یونان کشتی حادثہ: ایف آئی اے نے ’غفلت برتنے‘ پر اپنے دو افسران کو گرفتار کر لیا

وفاقی تحقیقاتی ادارہ نے یونان کشتی حادثے میں ملوث 3 انسانی سمگلروں کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے مبینہ طور پر غفلت برتنے پر ایف آئی اے کے 2 افسران کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جن دو 2 افسران کو گرفتار کیا ہے اُن میں انسپکٹر زبیر اشرف اور سب انسپکٹر شاہد عمران شامل ہیں۔

خلاصہ

  • عمران خان نے جیل سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اتوار تک مطالبات منظور نہ ہوئے تو سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز کر دیا جائے گا
  • جی ایچ کیو حملہ کیس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، شاہ محمود قریشی اور شبلی فراز سمیت مزید 14 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے
  • امریکہ نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مبینہ طور پر کردار ادا کرنے والے چار اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں
  • پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکہ کی جانب سے این ڈی سی سمیت چار اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کو بدقسمتی اور تعصب پر مبنی قرار دے دیا
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا جو 23 دسمبر کو سنایا جائے گا

لائیو کوریج

  1. یونان کشتی حادثہ: ایف آئی اے نے ’غفلت برتنے‘ پر اپنے دو افسران کو گرفتار کر لیا

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی تحقیقاتی ادارہ نے یونان کشتی حادثے میں ملوث 3 انسانی سمگلروں کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے مبینہ طور پر غفلت برتنے پر ایف آئی اے کے 2 افسران کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ایف آئی اے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل فیصل آباد نے بڑی کارروائی کی ہے اور یونان کشتی حادثے میں متاثر ہونے والے پاکستانی کو بیرون ملک بھیجنے کا جھانسے دینے میں ملوث 3 انسانی سمگلروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔‘

    وفاقی ادارے نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ مبینہ طور پر غفلت برتنے پر ایف آئی اے نے اپنے جن دو 2 افسران کو گرفتار کیا ہے اُن میں انسپکٹر زبیر اشرف اور سب انسپکٹر شاہد عمران شامل ہیں۔

    ایف آئی اے کی جانب سے گرفتار ملزمان فیصل آباد ائرپورٹ پر بطور شفٹ انچارج تعینات تھے اور بتایا گیا کہ گرفتار ملزمان نے دوران ڈیوٹی مسافروں کی سکریننگ کے عمل میں غفلت اور لاپروائی کا مظاہرہ کیا۔

    اعلامیے کے مطابق یونان کشتی حادثے میں 18 متاثرین نے فیصل آباد ائرپورٹ سے بیرون ملک سفر کیا تھا۔

    یاد رہے کہ یونان میں پیش آنے والے حادثے میں 17 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا تھا جبکہ سفیان نامی متاثرہ شہری کی کشتی حادثے میں موت واقع ہوئی۔

    ایف آئی اے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ متاثرین سے عبدالرؤف نامی ایجنٹ نے یونان جانے کے لیے بھاری رقوم وصول کیں، مقدمے میں عبدالرؤف، عباس ذوالفقار اور قمر الزمان نامی انسانی سمگلرز کو نامزد کردیا گیا ہے۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور انسانی سمگلروں کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  2. جی ایچ کیو حملہ کیس: علی امین گنڈاپور اور شاہ محمود قریشی سمیت مزید 14 ملزمان پر فرد جرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس

    ،تصویر کا ذریعہKhalid Chaudhary

    جی ایچ کیو حملہ کیس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، شاہ محمود قریشی اور شبلی فراز سمیت مزید 14 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

    نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے کی۔

    نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں مجموعی طور پر عمران خان سمیت 113 ملزمان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے جبکہ مزید چھ ملزمان پر فرد جرم عائد ہونا ابھی باقی ہے۔

    واضح رہے کہ سنہ 2023 میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے فوراً بعد ہونے والے احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ اور اہم عمارتوں میں توڑ پھوڑ جیسے مناظر دیکھنے کو ملے تھے۔ صورتحال اس وقت کشیدہ ہوئی جب مشتعل مظاہرین نے فوجی املاک، جیسا کہ پاکستانی فوج کے ہیڈکوارٹرز یعنی جی ایچ کیو اور کور کمانڈر ہاؤس لاہور کی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔

    مشتعل مظاہرین نے راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر ایک کے باہر نعرے بازی اور توڑ پھوڑ کی اور چند مظاہرین جی ایچ کیو کی عمارت کی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔

    اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کے دوران علی امین گنڈاپور کی عمران خان سے ملاقات بھی ہوئی جبکہ کمرہ عدالت میں عمران خان، علی امین گنڈاپور، شاہ محمود قریشی اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان مشاورت بھی ہوئی۔

    دوسری جانب آج عدالت میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں بریت کی درخواست پر جزوی دلائل بھی دیے گئے۔ عمران خان سمیت دیگر ملزمان کی بریت کی درخواستوں پر انسداد دہشت گردی عدالت اب جمعے کو سماعت کرے گی۔

  3. پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک دن میں انڈیکس میں 4800 پوائنٹس کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز شدید مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔ انڈیکس میں 4800 پوائنٹس کی کمی کے بعد کے ایس ای 100 انڈیکس 106200 کی سطح تک گر گیا۔

    سٹاک مارکیٹ میں 4800 پوائنٹس کی کمی ملکی تاریخ میں ایک کاروباری دن میں انڈیکس میں ہونے والی سب سے بڑی کمی ہے۔

    واضح رہے کہ سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ روز بھی شدید مندی دیکھی گئی تھی جب انڈیکس میں 3500 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ دو کاروباری دنوں میں سٹاک مارکیٹ میں تقریباً 8400 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ دو دنوں میں ہونے والی مندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب انڈیکس ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا۔

    انڈیکس میں ہونے والی بے تحاشہ کمی کی وجہ کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اس کی بنیادی وجہ تکنیکی ہے کیونکہ سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ کئی ہفتے سے ہونے والی تیزی کے بعد اس میں تکنیکی تصحیح ہونا لازمی تھی۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ کئی ہفتوں سے غیر ملکی سرمایہ کار مال بیچ رہے تھے جبکہ میوچل فنڈز اور لوکل سرمایہ کار اس میں سرمایہ لگا رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ گزشتہ دو دن میں میوچل فنڈز کی جانب سے مال بیچا گیا جس کی وجہ سے انڈیکس میں کمی واقع ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ میں اس وقت پرافٹ ٹیکنگ ہو رہی ہے جس کی وجہ سے انڈیکس میں کمی واقع ہوئی۔

    سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا جائزہ لیا جائے تو کیمیکل، بینکوں، پاور جنریشن اور ریفائنریوں کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کے حصص میں زیادہ فروخت کا دباؤ ریکارڈ کیا گیا۔

  4. اتوار تک مطالبات منظور نہ ہوئے تو سول نافرمانی تحریک کا آغاز کر دیا جائے گا، عمران خان کا جیل سے پیغام

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو ان کی کمزوری نہ سمجھا جائے اور اگر اتوار تک حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز کر دیا جائے گا۔

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے حکومت سے دو مطالبات تھے: سیاسی قیدیوں کی رہائی اور 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان کی نظر میں یہ دونوں مطالبات جائز ہیں اور اگر حکومت ان پر اتوار کے روز تک عمل درآمد نہیں کرتی تو سول نافرمانی کی تحریک کے پہلے مرحلے کے تحت ’ترسیلات زر کے بائیکاٹ‘ کا آغاز کر دیا جائے گا۔

    عمران خان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ترسیلات زر ملک نہ بھیجنے کی اپیل کی جائے گی۔

    اس سے قبل منگل کے روز عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں سول نافرمانی کی تحریک چند دنوں کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ اس تحریک کے خدوخال اور ٹائم لائن کا فیصلہ عمران خان خود کریں گے۔

    تاہم بدھ کے روز جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی جانب سے مذاکرات کرنے کی پیشکش کا مذاق اڑایا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ ہم نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔

    سابق وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی پیشکش اور سول نافرمانی کی تحریک موخر کرنے کی بات ملک کے وسیع تر مفاد میں کی تھی۔ ’حکومت اگر اس میں دلچسپی نہیں رکھتی تو ہم نے بھی مذاکرات کے لیے حکومت کی کنپٹی پر بندوق نہیں رکھی۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے ’اگر حکومت اب بھی چاہتی ہے کہ سول نافرمانی کی تحریک شروع نہ ہو تو ہمارے دونوں مطالبات پر ہم سے رابطہ کیا جائے یا ہمیں قائل کیا جائے کہ یہ مطالبات غیر آئینی ہیں اور ان پر بات ممکن نہیں۔‘

    عمران خان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں جیل میں ملاقات کے لیے مذاکراتی ٹیم کو دعوت دی ہے اور ان کے نام دے دیے ہیں۔ ’اب دیکھنا ہے کہ حکومت انکو ملاقات کی اجازت دیتی ہے یا نہیں۔‘

  5. ممبئی میں انڈین بحریہ کی اسپیڈ بوٹ کی فیری کو ٹکر، 13 افراد ہلاک

    انڈین فیری حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈین بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز بحریہ کی ایک سپیڈ بوٹ کنٹرول کھونے کے بعد ایک مسافر بحری جہاز (فیری) سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دو افراد تاحال لا پتہ ہیں۔

    مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ دیویندر فدنیوس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں انڈین بحریہ کے تین اہلکار بھی شامل ہیں۔

    سوشل میڈیا پر دستیاب ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سپیڈ بوٹ مسافر بردار بحری جہاز سے ٹکرانے سے پہلے اس کے گرد گھوم رہی ہے۔ حادثے کے بعد بحری جہاز ڈوب گیا۔

    مقامی میڈیا کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔

    بحریہ کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی بوٹ کی انجن کی آزمائش جاری تھی کہ وہ کنٹرول کھو بیٹھی اور مسافر فیری سے جا ٹکرائی۔ انڈین بحریہ کے مطابق سپیڈ بوٹ کے انجن میں خرابی پیدا ہو گئی تھی اور انھیں اس حادثے میں جانوں کے ’المناک نقصان‘ پر افسوس ہے۔

    اطلاعات کے مطابق جب حادثہ پیش آیا تو نجی کمپنی کی جانب سے چلائی جانے والی فیری مقبول سیاحتی مقام ’ایلیفینٹا غار‘ جا رہی تھی۔

    گوتم گپتا اس حادثے کے عینی شاہد ہیں۔ انھوں نے انڈین خبر رساں ادارے دی ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ حادثے کے وقت وہ کنارے پر موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے لگا کہ سپیڈ بوٹ شاید کرتب دکھا رہی ہے اس لیے میں نے اس کی ویڈیو بنانی شروع کی۔

    فیری پر موجود ایک مسافر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ حادثے کے بعد وہ 15 منٹ تک سمندر میں تیرتے رہے، اس کے بعد انھیں ایک کشتی نے آ کر ریسکیو کیا۔

    مسافروں کا کہنا ہے کہ فیری کی انتظامیہ نے حادثے کے بعد ان کو کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کی اور انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیا۔

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈین بحریہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فیریز اور سپیڈ بوٹس کے لیے علیحدہ علیحدہ راستے استعمال کرتے ہیں اور بندرگاہ میں اتنی جگہ موجود ہے کہ کشتیوں کے درمیان ٹکر نہ ہو۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں تفصیلات بحریہ کی سپیڈ بوٹ کے برآمد ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکیں گی۔

    وزیرِ اعظم نریندر مودی نے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے دو دو لوکھ انڈین روپے کے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

    یہ ایک مہینے کے دوران ہونے والا اس طرز کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل 22 نومبر کو دو افراد اس وقت لاپتہ ہو گئے تھے جب گوا کے نزدیک ایک آبدوز ماہی گیری کے ٹرالر سے ٹکرا گئی تھی۔

  6. شام کے باغی رہنما کا بی بی سی کو انٹرویو: ہم دنیا میں کسی کے لیے خطرہ نہیں ہیں, جیریمی بوون، بین الاقوامی ایڈیٹر

    شام کے باغی لیڈر احمد الشرا

    شام کے باغی رہنما احمد الشرع کا کہنا ہے کہ ان کا ملک جنگ کی وجہ سے تھک چکا ہے اور وہ اپنے ہمسایہ ممالک یا مغرب کے لیے خطرہ نہیں ہے۔

    بی بی سی کو دمشق میں دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں شام پر عائد پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ، ’اب جو کچھ ہوا ہے اس کے بعد پابندیاں اٹھا لینی چاہیئیں کیونکہ یہ سابقہ حکومت پر لگائی گئی تھیں۔ مظلوم اور ظالم کو ایک ہی لکڑی نہیں ہانکنا چاہیئے۔‘

    ابو محمد الجولانی کے نام سے پہچانے جانے والے احمد الشرع شامی باغی گروہ ہیئت تحریر الشام کے سربراہ ہیں جو شامی باغی گروہوں میں سب سے طاقتور ہے۔ ان کی قیادت میں باغی گروہ سابق شامی صدر بشار الاسد کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ہیئت تحریر الشام کوئی دہشتگرد تنظیم نہیں اور اس کا نام دہشتگرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دینا چاہیے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے ہیئت تحریر الشام کا نام دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں ڈالا ہوا ہے۔ احمد الشرا کی تنظیم ابتدائی طور پر القاعدہ سے منسلک تھی۔ 2016 میں ہیئت تحریر الشام نے القاعدہ سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

    احمد الشرع کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں یا شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ ’ہم تو خود کو بھی اسد حکومت کے ظلموں کا شکار مانتے ہیں۔‘

    دوران انٹرویو احمد الشرا سے سوال کیا گیا کہ کہیں شام میں خلافت تو قائم نہیں کی جائے گی یا اسے افغانستان کی طرز کی ریاست تو نہیں بنا دیا جائے گا یا وہ طالبان کی طرح تو پیش نہیں آئیں گے۔

    اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملک یکسر مختلف ہیں۔ ’ہمارا طرزِ حکومت بالکل مختلف ہے۔ افغانستان ایک قبائلی معاشرہ ہے جبکہ شام بالکل مختلف ہے۔ [دونوں ملکوں کے] لوگ ایک طرح سے نہیں سوچتے۔ شام کی حکومت اور حکومتی نظام ہماری تاریخ اور ثقافت کے مطابق ہوگا۔‘

    احمد الشرع کا کہنا تھا کہ وہ خواتین کی تعلیم کے حق میں ہیں

    شام کے شمال مغربی صوبے ادلب کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہاں آٹھ سال سے یونیوسٹیاں چل رہی ہیں۔ 2011 سے ادلب باغیوں کے کنٹرول میں ہے۔

    انھوں نے دعوی کیا کہ ان یونیورسٹیوں میں خواتین کا تناسب 60 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا شام میں شراب پینے کی اجازت ہوگی تو ان کا کہنا تھا، ’بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں میں بات نہیں کر سکتا کیونکہ یہ قانونی معاملات ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ قانونی ماہرین کی ایک ٹیم شام کا آئین تشکیل دے گی۔ ’وہ فیصلہ کریں گے۔ کسی بھی حاکم یا صدر کو قانون کے مطابق کام کرنا ہوگا۔‘

    انٹرویو کے دوران احمد الشرع پرسکون دکھائی دیے۔ انھوں نے بارہا ان لوگوں کو یقین دلانے کی کوشش جن کو شبہ ہے کہ ہیئت تحریر الشام اب بھی ماضی کا پر تشدد گروہ ہے۔

    تاہم اب بھی بہت سے شامی شہری ان پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

    آنے والے مہینوں میں نئی شامی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے پتا چلے گا کہ وہ شام کو کیسا ملک بنانا چاہتے ہیں۔

  7. پاکستان کا بیلسٹک میزائل پروگرام: این ڈی سی اور دیگر اداروں پر پابندیوں کا امریکی فیصلہ بد قسمت اور متعصبانہ ہے، دفتر خارجہ

    پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکہ کی جانب سے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مبینہ معاونت پر نیشنل ڈیویلپمنٹ کمپلیکس (این ڈی سی) سمیت چار اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کو بدقسمتی اور تعصب پر مبنی قرار دیا ہے۔

    امریکہ نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مبینہ طور پر کردار ادا کرنے والے چار اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری اور اس کے پھیلاؤ کے خطرات کے پیش نظر ایگزیکٹو آرڈر کے تحت چار پاکستانی اداروں این ڈی سی، اختر اینڈ سنز پرائیویٹ لمیٹڈ، فیلیئٹس انٹرنیشنل اور راک سائیڈ پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

    جمعرات کے روز دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سٹریٹیجک صلاحیتوں کا مقصد ملک کی خود مختاری کا دفاع اور جنوبی ایشیا میں امن قائم رکھنا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ امریکی پابندیوں کا مقصد خطے میں فوجی عدم تعاون کو بڑھاوا دینا ہے اور اس سے خطے میں امن اور سلامتی کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ نجی کاروباری اداروں پر اس طرح کی پابندیاں مایوس کن ہیں۔ دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی محض شک کی بنیاد پر بنا کسی ثبوت کے نجی کاروباری اداروں پر پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں۔

    دفترِ خارجہ کا کہنا تھا ماضی میں ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے دعووں کے باوجود دوسرے ممالک کے لیے جدید فوجی ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے درکار لائسنس کی شرط ختم کی گئی۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے دوہرے معیار اور امتیازی سلوک سے نہ صرف عدم پھیلاؤ کے مقصد کو ٹھیس پہنچے گی بلکہ خطے اور عالمی امن و سلامتی کو بھی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

    شاہین میزائل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنشاہین میزائل

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری اور اس کے پھیلاؤ کے خطرات کے پیش نظر ایگزیکٹو آرڈر کے تحت چار پاکستانی اداروں پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

    بیان کے تحت ’ان میں اسلام آباد میں واقع نیشنل ڈیویلپمنٹ کمپلیکس (NDC) نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کی تیاری کے لیے مختلف اشیا حاصل کی ہیں، جن میں خاص قسم کے وہیکل چیسیز شامل ہیں جو میزائل لانچنگ کے معاون آلات اور ٹیسٹنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے علم میں آیا ہے کہ این ڈی سی شاہین سیریز کے میزائلوں سمیت پاکستان کے دیگر بیلسٹک میزائیلوں، کی تیاری کا ذمہ دار ہے۔

    بیان کے مطابق کراچی میں واقع اختر اینڈ سنز پرائیویٹ لمیٹڈ نے این ڈی سی کے لیے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے مختلف آلات فراہم کیے ہیں۔

    بیان کے مطابق کراچی میں واقع فیلیئٹس انٹرنیشنل نے این ڈی سی اور دیگر اداروں کے لیے میزائل سازی میں مطلوب اشیا کی خریداری میں سہولت فراہم کی ہے تاکہ پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو سپورٹ کیا جا سکے۔

    سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بیان کے مطابق ’ان پابندیوں کا اطلاق ایگزیکٹو آرڈر 13382 کے تحت کیا گیا ہے جو ایسے افراد یا اداروں کو نشانہ بناتا ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں یا ان کی ترسیل کے ذرائع ، حصول، ملکیت، ترقی، نقل و حمل، منتقلی یا استعمال میں ملوث ہوں یا اس میں معاونت فراہم کریں۔

    بیان کے مطابق ’امریکہ ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور اس سے منسلک تشویش ناک سرگرمیوں کے خلاف اقدامات جاری رکھے گا۔‘

  8. بریکنگ, امریکہ نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت پر این ڈی سی سمیت چار اداروں پر پابندیاں عائد کر دیں

    میزائل پروگرام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مبینہ طور پر کردار ادا کرنے والے چار اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری اور اس کے پھیلاؤ کے خطرات کے پیش نظر ایگزیکٹو آرڈر کے تحت چار پاکستانی اداروں پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

    بیان کے مطابق یہ فیصلہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور ان کی ترسیل کے ذرائع کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔

    امریکہ نے جن چار پاکستانی اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں ان میں نیشنل ڈیویلپمنٹ کمپلیکس (NDC)، اختر اینڈ سنز پرائیویٹ لمیٹڈ، فیلیئٹس انٹرنیشنل اور راک سائیڈ انٹرپرائز شامل ہیں۔

    بیان کے تحت ’ان میں اسلام آباد میں واقع نیشنل ڈیویلپمنٹ کمپلیکس (NDC) نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کی تیاری کے لیے مختلف اشیا حاصل کی ہیں، جن میں خاص قسم کے وہیکل چیسیز شامل ہیں جو میزائل لانچنگ کے معاون آلات اور ٹیسٹنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے علم میں آیا ہے کہ این ڈی سی شاہین سیریز کے میزائلوں سمیت پاکستان کے دیگر بیلسٹک میزائیلوں، کی تیاری کا ذمہ دار ہے۔

    بیان کے مطابق کراچی میں واقع اختر اینڈ سنز پرائیویٹ لمیٹڈ نے این ڈی سی کے لیے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے مختلف آلات فراہم کیے ہیں۔

    بیان کے مطابق کراچی میں واقع فیلیئٹس انٹرنیشنل نے این ڈی سی اور دیگر اداروں کے لیے میزائل سازی میں مطلوب اشیا کی خریداری میں سہولت فراہم کی ہے تاکہ پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو سپورٹ کیا جا سکے۔

    سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بیان کے مطابق ’ان پابندیوں کا اطلاق ایگزیکٹو آرڈر 13382 کے تحت کیا گیا ہے جو ایسے افراد یا اداروں کو نشانہ بناتا ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں یا ان کی ترسیل کے ذرائع ، حصول، ملکیت، ترقی، نقل و حمل، منتقلی یا استعمال میں ملوث ہوں یا اس میں معاونت فراہم کریں۔

    بیان کے مطابق ’امریکہ ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور اس سے منسلک تشویش ناک سرگرمیوں کے خلاف اقدامات جاری رکھے گا۔‘

  9. عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں بدھ کے روز سماعت کا احوال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر سماعت اڈیالہ جیل میں احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی تھی۔

    بدھ کے روز ہونے والی سماعت میں عمران خان اور بشری بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر، عثمان گل اور ظہیرعباس نے دلائل دیے تھے۔

    پراسیکیوشن ٹیم کی جانب سے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیے۔

    بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کہ کیس میں القادر ٹرسٹ کا کوئی بھی ملازم شکایت کنندہ نہیں۔ 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں کوئی کریمینل چیز آج کی تاریخ تک ثابت نہیں کی جا سکی۔

    سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کہ عمران خان اور بشری بی بی پر کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا۔

    وکیل سلمان صفدر کے مطابق ’کیا سوشل ورک کو جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔ القادر ٹرسٹ کو 190 ملین پاؤنڈ میں سے پیسے نہیں دیے گئے بلکہ بیگم رخسانہ میموریل ٹرسٹ سے پیسے القادر ٹرسٹ کے لیے دیے گئے۔‘

    وکیل سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کہ ’لوگوں کو بانی پی ٹی آئی پر اعتماد ہے جس کی وجہ سے وہ ڈونیشن دیتے ہیں۔ القادر ٹرسٹ ایک ایسی جگہ بنایا گیا ہے جہاں پر پانچ ہزار روپے کنال زمین مل جاتی ہے۔ سیاسی انتقام اتنا اندھا ہو چکا ہے کہ سوشل ورک کو بھی جرم بنا دیا گیا ہے۔‘

    وکیل سلمان صفدر نے عدالت کے روبرو کہا کہ ’نیب کے مطابق اگر رقم کابینہ کی منظوری سے پہلے ٹرانسفر ہو چکی تھی تو کابینہ کے نوٹ نے کیسے اس کو سپورٹ کیا۔ برطانیہ میں جو پیسہ پکڑا گیا وہ منی لانڈرنگ کا تھا یہ ثابت نہیں کیا جا سکا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عمران خان اور بشری بی بی نے القادر ٹرسٹ سے نہ تو تنخواہ لی اور نہ ہی کوئی مالی فائدہ اٹھایا۔ عمران خان اور بشری بی بی پر الزامات بے بنیاد ہیں انہیں مقدمے سے بری کیا جائے۔

    دوسری جانب نیب کے وکیل امجد پرویز نے جواب الجواب دلائل میں کہا کہ یہ برطانیہ سے آنے والے پیسوں کی ایڈجسٹمنٹ کی غیر قانونی منظوری کا کیس ہے۔ پیسے فیڈرل اکاؤنٹ میں آنے کی بجائے سپریم کورٹ کے لائبلیٹی اکاؤنٹ میں آئے۔ پیسے واپس کرنے سے بھی جرم ختم نہیں ہو جاتا۔ 190 ملین پاؤنڈ کیس پیسوں کے حوالے سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کیس تھا جس کے لیے رولز کو ریلیکس کیا گیا۔‘

    وکلا صفائی اور پراسیکیوشن ٹیم کے حتمی دلائل مکمل دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عدالت پیر کے روز 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنائے گی۔

  10. بریکنگ, عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ محفوظ، 23 دسمبر کو سنایا جائے گا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    عمران خان اور بشری بی بی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو 23 دسمبر کو سنایا جائے گا۔

    اس مقدمے میں پراسیکوشن کی جانب سے منگل کے روز دلائل مکمل کیے گئے تھے جبکہ آج عمران خان اور بشری بی بی کے وکلا نے اپنے دلائل مکمل کیے ہیں جس کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے فیصلہ محفوظ کر لیا جو 23 دسمبر کو فیصلہ سنایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ القادر ٹرسٹ کیس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو ملک ریاض کی کمپنی بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔

    پی ڈی ایم کی حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے۔

    حکومت کا دعویٰ تھا کہ ’بحریہ ٹاؤن کی جو 190ملین پاؤنڈ یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔‘

    یہ مقدمہ ایک سال سے زائد عرصے تک چلتا رہا جس میں 35 گواہان پیش ہوئے۔

    ٹرائل کی آخری سماعت تقریبا سوا آٹھ گھنٹے جاری رہی، اس موقع پر عمران خان اور بشری بی بی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

    نو مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی گرفتاری سے قبل کے مناظر جب وہ عدالت میں بائیو میٹرک کروا رہے تھے

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ،تصویر کا کیپشننو مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی گرفتاری سے قبل کے مناظر جب وہ عدالت میں بائیو میٹرک کروا رہے تھے

    منگل کے روز اس مقدمے میں نیب کے پراسیکوٹر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد آج عمران خان اور بشری بی بی کے وکیل اپنے حتمی دلائل دیے۔

    نیب حکام کے مطابق اس مقدمے میں پانچ ملزمان کو اشتہاری بھی قرار دیا گیا ہے جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے مشیر شہزاد اکبر، زلفی بخاری، نجی ہاوسنگ سوسائٹی کے سربراہ ملک ریاض ان کی بیٹے اور فرح گوگی شامل ہیں۔

    القادر ٹرسٹ کیس میں ملک ریاض کا مبینہ کردار کیا ہے؟

    القادر ٹرسٹ کیس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو ملک ریاض کی کمپنی بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔

    پی ڈی ایم کی حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے اور حکومت کا دعویٰ تھا کہ ’بحریہ ٹاؤن کی جو 190ملین پاؤنڈ یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔‘

    حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کے عوض بحریہ ٹاؤن نے مارچ 2021 میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کو ضلع جہلم کے علاقے سوہاوہ میں 458 کنال اراضی عطیہ کی اور یہ معاہدہ بحریہ ٹاؤن اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے درمیان ہوا تھا۔

    جس ٹرسٹ کو یہ زمین دی گئی تھی اس کے ٹرسٹیز میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے علاوہ تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری اور بابر اعوان شامل تھے تاہم بعدازاں یہ دونوں رہنما اس ٹرسٹ سے علیحدہ ہو گئے تھے۔

    جون 2022 میں پاکستان کی اتحادی حکومت نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بحریہ ٹاؤن کے ساتھ معاہدے کے بدلے اربوں روپے کی اراضی سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے نام منتقل کی۔

    اس وقت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اس خفیہ معاہدے سے متعلق کچھ تفصیلات بھی منظرعام پر لائی گئی تھیں۔ ان دستاویزات پر سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بطور ٹرسٹی القادر یونیورسٹی پراجیکٹ ٹرسٹ کی جانب سے دستخط موجود تھے۔

    قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے نام پر سینکڑوں کنال اراضی سے متعلق انکوائری کو باقاعدہ تحقیقات میں تبدیل کیا تھا۔

    نیب کے حکام اس سے قبل اختیارات کے مبینہ غلط استعمال اور برطانیہ سے موصول ہونے والے جرائم کی رقم کی وصولی کے عمل کی انکوائری کر رہا تھا۔

  11. روسی جنرل ایگور کے قتل کے الزام میں ماسکو سے ازبک شہری گرفتار

    روس

    ،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock

    روس کی سکیورٹی سروس کا کہنا ہے کہ ازبکستان سے تعلق رکھنے والے ایک 29 سالہ شخص کو ماسکو میں سینئر جنرل ایگور کیریلوف اور ان کے معاون کے قتل کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

    نیوکلیئر، بائیولوجیکل، کیمیکل ڈیفینس افواج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایگور کیریلوف منگل کی علی الصبح ایک رہائشی عمارت کے باہر تھے جب ایک الیکٹرک سکوٹر میں نصب ایک دھماکہ خیز ڈیوائس پھٹ گئی۔

    سرکاری میڈیا ایجنسیوں کے مطابق روسی سکیورٹی سروس کا کہنا ہے کہ نامعلوم مشتبہ شخص کو یوکرین کی انٹیلی جنس نے بھرتی کیا تھا۔

    بی بی سی کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یوکرین کی سکیورٹی سروس پہلے ہی دعویٰ کر چکی ہے کہ اس قتل کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے۔

    قتل سے ایک روز قبل پیر کے روز یوکرین نے 54 سالہ کیریلوف پر غیر موجودگی میں فرد جرم عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کے بڑے پیمانے پر استعمال کا ذمہ دار ہیں۔‘ تاہم روس کی جانب سے یوکرین کے ان الزامات کی تردید کی گئی تھی۔

    روسی فیڈرل سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) کے تعلقات عامہ کے مرکز نے بدھ کے روز کہا کہ حراست میں لیے گئے 29 سالہ شخص پر ’دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہونے کا شبہ‘ تھا۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تفتیش کے دوران انھوں نے وضاحت کی کہ انھیں یوکرین کی سپیشل سروسز نے بھرتی کیا تھا۔‘

    Russia

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایف ایس بی کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مبینہ مشتبہ شخص کے سر کے بال سیاہ ہیں اور انھیں ہتھکڑیاں لگی ہوئی ہیں اس دوران وہ کیمرے کی جانب دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’کیریلوف کو قتل کرنے کے بدلے میں انھیں ایک لاکھ ڈالر انعام اور یورپی یونین جانے کی اجازت دی گئی تھی۔‘

    ایف ایس بی نے مزید کہا کہ ’یوکرین کی ہدایت پر وہ ماسکو پہنچے اور انھیں ایک گھریلو ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائس ملی۔ انھوں نے دھماکہ خیز مواد ایک الیکٹرک سکوٹر میں نصب کیا جسے انھوں نے اُس رہائشی عمارت کے داخلی راستے پر کھڑا کر دیا تھا جہاں کریلوف رہتے تھے۔‘

  12. نیشنل فرانزک ایجنسی بل 2024 قومی اسمبلی سے منظور, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی قومی اسمبلی نے نیشنل فرانزک ایجنسی بل 2024 کی منظوری دے دی ہے اس بل کے سامنے آنے والے مندرجات کے مطابق نیشنل فرانزک ایجنسی کا مرکزی دفتر وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں ہوگا۔

    بل کے متن کے مطابق ’نیشنل فرانزک ایجنسی تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو بھی خدمات فراہم کرسکے گی۔ نیشنل فرانزک ایجنسی کو الیکٹرانک ڈیوائسز، ڈیجیٹل فرانزک، سائبر فرانزک، ڈیپ فیک اور دیگر الیکٹرانک اور سائبر جرائم کے فرانزک کرنے کی صلاحیت سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔‘

    بل کے متن کے مطابق ’اس حالیہ قانون سازی کے بعد ایجنسی کو بااختیار بنایا جائے گا اور فرانزک کے لئے دوسرے مُمالک پر انحصار کو ختم کیا جا سکے گا۔ نیشنل فرانزک ایجنسی قیام کے ساتھ ریسرچ، فارنزک اور ڈیجیٹل فارنزک کے شعبے قائم کئے جائیں گے۔ ڈیجیٹل فارنزک کا شعبہ قومی سکیورٹی کے معاملات میں معاونت کرے گا۔‘

    نیشنل فرانزک ایجنسی بل 2024 کے مطابق ’ایجنسی، لیب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی سروسز مہیا کرے گی۔ ایجنسی ڈیجیٹل فارنزک مواد کو محفوظ بنائے گی اور فارنزک ایجنسی بطور ماہر عدالت کی معاونت کے لئے بھی خدمات دے گی۔‘

    بل کے متن کے مطابق ’قانون کے تحت ایجنسی ایک بورڈ آف گورنرز کے تابع کام کرے گی جس کا ایک چیئرپرسن اور 4 ممبران ہوں گے۔ چیئرپرسن متعلقہ ڈویژن کا سیکریٹری ہوگا جبکہ آئی جی اسلام آباد، نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر، نیشنل پولیس بیورو کا ڈی جی شامل ہو گا، جبکہ ڈائریکٹر جنرل جو سیکریٹری بھی ہوگا شامل ہوگا۔‘

    نیشنل فرانزک ایجنسی بل 2024 کے مقاصد میں کہا گیا ہے کہ بل کا مقصد عوامی تحفظ کو بڑھانا، قانونی فریم ورک کو مضبوط بنانا، مجرمانہ تحقیقات اور فرانزک سائنس میں ملک کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔

  13. ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کیس: ایڈوائزری دائرہ اختیار میں عدالت کسی سابقہ فیصلے کو ختم نہیں کر سکتی، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنچیف جسٹس یحییٰ آفریدی

    پاکستان کے چیف جسٹس یحیی آفریدی نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کیس میں اپنے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ایڈوائزری دائرہ اختیار میں عدالت کسی سابقہ فیصلے کو ختم نہیں کر سکتی ہے۔

    رواں سال مارچ کے مہینے میں سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف دائر ریفرنس میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم کے خلاف دائر قتل کے کیس میں ان کا فیئر ٹرائل نہیں تھا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی بھی اُس نو رکنی بینچ کا حصہ تھے۔

    منگل کے روز جاری کیے جانے والے اضافی نوٹ میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انھیں اس ریفرنس میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت دیگر ججوں کی جانب سے تحریر کیے گئے نوٹس پڑھنے کا اتفاق ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ جسٹس سید منصور علی شاہ کی اس رائے سے متفق ہیں کہ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تفصیلی رائے کے بعض حصے ایک ایسے کیس میں شواہد کی از سر نو جانچ کے مترادف ہیں جس کا فیصلہ عدالت پہلے ہی کر چکی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ صرف ایڈوائزری دائرہ اختیار رکھتی ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ریفرنس میں دی گئی رائے میں کیس کے میرٹس پر کسی حد تک بات کی گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ریفرنس شاید ہمارے سامنے نہ آتا مگر کچھ واقعات اس کا موجب بنے۔

    چیف جسٹس یحیی آفریدی نے اپنے نوٹ میں لکھا ہے کہ سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کے کچھ نکات کو ایڈریس کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اُس وقت کی غیر معمولی سیاسی فضا میں دباؤ نے انصاف کے عمل کو متاثر کیا۔

    ’یہ سب عدالتی آزادی کے نظریات سے متصادم تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ آئینی طرز حکمرانی سے انحراف سے سیاسی مقدمات میں عدالتی کارروائیوں پر غیر ضروری اثر پڑتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے حالات میں جسٹس دراب پٹیل، جسٹس محمد حلیم اور جسٹس صفدر شاہ نے جرات مندانہ اختلاف کیا۔

    ’ان ججوں کا اختلاف بھلے نتائج کو تبدیل کرنے میں ناکام رہا مگر غیر جانبداری کے پائیدار اصولوں کا ثبوت ہے۔‘

    چیف جسٹس حیحیٰ آفریدی کا کہنا ہے کہ فیر ٹرائل کے سوال پر فیصلے کے پیراگراف سے اتفاق کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ذوالفقار بھٹو کیس کے ٹرائل اور اپیل کے دوران فئیر ٹرائل کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا۔

  14. عمران خان کا سول نافرمانی کی تحریک چند دنوں کے لیے موخر کرنے کا اعلان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان نے سول نافرمانی کی تحریک چند دنوں کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ منگل کو ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس تحریک کے خدوخال اور ٹائم لائن کا فیصلہ خود کریں گے۔

    عمران خان نے اپنے بیان میں سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کی سات وجوہات بتائی ہیں۔

    اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ ’تحریک انصاف نے ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق جدوجہد کی ہے مگر ملک پر مسلط مافیا ہمیشہ آئین و قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’9 مئی اور 26 نومبر کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام اور انڈر ٹرائل اسیران کی رہائی ہمارے جائز مطالبات ہیں۔‘

    اپنے بیان میں عمران خان نے لکھا کہ ’میں سول نافرمانی کی تحریک چند دنوں کے لیے مؤخر کر رہا ہوں، اس دوران تحریک کے خدوخال اور ٹائم لائن کا فیصلہ کروں گا-‘

    عمران خان کے مطابق ’سات ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہمارے لیے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنا ضروری ہو چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سنہ 2023 میں لندن پلان کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے الیکشن آئین کے برخلاف 90 دن کے اندر نہیں کرائے گئے۔ کیونکہ الیکشن سے پہلے تحریک انصاف کو ختم کرنا مقصد تھا۔

    اس کے علاوہ ’نو مئی سے پہلے ہی مجھ پر ایک سو چالیس سے زائد مقدمات بنا دئیے گئے تھے۔ رینجرز نے مجھے اسلام آباد سے اغوا کیا جس کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا۔ نو مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا جس کے تحت ہمارے لوگوں کو گرفتار کرنا مقصد تھا۔‘

    سابق وزیراعظم کے مطابق ’دس ہزار افراد کو گرفتار کر کے جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ ہمارے کارکنان اور پارٹی رہنماؤں پہ تشدد کیا گیا ان کے گھروں کو توڑا گیا۔ ان کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا۔ ان کو عدالتوں سے ضمانت ملتے ہی کسی نئے جھوٹے پرچے میں گرفتار کر لیا جاتا‘۔

    عمران خان نے کہا کہ ’میرے اغوا سے لے کر کارکنان پہ تشدد، گرفتاریاں سب کچھ غیر قانونی اور غیر آئینی تھا۔ اس ظلم کے خلاف سپریم کورٹ میں پیٹیشن دائر کی لیکن سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کی ان بدترین خلاف ورزیوں کا نوٹس تک نہ لیا۔‘

    عمران خان نے سابق چیف جسٹس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’قاضی فائز عیسیٰ حکومت کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔‘ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’1971 کے بعد کبھی کسی پارٹی پر اس طرح کا ریاستی جبر نہیں کیا گیا۔‘

    عمران خان نے مزید کہا کہ ’تمام غیر قانونی و غیر جمہوری حربوں کے بعد ان کو غلط فہمی تھی کہ 8 فروری کو تحریک انصاف الیکشنز نہیں جیت سکتی۔ سکندر سلطان راجہ اور قاضی فائز عیسیٰ نے مل کے پارٹی نشان چھینا جو پارٹی کو بین کرنے کے مترادف تھا۔ ہمارے امیدواروں کو نشانہ بنایا گیا۔ تین تین امیدواروں کو زبردستی الیکشن سے دستبردار کرایا گیا۔‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بیان کے مطابق ’ان کو انجینئرنگ کے ذریعے الیکشن جیتنے کا اس قدر یقین تھا کہ نواز شریف اپنی وکٹری سپیچ بھی کرنے کو تیار تھے لیکن تقریر سے پہلے ان کو پتہ چلا کہ تحریکِ انصاف الیکشن جیت گئی ہے۔ پھر انھوں نے فارم-47 کے ذریعے الیکشن فراڈ کیا۔‘

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’اس رجیم چینج کے بعد کے ڈھائی سالوں میں یوں تو انصاف کے نظام پر قبضے کے لیے ہر جابرانہ اور غیر اخلاقی حربہ استعمال کیا گیا لیکن چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتوں کی آزادی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی گئی۔

    عمران خان نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے فیصلے کے باوجود تحریکِ انصاف کو آج تک مخصوص نشستیں نہیں دی گئیں۔ یہ نہ صرف توہین عدالت ہے بلکہ عوامی فیصلے کی توہین اور جمہوریت پر شب خون بھی ہے۔

    سابق وزیراعظم کے مطابق 26 نومبر کو ہمارے پرامن اور نہتے سیاسی کارکنان پہ گولیاں برسائی گئیں۔ ہمارے کارکنان مکمل طور پہ پر امن تھے انھوں نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا تھا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اپوزیشن لیڈران کو جیل میں ملاقات کے لیے ویلکم کرتا ہوں۔ پر مجھے اس حکومت سے امید نہیں ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈران کو مجھ سے ملاقات کی اجازت دیں گے۔ کیونکہ انھوں نے میری پارٹی کے لوگوں سے بھی تین مہینے سے میری ملاقات نہیں کروائی-‘

  15. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • بلوچستان میں حکام نے سکیورٹی خدشات کے باعث رواں سال کی آخری انسداد پولیو مہم کو تیسری بار موخر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مہم اب 30 دسمبرکو شروع کی جائے گی۔ پہلے یہ سات روزہ مہم 16 دسمبر کو شروع ہونی تھی۔
    • سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں نیب کی پراسیکیوشن ٹیم نے حتمی دلائل مکمل کر لیے۔
    • وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ مدارس بل پر ایک آئینی کمیٹی بنانے کا فیصلہ ہوا ہے جو مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مل بیٹھ کر لائحہ عمل بنائے گی۔
    • جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق بل ایکٹ بن چکا ہے، اس میں ترمیم آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔
    • روسی فوج کے نیوکلیئر ڈیفنفس فورس کے سربراہ جنرل ایگور کیریلوف دارالحکومت ماسکو میں ایک دھماکے میں مارے گئے ہیں۔
  16. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں