بلوچستان میں پولیو مہم تیسری بار موخر، سکیورٹی وجوہات کے باعث نئی تاریخ 30 دسمبر مقرر

بلوچستان میں حکام نے سکیورٹی خدشات کے باعث رواں سال کی آخری انسداد پولیو مہم کو تیسری بار موخر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مہم اب 30 دسمبرکو شروع کی جائے گی۔ پہلے یہ سات روزہ مہم 16 دسمبر کو شروع ہونی تھی۔

خلاصہ

  • وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ 'انسانی سمگلنگ ایک سنجیدہ چیلنج ہے، اس پر اجلاس بلا رہا ہوں، 2023 کے واقعے کی روشنی میں مزید فیصلے کریں گے اور سختی سے عمل پیرا ہوں گے۔'
  • مدارس بل پر آئینی کمیٹی فضل الرحمان کے ساتھ مل بیٹھ کر لائحہ عمل بنائے گی: اعظم نذیر تارڑ
  • مدارس کی رجسٹریشن کا بل ایکٹ بن چکا، اس میں ترمیم آئین کی خلاف ورزی ہوگی: مولانا فضل الرحمن
  • پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سنیچر کو یونان میں کشتی الٹنے کے واقعے میں چار پاکستانی شہری ہلاک ہوئے ہیں.
  • بشار الاسد نے اپنے پہلے مبینہ بیان میں کہا ہے کہ ان کا شام چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    18 دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. عمران خان نے سول نافرمانی کی تحریک موخر کرنے کا اعلان کر دیا

    IK

    ،تصویر کا ذریعہINP

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان نے سول نافرمانی کی تحریک چند دنوں کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ منگل کو ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کی سات وجوہات دی گئی ہیں۔

    عمران خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس دوران اس تحریک کے خدوخال اور ٹائم لائن کا فیصلہ خود کریں گے۔

    اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ ’تحریک انصاف نے ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق جدوجہد کی ہے مگر ملک پر مسلط مافیا ہمیشہ آئین و قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’9 مئی اور 26 نومبر کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام اور انڈر ٹرائل اسیران کی رہائی ہمارے جائز مطالبات ہیں۔‘

    اپنے بیان میں عمران خان نے لکھا کہ ’میں سول نافرمانی کی تحریک چند دنوں کے لیے مؤخر کر رہا ہوں، اس دوران تحریک کے خدوخال اور ٹائم لائن کا فیصلہ کروں گا-‘

    عمران خان کے مطابق ’سات ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہمارے لیے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنا ضروری ہو چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سنہ 2023 میں لندن پلان کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے الیکشن آئین کے برخلاف 90 دن کے اندر نہیں کرائے گئے۔ کیونکہ الیکشن سے پہلے تحریک انصاف کو ختم کرنا مقصد تھا۔

    اس کے علاوہ ’نو مئی سے پہلے ہی مجھ پر ایک سو چالیس سے زائد مقدمات بنا دئیے گئے تھے۔ رینجرز نے مجھے اسلام آباد سے اغوا کیا جس کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا۔ نو مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا جس کے تحت ہمارے لوگوں کو گرفتار کرنا مقصد تھا۔‘

    سابق وزیراعظم کے مطابق ’دس ہزار افراد کو گرفتار کر کے جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ ہمارے کارکنان اور پارٹی رہنماؤں پہ تشدد کیا گیا ان کے گھروں کو توڑا گیا۔ ان کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا۔ ان کو عدالتوں سے ضمانت ملتے ہی کسی نئے جھوٹے پرچے میں گرفتار کر لیا جاتا‘۔

    عمران خان نے کہا کہ ’میرے اغوا سے لے کر کارکنان پہ تشدد، گرفتاریاں سب کچھ غیر قانونی اور غیر آئینی تھا۔ اس ظلم کے خلاف سپریم کورٹ میں پیٹیشن دائر کی لیکن سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کی ان بدترین خلاف ورزیوں کا نوٹس تک نہ لیا۔‘

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عمران خان نے سابق چیف جسٹس پر الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ ’قاضی فائز عیسیٰ حکومت کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔‘ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’1971 کے بعد کبھی کسی پارٹی پر اس طرح کا ریاستی جبر نہیں کیا گیا۔‘

    عمران خان نے مزید کہا کہ ’تمام غیر قانونی و غیر جمہوری حربوں کے بعد ان کو غلط فہمی تھی کہ 8 فروری کو تحریک انصاف الیکشنز نہیں جیت سکتی۔ سکندر سلطان راجہ اور قاضی فائز عیسیٰ نے مل کے پارٹی نشان چھینا جو پارٹی کو بین کرنے کے مترادف تھا۔ ہمارے امیدواروں کو نشانہ بنایا گیا۔ تین تین امیدواروں کو زبردستی الیکشن سے دستبردار کرایا گیا۔‘

    بیان کے مطابق ’ان کو انجینئرنگ کے ذریعے الیکشن جیتنے کا اس قدر یقین تھا کہ نواز شریف اپنی وکٹری سپیچ بھی کرنے کو تیار تھے لیکن تقریر سے پہلے ان کو پتہ چلا کہ تحریکِ انصاف الیکشن جیت گئی ہے۔ پھر انھوں نے فارم-47 کے ذریعے الیکشن فراڈ کیا۔‘

    عمران خان کے بیان کے مطابق ’کمشنر راولپنڈی نے اس فراڈ کو کنفرم کیا اور گواہی دی۔ لیکن اس پر بھی نظام انصاف خاموش رہا اور کوئی نوٹس نہ لیا گیا۔‘

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’اس رجیم چینج کے بعد کے ڈھائی سالوں میں یوں تو انصاف کے نظام پر قبضے کے لیے ہر جابرانہ اور غیر اخلاقی حربہ استعمال کیا گیا لیکن چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتوں کی آزادی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی گئی۔ اپنی مرضی کے جج لگانے کے لیے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ اس ترمیم کی منظوری کے لیے جو حربے استعمال کیے گئے وہ بھی ایک مضحکہ خیز داستان ہے، لیکن اس سارے معاملے پر بھی نہ عدلیہ نے کوئی نوٹس لیا نہ ریاست کا چوتھا ستون سمجھے جانے والے میڈیا میں اس کےخلاف آواز بلندکرنے کی اخلاقی جرات تھی۔‘

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عمران خان نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے فیصلے کے باوجود تحریکِ انصاف کو آج تک مخصوص نشستیں نہیں دی گئیں۔ یہ نہ صرف توہین عدالت ہے بلکہ عوامی فیصلے کی توہین اور جمہوریت پر شب خون بھی ہے۔

    سابق وزیراعظم کے مطابق 26 نومبر کو ہمارے پرامن اور نہتے سیاسی کارکنان پہ گولیاں برسائی گئیں۔ ہمارے کارکنان مکمل طور پہ پر امن تھے انھوں نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ ان کا مطالبہ آئین اور جمہوریت کی بحالی تھا- نہ تو لا اینڈ آرڈر کی صورتحال تھی نہ ہی کوئی اور پر تشدد کارروائی ہوئی لیکن اس کے باوجود ہمارے لوگ شہید کیے گئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’12 لوگ مغرب سے پہلے شہید کیے گئے اور باقیوں کو رات بجلی بند کر کے گولیاں ماری گئیں۔‘

    عمران خان نے مزید کہا کہ ’ان حالات میں جب پاکستانیوں سے تمام آئینی حقوق چھین لیے گئے ہیں، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ پر قبضہ کر لیا گیا ہے، پرامن احتجاج کا حق چھین لیا گیا ہے، قانون اور آئین کی بنیادیں ہلا دی گئی ہیں، اپنے ہی شہریوں پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں، اداروں کو عوام کے مقابلے میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تو سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنا قوم کی مجبوری بن چکی ہے-‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈران کو جیل میں ملاقات کے لیے ویلکم کرتا ہوں۔ پر مجھے اس حکومت سے امید نہیں ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈران کو مجھ سے ملاقات کی اجازت دیں گے۔ کیونکہ انھوں نے میری پارٹی کے لوگوں سے بھی تین مہینے سے میری ملاقات نہیں کروائی-‘

  3. بلوچستان میں پولیو مہم تیسری بار موخر،سکیورٹی وجوہات کے باعث نئی تاریخ 30 دسمبر مقرر, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    پولیو مہم

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    بلوچستان میں حکام نے رواں سال کے آخری انسداد پولیو مہم کو تیسری بار موخر کرتے ہوئے اسے شروع کرنے کے لیے 30 دسمبرکی تاریخ مقرر کی ہے۔

    پہلے یہ سات روزہ مہم شروع کرنے کے لیے 16 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔

    لیکن محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے سکیورٹی خدشات کے اظہار کے باعث اس مہم کو 17 دسمبر تک موخر کی گئی تاہم آج صبح یہ مہم شروع نہیں ہوسکی بلکہ یہ کہا گیا کہ مہم 18 دسمبر سے شروع کی جائے گی لیکن شام کو پولیو سے متعلق ایمرجنسی آپریشن سنٹر بلوچستان کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک اعلامیہ کے مطابق یہ مہم اب 30 دسمبر سے شروع ہوگی۔

    خیال رہے کہ بلوچستان میں محکمہ صحت کے ملازمین کی تنظیموں پرمشتمل گرینڈ ہیلتھ الائنس نے پولیو کے خلاف اس مہم کی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

    محکمہ صحت کے ملازمین، سرکاری ہسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کے حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج پر ہیں۔

    محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے پولیو کے خلاف مہم کو موخر کرنے کی ایک بڑی وجہ محکمہ صحت کے ملازمین کی جانب سے مہم کی بائیکاٹ کو قرار دیا۔

    تاہم ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کے کوآرڈینیٹرانعام الحق کا کہنا ہے کہ مہم کو موثر انداز سے چلانے کے لیے مزید تیاری کی ضرورت ہے جس کے پیش نظر اسے موخر کردیا گیا۔

    ایک اعلامیہ کے مطابق انھوں نے کہا کہ مہم کی تیا ری کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں تمام اضلاع کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

    ان کا کہنا ہے کہ اجلاس میں مہم کی تیا ریوں کا جا ئزہ لیا گیا اور اس امر کی ضرورت محسوس کی گئی کہ بلوچستان میں وسیع پیمانے پر پولیو وائرس کی موجودگی کے پیش نظر موثر مہم چلانے کے لئے مزید تیاری کی ضرورت ہے تاکہ مائیکرو پلاننگ ، ٹیم ٹریننگ اور کمیونٹی کے ساتھ رابطہ کا ری کو بہتر طریقے سے انجام دیا جا سکے۔

    رواں سال بلوچستان سے پولیو کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئےگ

    نیشنل یمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق پاکستان سے اب تک پولیو کے63 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے سب سے زیادہ کیسز بلوچستان سے رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 26 ہے۔

    بلوچستان سے یہ کیسز کوئٹہ، چمن،ڈیرہ بگٹی، قلعہ عبداللہ، جھل مگسی، ژوب،قلعہ سیف اللہ ،نوشکی ، لورالائی، پشین، خاران، جعفرآباد اورچاغی سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

    دیگر صوبوں میں سے خیبر پختونخوا سے پولیو کے 18، سندھ سے 17، پنجاب اور اسلام آباد سے اب تک پولیو کا ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

  4. عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں نیب کے حتمی دلائل مکمل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    عمران خان کی گرفتاری

    ،تصویر کا ذریعہSocial media

    ،تصویر کا کیپشننو مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی گرفتاری سے قبل کے مناظر جب وہ عدالت میں بائیو میٹرک کروا رہے تھے

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں نیب کی پراسیکیوشن ٹیم نے حتمی دلائل مکمل کر لیے۔

    اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت جج ناصر جاوید رانا نے کی۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاونڈ کے مقدمے میں حتمی دلائل دیتے ہوئے نیب کے پراسیکوٹر امجد پرویز کا کہنا تھا کہ چھ نومبر 2019 کو برطانیہ کے نینشل کرائم ایجنسی کے ساتھ ڈیڈ سائن جبکہ رقم کی پہلی قسط 29 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ کے اکائونٹ میں آچکی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں وفاقی کابینہ سے ڈیڈ کی منظوری تین دسمبر 2019 کو لی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ پہلی قسط پاکستان پہنچ چکی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ایسٹ ریکوری یونٹ اور نیشنل کرائم ایجنسی کے درمیان بات چیت 2018 سے جاری تھی اور معاملات پر پردہ ڈالنے کے لیے بعد میں کابینہ سے منظوری لی گئی۔

    یاد رہے کہ القادر ٹرسٹ کیس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو ملک ریاض کی کمپنی بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔

    پی ڈی ایم کی حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے۔

    حکومت کا دعویٰ تھا کہ ’بحریہ ٹاؤن کی جو 190ملین پاؤنڈ یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔‘

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق نیب کے پراسیکیوٹر امجد پرویز نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پیسے وفاقی حکومت کے اکاؤنٹ کی بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں منگوائے گئے۔

    انھوں نے کہا کہ کوئی قانون یہ نہیں کہتا کہ نیشنل کرائم ایجنسی اور ایسٹ ریکوری یونٹ کے درمیان سائن ہونے والی ڈیڈ کو پبلک نہیں کیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ نیب قانون کے مطابق اگر پبلک افس ہولڈر کوئی بھی گرانٹ یا ڈونیشن لیتا ہے تو وہ حکومت پاکستان کی ملکیت ہوگی۔ امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ملزم عمران خان نے بطور وزیراعظم فیور دی جس کے بدلے میں ڈونیشن ملی۔

    انھوں نے کہا کہ نیب آرڈیننس کے تحت اگر معاملہ پبلک آفس ہولڈر کے پاس زیر التوا ہو تو اس شخص سے کوئی بھی چیز لینا رشوت کے زمرے میں آتا ہے۔

    اڈیالہ جیل

    انھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ایک اور ملزمہ فرح گوگی کے نام پر بھی 240 کنال اراضی ٹرانسفر ہوئی اور اس کے ساتھ ساتھ اس مقدمے کے ایک اور ملزم زلفی بخاری کے نام پر بھی جب زمین ٹرانسفر ہوئی اس وقت بھی ٹرسٹ کا وجود تک موجود نہیں تھا اور 190 ملین پاؤنڈ کی ایڈجسٹمنٹ ہونے کے بعد ٹرسٹ بنایا گیا۔

    امجد پرویز کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں رولز اف بزنس 1973 کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں کوئی بھی معاملہ زیر بحث لانے سے سات روز قبل اسے سرکولیٹ کرنا ہوتا ہے اور کیا جلدی تھی کہ اس معاملے کو سات دن پہلے کابینہ ممبران کو سرکولیٹ نہیں کیا گیا۔

    نیب کے پراسیکوٹر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد بدھ کو عمران خان اور بشری بی بی کے وکیل اپنے حتمی دلائل دیں گے۔

    نیب حکام کے مطابق اس مقدمے میں پانچ ملزمان کو اشتہاری بھی قرار دیا گیا ہے جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے مشیر شہزاد اکبر، زلفی بخاری، نجی ہاوسنگ سوسائٹی کے سربراہ ملک ریاض ان کی بیٹے اور فرح گوگی شامل ہیں۔

  5. انسانی سمگلنگ ایک سنجیدہ چیلنج ہے، اس پر سخت فیصلے لیں گے: شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’یونان میں کشتی کو پیش آنے والے حادثے میں پانچ پاکستانی ہلاک ہوئے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ اس سے قبل جولائی 2023 میں بھی ایسا واقعہ پیش آیا تھا جس میں بڑی تعداد میں پاکستانی ڈوبے تھے۔ اس کے بعد ہم نے سخت فیصلے لیے تھے، اب ان کی روشنی میں آگے بڑھیں گے۔‘

    وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ’انسانی سمگلنگ ایک سنجیدہ چیلنج ہے، اس پر اجلاس بلا رہا ہوں، 2023 کے واقعے کی روشنی میں مزید فیصلے کریں گے اور سختی سے عمل پیرا ہوں گے۔‘

    ان کے مطابق ’سٹیٹ بینک نے شرح سود میں دو فیصد کمی کردی ہے۔جس کے بعد اب شرح سود 13 فیصد پر آ گئی ہے اور اس کے بعد امید ہے کہ اب ملک میں سرمایہ کاری مزید بڑھے گی۔ یہ موقع ہے کہ مل کر پاکستان کے معاشی پہیئے کو چلائیں۔‘

    وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کی کوششوں سے مہنگائی کی شرح میں بھی کمی آئی ہے۔ شرح سود میں کمی تاجروں، سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کے لیے خوش آئند ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دیں گے تو بیرونی سرمایہ کاری بھی آئے گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پوری دنیا سے پولیو کا خاتمہ ہوچکا ہے، لیکن پاکستان میں کیسز بڑھ رہے ہیں، جو افسوسناک ہے، پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔

  6. مدارس بل پر آئینی کمیٹی فضل الرحمان کے ساتھ مل بیٹھ کر لائحہ عمل بنائے گی: اعظم نذیر تارڑ

    پارلیمنٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت مولانا فضل الرحمان سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ مل بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کرلیا جائے۔ بدقسمتی سے مدارس بل پر لگنے والے اعتراض کے بعد پارلیمان کا مشترکہ اجلاس نہیں طلب کیا جاسکا۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر قانون نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے اس بل کے حوالے سے خیالات واضح ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ مسئلے کو بیٹھ کر افہام و تفہیم سے حل کرلیا جائے۔ اس حوالے سے ایک آئینی کمیٹی بنانے کا فیصلہ ہوا ہے جو مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مل بیٹھ کر آئندہ کا لائحہ عمل بنائے گی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اس کمیٹی میں پیپلزپارٹی کی جانب سے نوید قمر بھی شامل ہوں گے۔

    وزیر قانون نے کہا کہ آئین نے صدر مملکت کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ کسی بھی بل پر اعتراض لگا کر اسے واپس قومی اسمبلی بھیج سکتے ہیں اور ایسی صورت میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں دوبارہ رائے سازی ہوتی ہے۔

    یاد رہے کہ مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر آج ہونے والا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس موخر کردیا گیا تھا۔

    حکومت کی جانب سے اس اجلاس کے موخر ہونے کی وجہ وزیر اعظم کے بیرون ملک کا دورہ بتایا جا رہا ہے۔

    ایوان صدر کی جانب سے مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق اعتراضات عائد کیے گئے تھے اور اس بل پر نظرثانی کے لیے اس کو پارلیمان کو واپس بھجوا دیا گیا تھا۔

    وزیر قانون کا کہنا تھا کہ جب 26ویں ترمیم کے لیے ہماری مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مشاورت ہورہی تھی تو ان کی طرف سے کچھ چیزیں ہمارے سامنے رکھی گئیں جس میں مدارس سے متعلق معاملہ بھی تھا جو پچھلی حکومت کے آخری وقت میں ادھورا رہ گیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ کوئی بھی قانون سازی اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک اس پر صدر مملکت کے دستخط نہ ہوجائیں۔ انھوں نے کہا کہ مدارس بل سے متعلق جو ایک پیچیدگی آئی وہ یہ کہ 28 اکتوبر کو صدر کا پیغام سپیکر یا سیکریٹریٹ کے بجائے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے سامنے آجانا چاہیے تھا کیونکہ آرٹیکل 75 کا دوسرا حصہ یہ کہتا ہے۔

    اب اگر مشترکہ اجلاس میں موجود اکثریت کسی بھی بل کو منظور کرلے تو پھر وہ بل دوبارہ صدر مملکت کے پاس دستخط کے لیے جاتا ہے اور پھر اس موقعے پر صدر کے پاس یہ اختیار نہیں ہوتا کے اس پر کسی بھی طرح کا کوئی اعتراض اٹھایا جائے۔ اس بار بھی اگرچہ صدر مملکت کو 10 دن کے اندر ہی دستخط کرنے ہیں لیکن اگر وہ ایسا نہ کرسکے تب بھی 11ویں دن وہ بل قانون کا حصہ بن جاتا ہے۔

    وزیر قانون نے پاڑہ چنار کے حوالے سے ایوان میں کہا کہ پاڑہ چنار کا مسلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے جسے مل کر حل کرنا ہے۔

    اس معاملے پر سیاست کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ سپیکر سے گزارش ہے کہ ایک دن پاڑا چنار کے ایشو پر بحث کے لیے مختص کریں۔

  7. مدارس کی رجسٹریشن کا بل ایکٹ بن چکا، اس میں ترمیم آئین کی خلاف ورزی ہوگی: مولانا فضل الرحمن

    مولانا فضل الرحمن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق بل ایکٹ بن چکا ہے، اس میں ترمیم آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔

    منگل کے روز قومی اسمبلی میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مدارس سے متعلق بل قومی اسمبلی سے 21 اکتوبر کو پاس ہوا جس پر 28 اکتوبر کو صدر آصف زرداری کی جانب سے اعتراض سامنے آیا۔ تاہم سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اسے قلمی غلطی قرار دے کر اس کی تصیح کر کے جواب واپس بھیج دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایسی نظیر موجود ہے کہ اگر کسی بل پر 10 دن کے اندر دستخط نہیں ہوتے تو وہ خود بخود ایکٹ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

    مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ صدر زرداری کی جانب سے 13 نومبر کو دوبارہ اعتراض بھیجے گئے۔ ان کے مطابق تب تک یہ بل قانون بن چکا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر اب اس بل کے ترمیم پر گفتگو ہوئی اور اسے ایکٹ تسلیم نہ کرتے ہوئے دوبارہ پارلیمان کے سامنے پیش کیا گیا تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔

    مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا ہمیں کہا جارہا ہے کہ اس بل سے آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف ناراض ہو جائے گا۔

    ’یہ راز تو ہم پر آج کھلا ہے، ہماری قانون سازیاں کیا ان کی ہدایات کے مطابق ہوں گی؟ کیا ہم آزاد نہیں؟‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں جو بل پاس ہوا اس میں وزارت تعلیم کے تحت رجسٹرڈ مدارس کا ذکر نہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ بل حکومت کی جانب سے آیا تھا اور انھیں وزارت تعلیم کے تحت رجسٹرڈ مدارس کو بل میں شامل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن اس مرحلے پر اس بل میں ترمیم نہیں کی جاسکتی۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اس ایکٹ کا فی الفور گزٹ جاری کیا جائے۔

    خیال رہے کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق بل (سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی ایکٹ 2024) جب پارلیمان سے منظوری کے بعد فائنل منظوری کے لیے ایوانِ صدر پہنچا تو صدر آصف علی زرداری نے اس کے مسودے پر اعتراض لگا کر اسے واپس پارلیمان کو نظرِ ثانی کے لیے بھیج دیا تھا۔

    حکومت نے اس بل کی منظوری کے لیے آج ہونے والا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس موخر کردیا تھا۔ حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اجلاس وزیر اعظم شہباز شریف کے بیرون ملک دورے کی وجہ سے موخر کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب جمیعت علمائے اسلام کا مطالبہ ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق 26ویں آئینی ترمیم میں جو مسودہ منظور ہوا تھا اس کا من وعن گزٹ جاری کیا جائے۔

  8. روسی فوج کے جنرل ایگور کیریلوف ماسکو میں بم دھماکے میں مارے گئے

    جنرل ایگور

    ،تصویر کا ذریعہMinistry of Defence of the Russian Federation

    روسی فوج کے ایک سینیئر جنرل دارالحکومت ماسکو میں ایک دھماکے میں مارے گئے ہیں۔

    روسی حکام کا کہنا ہے کہ لیفٹنٹ جنرل ایگور کیریلوف منگل کے روز ایک اپارٹمنٹ سے باہر نکل رہے تھے جب ایک سکوٹر میں چھپایا گیا بم دھماکے سے پھٹ گیا۔

    اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں ان کے اسسٹنٹ بھی مارے گئے ہیں۔

    جنرل ایگور روس کے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے لیے بنائی گئی دی نیوکلیئر، بائیلوجیکل، کمیمیکل ڈیفنس فورس (این بی سی) کے سربراہ تھے۔ انھیں 2017 میں این بی ایس کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

    روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا تھا۔ تاس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بم میں تقریباً 300 گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔

    ماسکو

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جنرل ایگور کی موت سے ایک دن پہلے یوکرین کی سکیورٹی سروس (ایس بی یو) نے ان پر یوکرین میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے الزام میں ان کی غیر موجودگی میں فردِ جرم عائد کی تھی۔

    ایس بی یو کا الزام ہے کہ فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے ملک میں 4,800 سے زیادہ مرتبہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا جا چکا ہے۔

    تاہم روس ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

  9. مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر ہونے والا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس موخر

    مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر آج ہونے والا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس موخر کردیا گیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اجلاس وزیر اعظم شہباز شریف کے بیرون ملک دورے کی وجہ سے موخر کیا جا رہا ہے۔

    جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمن (جی یو آئی-ایف) کا مطالبہ ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق 26ویں آئینی ترمیم میں جو مسودہ منظور ہوا تھا اس کا من وعن گزٹ جاری کیا جائے۔

    خیال رہے کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق بل (سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی ایکٹ 2024) جب پارلیمان سے منظوری کے بعد فائنل منظوری کے لیے ایوانِ صدر پہنچا تو صدر آصف علی زرداری نے اس کے مسودے پر اعتراض لگا کر اسے واپس پارلیمان کو نظرِ ثانی کے لیے بھیج دیا تھا۔

    جی یو آئی-ایف کا کہنا ہے کہ اگر مدارس بل کا گزٹ جاری نہ ہوا تو وہ قانونی راستے کے ساتھ ساتھ احتجاج کا آپشن بھی استعمال کرے گی۔

    مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق علما دو دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک دھڑے کی قیادت مولانا فضل الرحمن اور مولانا تقی عثمانی کر رہے ہیں جبکہ دوسرے دھڑا مولانا طاہر اشرفی کی قیادت میں کام کر رہا ہے۔

    مولانا طاہر اشرفی کا دعویٰ ہے کہ ان کے ساتھ مدارس کے دس بورڈز کا الحاق ہے جبکہ دوسرے گروپ کے ساتھ پانچ بورڈشز ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت ہی رہنے دیا جائے جس پر 2019 میں تمام دینی مدارس کے بورڈ نے اتفاق کیا تھا۔

    ان دونوں دھڑوں کا اجلاس آج اسلام آباد میں ہو رہا ہے جس میں ائندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں فیصلہ متوقع ہے۔

    مدرسہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مدارس کی رجسٹریشن کا موجودہ طریقہ کار کیا ہے؟

    پاکستان میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ ہمیشہ سے ایک پیچیدہ موضوع رہا ہے۔ ماضی میں ملک کے طول و عرض میں پھیلے مدارس کی رجسٹریشن ’سوسائیٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860‘ کے تحت ہوتی تھی، اور مدارس کی انتظامیہ کو اس کام کے لیے متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر جانا پڑتا تھا۔

    ماہرین کے مطابق رجسٹریشن کا کوئی مرکزی نظام نہ ہونے کے سبب نہ تو مدارس کے نصاب پر کوئی حکومتی کنٹرول تھا اور نہ ہی اُن کو ملنے والی فنڈنگ پر کوئی نظر۔

    جنرل مشرف کے دور اقتدار میں جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہوا تو مدارس کے نظام میں اصلاحات پر بات چیت کا آغاز ہوا۔

    سابق صدر جنرل مشرف کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت اور بعدازاں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد ترتیب دیے گئے نیشنل ایکشن پلان میں دینی مدارس کے نظام میں إصلاحات کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

    بالآخر اکتوبر 2019 میں پاکستان تحریک انصاف کے دورِ اقتدار میں حکومت نے وزارت داخلہ، سیکیورٹی ایجنسیوں، صوبوں، اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ پانچ سال سے زائد طویل مشاورت کے بعد دینی مدارس کو ’تعلیمی ادارے‘ سمجھتے ہوئے انھیں محکمہ تعلیم کے تحت ریگولیٹ کرنے کا چند مذہبی گروہوں کا مطالبہ تسلیم کر لیا۔

    سنہ 2019 میں پی ٹی آئی حکومت کے اس فیصلے کا چاروں مرکزی اسلامی مسالک کی نمائندہ تنظیموں (بورڈز) نے خیر مقدم کیا۔ اُسی کے تحت رجسٹریشن کے لیے وفاقی محکمہ تعلیم کے تحت ایک نیا ڈائریکٹوریٹ قائم کیا گیا جس کا نام ڈائریکٹوریٹ آف ریلیجیس ایجوکیشن ہے اور اس کی سربراہی اِس وقت سابق میجر جنرل غلام قمر کر رہے ہیں۔

    محکمہ ریلیجیس ایجوکیشن کے افسران کے مطابق اس ڈائریکٹوریٹ کے تحت مدارس تعلیمی ادارے سمجھتے ہوئے ان کی رجسٹریشن بھی وزارت تعلیم میں ہوتی ہے، اس کے علاوہ ان کا سالانہ آڈٹ ہو تا ہے اور ان کے نصاب میں مرحلہ وار جدید علوم کو بھی شامل کیا جا رہا ہے، اس محکمے کے تحت مدارس میں طلبا کو گرانٹس بھی دی جاتی ہیں جبکہ غیرملکی طلبا کو ویزا ایشو کیا جاتے ہیں اور مدارس کو بینک اکاونٹس کھولنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔

    اس ڈائریکٹوریٹ کے ملک بھر میں 16 دفاتر قائم ہیں جہاں مدارس کی رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ ملک میں اس وقت ایک اندازے کے مطابق 18 ہزار مدارس اسی ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے رجسٹرڈ ہیں، جن میں ان مدارس کے مطابق 20 لاکھ سے زائد طلبا زیرتعلیم ہیں۔

    یاد رہے کہ اُس وقت پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ شدید سیاسی اختلافات کی وجہ سے جمیعت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدارس نے مدارس کو محکمہ تعلیم کے ماتحت رکھنے اور مذہبی مدارس میں عمومی تعلیم شامل کرنے کی مخالفت کی تھی۔

    یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان سمیت کئی دیگر مسالک کے مدارس ان نئے نظام کے تحت رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ اور اب وہ ایک بار پھر سوسائیٹز ایکٹ 1860کے تحت مدارس کی رجسٹریشن کروانا چاہتے ہیں جیسا کہ ماضی میں ہو رہا تھا، تاہم اس کے ساتھ انھوں نے ایک ترمیم بھی تجویز کی ہے۔

    مدرسہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سوسائیٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کیا ہے اور ماضی میں مدارس کی رجسٹریشن کا کیا نظام رائج تھا؟

    2019 سے قبل ملک میں مدارس کی رجسٹریشن، سوسائیٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت کی جا رہی تھی۔ یہ ایکٹ برطانوی دور میں نافذ ہوا تھا اور اس کا مقصد تعلیم، سائنس، فنون، ثقافت، فلاح و بہبود، مذہب، خیرات، اور دیگر غیر تجارتی سرگرمیوں کے لیے تنظیموں کے قیام کی اجازت اور انھیں قانونی حیثیت دینا تھا۔ یہ ایکٹ آج بھی پاکستان میں نافذ ہے اور اس کے تحت فلاحی اور غیر منافع بخش ادارے اپنی رجسٹریشن کروا کر قانونی طور پر تسلیم شدہ حیثیت حاصل کرتے ہیں۔

    اس ایکٹ کے مطابق کم از کم سات یا اس سے زیادہ افراد کسی مشترکہ مقصد کے لیے تنظیم بنا سکتے ہیں اور اسے متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں رجسٹر کروا سکتے ہیں۔ رجسٹریشن کے بعد یہ تنظیم ایک علیحدہ قانونی وجود اختیار کر لیتی ہے۔ ایسی تنظیم کی رجسٹریشن اور نگرانی کے عمل کو مقامی حکومتوں کے تحت چلایا جاتا ہے اور تنظیموں کو اپنی سرگرمیوں کے حوالے سے جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔

    اس ایکٹ کے تحت مدارس کے بانی افراد کو تنظیم کے قوانین، مقاصد، اور ممبران کی تفصیلات کے ساتھ متعلقہ ڈپٹی کمشنر یا رجسٹرار کے پاس درخواست جمع کروانی ہوتی تھی۔ رجسٹریشن کے بعد مدرسہ یا مدارس کو قانونی تحفظ حاصل ہو جاتا، اور وہ اپنے نام پر جائیداد خرید سکتے تھے، معاہدے کر سکتے تھے، اور عدالت میں مقدمہ لڑ سکتے تھے۔

    اگرچہ اس قانون کے تحت رجسٹرڈ مدارس کو اپنے مالی معاملات کا سالانہ آڈٹ کروانا ہوتا ہے۔ تاہم متعلقہ معاملات پر عبور رکھنے والے ماہرین کے مطابق اس قانون کے تحت رجسٹریشن کے باوجود ان مدارس کے نصاب، مالی معاملات، یا سرگرمیوں پر کوئی مؤثر نگرانی نہیں ہوتی تھی۔

    مولانا فضل شہباز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    نئے ترمیمی بل میں کیا ہے؟

    یہ بل 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت کے معاہدے کا حصہ تھا، جو اکتوبر 2024 میں جمیعت علمائے اسلام (ف) اور حکومت کے درمیان طے پایا تھا۔ سوسائٹیز رجسٹریشن (ترمیمی) ایکٹ 2024 دراصل مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 میں ہی ایک ترمیم ہے۔

    سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے مطابق دینی مدارس کی رجسٹریشن کرنے کا ذمہ دار متعلقہ ڈپٹی کمشنرز ہونے چاہییں ناکہ وزارت تعلیم۔

    نئے ترمیمی بل کی بعض دیگر شقوں کے مطابق:

    • اگر کسی مدرسے کے ایک سے زیادہ کیمپس ہوں تو انھیں صرف ایک رجسٹریشن کی ضرورت ہو گی (نہ کہ ہر کیمپس کے لیے علیحدہ رجسٹریشن)
    • ہر مدرسے کو اپنی تعلیمی سرگرمیوں کی سالانہ رپورٹ رجسٹرار کے پاس جمع کروانی ہو گی
    • ہر مدرسے کے کھاتوں کا آڈٹ ایک آڈیٹر سے کروانا اور آڈٹ رپورٹ رجسٹرار آفس کو جمع کروانا لازمی ہو گا
    • کوئی بھی مدرسہ ایسا مواد نہیں پڑھا سکتا یا شائع نہیں کر سکتا جو شدت پسندی، فرقہ واریت، یا مذہبی نفرت کو فروغ دے
    آصف زرداری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مدارس رجسٹریشن بل پر صدر آصف زرداری کے اعتراضات کیا تھے؟

    صدر آصف علی زرداری نے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے پہلے سے موجود پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ آرڈیننس 2001 اور اسلام آباد کیپٹیل ٹیریٹوری ٹرسٹ ایکٹ 2020 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان دونوں قوانین کی موجودگی میں نئی قانون سازی ممکن نہیں ہے۔

    صدر زرداری کا کہنا ہے کہ بل میں ایسی کوئی شق شامل نہیں جس میں کہا گیا ہو کہ ان نئی ترامیم کا اطلاق محض اسلام آباد میں ہوگا۔

    انھوں نے اعتراض اٹھایا کہ سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 اسلام آباد کی حدود میں نافذ العمل ہے اور مدارس کو بحیثیت سوسائٹی رجسٹر کرنے سے ان کا تعلیم کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    صدر زرداری کی جانب سے ایک اعتراض یہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ نئے بل کی مختلف شقوں میں دی گئی مدرسے کی تعریف میں تضاد موجود ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کے تحت مدرسوں کی رجسٹریشن سے فرقہ واریت کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے اور ایک ہی سوسائیٹی میں متعدد مدرسوں کی تعمیر سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ سوسائیٹی میں مدرسوں کی رجسٹریشن سے مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہو گا جس سے عالمی تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس بل کی منظوری سے ایف اے ٹی ایف اور دیگر عالمی اداروں کی پاکستان کے بارے میں آرا میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

  10. یونان کشتی حادثہ: دفترِ خارجہ نے چار پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

    یونان کشتی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سنیچر کو یونان میں غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی الٹنے کے واقعے میں چار پاکستانی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، دفترِ خارجہ کی ترجمان ممتاز رہرہ بلوچ کا کہنا ہے کہ یونانی حکام کی جانب سے مہیا کردہ تازہ معلومات کے مطابق سنیچر کے روز یونان کے جزیرے کریٹ کے جنوب میں کشتی الٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں سے چار افراد کا تعلق پاکستان سے ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایتھنز میں پاکستانی سفارتخانہ یونانی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ حادثے میں بچ جانے والے پاکستانیوں کی مدد اور لاشوں کو وطن واپس پہنچایا جا سکے۔

    سنیچر کے روز یونان کے نزدیک تارکین وطن کی کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس واقعے میں ہانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ متعدد کو بچا لیا گیا تھا۔

    بعد ازاں وزیرتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ بچ جانے والوں میں 47 پاکستانی بھی شامل ہیں۔

    اتوار کے روز وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو واقعے کی انکوائری رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کی شناخت کی جائے اور ان کو سخت سزائیں دی جائیں تاکہ وہ ایسے ’قبیح فعل کو نہ دھرائیں۔ ایسے واقعات کے مستقبل میں تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔‘

  11. میرا شام چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا: بشارالاسد کا مبینہ بیان

    بشار الاسد

    شام کے سابق صدر بشار الاسد کا اپنی حکومت کے خاتمے اور ملک سے فرار ہونے کے بعد پہلا مبینہ بیان سامنے آگیا ہے۔

    سقوط دمشق کے آٹھ دن بعد جاری ہونے والے اپنے پہلے بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ ان کا کبھی بھی روس فرار ہونے کا ارادہ نہیں تھا۔

    سابق شامی صدر بشار الاسد کا یہ بیان پیر کو شام کے صدارتی ٹیلیگرام چینل پر پوسٹ کیا گیا ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ فی الحال اس چینل کو کون چلا رہا ہے۔

    اس بیان میں ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی شام کا دارالحکومت باغیوں کے قبضے میں چلا گیا، وہ صوبہ لطاکیہ میں ایک روسی فوجی اڈے پر ’جنگی کارروائیوں کی نگرانی‘ کے لیے گئے تھے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ شامی فوجی اپنی پوزیشنیں چھوڑ چکے ہیں۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’حمیمیم کے فضائی اڈے پر روسی فوجی اڈوں پر ڈرون حملوں کے بعد، روس نے انھیں ہوائی جہاز کے ذریعے ماسکو لے جانے کا فیصلہ کیا۔ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع ہونے والے بیان میں شام کے سابق صدر نے مبینہ طور پر بتایا ہے کہ آٹھ دسمبر کو کیا ہوا تھا اور بظاہر روسی اڈے پر ان کا محاصرہ کیسے کیا گیا تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جب فوجی اڈہ چھوڑنے کا کوئی قابل عمل طریقہ موجود نہیں رہا تو ماسکو نے بیس کمانڈ سے درخواست کی کہ ان (بشار الاسد) کے فوری روس انخلا کا انتظام کیا جائے جو کہ آٹھ دسمبر کی شام کو ہوا تھا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ انخلا سقوط دمشق کے ایک روز بعد تمام فوجی پوزیشنوں کے خاتمے اور اس کے نتیجے میں تمام باقی ریاستی اداروں کے مفلوج ہونے کے بعد ہوا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ان واقعات کے دوران کسی بھی موقع پر میں نے عہدہ چھوڑنے یا پناہ لینے پر غور نہیں کیا اور نہ ہی کسی فرد یا پارٹی کی طرف سے ایسی کوئی تجویز پیش کی گئی۔‘

    ان کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جب ریاست دہشت گردوں کے ہاتھوں میں چلی جائے اور معنی خیز کردار ادا کرنے کی صلاحیت ختم ہو جائے، تو کسی عہدے کا کوئی مقصد باقی نہیں رہتا، اور اس عہدے پر رہنا بے معنی ہو جاتا ہے۔‘

    واضح رہے کہ شام مںی باغیوں کی لڑائی کے دوران بشارالاسد کہیں دکھائی نہیں دیے تھے کیونکہ شام کے شہر اور صوبے 12 دنوں کے اندر اسلام پسند عسکریت پسند گروپ حیات تحریر الشام کی قیادت میں باغیوں کے قبضے میں آگئے تھے۔

    تاہم یہ قیاس آرائیاں عروج پر تھیں کہ وہ ملک سے فرار ہو گئے تھے کیونکہ ان کے وزیر اعظم بھی دمشق میں باغیوں کے حملے کے دوران ان سے رابطہ نہیں کر سکے تھے۔

    نو دسمبر کو روسی میڈیا نے اعلان کیا تھا کہ بشارالاسد کو روس میں سیاسی پناہ دی گئی ہے، حالانکہ اس کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔‘

  12. ’ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2024 ‘کا بل قومی اسمبلی میں پیش

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں ’ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2024 ‘کا بل پیش کردیا گیا ہے۔  یہ بل وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ کی جانب سے پیش کیا گیا

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab/NA

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں ’ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2024 ‘کا بل پیش کردیا گیا ہے۔

    یہ بل وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ کی جانب سے پیش کیا گیا جسے قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔

    اجلاس میں پیش کیے گئے بل کے اغراض و مقاصد کے مطابق اس قانون سازی کے بعد ’پاکستان کو ایک ڈیجیٹل نیشن( قوم) میں تبدیل کرنے میں مدد دے گی جس سے سوسائٹی، معیشت اور گورننس کو ڈیجیٹل کرنے کا عمل ممکن بنایا جا سکے گا۔

    وفاقی حکومت ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل 2024 کے تحت دو نئے ادارے قائم کرے گی جن کی مدد سے ملک کے مختلف شعبوں کو آپس میں جوڑ کر سرکاری امور کو ڈیجیٹیلایز کیا جائے گا جبکہ ڈیٹا کے ’ذمہ داری‘ سے استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔

    بل کے مطابق وفاقی سطح پر نیشنل ڈیجیٹل کمیشن کا قیام عمل میں لائے جائے گا جس کی سربراہی وزیر اعظم پاکستان کریں گے۔ ڈیجیٹل کمیشن کے ذمہ قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان اور اس پر عمل درآمد کی منظوری ہو گی۔

    بل کے مطابق پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے نام سے ایک دوسرا ادارہ بھی تشکیل دیا جائے گا اور چھ رکنی اتھارٹی کے چئیرمین کی نامزدگی وزیر اعظم پاکستان کریں گے۔

    انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی وزیر مملکت شزہ فاطمہ خواجہ نے قومی اسمبلی میں بل پیش کرنے سے قبل سوموار کے روز اسلام آباد میں نیشنل براڈ بینڈ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اِس حوالے سے آج شام قومی اسمبلی میں قانون سازی کے لیے بحث کی جائے گی۔

    ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کےمطابق ’وزیر مملکت نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ کمیشن کے سربراہ وزیراعظم شہباز شریف ہوں گے اور تمام صوبائی وزراء اعلیٰ اور نادرا اور پی ٹی اے جیسے بڑے سرکاری اداروں سے نمائندگان شامل ہوں گے۔‘

    انھوں نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی بعد میں تشکیل دی جائے گی تاکہ ایک جامع قومی لائحہ عمل اور معیشت ، حکومت اور سماج جیسے تین بنیادی شعبوں کے ساتھ ڈیجٹلائزیشن کیلئے ماسٹر پلان کو یقینی بنایا جا سکے۔

    قومی اسمبلی میں سوموار کی شام پیش کیے گئے بل کے مطابق ڈیجیٹل کمیشن اور ڈیجیٹل اتھارٹی کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ڈیجیٹل نیشن فنڈ قائم کیا جائے گا۔

  13. ’’ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ‘ بل قومی اسمبلی میں پیش، سوشل میڈیا پر عمران خان کا بول بالا ہے اس لیے انٹرنیٹ کو سست رفتار کیا جا رہا ہے: عمر ایوب

    عمر ایوب

    ،تصویر کا ذریعہscreen Grab

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب نے کہا ہے کہ پاکستان میں سست رفتار انٹرنیٹ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کیونکہ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی اور عمران خان کا بول بالا ہے تو اس کو ختم کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کی ان تک رسائی نہ ہو۔

    یہ بات انھوں نے قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہی۔

    خطاب کے دوران ان کا دعویٰ تھا کہ ’انٹرنیٹ کی سپیڈ پاکستان میں کسی زیر سمندر کیبل کا کٹنا یا فائیو جی کی آکشن کی وجہ سے نہیں ہے۔ اور اس حوالے سے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ میں دے جانے والی باتوں میں سچائی نہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ وی پی این نہیں چل رہی ٹیلی کمیونیکیشن کا بیک بون متاثر ہو رہا ہے۔ لوگوں کی ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں لوگ ری لوکیٹ کر رہے ہیں لیکن ہم نے اپنے آپ کو شمالی کوریا کی طرز پر ڈھالنا چاہ رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی میں حکام کی جانب سے انٹرنیٹ سلو ہونے کی جو وجوہات بتائی گئیں ان کو اس غلط بیانی پر کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

    ان کی تقریر سے قبل قومی اسمبلی میں شہریوں کے لیے ڈیجیٹل شناخت کے قیام کے لیے مربوط ’ڈیجیٹل آئی ڈی‘

    کے نام سے بل پیش کردیا گیا۔

    بل وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے پیش کیا۔

    عمر ایوب کا سلو انٹرنیٹ کا الزام پاکستان کی ایجنسیوں پر دھرنا اور لائیو سٹریم پر کٹ لگ جانا

    قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار سست ہونے سے متعلق بات کی جو کہ نیشنل اسمبلی آف پاکستان کے یو ٹیوب چینل پر براہ راست دکھائی جا رہی تھی۔

    جیسے ہی انھوں نے اس کا الزام انٹیلیجنس ایجنسیوں پر ڈالنا چاہا وہیں ان کی تقریر کاٹ دی گئی۔

    عمر ایوب کہہ رہے تھے کہ ’پاکستان میں انٹرنیٹ کے سلو ہونے کی وجہ زیر سمندر کیبل میں فالٹ نہیں بلکہ انٹیلیجینس ایج۔۔۔ ‘ اور یہاں تک پہنچ کر پارلیمنٹ کی لائیو سٹریم آنا بند ہوگئی۔

    اور چند سیکنڈز کے وقفے کے بعد عمر ایوب تقریر کو آگے سے سنوایا گیا جہاں وہ یہ کہتے سنائی دیے کہ کوئی وی پی این نہیں چل رہا۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور سٹیڈنٹنگ کمیٹی برائے آئی ٹی میں جن لوگوں نہ اس حوالے سے علط بیانی کی ان سے پوچھ گچھ کی جائے۔

    ’جس ملک میں رول آف لا نہیں ہو گا جہاں ہائی کورٹ کے ججز۔۔۔۔۔‘ اس کے بعد بھی 10 سیکنڈ کا تعطل آ گیا۔

    تاہم یہ پہلی بار نہیں جب پارلیمنٹ کی لائیو سٹریمنگ کے دوران تعطل آیا ہو۔ جب بھی فوج ، انٹیلیجنس ایجنسیوں یا عدلیہ کے خلاف کسی رکن کی جانب سے تنقید کی جاتی ہے ایسے میں لائیو سٹریمنگ میں تعطل آ جانا اب تقریبا معمول کی بات ہے۔

  14. بریکنگ, سٹیٹ بینک کا شرح سود میں دو فیصد کمی کا اعلان

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 200 بیس پوائنٹس کی کمی کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد اب شرح سود 15 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد پر آ گئی ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ زری پالیسی کمیٹی نے اپنے آج (سوموار) کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 17 دسمبر 2024 سے 200 بی پی ایس کم کرکے 13 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ ایم پی سی کی توقعات کے مطابق نومبر 2024 میں عمومی مہنگائی کم ہو کر سالانہ بنیادوں پر 4.9 فیصد ہوگئی جوگزشتہ ماہ 7.2 پر تھی۔

    اعلامیے کے مطابق اس کمی کی بڑی وجہ غذائی مہنگائی میں مسلسل کمی اور ساتھ ساتھ نومبر 2023 میں گیس کے نرخوں میں اضافے کے اثرات کا بتدریج ختم ہونا تھا۔

    سٹیٹ بینک

    سٹیٹ بینک کے مطابق معیشت کے حالیہ اعداد نمو کے امکانات بہتر ہونے کا اشارہ دے رہے ہیں، پالیسی ریٹ میں احتیاط سے کمی نےمہنگائی اور بیرونی کھاتے پر دباؤ کو قابو میں رکھا۔

    بیان میں کہا گیا کہ موصول ہونے والے ڈیٹا سے معاشی نمو کے بہتر امکانات کی نشاندہی ہوتی ہے، زراعت کے شعبے میں فصلوں کے مجموعی منظرنامے میں پیداوار میں کمی کے خطرات کسی حد تک زائل ہو چکے ہیں۔

    سٹیٹ بینک کے مطابق جاری کھاتا اکتوبر میں مسلسل تیسری بار فاضل رہا جس سے زرمبادلہ ذخائر 12 ارب ڈالر ہوگئے ہیں۔

    سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اجناس کی عالمی قیمتوں میں کمی سے درآمدی بل اور مہنگائی میں کمی ہوئی ہے۔

  15. فرانس کے جزیرے میوٹ میں سمندری طوفان سے بد ترین تباہی،بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ

    مایوٹ میں سمندری طوفان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانس کے جزیرے مایوٹ میں 140 میل فی گھنٹہ (225 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے آنے والے طوفان کے بعد وہاں کئی سو افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

    میوٹ کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس تباہ کن طوفان سے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں ابھی کچھ بھی کہنا ممکن نہیں تاہم ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار یا اس سے تجاوزکر سکتی ہے۔

    فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ اس طوفان سے مرکزی ہسپتال سمیت ہیلتھ کیئر سسٹم تباہ ہو گیا۔

    بی بی سی ویدر کی سارہ کیتھ لوکاس کا کہنا ہے کہ یہ 90 سالوں میں جزائر سے ٹکرانے والا بدترین طوفان ہے اور اس میں آٹھ میٹر تک اونچی لہریں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    اس علاقے کے ایک سینیٹر نے فرانس کےایک خبر رساں ادارے بی ایف ایم کو بتایا کہ میوٹ میں سمندری طوفان کے تباہی کے بعد اب لوگ پیاس اور بھوک سے مرنے لگے ہیں۔

    جزیرے پر ایک پناہ گاہ میں بات کرتے ہوئےسینیٹر سلامہ رامیا نے بتایا کہ وہاں بیمار لوگ ہیں، لوگ زمین پر سو رہے ہیں۔

    میوٹ کے حکام کے مطابق جزیرے پر پانی اور بجلی کی سپلائی کو پہنچنے والے نقصان کی نشاندہی اور مرمت کا کام جاری ہے۔

    یاد رہے کہ مایوٹ کا شمار فرانس کے غریب ترین علاقے میں کیا جاتا ہے۔ یہاں کی تین لاکھ کے قریب آبادی میں سے بیشتر کچی آبادی میں رہتے ہیں۔

    میوٹ میں تباہی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمیوٹ میں آنے والے طوفان کے بعد کچھ علاقوں میں پوری آبادی زمین بوس ہو گئی

    میوٹ افریقہ کے مشرقی ساحل سے تقریباً 800 کلومیٹر کے فاصلے پر دو اہم جزائر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ فرانس کا غریب ترین جزیرہ اور یورپی یونین کا غریب ترین علاقہ ہے۔

    سنیچر کو آنے والے طوفان کے بعد کچھ حصوں میں پورے محلے زمین بوس ہو گئے، جبکہ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ بہت سے درخت اکھڑ گئے اور کشتیاں الٹ گئیں یا ڈوب گئیں۔

  16. بلوچستان میں سکیورٹی خدشات، پولیو مہم آج شروع نہ ہوسکی, خیر محمد، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان میں پولیو مہم

    بلوچستان میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سوموار سے شروع ہونے والی پولیو مہم کا آغاز نہ کیا جا سکا۔

    پولیو کے خلاف اس مہم کو 16 دسمبر سے سات روز تک جاری رہنا تھا تاہم محکمہ داخلہ اور قبائلی امور کی جانب سے بھیجے جانے والے مراسلے کے باعث اس کو ایک روز کے لیے موخر کر دیا گیا ہے۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ 16 دسمبر کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی خدشات کے باعث پولیو ٹیموں کے لیے مطلوبہ سکیورٹی اہلکار فراہم کرنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔

    بلوچستان میں پولیو سے متعلق ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق اب یہ مہم 17 دسمبر سے شروع ہو گی۔

    یاد رہے کہ رواں سال بلوچستان سے پولیو کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق رواں سال پاکستان سے اب تک پولیو کے 63 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے بلوچستان سے رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 26 ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان میں محکمہ صحت کے ملازمین کی تنظیموں کے اتحاد پر مشتمل گرینڈ ہیلتھ الائنس نے بعض سرکاری ہسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کے حکومتی فیصلے کے خلاف اس مہم کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا ہے۔

    ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق کے مطابق اس مہم کے دوران 26 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کردیا گیا ہے جس کے لیے 11 ہزار سے زائد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

    بلوچستان سے رواں سال رپورٹ ہونے والے کیسز کوئٹہ، چمن، ڈیرہ بگٹی، قلعہ عبداللہ، جھل مگسی، ژوب، قلعہ سیف اللہ ،نوشکی ، لورالائی، پشین ، خاران ،جعفرآباد اور چاغی سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

    دیگر صوبوں میں سے خیبر پشتونخوا سے پولیو کے 18، سندھ سے 17، پنجاب اور اسلام آباد سے اب تک پولیو کا ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

  17. جی ایچ کیو حملہ کیس: سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری سمیت مزید 9 ملزمان پر فردِ جرم عائد

    شیریں مزاری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    راولپنڈی کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری سمیت مزید 9 ملزمان پر فردِ جرم عائد کردی۔

    شیرین مزاری کے علاوہ جن ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے ان میں سابق ممبر صوبائی اسمبلی راشد حفیظ، منیر، خادم حسین کھوکھر، ذاکراللہ، عظیم اللہ خان، میجر طاہر صادق، مہر محمد جاوید اور چودھری آصف شامل ہیں۔ سماعت کے دوران ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس میں اب تک مجموعی طور پر 98 ملزمان پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے جبکہ اس کیس میں نامزد ملزمان کی کل تعداد 119 ہے۔

    سوموار کے روز کیس کی سماعت انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔ سماعت کے دوران سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔ شاہ محمود قریشی کو سماعت کے لیے کوٹ لکھپت جیل سے اڈیالہ جیل لایا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل عمران خان پر بھی جی ایچ کیو حملہ کیس میں فردِ جرم عائد کی جاچکی ہے۔

    دورانِ سماعت پراسیکیوشن نے عدالت سے غیر حاضر ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کی استدا کرتے ہوئے کہا کہ غیر حاضر ملزمان جان بوجھ کر ٹرائل میں تاخیر کررہے ہیں۔

    پراسیکیوشن کی جانب سے سپیشل پبلک پراسیکیوٹر نوید ملک اور ظہیر شاہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل محمد فیصل ملک لیگل ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

    عدالت نے کیس کی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی۔

  18. کرم گرینڈ جرگہ ختم نہیں ہوا، فریقین نے مشاورت کے لیے ایک دن کا وقت مانگا ہے: بیرسٹر ڈاکٹر سیف, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    کرم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیرِ اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ کرم میں امن و امان کی بحالی کے لیے ہونے والا گرینڈ جرگہ ختم نہیں ہوا بلکہ فریقین نے مزید مشاورت کے لئے ایک دن کا وقت مانگا تھا۔

    ضلع کرم میں امن و امان کے قیام کے لیے گزشتہ نو روز سے جاری گرینڈ جرگہ اب تک کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ سکا ہے۔

    اس گرینڈ جرگہ میں مقامی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے نمائندوں کے علاوہ کمشنر کوہاٹ، سکیورٹی فورسز کے نمائندے، اورکزئی، کوہاٹ اور ہنگو سے تعلق رکھنے والے عمائدین کے ساتھ ساتھ ضلع کرم کے رہنما بھی شامل ہیں۔

    گذشتہ روز مقامی میڈیا میں ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ جرگہ کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا ہے۔

    بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ علاقے میں بنائے گئے بنکرز کے خاتمے اور اسلحہ حوالگی کے حوالے سے مشاورت کے لیے فریقین نے گرینڈ جرگہ سے ایک دن کا وقت مانگا تھا جس کے باعث وقفہ کیا گیا تھا۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ صوبائی کابینہ کے فیصلے کے مطابق اسلحہ جمع کروانا اور بنکرز کا خاتمہ انتہائی ناگزیر ہے۔

    دوسری جانب ڈپٹی کمشنر ضلع کرم جاوید اللہ محسود نے مقامی صحافی کو بتایا ہے کہ بعض جرگہ ممبران کی عدم موجودگی کے باعث جرگہ ملتوی کر دیا گیا تھا جسے آج دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ آمد و رفت کے راستے سکیورٹی خدشات کے باعث بند کیے گئے ہیں۔

    پاڑہ چنار سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی ساجد حسین طوری نے بی بی سی کو بتایا کہ اہل تشیع عمائدین مشاورت کے لیے اسلام آباد میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمائدین کسی فیصلے پر پہنچنے کے بعد آج واپس کوہاٹ جائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس جرگے کا بنیادی مقصد امن کا قیام ہے اور اس کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    ساجد طوری کے مطابق ہمارے لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ اپ اپنا اسلحہ حکومت کے حوالے کر دیں۔ ’ہمارے لوگوں کا موقف ہے کہ ریاست ہمیں تحفظ فراہم نہیں کر پا رہی ہے اور بڑی تعداد میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد علاقے میں موجود ہیں۔‘

    ’تو ایسے میں اگر ہمارے لوگ غیر مسلح ہو گئے تو پھر یہ ایسا ہی جیسے ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ کر مسلح لوگوں کے سامنے پیش کر دیا جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ہماری تجویز ہے کہ اگر حکومت امن قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، راستے کھول دیے جاتے ہیں اور لوگوں کا اعتماد بحال ہو جاتا ہے کہ حکومت واقعی مسلح شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے تو پھر اسلحہ کی واپسی پر بھی بات ہو سکتی ہے۔

    کرم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوسری جانب جرگے کے اہل سنت سے تعلق رکھنے والے نمائندے حاجی سلیم اللہ کا کہنا ہے کہ بعد دوپہر جرگہ اراکین دوبارہ ملیں گے اور امن کے قیام کے لیے بات چیت ہوگی۔

    انھوں نے بتایا کہ جرگے میں اس معاملے پر بات ہوئی ہے کہ تمام گروپس بھاری اسلحہ حکومت کے حوالے کردیں اور پھر راستے کھولنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ جرگے میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ اگر اسلحہ جمع کروانے کے باوجود کسی علاقے میں مخالفین پر حملہ ہوتا ہے تو اس علاقے کے لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

    حاجی سلیم اللہ کا کہنا ہے کہ حملے کی صورت میں اہلِ علاقہ سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ ’اگر وہ کارروائی کی ذمہ داری تسلیم کریں گے تو انھیں سزا دی جائے گی بصورتِ دیگر انھیں حلف دینا ہوگا کہ یہ کارروائی انھوں نہیں کی، نا وہ اس کے سہولت کار ہیں اور نا ہی انھیں اس کے متعلق علم ہے۔‘

    ان کے مطابق اس بارے میں مقامی سطح پر اتفاق نہیں ہو پایا ہے اور آج بعد دوپہر دوبارہ جرگے کا اجلاس ہوگا۔

    علاقے میں اشیائے خوردونوش اور ادویات کی کمی

    ضلع کرم میں دو ماہ سے زیادہ عرصے سے آمد و رفت کے راستوں کی بندش کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اشیائے خوردونوش، تیل، گیس اور ادویات ختم ہو رہی ہیں۔

    پاڑہ چنار میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر میر حسن جان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں ادویات کی کمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر شدید زخمی یا پیچیدہ امراض میں مبتلا افراد کو پشاور ریفر کیا جاتا ہے لیکن اس وقت راستے بند ہونے کی وجہ سے وہ مریض کہیں نہیں جا سکتے۔

    انھوں نے بتایا کہ آج دو افراد کو ایدھی کی ایئر ایمبولینس سروس کے ذریعے پشاور لے جایا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سردی میں اضافے سے بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہاں ان کے پاس علاج کی مکمل سہولیات نہیں ہیں۔

    ڈاکٹر میر حسن نے بتایا کہ انھوں نے ضروری ادویات کی ایک فہرست مقامی انتظامیہ کے حوالے کی ہے کیونکہ جو ادویات انھیں فراہم کی گئی تھیں وہ ختم ہو رہی ہیں۔

    بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ غذائی قلت دور کرنے کے لیے وزیرِ اعلیٰ نے محکمہ خوراک کو دو ہزار میٹرک ٹن گندم کرم پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔

    ان کے مطابق وزیراعلیٰ کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ضروری ادویات علاقے میں پہنچائی جا رہی ہیں جبکہ زخمیوں کو بھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کیا جا رہا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ کرم کا مسئلہ 120 سال پرانا ہے اور اس کے مستقل خاتمے میں وقت لگ سکتا ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چند دنوں میں یہ مسئلہ حل ہو جائے گا اور علاقے میں مستقل امن قائم ہو جائے گا۔

    پاڑا چنار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ضلع کرم میں گزشتہ دو ماہ سے حالات کشیدہ ہیں۔ علاقے میں ہونے والے ان پرتشدد حملوں کی وجہ تنازعہ زمین کا ٹکڑا ہوتا ہے جو بڑھ کر فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ کارروائیاں اور حملے کسی ایک گاؤں یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ پانچ سے چھ ایسے مقامات ہیں جہاں دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں سے حملے ہوتے ہیں۔

    اپر کرم سے ملک کے دیگر اضلاع کے لیے راستہ لوئر کرم سے ہو کر گزرتا ہے اور 12 اکتوبر کے بعد سے راستوں کی بندش کی وجہ سے زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے جہاں روز مرہ استعمال کی اشیا کی قلت پیدا ہو گئی۔

    اس علاقے میں لوگ مجبور ہیں کہ وہ علاج کے لیے شہر سے باہر نہیں جا سکتے، ان کی پاس تیل، ادویات اور دیگر اشیا ختم ہو رہی ہیں۔

    ماضی میں اپر کرم کے لوگ افغانستان کے راستے سے ہو کر واپس پاکستان میں دوسرے علاقے سے داخل ہو کر اپنی منزل کی طرف جاتے تھے مگر اب سرحد پر سختی کے باعث یہ بھی آسان نہیں رہا۔

  19. آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل کی قیمت میں تین روپے کی کمی

    پیٹرول

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کی وزارتِ خزانہ نے اتوار کی رات آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان کردیا۔

    وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول کی قیمت کو 252 روپے 10 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 5 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 255 روپے 38 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    حکومت نے لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 78 پیسے فی لیٹر جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 32 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔

    لائٹ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی نئی قیمت بالترتیب 148 روپے 95 پیسے فی لیٹر اور 161 روپے 66 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

    پیٹرول

    ،تصویر کا ذریعہx.com/Financegovp

  20. 16 دسمبر: اسلام آباد سمیت پنجاب کے متعدد شہروں کے سکولوں میں چھٹی

    اسلام آباد سمیت پنجاب کے متعدد شہروں کے سکولوں اور تعلیمی اداروں میں آج (16 دسمبر کو) عام تعطیل ہے۔

    یاد رہے کہ چھٹی کے حوالے سے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے جاری سرکاری اعلامیے میں اس تعطیل کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔

    تاہم صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا کی جانب سے جاری پیغام میں بتایا گیا ہے کہ بروز پیر16 دسمبر ملک بھرکے سکولز میں آرمی پبلک سکولز کے سانحہ کی یاد میں تعطیل ہوگی۔

    آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے مطابق ’سکولز دوبارہ 17 دسمبر بروز منگل ریگولر شیڈول کے مطابق کھل جائیں گے۔‘

    دوسری جانب بلوچستان کے محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری اعلامیے میں 16 دسمبر سے صوبے میں سرما کی چھٹیوں کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

    آرمی پبلک سکول حملہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    16 دسمبر 2014 جب اے پی ایس حملے میں 114 بچوں سمیت 150 ہلاکتیں ہوئیں

    پشاور کے آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) میں 16 دسمبر 2014 کو ہونے والے اس حملے میں 144 بچوں سمیت 150 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

    اس حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین آج بھی اپنے بچوں کو یاد کرتے ہیں جبکہ بچ جانے والے زخمی آج بھی اس کے اثرات سے نکل نہیں پاتے۔

    آرمی پبلک سکول پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کے بارے میں حقائق معلوم کرنے کے لیے تشکیل پانے والے عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس واقعے کو ’سکیورٹی کی ناکامی‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس واقعے نے ملک کے سکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔