چین کے خلائی پروگرام کے لیے دو پاکستانیوں کا انتخاب: ’جنگ اور سفارتکاری کے درمیان پاکستان کے لیے ایک اچھی خبر‘
،تصویر کا ذریعہSUPARCO
پاکستان میں خلائی تحقیق کے ادارے ’سپارکو‘ نے اعلان کیا ہے کہ دو پاکستانی خلا بازوں کو جدید تربیت کے لیے چین بھیجا جا رہا ہے جس کے بعد ان میں سے ایک خلا باز رواں برس اکتوبر میں چینی خلابازوں کے ہمراہ خلا میں جائے گا۔
بدھ کو سپارکو کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق دو پاکستانی خلا باز خرم داؤد اور محمد ذیشان علی کو چین روانہ کر دیا گیا ہے۔
سپارکو کا دعویٰ ہے کہ اس پیش رفت سے پاکستان اُن محدود ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو انسانی خلائی پروازوں کے پروگرام میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
سپارکو کے مطابق پاکستان پہلی مرتبہ چائنہ سپیس سٹیشن کے مشن میں شرکت کی تیاری کر رہا ہے۔
یہ مشن 2026 کے آخر میں متوقع ہے جس میں منتخب ہونے والا ایک پاکستانی خلا باز ’شین زو‘ مشن کے دوران بطور پے لوڈ ایکسپرٹ ذمہ داریاں انجام دے گا۔
سپارکو کے مطابق چائنہ سپیس سٹیشن پر مشن کے دوران پاکستانی خلا باز مائیکرو گریویٹی کے شعبے میں متعدد سائنسی تجربات انجام دے گا۔
ان تجربات کا دائرہ کار اہم شعبوں پر مشتمل ہو گا جن میں مٹیریل سائنس، فلوئڈ فزکس، لائف/بائیو سائنس اور بائیو ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
،تصویر کا ذریعہSuparco
سخت سکریننگ کے بعد انتخاب
چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ’شنہوا‘ کے مطابق دو پاکستانی امیدواروں کو چین کے خلائی مشن کی تربیت کے لیے پہلے غیر ملکی خلابازوں کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چائنا مینڈ سپیس ایجنسی نے بدھ کی سہ پہر اعلان کیا کہ یہ چینی خلائی سٹیشن میں بین الاقوامی تعاون میں ایک تاریخی کامیابی ہے۔
ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ محمد ذیشان علی اور خرم داؤد تربیت کے لیے ریزرو خلابازوں کے طور پر جلد چین آئیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تربیت مکمل کرنے کے بعد ان میں سے ایک خلائی مشن میں بطور پے لوڈ سپیشلسٹ حصہ لے گا، جو تیانگونگ خلائی سٹیشن پر پہلا غیر ملکی خلا باز بن جائے گا۔
فروری 2025 میں چین اور پاکستان نے اسلام آباد میں چینی خلائی سٹیشن کے لیے پاکستانی خلا باز کی خلائی پرواز کے حوالے سے ایک تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
اس کے بعد پاکستانی خلا بازوں کے انتخاب کا عمل شروع ہوا تھا اور کڑی سکریننگ کے تین مراحل کے بعد دو پاکستانی خلا بازوں کا انتخاب کیا گیا تھا۔
ایجنسی کے مطابق پاکستانی خلابازوں کا یہ انتخاب اور تربیت چین کے خلائی پروگرام میں ایک سنگ میل اور خلائی شعبے میں چین پاکستان تعاون پر مبنی شراکت داری کی ایک اور کامیاب مثال ہے۔
سوشل میڈیا پر ردِعمل
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان اور چین کے تعاون سے پہلے پاکستانی خلا باز کو خلا میں بھیجنے کے اعلان پر سوشل میڈیا پر بھی بات ہو رہی ہے۔ بہت سے صارفین اسے خوش آئند قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس معاملے میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہیے۔
سابق وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایکس پر لکھا کہ ’کورونا وبا کی وجہ سے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہو گیا تھا، شکر ہے کہ یہ دوبارہ ٹریک پر آ گیا ہے۔ میں اس موقع پر بہت خوش ہوں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا کہ پاکستان ڈاکٹر عبد السلام جیسے سائنسدان کی قیادت میں ایشیا میں خلائی تحقیق میں بہت آگے تھا۔ بد قسمتی سے ہم نے گذشتہ برسوں میں رفتار کھو دی تھی۔ مجھے فخر ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت میں اپنے دور میں ہم اس مشن کو زندہ کرنے اور ایک بار پھر بڑا سوچنے میں کامیاب ہوئے۔
سینئر صحافی سارہ زمان نے ایکس پر لکھا کہ جنگ اور سفارتکاری کے درمیان پاکستان کے لیے ایک اور اچھی خبر۔ محمد ذیشان علی اور خرم داؤد کو چین کے انسان بردار خلائی مشن میں بطور خلا نورد شامل کر لیا گیا ہے۔
مرزا اسد صدیق نامی صارف نے لکھا کہ یہ کوئی بڑی کامیابی نہیں ہے۔ جب تک کہ ہم مقامی سطح پر خلائی گاڑی تیار نہیں کر لیتے۔
جانگ ہاکنگ نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ یہ پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون کے لیے شاندار سنگ میل ہے۔ ان دونوں پاکستانی خلا بازوں کے لیے نیک تمنائیں ہیں اور یہ چین کے خلائی سٹیشن کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔
خلائی تسخیر میں پاکستان اور چین کا تعاون
خیال رہے کہ رواں برس فروری میں پاکستان نے اپنے قومی خلائی پروگرام میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے اپنا دوسرا مقامی ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں بھیجا تھا۔
یہ لانچ چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ میں واقع یانگ جیانگ سی شور لانچنگ سینٹر سے کی گئی، جہاں سے ایک آف شور مشن کے دوران پاکستان کے سیٹلائٹ سمیت چھ دیگر سیٹلائٹس بھی مدار میں بھیجے گئے۔
یہ سیٹلائٹ پاکستان کے قومی خلائی ادارے سپارکو نے تیار کیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ زمین کے مشاہدے (ارتھ آبزرویشن) اور ہائی ریزولوشن امیجنگ کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گا۔
اس سے قبل گذشتہ برس اکتوبر میں پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ اس نے چینی سیٹلائٹ سٹیشن کا استعمال کرتے ہوئے اپنا پہلا ’ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ‘ خلا میں بھیج دیا ہے۔
سپارکو کے مطابق ’ایچ ایس ون‘ سیٹلائٹ کو چین کے شمال مغربی علاقے جیوکوان لانچ سینٹر سے کامیابی کے ساتھ لانچ کیا گیا۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ایچ ایس ون‘ سیٹلائٹ جدید ہائپر سپیکٹرل ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور اس سے زراعت، موسمیاتی تبدیلیوں اور زمینی ساخت سے متعلق تفصیلی ڈیٹا میسر آ سکے گا۔
،تصویر کا ذریعہIST/Getty Images
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے شہری منصوبہ بندی، قدرتی آفات کے دوران مینجمنٹ میں بھی مدد ملے گی۔
سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر کمیشن (سپارکو) میں جنرل منیجر عائشہ ربیعہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پاکستان خلائی شعبے میں تحقیق سے متعلق وژن 2047 پر کام کر رہا ہے جس کے تحت مرحلہ وار اس شعبے کو فروغ دیا جائے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’2026 پاکستان کا پہلا خلانورد خلا میں جائے گا، 2024 بھی ہم نے چاند پر ایک مشن بھیجا تھا اور آنے والے عرصے میں چاند پر خلائی گاڑی بھیجنے کا ارادہ ہے۔‘
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسے چین-پاکستان اقتصادی راہداری 'سی پیک' کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔
سنہ 2024 میں پاکستان نے ’آئی کیوب قمر‘ نامی سیٹلائٹ چین کے خلائی راکٹ چینگ ای سکس کی مدد چاند کی جانب روانہ کیا تھا اور اس سے پاکستان چاند کے مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے والا چھٹا ملک بن گیا تھا۔
پاکستان کے سیٹلائٹ ’آئی کیوب قمر‘ نے چاند کے مدار میں داخل ہونے کے بعد تصاویر بھی بھجوائی تھیں۔
اہم خبریں
فیچر اور تجزیے
مقبول خبریں
مواد دستیاب نہیں ہے