آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

برطانوی وزیراعظم سے ’مشکل ملاقات‘ کے بعد اسرائیلی صدر کا قطر پر حملوں کا دفاع، یمن پر اسرائیلی حملوں میں 35 افراد ہلاک

برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اسرائیلی صدر نے قطر پر حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ضروری تھے تاکہ ’کچھ لوگوں کو ہٹایا جائے جو معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘ ادھر یمن پر اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو گئی ہے اور 131 زخمی ہیں۔

خلاصہ

  • یمن پر اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو گئی ہے جبکہ 131 زخمی ہیں
  • برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اسرائیلی صدر نے قطر پر حملوں کا دفاع کیا اور کہا کہ ’یہ اتحادیوں کے درمیان ملاقات تھی لیکن یہ ایک مشکل ملاقات تھی‘
  • امریکہ میں اسرائیلی سفیر کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم اس بار انھیں (حماس کو) نشانہ نہیں بنا سکے تو اگلی دفعہ پھر انھیں ہدف بنا لیں گے‘
  • اسرئیل کو حملے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں: قطری وزیر اعظم
  • دوحہ میں حملے کا فیصلہ میرا نہیں بلکہ نیتن یاہو کا تھا، میں اس سے خوش نہیں ہوں: امریکی صدر
  • حماس کا کہنا ہے کہ دوحہ حملے میں تنظیم کی لیڈرشپ محفوظ رہی، تاہم چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں

لائیو کوریج

  1. بلوچستان کے ضلع حب میں دو روز سے جاری بارشوں کی وجہ سے سیلابی صورتحال, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے کراچی سے ملحقہ ضلع حب میں دو روز سے جاری بارشوں کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

    ادھر نصیر آباد ڈویژن کے چار اضلاع میں ممکنہ سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ڈی جی پی ڈی ایم اے بلوچستان نے سندھ کے ضلع کشمور کا دورہ کیا ہے۔

    ان علاقوں میں جعفرآباد، نصیرآباد ، صحبت پور اور اوستہ محمد شامل ہیں جہاں سندھ سے سیلابی پانی کے داخل ہونے کے خدشات ہیں۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حب کے مطابق مسلسل بارشوں کی وجہ سے حب کے ساکران اور دریجی میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

    ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق سیلاب کی وجہ سے ساکران اور دریجی کے بعض علاقوں میں زمینی رابطہ منقطع ہوا ہے۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے مطابق سیلابی صورتحال کے باعث دو سے تین دیہات میں پانی داخل ہوا ہے۔

    حب سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی اسماعیل ساسولی نے بتایا کہ مسلسل بارشوں کی وجہ سے حب ڈیم میں پانی کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈیم میں مزید چار فٹ پانی کی گنجائش ہے جس کے بعد سپل ویز کو کھولنے کی صورت میں گرد و نواح کے علاقوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے بلوچستان نے ڈپٹی کمشنر کشمور آغا شیرزمان خان کے ہمراہ کشمور میں ٹوری اور گھورا گھاٹ بند کا تفصیلی دورہ کیا اور متعلقہ اداروں کے حکام کے ساتھ ممکنہ سیلاب کے پیش نظر حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا اور ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔

    اس موقع پر ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں پی ڈی ایم اے بلوچستان کی ٹیم گزشتہ ایک ہفتے سے بلوچستان کے سیلاب کے خطرے سے دوچار ممکنہ اضلاع کے حکام علاوہ سندھ اور پنجاب حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے۔

  2. ’قطر کی سرزمین پر اسرائیل کو حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کا دوسرا موقع ملنے کا امکان نہیں‘, وائر ڈیوس، بی بی سی نیوز یروشلم

    اگرچہ اسرائیل کے تمام سرکردہ سیاسی رہنماؤں نے قطر کی سرزمین پر موجود حماس کی لیڈرشپ کو نشانہ بنانے کے اسرائیلی فیصلے کا دفاع کیا ہے، لیکن اسرائیلی فوجی حلقوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ شاید دوحہ میں حماس کی سینیئر قیادت کو قتل کرنے کی کوشش ناکام رہی ہے۔

    اسرائیلی فوجی حلقوں میں تشویش کی وجہ یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں جو افراد ہلاک ہوئے ہیں اُن میں حماس کے بڑے رہنماؤں کے نام شامل نہیں ہیں۔

    اس حملے پر ناگوارای کا اظہار کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر سے وعدہ کیا ہے کہ ایسا دوبارہ نہیں ہو گا۔ اور اس وعدہ کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کو حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کا کا دوسرا موقع دوبارہ نہیں ملے گا، کم از کم قطر کی سرزمین پر تو نہیں۔

    خود قطر نے اس حملے کے تناظر میں اسرائیل پر ’ریاستی دہشت گردی کی کارروائی‘ کرنے کا الزام عائد کیا ہے لیکن بین الاقوامی طاقتوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر آنے والے مذمتی بیانات کے باوجود اسرائیل بدستور اپنے اقدام کا دفاع کر رہا ہے اس سے قطع نظر کہ مذمت کرنے والوں میں اسرائیل کے اتحادی بھی شامل ہیں۔

    اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنے ایک بیان میں اپنے دشمنوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے اور غزہ میں جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ سب اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جاتا اور حماس ہتھیار پھینک نہیں دیتی۔

    اس واقعے کے بعد بظاہر جنگ بندی کے امکانات معدوم ہوئے ہیں جبکہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے جس کے باعث غزہ میں جنگ سے تنگ شہری آبادی اور حماس کی قید میں موجود باقی یرغمالیوں کے لیے امکانات کافی کم ہیں۔

  3. اسرائیل اپنے دشمنوں کے لیے چھپنے کی کوئی جگہ نہیں چھوڑے گا: اسرائیلی وزیرِ دفاع

    اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل اپنی طاقت اور صلاحیت کے بل بوتے پر ہر جگہ اپنے دشمنوں کے خلاف کارروائی کرے گا اور انھیں چھپنے کی کوئی جگہ اور کوئی موقع نہیں دے گا۔

    اسرائیل پر حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کاٹز نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’اسرائیل کے خلاف دہشت گردی کرنے والے ہر شخص کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔‘

    کاٹز نے مزید کہا کہ اگر حماس نے جنگ کے خاتمے کے لئے اسرائیل کی شرائط کو قبول نہیں کیا یعنی تمام یرغمالیوں کی رہائی اور تخفیف اسلحہ پر آمادہ نہ ہوئے تو وہ (حماس) اور غزہ دونوں ہی ’تباہ ہو جائیں گے۔‘

  4. کراچی میں بارش کا سلسلہ جاری: تھدو ڈیم اور لٹھ ڈیم میں پانی کی سطح بلند، ملیر اور لیاری ندی میں سیلابی صورتحال, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے تجارتی اور بڑے شہر کراچی میں گزشتہ 24 گھنٹوں سے وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے بعد تعلیمی اداروں میں آج بروز بدھ چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔

    گزشتہ شب تھدو ڈیم اور لٹھ ڈیم اور فلو ہونے کی وجہ سے پانی کراچی کو اندرون ملک جوڑنے والی اہم شاہراہ ایم نائن تک پہنچ گیا۔ جس کے بعد آنے جانے والی سڑک کو علیحدہ رکھنے کے لیے بنائی گئی کانکریکٹ کی دیوار کو کٹ لگاکر پانی کی نکاسی کو ممکن بنایا گیا۔

    محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر عامر لغاری نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ بارش سرجانی میں 129 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد کم از کم 70 ملی میٹر بارش کورنگی میں ریکارڈ کی گئی۔

    محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر کے مطابق شہر میں وقفے وقفے سے ہلکی بارش کا سلسلہ کل یعنی جمعرات تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

    اس وقت کراچی شہر سے گزرنے والی ملیر ندی اور لیاری ندی میں تغیانی کی صورتحال ہے۔ ملیر ندی شہر کے شمال مشرق میں کھیرتھر کی پہاڑیوں سے نکل کر ساٹھ میل کی مسافت طے کر کے کلفٹن کے جنوب میں کورنگی کریک میں جاگرتی ہے۔ اس کی دو معاون ندیاں ہیں ان کا نام مول یا سکن ندی اور خدیجی ہے۔ یہ ندی پورا سال خشک رہتی ہے تاہم موسمِ برسات میں ان میں سیلابی صورتحال ہوتی ہے جو اکثر خطرناک صورت اختیار کرلیتی ہے۔

    لیاری ندی 30 ملیل لمبی ندی ہے جو منگھو پیر کے شامل مشرق میں پانچ سو فٹ بلند وادی سے نکلتی ہے اور بلندی سے اتر کر منگھو پیر اور نئی کراچی کے مشرق میں شہر سے پانچ میل کے فاصلہ پر جنوب کا رخ کرتی ہے اور کھڈہ سے آگے مچھلی بندر کے قریب بحیرہ عرب میں گرتی ہے۔

    لیاری ندی اور ملیر ندی کے کناروں بلکہ کُچھ مقامات پر تو اس کے اندر بھی تجاویزات کی بھرمار ہو چُکی ہے جس کی وجہ سے اس کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ندیوں پر ایکسپریس وے بھی بنائی گئی ہیں۔

    کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ ملیر ندی کے آس پاس سے آج صبح تک 312 افراد کو ریسکیو کیا جا چُکا ہے۔

    سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ ڈیم بھرنے اور شدید بارشوں کی وجہ سے لیاری ندی اور ملیر ندی میں طغیانی کا سامنا ہے ۔ سمندر میں اونچی لہروں کی وجہ سے بارش کے پانی کے اخراج میں تاخیر ہو رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شدید بارشوں کی وجہ کچھ نشیبی علاقوں میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 24 سے 48 گھنٹوں میں بارش کا نیا سپیل آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جس کے لیے حکومت سندھ مکمل الرٹ اور تیار ہے۔

    دوسری جانب بارش کی وجہ سے ٹریفک بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ملیر ندی میں پانی آنے کی وجہ سے کورنگی کاز وے کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے، جبکہ تین ہٹی اور جہانگیر روڈ کے مقام پر پانی کی وجہ سے سڑک کے بیٹھے جانے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی۔

    ایئرپورٹ جانے والی اہم سڑک، شاہراہ فیصل پر سے پانی کو ہٹانے کے لیے مشینوں کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ تاہم شہر کی کچی آبادیاں اور اولڈ ایریا میں سڑکیں اور گلیاں زیرِآب ہیں۔

    تھدو ڈیم کراچی سے تقریبا 25 کلومیٹر دور گڈاپ میں تھدو نالے پر بنایا گیا تھا۔ کراچی انڈیجنس الائنس کے رہنما حفیظ بلوچ کا کہنا ہے کہ ’تھدو ڈیم اور لٹھ ندی مخالف سمت میں ہیں، سپر ہائی وے اور سعدی ٹاؤن میں آنے والا پانی دراصل لٹھ ندی کا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ نادرن بائی پاس، نیو سبزی منڈی اور سعدی ٹاؤن لٹھ ندی کے قدرتی گزرگاہ پر بنائے گئے اور پانی کا راستہ نہیں چھوڑا گیا۔ تاہم اب شدید بارشوں کی وجہ سے جب پانی آتا ہے تو وہ ایم نائن اور سعدی ٹاؤن میں داخل ہوجاتا ہے، یہ غیر قانونی الامنٹ اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    اُدھر صوبہ پنجاب سے آنے والا سیلابی ریلا سندھ میں داخل ہوچکا ہے اور گڈو کے مقام پر محکمہ آبپاشی کے مطابق اس وقت پانی کی آمد پانچ لاکھ کیوسک سے زائد ہے۔

    جس کے بعد دریائے سندھ کے دونوں اطراف کے کچے میں پانی آچکا ہے۔ صوبائی وزیر شرجیل انعام کے مطابق سیلاب سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے کچا کے علاقہ سے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4881 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 46 ہزار سے زیادہ افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔

    تھر پارکر، بدین، ٹھٹہ، دادو سمیت سندھ بھر میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دادو میں نئی گاج ندی میں تغیانی کی وجہ سے کئی دیہاتوں کا راستہ کٹ گیا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے تعلمی اداروں میں آج تعطیل کا اعلان کیا تھا اسی طرح ٹھٹہ میں بھی سکول بند ہیں۔ بدین کے وہ گاؤں جو سمندر کے قریب تھے بارشوں کے باعث ان کا راستہ بھی آمدرفت کے لیے منقطع ہوگیا ہے۔

  5. ٹرمپ دوحہ پر اسرائیلی حملے سے ناخوش کیوں؟, سارہ سمتھ، بی بی سی نیوز

    صدر ٹرمپ دوحہ پر اسرائیلی حملے پر واضح طور پر ناراض اور مایوس ہیں اُن کا کہنا ہے کہ وہ ’اس حملے کے ہر پہلو سے بہت ناخوش ہیں۔‘

    منگل کی شب واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے قطر پر اسرائیلی حملے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا انھوں نے کہا کہ ’میں پوری صورتحال کے سے کوئی خوشی نہیں ہوئی ہے۔ یہ سب اچھا نہیں ہوا لیکن میں یہ کہوں گا کہ ہم یرغمالیوں کی فوری واپسی چاہتے ہیں۔ تاہم ہم اس سے خوش نہیں جو ہوا ہے اس سے اب تک ہونے والی بات چیت پر اچھا اثر نہیں پڑے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں کبھی بھی کسی چیز سے حیران نہیں ہوا ہوں، خاص طور پر جب بات ہو مشرق وسطیٰ کی۔‘

    اس سے قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ حملے کا فیصلہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کیا تھا نہ کہ انھوں نے اور یہ کہ جب تک ان کی انتظامیہ کو امریکی فوج کی طرف سے حملے کی اطلاع ملتی، بمباری روکنا ممکن نہیں تھا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ قطر پر یکطرفہ بمباری کا فیصلہ درست نہیں تھا، قطر امریکہ کا مضبوط اتحادی اور دوست مُلک ہے اور ایسے میں اُس پر حملہ اسرائیل اور امریکہ دونوں کے اہداف کی جانب بڑھنے کے عمل کو نقصان پہنچائے گا۔

    صدر ٹرمپ نے قطر کے وزیر اعظم اور امیر دونوں سے بات کی ہے اور انھیں یقین دلایا ہے کہ ان کی سرزمین پر اس طرح کا حملہ دوبارہ نہیں ہوگا۔

  6. یہ پہلا موقع نہیں جب اسرائیل نے کسی غیر ملکی سر زمین پر حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا

    اسرائیل کی سکیورٹی ایجنسی شین بیت کا کہنا ہے کہ قطر میں اسرائیلی حملے کے وقت وزیراعظم نیتن یاہو ان کے ہیڈکوارٹرز میں موجود تھے۔

    شین بیت کے ایک ترجمان کے مطابق حماس کی ’اعلیٰ قیادت‘ کے خلاف یہ حملہ ایجنسی اور اسرائیلی فوج کے درمیان تعاون سے کیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق اس موقع پر اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز، ایجنسی کے ڈپٹی چیف اور ملٹی انٹیلیجنس کے سربراہ بھی ہیڈکوارٹرز میں موجود تھے۔

    لیکن یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب اسرائیل کے سکیورٹی اداروں نے کسی غیر ملکی سر زمین پر حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا ہو۔

    2010 میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹس نے متحدہ عرب امارات میں حماس کے ایک سینیئر اہلکار کو قتل کیا تھا۔

    ٹینیس کھلاڑیوں کے بھیس میں موساد کے ایجنٹ دبئی کے ایک ہوٹل میں داخل ہوئے، ان کی لفٹ میں سوار ہونے کی تصاویر بعد میں منظر عام پر بھی آئیں، اور انھوں نے حماس کے عزالدین القسام بریگیڈ کے بانی رکن محمود المبحوح کو قتل کر دیا۔

    اس سے پہلے موساد نے سنہ 1997 میں اردن میں حماس کے ایک اور رہنما خالد مشعل کا قتل بھی کیا تھا۔ خالد مشعل کو حماس کی جانب سے خودکش دھماکوں کے بدلے میں قتل کیا گیا تھا۔

    حماس کے نائب سیاسی رہنما صالح العاروری سنہ 2024 میں جنوبی بیروت میں ایک ڈرون حملے میں چھ دیگر افراد کے ساتھ ہلاک ہوئے، جن میں حماس کے دو فوجی کمانڈر اور چار دیگر ارکان شامل تھے۔

  7. امیرِ قطر کا امریکی صدر ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ: ’اسرائیلی حملہ لاپرواہی پر مبنی ایک مجرمانہ کارروائی تھی‘

    قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے دوحہ میں اسرائیلی حملے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد ایک بیان جاری کیا ہے۔

    امیر کا کہنا ہے کہ ’ٹرمپ نے قطر کے ساتھ امریکی یکجہتی کا اعادہ کیا ہے اور قطر کی خودمختاری پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔‘

    امیر نے ٹرمپ کو بتایا کہ قطر اسے اسرائیل کا ’لاپرواہی پر مبنی ایک مجرمانہ کارروائی‘ سمجھتا ہے اور ان کا ملک ’اپنی سلامتی کے تحفظ اور اس کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘

  8. اسرائیل کی جانب سے امریکہ کو اپنے منصوبے سے آگاہ نہ کرنا انتہائی غیرمعمولی ہے: امریکی سینیٹر

    بی بی سی نے دوحہ میں اسرائیلی حملے کے بارے میں ڈیموکریٹ سینیٹر کرس کونز سے بات کی اُن کا کہنا ہے کہ یہ بہت ’حیران کُن امر‘ اور انتہائی غیر معمولی امر ہے کہ امریکہ کے قریبی اتحادی اسرائیل نے قطر میں حماس کے رہنماؤں پر حملے کے اپنے منصوبے سے امریکی انتظامیہ کو آگاہ نہیں کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے اسرائیل اور امریکہ کے درمیان اعتماد کی فضا کو نقصان پہنچا ہے، کیونکہ اس معاملے سے متعلق نہ تو کانگریس کی اعلیٰ قیادت اور نہ ہی صدر ٹرمپ کو پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔

    اُنھوں نے مزید کہا کہ ’دونوں مُمالک کے درمیان طویل اور بہت قریبی تعلقات رہے ہیں لیکن حالیہ مہینوں میں رونما ہونے والے واقعات سے ان دوستانہ تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ کانگریس میں ہم میں سے بہت سے لوگوں نے غزہ میں جنگ کے خاتمے، جنگ بندی اور حماس کی طرف سے یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔‘

  9. خلیل الحیّہ: حماس کے مذاکراتی وفد کے سربراہ کون ہیں؟

    قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیلی فوج کے حملے کے بعد اُن کا یہ اعلان سامنے آیا کہ اسرائیلی فوج اور سکیورٹی اداروں کا اس فضائی حملے میں ہدف غزہ میں حماس کی قیادت تھی۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نشانہ بنائے گئے رہنما ’ان نمایاں شخصیات میں شامل ہیں جو برسوں سے تحریک (حماس) کی سرگرمیوں کے ذمہ دار رہے ہیں اور جو 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کی براہ راست ہدایات دینے کے ذمہ دار ہیں۔‘

    فوج نے تصدیق کی کہ ان کی جانب سے ’شہری ہلاکتوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے اور اس حملے کے لیے ایسے ہتھیاروں کا استعمال کیا جن میں اہداف کی درست نشاندہی کرنے کی صلاحیت موجود تھی اور انھیں نتیجہ خیز بنانے کے لیے اضافی خفیہ معلومات کا بھی استعمال کیا گیا۔‘

    اسرائیل کے چینل 14 نے ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے کہا کہ فوج نے دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا، جن میں رہنما خلیل الحیّہ بھی شامل ہیں۔

    خلیل الحیّہ کون ہیں؟

    خلیل الحیّہ جو غزہ میں حماس کے رہنما ہیں تحریک کے اس وفد کی قیادت کر رہے ہیں جو غزہ میں جنگ سے متعلق حالیہ پیش رفت پر مذاکرات کر رہے ہیں۔

    الحیّہ اس سے قبل کئی بار اسرائیل کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی قیادت کر چکے ہیں، جن میں سب سے نمایاں فروری 2025 کے مذاکرات ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مذاکرات کا وہ دور بھی شامل ہے کہ جو غزہ میں جنگ سے قبل قاہرہ میں 2012 اور 2014 میں اسرائیلی انتظامیہ کے ساتھ ہوئے۔

    الحیّہ غزہ میں ایک لمبے عرصے سے حماس سے وابستہ رہے ہیں اور انھیں اس تنظیم کے نمایاں ترین رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم ہم ان کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

    الحیّہ کے ابتدائی ایام اور تعلیم

    خلیل اسماعیل ابراہیم الحیّہ جنھیں ’ابو اسامہ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جنوری 1960 میں غزہ میں پیدا ہوئے۔ اپنی تعلیمی پس منظر کے باعث انھیں ایک قدامت پسند شخصیت سمجھا جاتا ہے۔

    الحیّہ نے سنہ 1983 میں اسلامی یونیورسٹی غزہ سے بی اے کیا اور سنہ 1989 میں یونیورسٹی آف جارڈن سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد انھوں نے سنہ 1997 میں سوڈان کی یونیورسٹی آف القرآن الکریم اینڈ اسلامک سائنسز سے اسلامی قانون میں ڈاکٹریٹ یعنی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

    الحیّہ فلسطینی معاشرے میں اپنی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کے لیے معروف رہے ہیں اور فلسطینی قانون ساز کونسل کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

    تحریک سے تعلق

    الحیّہ نے سنہ 1987 کے پہلے فلسطینی انتفاضہ یا اُس وقت ہونے والے احتجاج میں میں حصہ لیا، حماس کے بانیوں میں شامل تھے اور آج تحریک کے سیاسی بیورو کے نمایاں رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

    سنہ 2006 میں الحّیہ نے غزہ سے ’تبدیلی اور اصلاح‘ کے نعرے کے ساتھ قانون ساز انتخابات میں حصہ لیا اور حماس کی حمایت کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں وہ قانون ساز کونسل میں اس حماس کی جانب سے سربراہ کے طور پر سامنے آئے۔ یہ فلسطین میں ہونے والے آخری انتخابات تھے۔

    انھوں نے تحریک کے نائب سربراہ برائے غزہ اور میڈیا آفس کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

    سنہ 1990 کی دہائی میں وہ تین سال اسرائیلی جیلوں میں ’دہشت گردی‘ کے الزامات میں قید رہے۔ اس وقت وہ اسلامی یونیورسٹی سٹوڈنٹ کونسل کے نائب صدر اور غزہ میں اسلامی تحریک (جماعتِ اخوان المسلمون سے وابستہ) کے نائب صدر تھے۔

    سنہ 2007 اور سنہ 2014 میں ان کے گھر پر دو مرتبہ بمباری بھی ہوئی جو بظاہر ان پر قاتلانہ حملوں کی کوششیں تھی۔ ان دونوں واقعات میں انھوں نے اپنے کئی اہلِ خانہ کو کھو دیا۔

    سات اکتوبر کے حملے کے بعد اسرائیلی بمباری میں بھی ان کے کئی خاندان کے افراد مارے گئے۔ مئی 2025 میں اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاتس نے خلیل الحیّہ کو قتل کرنے کی دھمکی دی۔

    خلیل الحیّہ کو خالد مشعل کے مقابلے میں تہران کے قریب تر سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ اسماعیل ہنیہ کے ساتھ ایرانی صدر کی تقریبِ حلف برداری میں شریک ہوئے جبکہ مشعل غیر حاضر تھے۔

    سنہ 2022 میں انھوں نے دمشق میں صدر بشار الاسد سے ملاقات کے لیے حماس کے ایک وفد کی قیادت کی جس میں دیگر فلسطینی وفود بھی شامل تھے تاکہ شام کے ساتھ تعلقات بحال کیے جا سکیں۔

    نومبر سنہ 2023 میں انھوں نے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے لبنان کا دورہ کیا۔ جہاں انھوں نے حزب اللہ کے سابق سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ سے ملاقات کی اور یرغمالیوں کے مسئلے پر گفتگو کی۔

    خلیل الحیّہ کی سرگرمیوں اور مؤقف نے حالیہ دنوں میں زیادہ توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ وہ تحریک کی نمایاں قیادت میں شمار ہوتے ہیں اور علاقائی مذاکرات میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب حالیہ جنگ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان تحریک کے نمایاں ترین رہنما یا تو مارے جا چکے ہیں یا منظر سے غائب ہیں۔

  10. پولینڈ کی مسلح افواج کا روسی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ

    پولینڈ کی مسلح افواج کا دعویٰ ہے کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے روسی ڈرونز کو مار گرایا ہے۔

    پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا ہے کہ ’پولینڈ کی فضائی حدود کی متعدد خلاف ورزیوں کے بعد آپریشن جاری ہے۔‘

    پولینڈ کے وزیر دفاع کے مطابق ملک کی دفاعی فورسز کو ’گرائے گئے ڈرونز کی تلاش‘ کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ سنہ 2022 میں یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد پولینڈ، جو نیٹو کا حصہ ہے، نے پہلی بار روسی ڈرونز کو اپنی فضائی حدود میں ںشانہ بنایا۔

    اس پیشرفت کے بعد پولینڈ نے اپنے چار ایئر پورٹس پر فلائٹ آپریشن بھی معطل کر دیا ہے۔

    ادھر یوکرین میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران روس کے حملے تیز رفتاری سے جاری ہیں۔

    یوکرین کی مسلح افواج رہائشیوں کو ڈرونز اور کروز میزائلوں کے بارے میں مسلسل الرٹس جاری کر رہی ہے۔

  11. قطر پر اسرائیلی بمباری بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے: عرب لیگ

    عرب لیگ کی کونسل نے منگل کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے قطر پر اسرائیلی فضائی حملے کی مذمت کی، جس میں اسرائیل کی جانب سے دوحہ میں امن مزاکرات کے لیے آنے والے حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ عرب لیگ کی جانب سے جاری بیان میں اسرائیل کے قطر پر اس حملے کو بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

    عرب لیگ کے بیان میں اسرائیلی بمباری کو ’وحشیانہ‘ قرار دیا گیا۔ بیان کے مطابق وزرائے خارجہ کی سطح پر عرب لیگ کونسل نے ’قطری دارالحکومت دوحہ پر وحشیانہ اسرائیلی بمباری کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی اور برادر ملک قطر کی خودمختاری و سلامتی پر کھلا حملہ‘ قرار دیا۔‘

    کونسل نے اہم اجلاس کے بعد جاری بیان میں اس حملے کی مذمت کی اور کہا کہ ’یہ اسرائیلی جارحیت ایک عرب ریاست کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی اور ناقابلِ قبول اقدام ہے جو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔‘

    عرب لیگ نے متنبہ کیا کہ ’اسرائیلی جارحانہ اقدامات کے نتائج خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘

    اپنے بیان میں کونسل نے ’برادر ملک قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا، اس کے استحکام اور شہریوں و سرزمین کی حفاظت کو یقینی بنانے اور اس کی خودمختاری و سلامتی کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہر اقدام کی حمایت‘ کا عہد کیا۔

    کونسل نے ’بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے، اسرائیل کو خطے میں اپنے خطرناک جارحانہ اقدامات اور علاقائی ممالک پر جاری حملے روکنے پر مجبور کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کا پابند بنائے۔‘

  12. ’قطر میں حملے سے اسرائیل کی بجائے امریکی مفادات متاثر ہوں گے‘, فرینگ گارڈنر، بی بی سی نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    یہ تین ماہ میں دوسری بار ہے کہ ایک چھوٹے مگر امیر ملک قطر پر میزائل حملہ کیا گیا۔

    اس سے قبل جون میں دوحہ کے مضافات میں واقع امریکی العدید ایئر بیس پر ایران نے حملہ کیا تھا۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک پر حکمران الثانی خاندان (جو خلیج کے امیر ترین خاندانوں میں سے ایک ہے) کے کچھ لوگ ایک دہشت گرد تنظیم اور ایک بڑے امریکی فوجی اڈے کی بیک وقت میزبانی کرنے کی حکمت عملی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

    قطر کی سرپرستی اور میزبانی میں غزہ کے لیے ہونے والے امن مذاکرات اچانک رک گئے ہیں۔

    یہ اسرائیلی یرغمالیوں کے لیے بری خبر ہے، جن کی زندگیاں بلاشبہ اس سے بھی بڑے خطرے میں ہیں۔ یہ غزہ کے لوگوں کے لیے بھی بری خبر ہے، جو روزانہ مسلسل مصیبتیں برداشت کر رہے ہیں۔

    اسرائیل نے پہلے ہی یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ موجودہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اشارہ ملنے پر پورے خطے میں کسی بھی جگہ پر حملہ کر سکتا ہے: غزہ، لبنان، شام، ایران اور یمن لیکن قطر پر حملے کے بارے میں شاید ٹرمپ انتظامیہ بھی نہیں سوچ سکتی۔

    اس حملے کے بعد اگر خطے میں کسی قسم کا ردعمل سامنے آتا ہے تو اس سے اسرائیل کی بجائے امریکی مفادات متاثر ہوں گے۔

  13. اسرائیل ریاستی دہشتگردی کا مرتکب ہوا، جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں: قطری وزیراعظم

    قطری وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے کہا ہے کہ قطر ایک ’انتہائی خطرناک‘ اسرائیلی حملے کا شکار ہوا، جسے صرف ’ریاستی دہشت گردی‘ ہی کہا جا سکتا ہے۔

    دوحہ میں پریس کانفرنس کے دوران آل ثانی نے اس بات پر زور دیا کہ ’ان کا ملک اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کسی بھی قسم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا اور اپنی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے سے سختی سے نمٹے گا۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ قطر کو اس ’حملے‘ کا جواب دینے کا حق حاصل ہے اور اس کے مقابلے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

    قطری وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ امریکہ نے قطر کو حملہ ہونے کے دس منٹ بعد اطلاع دی اور اس بات کی نشاندہی کی کہ اسرائیل نے ایسے ہتھیار استعمال کیے جو ریڈار پر نظر نہیں آتے۔

    ان کے مطابق یہ واقعہ ’علاقائی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی ایک شرمناک کوشش ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو خطے کو ایک مُشکل اور خطرناک سطح پر لے جا رہے ہیں اور یہ اقدام تمام اخلاقی حدوں کو پار کر گیا۔‘

    آل ثانی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ’یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب حالیہ دنوں میں امریکہ کی درخواست پر امن سے متعلق بات چیت جاری تھی اور اسرائیل پر الزام لگایا کہ اگر یہ کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو اس کی ذمہ داری اُن پر ہوگی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کیا بین الاقوامی برادری کو یہ سمجھنے کے لیے اس سے زیادہ واضح پیغام چاہیے کہ خطے میں دہشت اور شدت پسندی کو کون ہوا دے رہا ہے؟‘

    وزیر نے زور دیا کہ قطر نے غزہ میں جنگ روکنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی، لیکن تازہ ترین حملے کے بعد اسے امن معاہدے کا کوئی سنجیدہ امکان نظر نہیں آتا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’قطری سفارت کاری استحکام اور سیاسی حل کی بنیادوں پر قائم ہے اور کوئی بھی پرتشدد اقدام ہمیں ثالثی کے اپنے کردار کو جاری رکھنے اور علاقائی استحکام کے لیے کوششیں کرنے سے نہیں روک سکے گا۔‘

  14. اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے چھ افراد کون ہیں؟

    حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے دوحہ میں اس کے مذاکراتی وفد کے ارکان کو نشانہ بنایا لیکن وہ اس حملے میں محفوظ رہے تاہم ایک قطری سیکورٹی اہلکار سمیت چھ دیگر افراد مارے گئے ہیں۔

    اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد میں مرکزی مذاکرات کار خلیل الحیہ کے بیٹے شامل ہیں جبکہ قطر سکیورٹی فورسز کے رکن بدر سعد محمد الحمیدی کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی۔

    حماس کے مطابق مرنے والوں میں یہ لوگ شامل ہیں:

    • حمام الحیہ (ابو یحییٰ) مرکزی مذاکرات کار خلیل الحیہ کے بیٹے
    • جہاد لباد (ابو بلال) الحیہ کے دفتر کے ڈائریکٹر
    • عبداللہ عبدلواحد (ابو خلیل)
    • مؤمن حسونا (ابو عمر)
    • احمد المملوک (ابو مالک)
    • بدر سعد محمد الحمیدی، قطر سکیورٹی فورسز کے رکن
  15. قطر میں اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والے مقام کے گرد سکیورٹی سخت، فضائی نگرانی جاری

    قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جس مقام پر اسرائیل کی جانب سے فضائی حملہ کیا گیا ہے اُس جانب جانے والی سڑکوں کو اب بھی سکیورٹی فورسز نے بند کر رکھا ہے اور گزشتہ کئی گھنٹوں سے اسی علاقے کی ہیلی کاپٹرز کی مدد سے فضائی نگرانی جاری ہے۔

    تاہم جس عمارت کو اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے اُس کے اطراف میں موجود علاقے اور گلیاں اب پُرسکون نظر آرہی ہیں۔واضے رہے کہ یہ علاقہ قطری پارلیمنٹ کی عمارت سے تقریباً 15 منٹ کی مسافت پر واقع ہے اور یہ ایک رہائشی علاقہ ہے جہاں پُرتعیش ہوٹل اور متعدد سفارتخانوں کی عمارتیں بھی موجود ہیں۔

    اگرچہ قطری حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملے کا نشانہ ’حماس کا ایک رہائشی ہیڈکوارٹر‘ تھا، لیکن دوحہ میں جن رہائشیوں سے بی بی سی نے بات کی ہے انھوں نے اس واقعے کو دارالحکومت کے سب سے اہم علاقوں میں سے ایک پر ہونے والا ’حیران کن حملہ‘ قرار دیا ہے۔

  16. ’دوحہ میں حملے کا فیصلہ میرا نہیں بلکہ نیتن یاہو کا تھا، میں اس سے خوش نہیں‘: امریکی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دوحہ میں حملے کا فیصلہ ان کا نہیں بلکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا تھا اور وہ اس بارے میں خوش نہیں۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے معاون خصوصی وٹکوف کو ہدایت کی تھی کہ وہ قطر کو اسرائیلی حملے کے بارے میں اطلاع دیں لیکن بدقسمتی سے اس وارننگ میں تاخیر ہو گئی۔

    امریکی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قطر کے اندر بمباری ’اسرائیل یا امریکہ کے مقاصد کو پورا نہیں کرتی۔‘

    ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ حماس کے خاتمے کو ایک ’جائز ہدف‘ سمجھتے ہیں لیکن ساتھ ہی انھوں نے قطر کی سرزمین پر حملے پر ’گہرے افسوس‘ کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا کہ قطر ’امریکہ کا اتحادی اور دوست ہے‘۔

    امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے قطر کے امیر اور وزیر اعظم سے بات کی ہے اور انھیں یقین دلایا ہے کہ ’قطر میں دوبارہ ایسا نہیں ہو گا۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ قطر میں اسرائیلی حملے سے ’خوش نہیں‘ ہیں۔

  17. ’قطر پر حملے کے لیے اسرائیلی طیاروں نے اُردن کی فضائی حدود استعمال نہیں کی‘

    اردن کی مسلح افواج کے ایک عسکری ذریعے نے تردید کی ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے قطر میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے اُن کی فضائی حدود کا استعمال کیا ہے۔

    اردن کی مسلح افواج کے ایک عسکری ذریعے اس تردید کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ’یہ ایک جھوٹا دعویٰ اور بہتان ہے۔‘

    دوسری جانب کینیڈین وزیرِاعظم نے مارک کارنی نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی حملہ سے متعلق ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے تشدد میں ناقابلِ قبول اضافہ اور قطر کی خودمختاری کے خلاف توہین ہے۔‘

    واضح رہے کہ گزشتہ شب اسرائیل کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں فضائی حملہ کیا گیا جس میں اُس کی جانب سے قطر میں حماس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔

    تاہم اس اسرائیلی حملے کے بعد حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دوحہ میں اسرائیلی حملے سے اس کی مذاکراتی ٹیم محفوظ رہی ہے تاہم چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    حماس کا مزید کہنا تھا کہ ’دشمن نے مذاکراتی وفد میں موجود ہمارے بھائیوں کو قتل کرنے کی ناکام کوشش کی۔ یہ حملہ ثابت کرتا ہے کہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت امن معاہدہ نہیں چاہتے۔‘

  18. قطر میں اسرائیلی حملے میں چھ افراد ہلاک: ہم اس بارے میں مزید کیا جانتے ہیں؟

    اسرائیل نے منگل کی دوپہر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے سینیئر رہنماؤں پر حملہ کیا۔

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ’7 اکتوبر کے وحشیانہ قتل عام کے براہ راست ذمہ داران‘ کو نشانہ بنایا۔

    حماس کا کہنا ہے کہ دوحہ میں اس کے مذاکراتی وفد کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا لیکن وہ اس حملے میں محفوظ رہے تاہم ایک قطری سیکورٹی اہلکار سمیت چھ دیگر افراد مارے گئے۔

    رہائشی علاقے میں ہونے والے اس حملے کے بعد قطر نے اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

    منگل کی دوپہر قطری دارالحکومت دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں 15 اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے ایک ہی ہدف پر 10 گولہ باری کی۔

    ایک بیان میں حماس نے کہا کہ ’دشمن نے مذاکراتی وفد میں موجود ہمارے بھائیوں کو قتل کرنے کی ناکام کوشش کی۔‘

    واضح رہے کہ قطر اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالث کے طور پر کام کر رہا ہے اور اکتوبر 2023 سے ان کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔

    حماس نے مزید کہا کہ یہ حملہ ثابت کرتا ہے کہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت امن معاہدہ نہیں چاہتے۔ حماس نے اس کا ذمہ دار امریکی حکومت کو بھی قرار دیا۔

    اس حملے میں ہلاک ہونے والے چھ افراد میں مرکزی مذاکرات کار خلیل الحیہ کے بیٹے شامل ہیں جبکہ ان میں قطر کی سکیورٹی فورسز کے رکن بدر سعد محمد الحمیدی کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ حماس نے گذشتہ روز غزہ میں چار اسرائیلی فوجی اہلکاروں اور یروشلم میں چھ شہریوں کو ہلاک کرنے کی ’ذمہ داری فخر سے قبول‘ کی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ ’آج دوپہر میں نے اسرائیلی سکیورٹی ایجنسیوں کے سربراہوں کا ایک اجلاس بُلایا اور حماس کے دہشتگرد سربراہوں پر سرجیکل حملے کے احکامات جاری کیے۔‘

    ’جنگ کی ابتدا میں اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ 7 اکتوبر کے حملے کے ذمہ داروں تک پہنچے گا۔ آج اسرائیل اور میں نے وہ وعدہ پورا کیا۔‘

    اس موقع پر اسرائیلی وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں جنگ ’فوری ختم‘ ہو سکتی ہے اگر امریکی صدر ٹرمپ کا مجوزہ معاہدہ قبول کرلیا جائے۔

    امریکہ میں وائٹ ہاؤس بریفنگ کے دوران پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کا کہنا ہے کہ دوحہ میں اسرائیلی حملہ ’اسرائیلی یا امریکی اہداف حاصل کرنے میں پیشرفت نہیں‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ حماس کے خاتمے کو ’اہم ہدف‘ سمجھتے ہیں۔

    لیوٹ نے کہا کہ قطر امریکہ کا ’قریبی اتحادی‘ ہے اور صدر ٹرمپ حملے کے مقام کے بارے میں افسوس ظاہر کرتے ہیں۔ لیوٹ کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد ٹرمپ نے قطری امیر اور وزیر اعظم دونوں سے بات چیت کی۔

    ادھر وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو ’امریکی فوج کی طرف سے مطلع کر دیا گیا تھا کہ اسرائیل حماس پر حملہ کرنے والا ہے۔ بدقسمتی سے اس کا مقام قطری دارالحکومت دوحہ میں موجود تھا۔ قطر ایک خودمختار ریاست ہے اور امریکہ کا قریبی اتحادی ہے جو امن معاہدے کے لیے خطرہ مول لے رہا ہے۔ اس پر بمباری کرنے سے اسرائیل یا امریکہ کے اہداف حاصل کرنے میں کوئی پیشرفت نہیں ہو گی۔‘

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹرمپ نے معاون خصوصی وٹکوف کو فوراً ہدایت دی تھی کہ وہ ’قطر کو حملے سے قبل اطلاع دیں جو کہ انھوں نے کیا۔‘

  19. دوحہ میں اسرائیلی حملہ: دو منٹ میں 10 دھماکوں کی آوازیں, عدنان البرش، بی بی سی نیوز عربی

    میں اپنے دفتر میں تھا جب میں نے دھماکوں کی آوازیں سنیں۔ میں اضطراب میں مبتلا تھا اور میں کھڑکی کے باہر دیکھنے لگا۔ مجھے نہیں معلوم تھا اس وقت کیا سوچا جائے۔

    پہلے مجھے لگا کہ یہ بادلوں کے گرجنے کی آواز ہے یا کوئی قدرتی چیز ہے۔ پھر مجھے کچھ ماہ قبل اِن دھماکوں کی آوازیں یاد آئیں جو ہم نے دوحہ میں موجود امریکی اڈے العدید پر ایرانی میزائل حملوں کے دوران سنی تھیں۔

    میں نے خود سے پوچھا ’کیا ایران نے دوبارہ حملہ کیا ہے؟‘

    جب مزید دھماکے ہوئے تو میں نے غزہ کی ’فائر بیلٹ‘ کے بارے میں سوچا، یعنی جب اسرائیلی فوج قلیل مدت میں ایک ہی مقام پر کئی میزائل داغتی تھی۔ اس سے وہی آوازیں آتی تھیں جو میں نے آج سنیں۔ دو منٹ میں 10 بار مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنائی دی تھیں۔

    گھر پر میرے بچے ڈر چکے تھے اور میری بیوی نے فون کر کے پوچھا یہ بمباری کیوں ہو رہی ہے؟ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ ہم سب حیرانی میں مبتلا تھے۔

  20. ’اگر یہ حملہ کامیاب نہیں ہوا تو یہ مہنگا داؤ ثابت ہو سکتا ہے‘, پال ایڈمز، سفارتی نامہ نگار/بی بی سی نیوز

    اسرائیل نے وہ الفاظ بتائے ہیں جو چیف آف جنرل سٹاف ایال زامر نے آپریشن سے قبل ایئر فورس کے پائلٹوں کو کہے تھے۔

    لیفٹیننٹ جنرل زامر نے پائلٹوں سے کہا تھا کہ وہ سات اکتوبر کے تمام متاثرین کی طرف سے انتقام لیں گے۔

    لیکن حماس کا کہنا ہے کہ اس کے سینیئر رہنما حملے میں محفوظ رہے ہیں۔ اصل صورتحال معلوم ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

    اگر اسرائیل واقعی خلیل الحیہ اور ان کے ساتھیوں کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہوا تو اسرائیلی حکومت کہہ سکتی ہے کہ یہ حملہ سفارتی اور سیاسی قیمت ادا کرنے کے قابل تھا۔

    اس سے خلیج میں غصہ بڑھنے کا خدشہ ہے اور روایتی اتحادی برطانیہ اور فرانس بھی اس کی مذمت کر سکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کو بھی کڑے سوالوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    لیکن اگر یہ مشن اسرائیل کی توقعات کے مطابق کامیاب نہیں ہوا تو یہ صرف ایک مہنگا داؤ ثابت ہو سکتا ہے۔