عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں پتا ہے کہ باہر سے کن کن جگہوں سے ہم پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
’ہم ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ میں آپ کے سامنے اپنی پاکستان کی آزادی کا مقدمہ رکھ رہا ہوں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میرے پاس جو خط ہے یہ ثبوت ہے، اور اگر کوئی بھی شک کر رہا ہے تو میں آپ کو دعوت دوں گا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میں کس قسم کی بات کر رہا ہوں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اپنی قوم سے بھی کہہ رہا ہوں اور میڈیا سے بھی کہہ رہا ہوں کہ ہم کب تک اس طرح رہیں گے کہ ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔‘
’بیرونی سازش کی ایسی ایسی باتیں ہیں جو مناسب وقت پر اور بہت جلد سامنے لائی جائیں گی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میری قوم یہ جاننا چاہتی کہ لندن میں بیٹھا ہوا کس کس سے ملتا ہے۔ اور پاکستان میں بیٹھے ہوئے کردار کس کے کہنے پر چل رہے۔‘
’ہمارے پاس جو ثبوت ہیں، ہر چیز کو میں ظاہر کر رہا ہوں، اس سے زیادہ میں اس لیے ظاہر نہیں کر سکتا کہ کیوںکہ مجھے ملک کا مفاد عزیز ہے۔‘
عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہمیں قومی مفاد کے نام پر دھمکیاں دی گئیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میرے خلاف سازش ہو رہی ہے، کچھ لوگ جانتے ہوئے ، کچھ نہ جانتے ہوئے اس کا حصہ ہیں۔‘