بہترین سفری تصاویر: نگری نگری پھرا مسافر

،تصویر کا ذریعہGMB Akash / TPOTY

بنگلہ دیش میں ایک نوجوان خاتون ٹکٹ کے کرائے سے بچنے کے لیے ڈبوں کے درمیانی حصے پر بیٹھی ہے۔

یہ تصویر جی ایم بی آکاش نے بنائی اور سنہ 2009 میں اسے اس مقابلے کا فاتح قرار دیا گیا۔

یہ تصویر لندن کے علاقے گرین وچ میں انعام یافتہ تصاویر کی نمائش کے دوران رکھی گئی۔ اس تصویر کو ججوں نے گذشتہ 14 سالہ مقابلوں میں پسندیدہ ترین قرار دیا۔

ہوئی این، ویتنام 2003

مائیکل مٹالیچ، امریکہ

،تصویر کا ذریعہMichael Matlach / TPOTY

ایک جج کا کمنٹ: ہوئی این کی اس تصویر میں رنگوں اور حرکت کا امتزاج ہے اور ان سب کو مائیکل مٹالیچ نے بہت خوبصورتی سے عکس بند کیا ہے۔ انھوں نے بازار کے تمام عناصر کو ایک تصویر میں قید کر لیا۔

کولینزے، مالی 2004

ریمی بینالی، فرانس

،تصویر کا ذریعہRemi Benali / TPOTY

گرم موسم میں ایک بچہ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے۔

ہوانا، جیوبا 2005

لورین ریزنک، کینیڈا

،تصویر کا ذریعہLorne Resnick / TPOTY

فوٹو گرافر لورین ریزنک کا کہنا تھا ’میں اپارٹمنٹ بلڈنگ کے عقبی حصے میں گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک کھڑکی سے جھانکتی ہوئی ایک عورت کو دوسری عورت انڈے پکڑا رہی ہے۔

نیدر لینڈز، 2005

گیرارڈ کنگما، نیدر لینڈز

،تصویر کا ذریعہGerard Kingma / TPOTY

جج کے کمنٹ: ’بھیڑوں کے اس خاندان کی تصویر لیتے ہوئے فوٹو گرافر گیرارڈ کنگما نے ایسا اتفاقیہ لمحہ عکس بند کر لیا جس نے اس تصویر کو ایک فاتح تصویر بنا دیا۔ اس تصویر کا تھیم لمحۂ آزادی تھا۔‘

جالسکو، میکسیکو 2005

ٹوڈ ونٹرز، امریکہ

،تصویر کا ذریعہTodd Winters / TPOTY

میکسیکو کے ایک قصبے میں سڑک کنارے ٹوپیاں فروخت کرنے والا شخص بیٹھا ہے۔ اس تصویر کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ شخص جاگ رہا ہے یا سو رہا ہے۔ یا پھر یہ کہ اس نے بائیں جانب پڑے خالی سٹینڈ والا ہیٹ پہنا ہے یا سٹینڈ والا بک چکا ہے۔

متھورا، اتر پردیش انڈیا 2009

پورس چوہدری، انڈیا

،تصویر کا ذریعہPoras Chaudhary / TPOTY

ہندو تہوار ہولی ایک رنگا رنگ اور ہلچل سے بھرپور تہوار ہوتا ہے جو سردیوں کے خاتمے اور بہار کی آمد پر منایا جاتا ہے۔

کینیڈین آرکٹک 2011

تھامس کوکٹا، جرمنی

،تصویر کا ذریعہThomas Kokta / TPOTY

فوٹو گرافر تھامس کوکٹا کا کہنا تھا ’شمسی طوفانوں کے بعد مجھے پورا یقین تھا کہ سنہ 2011 ارورا بریلس کے لیے بہترین سال ہوگا۔ میں نے تین ہفتوں تک کینیڈین آرکٹک میں انتظار کیا تاکہ اس دلفریب منظر کو عکس بند کیا جا سکے۔ میں نے منفی 40 سے منفی 45 ڈگری میں راتیں کھلے آسمان تلے بسر کیں۔‘

بحیرہ ابیض، خطۂ کیریلیا، شمالی روس 2011

فرانکو بانفی،سوئٹزرلینڈ

،تصویر کا ذریعہFranco Banfi / TPOTY

فوٹو گرافر فرنکو بانفی کا کہنا تھا : ’بیلوگا وہیل تیرتی ہوئی میری طرف آئی اور انتہائی قریب سے ٹکرائے بنا پلٹ گئی۔ یہ اس نے کئی مرتبہ کیا اس کے بعد یہ میرے سامنے آ کر رکنے لگی اور مجھے کچھ تصاویر لینے کا موقع دیا۔ وہ غصے میں نہیں تھی بس کھیلنا چاہتی تھی۔‘

دریائے اومو کی وادی، ایتھوپیا 2012

جان شلیگل، جرمنی

،تصویر کا ذریعہJan Schlegel / TPOTY

فوٹو گرافر جان شلیگل کہتے ہیں: ’بیوا نامی یہ شخص کارو قبیلے کا ایک عزت دار شکاری ہے۔ اس نے فخر سے مجھے بتایا کہ اس نے تین شیر، چار ہاتھی ، پانچ تیندوے، 15 بھینسیں اور کئی مگر مچھوں کا شکار کیا جبکہ دوسرے قبائل کے ساتھ جنگوں میں کئی لوگوں کو بھی مارا ہے۔ ایک گہرا سانس لے کر انھوں نے بتایا اب وقت بدل گیا ہے اور شکار پر پابندی ہے اور وہ ماضی کی روایات کو بہت یاد کرتے ہیں۔‘

سربیا، روس 2012

الیسانڈرا میکونزی، سوئٹرزرلینڈ

،تصویر کا ذریعہAlessandra Meniconzi / TPOTY

نینٹس آرکٹک کے علاقے میں وہ خانہ بدوش لوگ ہیں جو مشکل ماحول اور سخت ترین موسم میں رہتے ہیں۔

یہ لوگ رینڈیئر کی کھال اور بالوں سے بنے ’چم‘ عارضی گھر میں رہتے ہیں۔ اس تصویر میں اس قبیلے کی بچی لڑکیاں جمع کر کے لے جا رہی ہے۔

پھوکٹ، تھائی لینڈ 2013

جسٹن موٹ، امریکہ

،تصویر کا ذریعہJustin Mott / TPOTY

فوٹو گرافر جسٹن ٹوٹ کا کہنا تھا: ’یہ تصویر لوگوں کو اچنبھے میں ڈالتی ہے کہ اگر تیرتی ہوئی لڑکی دکھائی دے رہی ہے تو ہاتھی کی ٹانگیں کیوں نظر نہیں آتیں ؟ جواب انتہائی آسان ہے کہ ہاتھی پانی میں ہے ہی نہیں جبکہ لڑکی سطح زمین نے بلند پول میں تیر رہی ہے۔ جبکہ ہاتھی اس کے پیچھے ٹھوس سطح پر کھڑا ہے۔ مجھے اس تصویر کے لیے پول میں اتر کر اپنے کیمرے کو واٹر پروف بیگ میں ڈال کر اسے آدھا پانی کے اندر اور آدھا باہر رکھ کر یہ تصویر بنانا پڑی۔‘

دریائے مارا ، شمالی سرینگیٹی 2014

نکول کیمری، بیلجیئم

،تصویر کا ذریعہNicole Cambre / TPOTY

جنگلی جانوروں کا ایک جھنڈ بارش کے بعد تذبذب کا شکار ہو گیا اور دونوں جانب سے دریا عبور کرنے لگا۔ ایک چھوٹا گروہ بڑے گروہ میں شامل ہونے کے لیے پہنچا لیکن یہاں جگہ عمودی تھی۔ اس جانور نے بنا انتظار کیے مڑنے کے بجائے چھلانگ لگا دی۔ ‘

کنشاسا، عوامی جمہوریہ کانگو 2014

جونی ہنگلنڈ ، ناروے

،تصویر کا ذریعہJohnny Haglund / TPOTY

لیس سیپرس ایسے لوگںو کا گروہ ہے جو اپنے گرد پھیلی غربت کے باجود کنشاسا کی سڑکوں پر مہنگے ڈیزائنرز کپڑے پہن کر پھرتے ہیں۔ گو کہ ان کی ظاہری شکل و صورت بتاتی ہے کہ یہ کانگوں کے دوسرے لوگوں سے مختلف ہیں لیکن اس تصویر میں موجود یہ تمام نوجوان ہیں اور عام ملازتیں کرتے ہیں۔

ایٹچافالیا بیسن، لوزیانا، امریکہ 2015

مارسل وین اوسٹن، نیدر لینڈز

،تصویر کا ذریعہMarsel van Oosten / TPOTY

فوٹو گرافر مارسل وین اوسٹن کا کہنا تھا : صنوبر کے طویل قامت درختوں کے درمیان کیاکنگ کییہ تصویر ایٹچافالیا بیسن میں ایک پر اسرار صبح میں لی گئی۔

گرین وچ میں فوٹوگرافر آف دی ائیر کی تصاویر کی نمائش 4 اگست کو شروع ہوئی ہے اور تین ستمبر 2017 تک جاری رہے گی۔

ان تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں اور یہ ٹریول فوٹو گرافر آف دی ائیر کی جانب سے فراہم کی گئی ہیں۔