

عبد النافع خان اچکزئی نے بتایا کہ ’چمن کے جو مزدور اور تاجر افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں وہ افغانستان اور پاکستان کی سرحد سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہیں بلکہ چمن شہر سے صرف تین کلومیٹر کے فاصلے پر سرحد کی دوسری جانب ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’پہلے ان افراد کی تعداد زیادہ تھی لیکن ان میں سے جن لوگوں کے پاس پیسہ تھا وہ فضائی راستوں سے پاکستان آگئے تاہم اب بھی وہاں 1500 سے زائد افراد پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے پاس مہنگے فضائی ٹکٹوں کے لیے پیسے نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جس طرح حکومت پاکستان ایران میں جنگ کی وجہ سے وہاں سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اسے چائیے کہ وہ افغانستان میں پھنسے ہوئے اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے بھی اسی طرح کا اقدام کرے تاکہ وہاں پھنسے ہوئے شہریوں اور یہاں ان کے خاندان جس ازیت سے دوچار ہیں اس کا خاتمہ ہوسکے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حکومت صرف ایک دن کے لیے اگر باب دوستی پر ایف آئی اے کے کائونٹرز کھولے تو یہ تمام افراد چند گھنٹوں کے اندر واپس چمن آسکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ افغانستان سے اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے فوری طور پر اقدامات کرے۔‘

اس سلسلے میں حکومت کا موقف جاننے کے لیے کوئٹہ میں متعدد حکومتی عہدیداروں کے علاوہ کمشنر کوئٹہ ڈویژن سے فون پر رابطے کی کوشش کے ساتھ ان کو واٹس ایپ پر پیغام بھی بھیجا گیا لیکن تاحال انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

تاہم کوئٹہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر حکومتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’چمن سے تعلق رکھنے والے جو لوگ پاسپورٹ اور ویزے پر افغانستان گئے اور پھر اکتوبر میں سرحد کی بندش کی وجہ سے واپس نہیں آسکے ان کی تعداد 1500 کے لگ بھگ ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان افراد کی فہرست بھی متعلقہ حکام کو ان افراد کے رشتہ داروں اور دیگر تنظیموں کی جانب سے فراہم کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے ان افراد کی واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور اس سلسلے میں وفاقی اور بلوچستان حکومت دونوں کو درخواست کی گئی ہے۔

جب اس سلسلے میں بلوچستان کے وزیر داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’بارڈر کی بندش ایک وفاقی معاملہ ہے اور وفاقی وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ ایسے معاملات کو دیکھتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر بارڈر کی بندش کے حوالے سے کوئی نرمی کرنی ہوتی ہے تو یہ انہی دونوں وفاقی محکموں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جہاں تک چمن سے تعلق رکھنے والے ان افراد کی بات ہے تو بلوچستان حکومت یہ بات ان وفاقی محکموں کے علم میں لائی ہے اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ انہی محکموں نے کرنا ہے۔‘