سامعہ کیس، سابقہ شوہر کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع

،تصویر کا ذریعہFAMILY PHOTO

پاکستان کے صوبے پنجاب کے ضلع جہلم کی ایک مقامی عدالت نے پاکستانی نژاد برطانوی شہری سامعہ شاہد کے قتل کے مقدمے کے مرکزی ملزم اور مقتولہ کے پہلے شوہر شکیل کی ضمانت قبل از گرفتاری میں ایک ہفتے کی توسیع کردی ہے۔

مقامی عدالت نے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے کی۔

سنیچر کو اس مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم شکیل نہ تو خود عدالت میں پیش ہوئے اور نہ ہی پولیس نے انھیں عدالت میں پیش کیا۔

ایڈیشنل سیشن جج سجاد افضل نے پولیس حکام سے استفسار کیا کہ ملزم کہاں ہے جس پر پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم شکیل کو پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے لاہور لے جایا گیا تھا تاہم اس کے بعد معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں؟

ملزم شکیل کے وکیل محمد عارف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل پولیس کی تحویل میں ہیں اور پولیس جان بوجھ کر انھیں عدالت میں پیش نہیں کر رہی۔

انھوں نے کہا کہ پولیس اہلکار متعدد بار میڈیا کے سامنے بیان دے چکے ہیں کہ ملزمان شاہد اور مبین کے علاوہ متقولہ کے پہلے شوہر شکیل کو بھی پولیس نے تفتیش کے لیے اپنے پاس رکھا ہوا ہے تاہم سرکاری دستاویزات میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔

عدالت نے ملزم کے وکیل کو حکم دیا کہ اگر پولیس ان کے موکل کو عدالت میں پیش نہیں کرتی تو وہ پولیس کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کروانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

سامعہ شاہد کے دوسرے شوہر اور اس مقدمے کے مدعی مختار کاظم نے سرکاری وکیل کے علاوہ اپنے وکیل کی خدمات بھی حاصل کی ہیں۔

اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم شکیل کے پولی گرافک ٹیسٹ کی رپورٹ اگلے دو تین روز میں موصول ہو جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ملزمان کے بارے میں کچھ معلومات ملی ہیں جنھیں جلد ہی عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔

تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق مقتولہ سامعہ کا اس مقدمے کے مدعی مختار کاظم کے ساتھ دوسرے نکاح کی تصدیق سے متعلق دستاویزات لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کو موصول ہو گئی ہیں اور وہاں تعیناتی سفارتی عملے نے نکاح کی تصدیق کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا ہے۔