قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیلی فوج کے حملے
کے بعد اُن کا یہ اعلان سامنے آیا کہ اسرائیلی فوج اور سکیورٹی اداروں کا اس فضائی
حملے میں ہدف غزہ میں حماس کی قیادت تھی۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نشانہ
بنائے گئے رہنما ’ان نمایاں شخصیات میں شامل ہیں جو برسوں سے تحریک (حماس) کی
سرگرمیوں کے ذمہ دار رہے ہیں اور جو 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کی براہ راست ہدایات
دینے کے ذمہ دار ہیں۔‘
فوج نے تصدیق کی کہ ان کی جانب سے ’شہری ہلاکتوں کے
خطرے کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے اور اس حملے کے لیے ایسے ہتھیاروں کا
استعمال کیا جن میں اہداف کی درست نشاندہی کرنے کی صلاحیت موجود تھی اور انھیں نتیجہ خیز بنانے کے لیے اضافی خفیہ معلومات کا بھی استعمال کیا گیا۔‘
اسرائیل کے چینل 14 نے ایک اسرائیلی عہدیدار کے
حوالے سے کہا کہ فوج نے دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا، جن میں رہنما خلیل
الحیّہ بھی شامل ہیں۔
خلیل الحیّہ جو غزہ میں حماس کے رہنما ہیں تحریک کے اس وفد
کی قیادت کر رہے ہیں جو غزہ میں جنگ سے متعلق حالیہ پیش رفت پر مذاکرات کر رہے ہیں۔
الحیّہ اس
سے قبل کئی بار اسرائیل کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی قیادت کر چکے
ہیں، جن میں سب سے نمایاں فروری 2025 کے مذاکرات ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مذاکرات کا
وہ دور بھی شامل ہے کہ جو غزہ میں جنگ سے قبل قاہرہ میں 2012 اور 2014 میں
اسرائیلی انتظامیہ کے ساتھ ہوئے۔
الحیّہ غزہ
میں ایک لمبے عرصے سے حماس سے وابستہ رہے ہیں اور انھیں اس تنظیم کے نمایاں ترین
رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم ہم ان کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
الحیّہ کے
ابتدائی ایام اور تعلیم
خلیل اسماعیل ابراہیم الحیّہ جنھیں ’ابو اسامہ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،
جنوری 1960 میں غزہ میں پیدا ہوئے۔ اپنی تعلیمی پس منظر کے باعث انھیں ایک قدامت
پسند شخصیت سمجھا جاتا ہے۔
الحیّہ نے
سنہ 1983 میں اسلامی یونیورسٹی غزہ سے بی اے کیا اور سنہ 1989 میں یونیورسٹی آف
جارڈن سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد انھوں نے سنہ 1997 میں سوڈان کی
یونیورسٹی آف القرآن الکریم اینڈ اسلامک سائنسز سے اسلامی قانون میں ڈاکٹریٹ یعنی
پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
الحیّہ فلسطینی معاشرے میں اپنی سیاسی اور سماجی
سرگرمیوں کے لیے معروف رہے ہیں اور فلسطینی قانون ساز کونسل کے رکن بھی رہ چکے
ہیں۔
الحیّہ نے
سنہ 1987 کے پہلے فلسطینی انتفاضہ یا اُس وقت ہونے والے احتجاج میں میں حصہ لیا،
حماس کے بانیوں میں شامل تھے اور آج تحریک کے سیاسی بیورو کے نمایاں رہنماؤں میں
شمار ہوتے ہیں۔
سنہ 2006 میں الحّیہ نے غزہ سے ’تبدیلی
اور اصلاح‘ کے نعرے کے ساتھ قانون ساز انتخابات میں حصہ لیا اور حماس کی حمایت کے
ساتھ کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں وہ قانون ساز کونسل میں اس حماس کی جانب سے سربراہ
کے طور پر سامنے آئے۔ یہ فلسطین میں ہونے والے آخری انتخابات تھے۔
انھوں نے تحریک کے نائب سربراہ برائے غزہ اور میڈیا
آفس کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
سنہ 1990 کی دہائی میں وہ تین سال اسرائیلی جیلوں میں ’دہشت گردی‘ کے الزامات میں قید رہے۔ اس وقت وہ اسلامی یونیورسٹی سٹوڈنٹ کونسل کے نائب صدر اور غزہ میں اسلامی تحریک (جماعتِ اخوان المسلمون سے وابستہ) کے نائب صدر تھے۔
سنہ 2007 اور سنہ 2014 میں ان کے گھر پر دو مرتبہ بمباری بھی ہوئی جو بظاہر ان پر قاتلانہ حملوں کی کوششیں تھی۔ ان دونوں واقعات میں انھوں نے اپنے کئی اہلِ خانہ کو کھو دیا۔
سات اکتوبر کے حملے کے بعد اسرائیلی بمباری میں بھی ان کے کئی خاندان کے افراد مارے گئے۔ مئی 2025 میں اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاتس نے خلیل الحیّہ کو قتل کرنے کی دھمکی دی۔
خلیل الحیّہ کو خالد مشعل کے مقابلے میں تہران کے قریب تر سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ اسماعیل ہنیہ کے ساتھ ایرانی صدر کی تقریبِ حلف برداری میں شریک ہوئے جبکہ مشعل غیر حاضر تھے۔
سنہ 2022 میں انھوں نے دمشق میں صدر بشار الاسد سے ملاقات کے لیے حماس کے ایک وفد کی قیادت کی جس میں دیگر فلسطینی وفود بھی شامل تھے تاکہ شام کے ساتھ تعلقات بحال کیے جا سکیں۔
نومبر سنہ 2023 میں انھوں نے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے لبنان کا دورہ کیا۔ جہاں انھوں نے حزب اللہ کے سابق سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ سے ملاقات کی اور یرغمالیوں کے مسئلے پر گفتگو کی۔
خلیل الحیّہ کی سرگرمیوں اور مؤقف نے حالیہ دنوں میں زیادہ توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ وہ تحریک کی نمایاں قیادت میں شمار ہوتے ہیں اور علاقائی مذاکرات میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب حالیہ جنگ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان تحریک کے نمایاں ترین رہنما یا تو مارے جا چکے ہیں یا منظر سے غائب ہیں۔