BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 11 July, 2005, 01:57 GMT 06:57 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
خواتین کا استحصال بند کرو: رشدی
 
سلمان رشدی کو سن انیس سو ترانوے میں بُکر آف بُکرز ایوارڈسے نوازہ گیا
متنازعہ مصنف سلمان رشدی کےمطابق پاکستان اور انڈیا کو آبروریزی کے کلچر پر قابو پانا چاہیے۔

انہوں نے یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں اتوار کے روز شائع ہونے والے اپنے کالم میں کہی۔

سلمان رشدی نے پاکستان میں مختار مائی سے اجتماعی زیادتی اور ڈاکٹر شازیہ خالد کی مبینہ آبروریزی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انسانی حقوق کمشن کی رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ پاکستان میں سن 2004 کے پہلے نو ماہ میں آبروریزی کے320 اور اجتماعی زیادتی کے 350 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے صرف ایک تہائی واقعات میں آبروریزی کا نشانہ بننے والی خواتین نے اپنے مقدمات کی پیروی کی جبکہ ایسے مقدمات میں صرف انتالیس ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی۔ سلمان رشدی کے مطابق آبروریزی کے نہ رپورٹ ہو پانے والے واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

سلمان رشدی کے مطابق پاکستان میں ایسی خواتین کی تعداد بہت ہی کم ہے جو مختار مائی کی طرح جرآت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈٹ جاتی ہیں۔ آبروریزی کا شکار بننے والی زیادہ تر خواتین خودکشی کو ترجیح دیتی ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ان کی جرآت مندی ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے کی گارنٹی نہیں ہے، جیسا کہ ڈاکٹر شازیہ خالد کے ساتھ ہوا۔

مختار مائی کو پنچائت کے حکم پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا
سلمان رشدی نے اپنے کالم میں صدر مشرف کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس نے ان کے الفاظ میں مختار مائی کا پاسپورٹ اس لیے ضبط کر لیا وہ ملک سے باہر جاکر کچھ ایسا نہ کہہ دے جس سے ملک کی بدنامی ہو۔

’یہ وہی حکومت ہے جو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں مغرب کی ہم رکاب ہے لیکن اس نے اپنی سر زمین پر خواتین کے خلاف جنسی دہشت گردی کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔‘

سلمان رشدی نے حال ہی ہندوستانی ریاست اتر پردیش میں سامنے آنے والے عمرانہ کیس کا حوالہ دیا جس میں ایک شادی شدہ خاتون پہلے اپنے سسر کی جنسی حوس کا نشانہ بنی اور بعد میں دارالعلوم دیوبند نے اسے اپنے خاوند کے لیے ’حرام‘ قرار دے دیا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور ریاست اتر پردیش کی حکومت نے بھی دارالعلوم کے فتوے کی حمایت کی۔

پاکستان اور ہندوستان میں پائے جانے والے آبروریزی کے کلچر کا تجزیہ کرتے ہوئے سلمان رشدی نے کہا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ دونوں ملکوں میں پایا جانے والا سماجی تضاد اور غیرت و رسوائی کی بنیاد پر قائم سخت اخلاقی ضابطہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سخت ضابطے کی وجہ سے آبروریزی کا شکار ہونے والی خواتین جنگلوں میں پھانسی کے پھندوں پر جھولتی اور دریاؤں میں خودکشی کرتی رہیں گی۔ اس کلچر کو تبدیل کرنے میں نسلیں لگ جائیں گی۔ لیکن اس وقت تک قانون کو جو کچھ بھی ممکن ہو کرنا چاہیے۔

سلمان رشدی کے مطابق پاکستانی سپریم کورٹ کی طرف سے مختار مائی کیس میں حالیہ فیصلہ کو اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس اور سیاستدان آبروریزی کا شکار ہونے والے خواتین کو تنگ کرنے کے بجائے ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔

 
 
66ساتھ میں کون؟
رشدی، گرل فرینڈ ممبئی کے دورے پر
 
 
66پدما کے لئے
رشدی گرل فرینڈ پدما کے لئے بالی وڈ فلم لکھیں گے
 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد