کراچی سے کریئر شروع کرنے والے تندولکر جو عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی طرف سے بھی کھیلے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
یہ اس وقت کی بات ہے جب آج کی طرح بہت سارے کرکٹ میچز ٹی وی پر نہیں دکھائے جاتے تھے اور برصغیر میں کرکٹ کے شائقین کرکٹ کے احوال اخباروں سے جانتے تھے، یہاں تک کہ کاؤنٹی کرکٹ میں کیا ہو رہا ہے، ظہیر عباس گلوسیسٹر شائر کے لیے کیا گل کھلا رہے ہیں اور جاوید میانداد گلیمورگن کے لیے کیا کارنامہ انجام دے رہے ہیں یا پھر عمران خان سسیکس کے لیے کیا کر رہے ہیں، وغیرہ۔
اسی دوران ایک ورلڈ ریکارڈ سامنے آیا جب انڈیا کے دو نوجوان کھلاڑیوں نے بمبئی (ممبئی) کے ایک ٹورنامنٹ ہیرس شیلڈ انٹر سکول کے سیمی فائنل میں 664 رنز کی ناقابل شکست شراکت کا ریکارڈ بنا ڈالا جو کہ اس وقت کسی بھی وکٹ کے لیے کسی بھی سطح کے ميچز میں ایک ریکارڈ تھا۔
اس ریکارڈ نے سچن تندولکر (326 ناٹ آوٹ) اور ونود کامبلی (349 ناٹ آوٹ) کو راتوں رات ہیرو بنا دیا لیکن پھر بات سچن تندولکر پر مرکوز ہو گئی اور کرکٹ کے پنڈت انھیں ’ونڈر بوائے‘ کہنے لگے۔ جیسے آج 15 سالہ کرکٹر ویبھو سوریہ ونشی کو ’مستقبل کا تنڈولکر‘ کہا جا رہا ہے ویسے ہی تنڈولکر کو آج تک کے سب سے عظیم بیٹسمین سر ڈان بریڈ مین سے ملایا جانے لگا تھا۔
24 اپریل سنہ 2026 کو تندولکر 53 سال کے ہو گئے ہیں اور وہ اس مقام پر ہیں جہاں انھیں انڈیا میں کرکٹ کا ’بھگوان‘ (دیوتا) کہا جاتا ہے جن کے نام بیٹنگ کے تمام اہم ریکارڈز ہیں۔
لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ سچن تندولکر اور پاکستان کا چولی دامن کا ساتھ نظر آتا ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ابھی انھوں نے کوئی ورلڈ ریکارڈ قائم نہیں کیا تھا اور پاکستان کی ٹیم عمران خان کی قیادت میں انڈیا کا دورہ کر رہی تھی کہ کرکٹ کلب آف انڈیا کی گولڈن جوبلی کے جشن کے طور پر ایک نمائشی میچ ہوا۔
لنچ میں جب جاوید میانداد اور عبدالقادر میدان سے باہر چلے گئے تو پاکستان کے مینیجر نے منتظمین سے متبادل کھلاڑی کا مطالبہ کیا اور انھوں نے 13 سالہ تندولکر کو میدان میں بھیجا جنھوں نے پاکستان کی جرسی میں کوئی آدھے گھنٹے تک فیلڈنگ کی اور کہتے ہیں کہ کپل دیو کا کیچ بھی لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پہلا ٹیسٹ
لیکن پھر اس کے دو سال بعد تندولکر نے محض 15 سال کی عمر میں پاکستان کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا جس میں پاکستان کی جانب سے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے وقار یونس نے انھیں 15 رنز کے سکور پر بولڈ کر دیا۔
فیصل آباد میں کھیلے جانے والے دوسرے میچ میں 59 رنز پر عمران خان نے انھیں ایل بی ڈبلیو آوٹ کیا۔ دوسری اننگز میں وہ آٹھ رنز بنا کر رن آوٹ ہوئے۔ لاہور میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میں عبدالقادر نے انھیں 41 رنز پر بولڈ کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سیالکوٹ میں کھیلے جانے والے چوتھے ٹیسٹ میں 35 رنز پر وسیم اکرم نے انھیں ایل بی ڈبلیو آوٹ کیا جبکہ دوسری اننگز میں عمران خان نے 57 رنز پر وکٹ کے پیچھے کیچ کروا دیا۔
سیریز ڈرا رہی اور سچن کوئی بڑا کارنامہ انجام نہ دے سکے سوا دو نصف سنچریاں سکور کرنے کے۔
لیکن پھر 16 دسمبر سنہ 1989 کو پیشاور میں کھیلا جانے والا میچ ایک ایسی مسابقت کا یادگار بن گیا جو ہنوز جاری ہے۔ یہ ون ڈے میچ 20-20 اوور کے میچ میں تبدیل کر دیا اور یہ انٹرنیشنل کے بجائے نمائشی میچ بن گیا۔
اس میچ میں تندولکر نے پہلی بار اپنی جھلک دکھائی جو بعد میں ان کا سگنیچر کھیل بن گیا۔
اس میچ کے بارے کرکٹر آکاش چوپڑا سے بات کرتے ہوئے ٹینڈولکر نے بتایا: ’مشتاق (احمد) بولنگ کر رہے تھے۔ ان کو ایک چوکہ اور دو چھکے پڑ گئے۔ تو عبدالقادر میرے پاس آئے اور انھوں نے کہا کہ میں اِدھر سے بولنگ کروں گا مجھے مار کر دکھاؤ۔ ہم نے کہا کہ آپ اتنے سینیئر کھلاڑی ہیں ہم آپ کو اس آسانی سے مار نہیں پائيں گے لیکن پھر وہاں سے پیچھا شروع ہو گيا اور اس اوور میں کوئی 28 رنز بنے۔‘
در اصل اس اوور میں تینڈولکر نے پہلی گیند پر چھ، دوسری پر صفر، تیسری پر چار اور پھر تین چھکے لگاتار لگائے۔
بہر حال پہلے ون ڈے انٹریشنل میں تندولکر صفر پر آؤٹ ہوئے، انھیں ایک بار پھر وقار یونس نے آوٹ کيا۔ اس کے بعد سچن کو بقیہ میچوں میں جگہ نہ مل سکی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے خلاف سب سے زیادہ رنز
بعد ازاں تندولکر نے سنہ 1996 میں پاکستان کے خلاف پہلی سنچری سنگر کپ سنگاپور میں لگائی۔ پھر 1998 میں سلور جوبلی کپ میں پاکستان کے خلاف 95 رنز بنائے اور تین وکٹیں حاصل کیں۔ انھوں نے پاکستان کے خلاف انڈیا کی جانب سے سب سے زیادہ ون ڈے میں رنز بنائے جن میں پانچ سنچریاں شامل ہیں۔
ٹیسٹ میں وہ پاکستان کے خلاف رنز بنانے کے معاملے میں گاوسکر کے بعد ہیں لیکن مجموعی طور ٹیسٹ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں وہ دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف رنز بنانے کے معاملے میں 3583 رنز کے ساتھ سب سے آگے ہیں اور ان کی اوسط 40 رنز فی اننگز ہے جبکہ ان کے پیچھے جاوید میانداد ہیں جنھوں نے 63 میچز میں 60 رنز سے زیادہ کی اوسط سے 3403 رنز بنائے ہیں۔
تندولکر نے اپنے زمانے کے تمام خطرناک بولرز کے سامنے اپنی بیٹنگ کی صلاحیت کو منایا۔ جہاں ایک طرف ان کے خلاف بریٹ لی، مک گرا، وسیم اکرم، وقار یونس، کورٹنی والش، ایمبروز، ایلن ڈونلڈ، شان پولک اور جیمز اینڈرسن جیسے فاسٹ بولر تھے تو دوسری جانب شین وارن، مرلی دھرن اور ثقلین مشتاق جیسے سپنرز تھے۔
لیکن سچن تندولکر کے مطابق ان کو سب سے زیادہ جس بولر کو کھیلنے میں پریشانی ہوتی تھی وہ جنوبی افریقہ کے کپتان ہینسی کرونیے تھے جن کے بعدہ پاکستان کے عبدالرزاق کی نہ اندازہ لگانے پانے والی گیندیں تھیں۔
اگرچہ ان کے بنائے بہت سے ریکارڈز ٹوٹ رہے ہیں لیکن بہت سے ایسے ریکارڈز ہیں جو شاید ہی ٹوٹ سکیں۔ ان کی جارحانہ اور مستقل رنز بنانے کی خصوصیت کی وجہ سے بریڈ مین نے خود کہا تھا کہ انھیں تندولکر کا کھیل دیکھ کر اپنا کھیل یاد آتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کریئر
سچن کا انٹرنیشنل کریئر تقریبا 24 سال پر محیط ہے۔ انھوں نے 200 ٹیسٹ میچز میں 51 سنچریوں کی مدد سے 15921 رنز بنائے جبکہ 463 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں 49 سنچریوں کی مدد سے 18426 رنز سکور کیے۔ انھوں نے ایک ہی ٹی20 انٹرنیشنل کھیلا جس میں انھوں نے 10 رنز بنائے جو ان کی جرسی کا نمبر تھا۔
انھوں نے ون ڈے میں سب سے پہلے ڈبل سنچری بھی لگائی ہے۔
اگر ان کے ریکارڈز کی بات کی جائے انڈیا کے بیٹسمین وراٹ کوہلی نے صرف ون ڈے میں ان کی سنچریوں کا ریکارڈ توڑا باقی تمام ریکارڈز ان کے پاس ہی ہیں۔
14 نومبر کو جب ویسٹ انڈیز کے خلاف سچن نے آخری میچ کھیلا تو سب کو ان سے ایک یادگار سنچری کی امید تھی۔ وہ اس سے قبل ٹی 20 اور ون ڈے انٹرنیشنل سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے تھے۔
اپنے ہوم گراؤنڈ ممبئی کے وانکھیڑے سٹیڈیم میں وہ اپنا آخری میچ کھیل رہے تھے۔ جب وہ 74 رنز پر پہنچے تو ڈیرن سیمی نے دیوناراین کی گیند پر ان کا کیچ لپک لیا اور انڈیا کے لاکھوں شائقین کی سانسیں رک گئیں۔
بہت سے لوگ یہ امید کرنے لگے کہ بھلے میچ بے نتیجہ ہو لیکن سچن کو دوسری اننگز کھیلنے کو مل جائے۔ لیکن انڈین ٹیم یہ میچ تیسرے ہی دن ایک اننگز 126 رنز سے جیت گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بھارت رتن
تندولکر کے لیے جو تقریب منعقد ہوئی اس میں دہلی سے بڑی تعداد سے کانگریس کے رہنماؤں نے شرکت کی اور انھیں انڈیا کا سب سے گرانقدر شہری ایوارڈ بھارت رتن سے سرفراز کیا گيا۔
وہ سب سے کم عمر میں یہ ایوارڈ جیتنے والے شخص بھی ہیں اور ان چند لوگوں میں شامل ہیں جو ابھی حیات ہیں۔
انٹرنیشنل کرکٹ سے رخصتی کے بعد بھی کرکٹ سے ان کا رشتہ دل و جان کا ہے۔ انھوں نے آئی پی ایل میں ممبئی انڈینز کی نمائندگی کی اور اب بھی وہ ان کی ٹیم کے مشیروں میں شامل ہیں۔
وہ عام طور پر متنازع بیانات سے دور رہتے ہیں لیکن حال ہی میں پاکستان کے خلاف انڈین کارروائی میں انھوں نے انڈین فوجیوں کی متحدہ کوششوں کو سراہا تھا۔
ابھی اپنی یوم ولادت سے قبل ہی انھوں نے انڈیا کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ کے دنتے واڑا میں اپنا برتھ ڈے منایا۔
وہ ان دنوں مبینہ طور پر نکسلیوں (ماؤ کے نظریات کے حامل متحارب گروپ) سے پاک علاقے میں سپورٹس کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنی بیٹی سارہ تندولکر اور بہو سانیہ چندھوک کے ساتھ موجود ہیں جبکہ اسی دوران ان کے حوالے سے نئے ونڈر بوائے ویبھو سوریہ ونشی کو انڈین ٹیم میں جلد از جلد شامل کرنے کی بات کی جا رہی ہے اور اس کی سفارش تندولکر کے پہلے ٹیسٹ کپتان کرشناماچاری سریکانت نے بھی کی ہے۔
























