پرنس فلپ کی آخری رسومات کی تصاویر: ملکہ برطانیہ اور قوم کی جانب سے ڈیوک آف ایڈنبرا کو الوداع

ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم نے سنیچر کو ونڈزر کاسل کے میدانوں میں اپنے شوہر پرنس فلپ دی ڈیوک آف ایڈنبرا کی آخری رسومات میں اپنے خاندان اور قوم کی راہنمائیکی۔

پرنس فلپ کے تابوت کے پیچھے اُن کے خاندان کے چند افراد بشمول اُن کے چار بچے اور ان کے پوتے شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری چل رہے تھے جبکہ سب سے آخر میں ملکہ برطانیہ اپنی گاڑی میں موجود تھیں۔

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنملکہ برطانیہ سینٹ جارج چیپل میں پرنس فلپ کی آخری رسومات کے دوران سر جھکائے ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنڈچز آف کارن وال کمیلا پارکر ونڈزر کاسل میں سینٹ جارج چیپل پہنچ رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکیتھرین، ڈچز آف کیمبرج سینٹ جارج چیپل پہنچ رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشاہی خاندان کا فوجی دستہ پرنس فلپ کی آخری رسومات کے موقع پر ونڈزر کاسل کے باہر موجود ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپرنس فلپ کی آخری رسومات کے موقع پر فٹ گارڈز بینڈ اپنی مقررہ پوزیشن لے رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآخری رسومات سے قبل شاہی گھڑسوار فوجی دستہ ونڈزر کاسل پہنچ رہا ہے

پرنس فلپ کے تابوت کو ایک لینڈ روور ہرس پر کاسل کے اندرونی ہال سے کچھ فاصلے پر سینٹ جارج چیپل تک لے جایا گیا۔ ڈیوک آف ایڈنبرا نے خود اس گاڑی کی ڈیزائننگ میں مدد دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہREX / Shutterstock

اس کے بعد دعائیہ کلمات سے عین پہلے برطانوی وقت کے مطابق دوپہر تین بجے ملکی سطح پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہREX / Shutterstock

یہ علامتی آخری رسومات مکمل طور پر ونڈزر کاسل کے میدانوں میں ادا کی گئیں اور عوام سے یہاں اور دیگر شاہی رہائش گاہوں کے باہر جمع نہ ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

جب دوپہر کے وقت شاہی گھڑسوار فوجی دستہ ونڈزر کاسل کی جانب رواں دواں تھا تو انھیں دیکھنے کے لیے سینکڑوں کی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

،تصویر کا ذریعہPA Media

جس وقت شہزادہ فلپ کے تابوت کو ونڈزر کاسل سے سینٹ جارج چیپل تک لے جایا گیا، اس وقت اس رجمنٹ کے ارکان نے ڈیوک آف ایڈنبرا کو کاسل کے مشرقی باغ سے توپوں کی سلامی دی۔

،تصویر کا ذریعہPA Media

سیاہ، سنہری اور سرخ وردیوں میں ملبوس درجنوں گھڑسوار تین توپوں کے ہمراہ ونڈزر کاسل کے کیمبرج دروازے تک گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عوام کی ایک قلیل تعداد ڈیوک آف ایڈنبرا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ونڈزر میں موجود ہے تاہم کووڈ کی پابندیوں کے باعث یہ علاقہ عمومی طور پر خالی ہی نظر آ رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلوگ پرنس فلپ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ونڈزر کاسل کے باہر موجود ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمیڈیا ارکان پرنس فلپ کی آخری رسومات کے دن ونڈزر کاسل کے باہر جمع ہیں

ڈیوک آف ایڈنبرا کے ذاتی طور پر منتخب کردہ شاہی نشانات اور اُن کے اعزازات ونڈزر میں سینٹ جارج چیپل میں رکھے گئے ہیں۔

برطانیہ اور دولتِ مشترکہ کے ممالک کی جانب سے اُنھیں عطا کیے گئے میڈلز اور اعزازات نو تکیوں پر رکھے گئے ہیں۔ اس میں ڈنمارک اور یونان کے شاہی نشانات بھی شامل ہیں جو اُن کے پیدائشی طور پر یونان اور ڈنمارک کا شہزادہ ہونے کی عکاسی کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشنڈیوک آف ایڈنبرا کے شاہی نشانات اور اعزازات سینٹ جارج چیپل میں رکھے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپرنس فلپ کے شاہی نشانات: رائل وکٹورین آرڈر کالر اور بیج، اور رائل وکٹورین آرڈر بریسٹ سٹار اور بیج (سامنے)، اور آرڈر آف دی ایلیفینٹ (ڈنمارک) اور آرڈر آف دی ریڈیمر (یونان)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندریائے تھیمز سے ونڈزر کاسل کا منظر

تمام تصاویر کے جُملہ حقوق محفوظ ہیں۔