آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام بنا کر 25 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا: آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 24 اور 25 اکتوبر کو شدت پسندوں کے دو بڑے گروپس نے ضلع کرم میں جنرل ایریا غاخی اور شمالی وزیرستان میں سپن وام میں افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش کر رہے تھے جنھیں سکیورٹی فورسز نے روکا۔

خلاصہ

  • سر کریک سے جیوانی تک، ہم اپنی خودمختاری اور سمندری حدود کا دفاع کرنا جانتے ہیں: سربراہ پاکستان بحریہ
  • وزیر اعلی خیبر پختونخوا کا وفاق سے 550 ارب روپے دینے اور این ایف سی اجلاس بلانے کا مطالبہ
  • شمالی وزیرستان میں خود کش حملہ ناکام، تین شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر
  • سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس کا دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ
  • مذاکرات سے معاملات حل نہیں ہوتے تو افغانستان کے ساتھ ہماری کھلی جنگ ہے: وزیر دفاع خواجہ آصف

لائیو کوریج

  1. ضلع ٹانک میں آپریشن میں آٹھ شدت پسند ہلاک: پاکستانی فوج

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں آٹھ شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

    جمعے کو ایک بیان میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے شدت پسند ’سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کے خلاف دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔‘

  2. ہنگو: پولیس کی گاڑی پر بم حملہ ایس پی آپریشنز سمیت تین پولیس اہلکار ہلاک, بلال احمد، بی بی سی اردو پشاور

    پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں بم دھماکے میں ایس پی آپریشن اسد زبیر سمیت تین پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

    ڈی آئی جی کوہاٹ عباس مجید مروت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’غلمینہ نامی چیک پوسٹ کو جس وقت نشانہ بنایا گیا اُس وقت وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔‘

    ’تاہم اس پوسٹ پر ہونے والے آئی ای ڈی حملے کے بعد جب ایس پی آپریشن اسد زبیر اپنی نفری کے ساتھ اس جانب روانہ ہوئے تو چیک پوسٹ سے کُچھ فاصلے پر ایک اور زیادہ طاقتور آئی ڈی کی مدد سے اُن کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے اُس کے ساتھ پولیس وین میں سوار اُن کے ڈرائیور اور گارڈ موقعے پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ایس پی آپریشن اسد زبیر کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے اور ہلاک ہو گئے۔‘

    ڈی آئی جی کوہاٹ عباس مجید مروت کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور پولیس دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ہنگو کے علاقے میں پولیس گاڑی کے قریب دھماکے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے ایس پی آپریشن اسد زبیر سمیت تین پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ہنگو بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے اس حوالے سے امن و امان کی صورتحال پر اپیکس کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس میں ملوث عناصر کو ہر صورت کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے۔

  3. صدر ٹرمپ کا کینیڈا کے ساتھ ٹیرف پر ہونے والے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف کے معاملے پر تنقیدی اشتہار کے سبب کینیڈا کے ساتھ ہونے والے تمام تجارتی مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    کینیڈا کی صوبائی حکومت کی جانب چلائے گئے اشتہار میں امریکہ کے سابق قدامت پسند صدر رونالڈ ریگن کہہ رہے تھے کہ ٹیرف سے ’ہر امریکی متاثر ہوتا ہے۔‘

    سوشل میڈیا سائٹ پر صدر ٹرمپ نے لکھا کہ یہ اشتہار ’ہولناک‘ اور ’جھوٹ‘ پر مبنی ہے اور انھوں نے لکھا کہ اسی لیے بات چیت ’ختم‘ کی جا رہی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اقتدار سنھبالنے کے بعد کینیڈا کی مصنوعات پر 35 فیصد لیوی نافذ کی تھی جبکہ مخصوص صنعتوں جیسے کار مینوفیکچرنگ اور سٹیل انڈسٹری کو خصوصی طور نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان ٹیرف سے کینیڈا کے صوبے انٹاریو سب زیادہ متاثر ہوا ہے۔

    امریکی صدر نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران کینیڈا اور میکسیکو کو آزادنہ تجارتی معاہدے کے تحت چھوٹ دی تھی۔

    کینیڈا کے صدر مارک کارنی کی کوشش ہے کہ ملک میں انتخابات سے قبل وہ ٹیرف کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ کر لیں۔

    ایک منٹ لمبی اس اشتہاری ویڈیو میں صدر ریگن کی آواز پر مختلف تصاویر چل رہی ہیں جن میں نیویاک سٹاک ایکسچینج کی بلڈنگ بھی ہے۔

    صدر ریگن نے 1987 ریڈیو پر خطاب بین الاقوامی تجارت پر بات کی تھی۔

    اشتہاری ویڈیو میں استعمال کی گئی تقریر میں صدر ریگن کہہ رہے تھے کہ ’جب کوئی یہ کہتا ہے کہ باہر سے آنے والی چیزوں پر ٹیرف لگاو تو لگتا ہے کہ وہ امریکی عوام کی نوکریوں اور مصنوعات کو بچا رہا ہے اور وہ حب الوطنی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ بعض اوقات قلیل مدت میں ایسا ہوتا بھی ہے لیکن طویل مدت میں یہ تجارتی پابندیاں امریکیوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے اس ویڈیو کے جواب میں کہا کہ ویڈیو کا مقصد امریکہ کی سپریم کورٹ کے فیصلے پر اثرانداز ہونا ہے۔ تجارتی ٹیرف کے معاملے پر امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ نومبر میں آئے گا۔

    تجارتی ٹیرف کے معاملے پر امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی صدارت کے لیے بہت اہم ہے۔

  4. بلوچستان: پوست کاشت کرنے والے 75 زمینداروں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل

    پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع دُکی میں مبینہ طور پر پوست کی کاشت کرنے پر 75 زمینداروں کے ناموں کو فورتھ شیڈول میں شامل کر دیا گیا ہے۔

    دُکی کے ڈپٹی کمشنر نعیم خان نے بی بی سی سے فون بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ رواں ماہ پوست کاشت کرنے والے زمینداروں کو رواں ماہ فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق ضلع سے تعلق رکھنے والے 75زمینداروں کے ناموں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔

    اس ایکٹ کے تحت ان لوگوں کے ناموں کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا جاتا ہے جن پر دہشت گردوں یا دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ معاونت اور سہولت کاری کا الزام ہو۔

    تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ ہیروئن جیسے خطرناک نشے کی تیاری میں استعمال ہونے والے اہم جز پوست، کاشت کرنے والوں کو بھی فورتھ شیڈول میں ڈالا گیا ہے۔

    پاکستان کے صوبے بلوچستان اور افغانستان میں تیار ہونے والی ہیروئن اور دیگر منشیات، پاکستان جاتی اور سمندر یا ایران کے راستے دیگر ممالک میں سمگل ہوتی ہے۔

    لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں نوے کی دہائی میں طالبان کی پہلی حکومت کے دوران بلوچستان کے بعض علاقوں میں پوست کی کاشت کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ تاہم ماضی میں اس کی بڑے پیمانے پر کاشت نہیں ہو رہی تھی لیکن افغانستان میں طالبان کی دوسری حکومت کے قیام کے بعد بلوچستان میں پوست کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے۔

    صوبے کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں اس سلسلے میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ رواں سال بلوچستان میں 36 ہزار سے زائد ایکڑ رقبے پر پوست کی کاشت کو تلف کیا گیا۔

    حال ہی میں بلوچستان میں بھنگ کی کاشت کے خلاف بھی مختلف اضلاع میں کاروائی کی گئی۔

  5. انڈیا: بس میں آتشزدگی سے 19 افراد ہلاک، کئی زخمی

    انڈیا کے صوبے اندھرا پردیش میں ایک مسافر بس اور موٹر سائیکل کے تصادم میں 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور کئی زخمی ہیں۔

    یہ حادثے اُس وقت ہوا جب ہائے وے پر مسافروں سے بھری بس موٹر سائیکل سے ٹکڑا گئی، حادثے میں موٹر سائیکل کے فیول ٹینک سے تیل بہنے لگا اور آگ لگ گئی۔

    آگ نے چند ہی منٹ میں پوری بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور فائر بریگیڈ کے پہنچنے سے پہلے ہی بس مکمل طور پر جل کر خاک ہو گئی تھی۔

    حکام کو خدشہ ہے کہ اس حادثے میں مزید افراد کے ہلاک ہو سکتے ہیں۔ فارنزک ماہرین کی ٹیمکو جائے وقوعہ پر بھیجا گیا ہے تاکہ وہ لاشوں کے ڈی این اے کے نمونے جمع کریں۔

    حادثے کا شکار ہونے والی بس بنگلور جار رہی تھی اور اس میں 40 مسافر سوار تھے۔ بس میں سوار زیادہ تر مسافروں کا تعلق حیدر آبار سے تھا اور حادثے کے وقت اکثر مسافر سو رہے تھے۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بس میں موجود مسافر مدد کے لیے پکار رہے تھے اور مقامی افراد نے زخمیوں کو بس سے نکالا جبکہ بعض مسافروں نے کھڑکی سے کود کر جان بچائی۔

    اطلاعات ہیں کہ بس ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔

    حکام حادثے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کیا یہ حادثہ ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا۔

  6. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مسلسل مندی کا رجحان ، دو دن میں انڈیکس میں 3000 پوائنٹس سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کی گیا ہے اور اب تک انڈیکس میں 1200 پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    گذشتہ روز بھی سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھا گیا تھا اور انڈیکس میں 1963 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی

    جمعے کے روز کاروبار کا آغاز منفی انداز میں ہوا اور انڈیکس میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت کا رجحان غالب رہا جس کی وجہ سے انڈیکس کم ہوا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں مندی کی وجہ سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کمانے کے لیے حصص کی فروخت ہے کیونکہ حصص کی خریداری کی وجہ سے انڈیکس کافی اوپر پہنچ گیا تھا۔

    ان کے مطابق کاروبار میں مندی کی وجہ بینکوں کی وجہ سے مالیاتی نتائج کا اعلان بھی ہے جو حوصلہ افزا نہیں رہے۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ مارکیٹ انڈیکس کافی اوپر جانے کی وجہ سے اب اداروں اور میوچل فنڈز کی جانب سے حصص کی فروخت کی گئی ہے تاکہ منافع کمایا جا سکے۔

    انھوں نے کہا اس مارکیٹ میں یہی ایک فیکٹر ہے جس کی وجہ سے مندی ہوئی ہے۔

    انھوں نے کہا وزیر اعظم کی جانب سے صعنتی اور زرعی شعبے کے لیے بجلی پیکج ایک مثبت پیش رفت ہے جو جعمے کے روز اگلے سیشن یا پیر سے مارکیٹ میں مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

  7. روس کے منجمند اثاثوں پر یورپی یونین کا فیصلہ مؤخر لیکن یوکرین کی مالی معاونت پر اتفاق

    یورپی رہنماؤں نے آئندہ دو سال کے لیے یوکرین کی ’مالی ضروریات‘ پوری کرنے پر اتفاق کیا ہے کہ لیکن روس کے منجمد شدہ اربوں یورو مالیت کے اثاثوں سے یوکرین کی مالی مدد کا معاملہ مؤخر ہو گیا ہے۔

    روس کے 140 ارب یورو مالیت کے اثاثوں کے استعمال کا فیصلہ برسلز کی حکومت کی جانب سے اُٹھائے گئے خدشات کے سبب دسمبر تک مؤخر ہو گیا ہے۔

    یہ متنازع اقدام روس کے خلاف عائد پابندیوں کی ایک کڑی ہے جس کے مقصد کریملن کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدن کو نشانہ بنانا ہے۔

    جمعرات کو برسلز میں ہونے والے اجلاس میں یورپی رہنماؤں نے اس بات پر غور کیا کہ کیسے روس کے اربوں یورو مالیت کے منجمد شدہ اثاثوں سے یوکرین کی مدد کی جا سکے۔

    یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ روس کے اثاتے اُس وقت تک غیر منجمند نہیں ہوں گے جب تک روس یوکرین کے خلاف جنگ بند نہ کر دے اور جنگ سے ہونے والی تباہی کا یوکرین کو معاوضہ ادا کرے۔

    یورپی رہنما چاہتے ہیں کہ دسمبر تک اس معاملے پر کوئی معاہدہ طے پا جائے۔

    دوسری جانب یوکرین کے معاملے پر لندن میں جمعے کو ایک اجلاس ہو رہا ہے جس میں برطانوی وزیراعظم دیگر یورپی رہنماؤں پر زور دیں گے یوکرین کو طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل دیے جائیں۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اس اجلاس میں شرکت کریں گے جبکہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل بھی لندن کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

  8. اسلامی ممالک کی غربِ اردن کے الحاق کے لیے قانون سازی کی مذمت، ’یہ مقبوضہ غربِ اردن پر اپنی خودمختاری مسلط کرنا ہے‘

    پاکستان سمیت 15 اسلامی ممالک نے مشترکہ طور پر اسرائیلی پارلیمان میں منظور ہونے والے قوانین کی مذمت کی ہے جس کے تحت اسرائیل غربِ اردن کا الحاق کرنا چاہتا ہے۔ اسلامی ممالک کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کے تحت اسرائیل مقبوضہ غربِ اردن پر اپنی خودمختاری مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    اسرائیل میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے ایک ایسے بِل کی ابتدائی منظوری دی ہے جس کا مقصد اسرائیل کو غربِ اردن کے الحاق کا اختیار دینا ہے۔ یہ قانون سازی ایسے وقت پر کی گئی ہے جب چند روز قبل ہی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو سال کی جنگ کو امن معاہدے کے ذریعے ختم کروایا ہے۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایسا کوئی بھی اقدام کیا تو وہ امریکہ کی حمایت کھو دے گا۔

    اسلامی ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ اسرائیل کی مقبوضہ مغربی کنارے پر خودمختاری مسلط کرنے کی ناقابلِ قبول کوشش ہے۔

    مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ دونوں مسودے مقبوضہ مغربی کنارے پر ’اسرائیلی خودمختاری‘ نافذ کرنے اور غیر قانونی اسرائیلی بستیاں قائم رکھنے کے لیے ہیں، جو کہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    یہ اعلامیہ پاکستان، سعودی عرب، قطر، اردن، انڈونیشیا، ترکیہ، جبوتی، عمان، گیمبیا، فلسطین، کویت، لیبیا، ملائیشیا، مصر، نائیجیریا، عرب لیگ، اور تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی ) کی جانب سے جاری کیا گیا۔

    مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

    اس سے قبل امریکہ کے سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا تھا کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کا غربِ اردن کے الحاق کا کوئی بھی اقدام غزہ میں تنازع کے خاتمے کے منصوبے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

    اسرائیل روانگی سے قبل سیکریٹری روبیو کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی ہم ابھی حمایت نہیں کر سکتے۔‘

    دوسری جانب فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ سنہ 1967 سے اسرائیل کے قبضے میں موجود غرب اردن ان کی آزاد ریاست کا حصہ ہوگا۔

    گذشتہ برس اقوامِ متحدہ کی عدالت انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے بھی کہا تھا کہ غربِ اردن پر اسرائیلی قبضہ غیرقانونی ہے۔

    نیتن یاہو بھی ماضی میں غربِ اردن کے الحاق کی حمایت میں بولتے رہے ہیں، تاہم ان کی جانب سے کوئی عملی قدم نہیں اُٹھایا گیا تھا کیونکہ وہ اسرائیل کے اہم اتحادی امریکہ کو ناراض کرنے کا خطرہ نہیں اُٹھانا چاہتے تھے۔

  9. چین اور امریکہ کے صدر کے مابین ملاقات 30 اکتوبر کو ہو گی: وائٹ ہاؤس

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی چن پنگ کے مابین ملاقات 30 اکتوبر کو جنوبی کوریا میں ہو گی۔

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ دونوں صدور کے مابین یہ ملاقات ایشیا سمٹ کے دوران سائیڈ لائن پر ہو گی۔

    امریکہ اور چین کے صدر کے مابین اس ملاقات کے لیے گذشتہ کئی ہفتوں سے کام ہو رہا تھا لیکن اقتصادی لحاظ سے دنیا کے دو بڑے ممالک کے مابین تناؤ کے سبب ممکنہ ملاقات پر کئی سوالات اُٹھ رہے تھے۔

    امریکی صدر ٹرمپ کے دوسری بار اقتدار میں آنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ان کی چین کے صدر شی کے ساتھ باضابطہ ملاقات ہو گی۔

    پریس بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری نے آئندہ ہفتے ہونے والی ملاقات کی تصدیق کی۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ صدر شی سے ملاقات کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا تھا کہ ’ہماری کافی طویل ملاقات طے ہے۔ ہمیں اپنا درمیان بہت سے شکوک و شبہات پر کام کرنا ہے، کئی سوالات ہیں اور ہمارے زبردست مشترکہ اثاثے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ کچھ نہ کچھ ہو جائے گا۔ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں لیکن یہ کافی اہم ہے۔‘

    صدر ٹرمپ نے چین کو دھمکی دی تھی کہ اگر چین نے نایاب معدنیات کی برآمد پر عائد پابندی نہ اُٹھائی تو امریکہ نومبر سے چینی مصنوعات پر سو فیصد ٹیرف عائد کر دے گا۔

  10. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان کی وفاقی کابینہ نے مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کالعدم جماعت قرار دینے کی منظوری دے دی ہے۔
    • امریکہ کے سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کا غربِ اردن کے الحاق کا کوئی بھی اقدام غزہ میں تنازع کے خاتمے کے منصوبے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
    • پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع نوشکی کے اغوا ہونے والے پولیس افسر محمد یوسف ریکی کی لاش مل گئی ہے۔ انھیں نامعلوم مسلح افراد نے نوشکی سے کوئٹہ کی جانب سفر کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔
    • پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ بطور صوبے کے چیف ایگزیکٹو عمران خان کے منشور اور نظریے پر عملدرآمد کریں گے، جبکہ احتجاج اور جلسے منعقد کرنا ان کی جماعت کا کام ہے۔
  11. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔