مچھلی کے سپرم، ماہواری کا خون اور پرندوں کا فضلہ: جلد کو نرم اور تروتازہ رکھنے کے نِت نئے رجحانات سے متعلق سائنس کیا کہتی ہے؟
،تصویر کا ذریعہSerenity Strull/ BBC/ Getty Images
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں واقع ’یُو اینڈ آئی‘ کلینک میں جِلد کو پُرکشش اور بہتر بنانے کے لیے سالمن مچھلی کے ڈی این اے کے چھوٹے ٹکڑوں کو ’ڈرمیس‘ میں ایک انجکشن کے ذریعے داخل کیا جا رہا ہے۔ ’ڈرمیس‘ انسانی جلد کی وہ موٹی درمیانی تہہ ہے جس میں خون کی نالیاں، اعصاب اور غدود موجود ہوتے ہیں۔
اس کلینک پر موجود ڈاکٹر کیو ہو یی، جو یونسی یونیورسٹی سے بطور پروفیسر بھی منسلک ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ کوئی فِلر نہیں ہے بلکہ ’پرائمنگ یا بائیو سٹیمولیشن‘ ہے، جس کا مقصد جلد کو صحتمند بنانا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں یہ خیال بہت سے لوگوں کو عجیب لگ سکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں جنگوں کے دوران چہرے پر لگنے والے زخموں کا علاج مچھلی کے ڈی این اے کے ذریعے کیا جاتا رہا ہے۔
اس حوالے سے سائنسی اعداد و شمار کم ہیں، لیکن کچھ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ سالمن مچھلی کے سپرم کے ذریعے انسانی چہرے پر موجود جھریوں کو کم کیا جا سکتا ہے۔
امریکہ میں ماؤنٹ سینائی ہسپتال میں جلدی امراض کے ڈاکٹرجوشوا زیچنر کہتے ہیں کہ سالمن مچھلی کے سپرم جِلد کو تروتازہ اور نرم رکھتے ہیں اور یہ جھریاں کم کرنے کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔
ڈاکٹرجوشوا سکن کیئر کمپنیوں کے لیے بطور کنسلٹنٹ بھی کام کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ واضح نہیں ہے کہ کس طرح سالمن کے سپرم کو جِلد سے متعلق مسائل کے علاج کے طور پر آزمانے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن اس کے باوجود اسے استعمال کیا جا رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہSerenity Strull/ BBC/ Getty Images
جنوبی کوریا میں چہرے کی دیکھ بھال اور اسے تروتازہ رکھنے کا رجحان کافی عام ہے اور یہاں اس کے لیے ’کے بیوٹی کریز‘ کی اصطلاح عام ہے۔ سالمن اور دیگر مچھلیوں کے سپرمز کو انجکشن کے ذریعے چہرے پر لگا کر خوبصورت بنانے کا رجحان اب دُنیا بھر میں عام ہے۔
یہاں تک کہ جینیفر انیسٹن جیسی مشہور شخصیات بھی اس طریقہ علاج کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی چہرے کو خوبصورت بنانے کے لیے عجیب و غریب طریقے اپنائے جا رہے ہیں، جن میں پرندوں کے فضلے اور ’ویمپائرز ماسک‘ بھی استعمال کرنے کا رجحان ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن کیا یہ طریقے واقعی کارآمد بھی ہیں؟
خوبصورتی اور عجیب و غریب طریقے
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تاریخ کی کتابوں پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ سکن کیئر سے متعلق عجیب و غریب طریقے اپنانے کی ایک لمبی تاریخ ہے۔
مصر کی ملکہ قلوپطرہ کے بارے میں یہ افواہ ہے کہ وہ گدھی کے دُودھ سے نہاتی تھیں۔ میانمار میں، خواتین صدیوں سے اپنے چہروں پر تھانکا نامی پیسٹ لگاتی ہیں، جو درخت کی چھال سے بنایا جاتا ہے۔
ایک اور عجیب و غریب طریقے میں چھوٹے سائز کے مگر مچھ کو پیس کر اس کا پیسٹ استعمال کرنا بھی شامل ہے۔
جدید سائنس بتاتی ہے کہ ان قدیم بیوٹی تھراپیز میں سے کچھ چہرے کی صحت کے لیے فائدہ مند پائی گئی ہیں۔ اس میں ہلدی، برہمی بوٹی اور سمندری کائی کا استعمال بھی شامل ہے۔ یہ اجزا جلد کی سوزش کو کم کرنے اور اسے تروتازہ رکھنے کے لیے بنائی جانے والی مصنوعات میں آج بھی استعمال ہو رہے ہیں۔
سنہ 2022 میں ہونے والے ایک مطالعے میں 12ویں صدی کے اٹلی میں جلد کی حفاظت کے مختلف طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔
محققین نے بتایا کہ اُس زمانے میں پھلیوں اور سرکے کا خشک جلد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور یہ نسخے اب بھی کارآمد سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح ٹارٹرک ایسڈ نامی ٹارٹر آئل کا عرق اب جدید سکن کیئر میں بھی ایک عام جزو ہے۔’
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پرندوں کا فضلہ اور ماہواری والے ماسک
مگر یہ معاملہ صرف پودوں، جڑی بوٹیوں اور معدنیات کے استعمال تک محدود نہیں۔ مشہور زمانہ 'گیشا فیشل' میں بُلبل جیسے ایک پرندے کے فضلے کو طاقتور الٹرا وائلٹ روشنی کی مدد سے نقصاندہ جراثیم سے پاک کیا جاتا ہے، پھر اسے دیگر کیمیکلز جیسے 'ایکسفولیئنٹ' اور 'برائٹنر' کے ساتھ ملا کر چہرے پر ماسک کی صورت میں لگایا جاتا ہے۔
یہ منفرد طریقہ صدیوں پرانی اُس جاپانی روایت سے ماخوذ ہے جس میں جاپانی بُش واربلر (بُلبل جیسا پرندہ) کے فضلے کو کپڑوں کا رنگ کاٹنے یعنی ہٹانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں جاپانی خواتین فنکاروں نے اسے جلد کو چمکدار بنانے اور میک اپ ہٹانے کے لیے اپنایا۔
آج یہ طریقہ دنیا بھر کی مختلف کلینکس میں جلد کو شفاف کرنے کے علاج کے طور پر مقبول ہے، اور اس کے پیچھے کچھ سائنسی بنیاد بھی موجود ہے۔ زیچنر کے مطابق بُلبل کے فضلے میں یوریا کی خاصی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے، جو جلد کو نرم و ملائم کرنے کی طاقتور خصوصیت رکھتی ہے۔
اس فضلے میں امینو ایسڈ کی بھی زیادہ مقدار موجود ہوتی ہے۔ زیچنر کا کہنا ہے 'امینو ایسڈز کو جلد کو نم رکھنے اور اسے چمکدار بنانے کے لیے جانا جاتا ہے۔' تاہم وہ یہ وضاحت بھی کرتے ہیں کہ اس نوعیت کے طریقوں میں پرندے کا صاف شدہ فضلہ استعمال ہوتا ہے۔ 'ایسا نہیں ہے کہ آپ سڑک پر پڑے پرندوں کے فضلے کو اٹھا کر چہرے پر لگا لیں!'
واضح رہے کہ چہرے کو خوبصورت بنانے کے لیے مختلف طریقوں پر تحقیق کو زیادہ تر فنڈنگ بیوٹی انڈسٹری کی جانب سے کی گئی ہے یا اُن کمپنیوں کے ذریعے براہ راست ملازمت کرنے والے سائنسدانوں کے ذریعے یہ ریسرچ کروائی گئی ہے۔
لیکن حالیہ عرصے میں ’ٹک ٹاک‘ پر ماہواری کے مواد سے بنائے گئے ماسک بھی وائرل ہو رہے ہیں۔ سنہ 2018 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ماہواری کے دوران خارج ہونے والے سیال سے حاصل ہونے والا پلازما خون زخموں کو زیادہ بہتر انداز میں بھرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔
کنگز کالج کے لندن میں ماہر امراض جلد بیبی ڈوہرپور اس سے اتفاق نہیں کرتے۔
وہ کہتے ہیں کہ کوئی معالج کبھی بھی اس کی سفارش نہیں کرے گا۔ یہ صرف ٹک ٹاک ٹرینڈز میں سے ایک ہے، جس کے ذریعے لوگ توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ویمپائر فیشل اور پلیٹلیٹس سے بھرپور پلازما اور سِکن کیئر کا مستقبل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر بیبی ڈوہرپو کہتے ہیں کہ پلیٹلیٹس سے بھرپور پلازمہ یعنی (پی آر پی) انجیکشن زیادہ بہتر طریقہ علاج ہے اور اسے بعض اوقات ’ویمپائر فیشل‘ کہا جاتا ہے۔
اس طریقہ کار میں مریض کا خون لینا اور اسے الگ کرنے کے لیے سینٹری فیوج کا استعمال کرنا شامل ہے، جس کے ذریعے پروٹین کا ایک خاص گروپ چہرے کو تروتازہ رکھتا ہے۔
اگرچہ جلد کی دیکھ بھال کے عجیب و غریب رجحانات کو بھی کچھ سائنسی حمایت حاصل ہو سکتی ہے، سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سکن کیئر کے علاج سے متعلق دیگر چیزوں کے علاوہ، کولیجن سپلیمنٹیشن کو بہتر بنانے کے نئے طریقے تلاش کرنا بھی شامل ہو گا۔
بیوٹی انڈسٹری کی مالی اعانت سے ہونے والی ایک تحقیق میں امینو ایسڈ کے ساتھ ایسے سپلیمنٹس کا استعمال کیا گیا، جو خاص طور پر کولیجن کی تبدیلی کے لیے بنائے گئے تھے۔
یہ طریقہ چھ ماہ کے دوران نہ صرف جلد کی ساخت، ہائیڈریشن اور لچک میں بہتری لایا بلکہ محققین نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ امینو ایسڈ کے اس خاص توازن پر مشتمل کولیجن سپلیمنٹس ممکنہ طور پر نہ صرف جلد کی صحت بلکہ صحت کے دیگر پہلوؤں کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔
پچھلے سال، جنوبی کوریا میں محققین نے خون میں پائے جانے والے ایک بیکٹیریا کی دریافت شائع کی جو ممکنہ طور پر مفید پوسٹ بائیوٹکس تیار کرتی ہے جو جلد کے خلیوں میں سوزش، تناؤ اور کولیجن کے نقصان کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جلد کی دیکھ بھال کے کسی بھی نئے نظام کو بالآخر ثابت کرنا ہو گا کہ یہ عشروں سے تجارتی طور پر دستیاب کسی بھی آزمائے ہوئے اور آزمائے گئے حل سے زیادہ مؤثر ہے یا نہیں۔
اہم خبریں
فیچر اور تجزیے
مقبول خبریں
مواد دستیاب نہیں ہے