کینیا میں قحط سے متاثرہ علاقوں میں لوگ مال مویشیوں کو اپنے حصے کی خوراک دینے پر مجبور

کینیا میں قحط سے متاثرہ علاقوں میں لوگ اپنے مال مویشیوں کو بچانے کے انھیں اپنے حصے کی خوراک دینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ کینیا میں شدید قحط سالی سے تقریباً ملک کا نصف حصہ متاثر ہوا ہے۔

،تصویر کا کیپشنملک کا شمالی علاقہ مارسبت قحط کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے۔ بھوک اور پیاس کی وجہ سے یہاں جگہ جگہ مرنے والے جانوروں کی باقیات دکھائی دیتی ہیں۔ کبھی یہ علاقہ جانوروں کی چراگاہ ہوا کرتا تھا۔
،تصویر کا کیپشنایک گڈریے نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر آپ کو چائے یا دلیہ بھی دستیاب ہوتا ہے تو اسے اپنے مال مویشیوں کو بھی دینا پڑتا ہے تاکہ انھیں مرنے سے بچایا جا سکے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اب ہم کر بھی کیا سکتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنقحط سے پہلے ایک گائے پانچ سو ڈالر تک فروخت ہوتی تھی لیکن اب یہ ایک سو ڈالر میں فروخت ہو رہی ہے کیونکہ قحط کی وجہ سے لاغر ہو گئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنحکومت نے گڈریوں کو ہونے والے مالی نقصان کو کم کرنے کے لیے جانور خریدنے کا وعدہ کیا ہے لیکن گڈریوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک کسی نے ان سے رابط نہیں کیا۔
،تصویر کا کیپشنقحط زدہ علاقے مارسبت میں پانی کے زیادہ تر ذخائر خشک ہو چکے ہیں جبکہ باقی بچ جانے والوں پر بہت زیادہ رش ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنخشک سالی کی وجہ سے لوگوں کو پانی حاصل کرنے کے لیے دس کلومیٹر تک سفر کرنا پڑتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنکینیا کے صدر نے قحط کی وجہ سے ملک میں قومی سطح پر ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مدد کی اپیل کی ہے۔
،تصویر کا کیپشنکینیا میں ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اگر مدد فراہم نہ کی گئی تو 27 لاکھ افراد فاقہ کشی پر مجبور ہو جائیں گے۔
،تصویر کا کیپشنملک میں قحط سے نمٹنے والے محکمے کے سربراہ گیاؤ گولیچا کے مطابق' اگر بارشیں نہیں ہوتی تو صورتحال تباہ کن ہو جائے گی۔ جس میں ہو سکتا ہے کہ جانیں کھونا پڑیں، جانوروں کی نہیں بلکہ انسانوں کی جانیں۔'