ایران جنگ کے دوران پاکستان نے کئی سال پرانا ’راہداری نظام‘ کیوں ختم کر دیا؟

مطالعے کا وقت: 8 منٹ

پاکستان میں صوبہ بلوچستان کی حکومت نے صوبے کے سرحدی اضلاع کے رہائشیوں کے لیے ’راہداری‘ پر ایران آمدورفت کی سہولت کا خاتمہ کرتے ہوئے اس پر مستقبل طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔

سرحدی اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے یکم مارچ کو جاری ہونے والے نوٹیفیکیشنز کے مطابق اب بلوچستان کے سرحدی اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد صرف پاسپورٹ اور ایرانی ویزے پر ہی سرحد عبور کر سکیں گے۔

یاد رہے کہ گذشتہ کئی سال سے جاری راہدری نظام کے تحت آمدورفت کی سہولت کے خاتمے سے متعلق نوٹیفیکیشنز کا اجرا ایسے موقع پر کیا گیا جب ایران کو امریکی و اسرائیلی حملوں کا سامنا ہے۔

تاہم سرکاری حکام نے وضاحت کی ہے کہ اس پابندی کا ایران کے جنگ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اپیکس کمیٹی کا فیصلہ تھا جس پر مرحلہ وار انداز میں عملدرآمد کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند کا کہنا ہے کہ راہداری پر پابندی کا ایران کی موجودہ صورتحال سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ فیصلے بہت پہلے اپیکس کمیٹی کی سطح پر کیے گئے تھے جن پر اب عملدرآمد ہو رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پہلے افغانستان کے سرحد پر اس کا اطلاق کیا گیا اور اب ایران کے ساتھ سرحد پر ان فیصلوں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ امن وامان کے حوالے سے ہمارے مسائل جس طرح بڑھ رہے تھے اس لیے اپیکس کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں یہ طے کیا گیا کہ سرحد پر آمدورفت کو ریگولیٹ کرنا ہو گا، اور پوری دنیا میں جس طرح پاسپورٹ اور ویزے پر آمدورفت کا جو طریقہ کار ہے اسے ہی اپنانا ہو گا۔

،تصویر کا کیپشنگذشتہ 150 سال سے جاری راہدری پر آمدورفت کی سہولت کے خاتمے سے متعلق نوٹیفیکیشنز کا اجرا ایسے موقع پر کیا گیا جب ایران کو امریکی و اسرائیلی حملوں کا سامنا ہے

ضلع چاغی سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی علی رضا رند نے بتایا کہ سرحدی علاقوں کے رہنے والے راہداری کا اجازت نامہ باآسانی ڈپٹی کمشنرز کے آفس سے بنوا سکتے تھے اور اس کی کوئی فیس نہیں تھی۔

یہ راہداری 15 روز کے لیے جاری کی جاتی تھی۔

ایران سے متصل تین اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشنز میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے ایران کے لیے راہداری پر آمدورفت پر فوری طور پابندی عائد کی ہے ۔

نونٹیفیکشنز میں کہا گیا ہے یکم اپریل سے پاکستان اور ایران کے درمیان راہداری پر آمدورفت کا نظام ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے اور اب ایرانی سرحد پر آمد و رفت صرف اور صرف پاکستانی پاسپورٹ اور ایرانی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ویزے کی بنیاد پر ہی ہو گی۔

نوٹیفیکیشنز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئندہ پاکستانی شہری راہداری کے حصول کے لیے ڈپٹی کمشنرز کے آفس آنے کی زحمت نہ کریں۔

،تصویر کا ذریعہDC OFFICE PANJGUR

،تصویر کا کیپشننونٹیفیکشنز میں کہا گیا ہے یکم اپریل سے پاکستان اور ایران کے درمیان راہداری پر آمدورفت کا نظام ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یاد رہے کہ چاغی سے گوادر تک پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد کی لمبائی 900 کلومیٹر سے زائد ہے اور بلوچستان کے پانچ اضلاع کی سرحدیں ایران سے لگتی ہیں جن میں چاغی ، واشک ، پنجگور، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔

ایران کے ساتھ سرحد کا تعین قیام پاکستان سے قبل انگریزوں کے دور میں کیا گیا تھا۔ اس سرحد کا تعین چونکہ ایک انگریز آفیسر گولڈ سمتھ کی سربراہی میں کیا گیا تھا، اسی لیے اسے گولڈ سمتھ لائن بھی کہا جاتا ہے۔

بلوچستان کے سابق چیف سیکریٹری احمد بخش لہڑی سرحدی ضلع چاغی میں طویل عرصے تک ڈپٹی کمشنر تعینات رہے ہیں۔

گزشتہ سال بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا تھا کہ کہ تفتان سے گوادر تک جن علاقوں سے سرحد اب گزرتی ہے قیام پاکستان سے پہلے یہ وہاں نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان سے قبل جب خان آف قلات کی عملداری تھی تو سرحدی پٹی کئی کلومیٹر ایران کے اندر موجود تھی۔

انھوں نے بتایا کہ سابق فوجی صدر ایوب خان کے دور میں ایران کے ساتھ سرحد کا جب نئے سرے سے تعین کیا گیا تو ماضی میں پاکستان میں شامل تصور کیا جانے والا کئی کلومیٹر علاقہ ایران کے حوالے کر دیا گیا۔

جس طرح افغانستان کے ساتھ ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف پشتون قبائل کے لوگ آباد ہیں اسی طرح ایران کے ساتھ سرحد کی دونوں جانب بلوچ قبائل کے لوگ آباد ہیں اور ان کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں۔

اور ان قبائل کے لوگوں کو ڈپٹی کمشنروں کی جانب سے جاری کی جانے والی راہداری پرمٹس پر ایران آمدورفت کی اجازت ہوتی تھی۔

،تصویر کا کیپشنایران کے ساتھ سرحد کی دونوں جانب بلوچ قبائل کے لوگ آباد ہیں اور ان کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں

احمد بخش لہڑی کے مطابق قیام پاکستان سے قبل ایران کے ساتھ سرحد کی دونوں اطراف آباد قبائل کے لوگوں کو نہ صرف 60 کلومیٹر کی حدود میں اپنے مویشیوں کو چرانے کی اجازت تھی بلکہ وہ اپنی پیداوار کو بھی اس حدود میں ایک دوسرے کے علاقوں میں فروخت کر سکتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد بھی دونوں اطراف کے لوگوں کے لیے راہداری پر آمد ورفت کی سہولت کے علاوہ دیگر سہولیات کو برقرار رکھا گیا۔

بلوچستان کے سرحدی علاقوں کے لوگوں کے معاش اور روزگار کا انحصار نہ صرف پہلے ایرانی سرحد پر تھا بلکہ موسمیاتی تبدیلوں کے نتیجے میں خشک سالی کے باعث زراعت اور مال مویشی کے متاثر ہونے کی وجہ سے سرحدی علاقوں کے لوگوں کا ایرانی تیل اور خوراکی اشیا پر انحصار پہلے کے مقابلے میں زیادہ بڑھ گیا۔

’اب ہم اپنے رشتہ داروں سے شاید باآسانی نہ مل سکیں‘

ایران کی سرحد کے قریب واقع شہر کپکپار سے تعلق رکھنے والے عبدالمجید کپکپاری ان ہزاروں افراد میں شامل ہیں جو ایران کے سرحدی علاقوں میں مقیم اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے ماضی میں راہداری کی سہولت سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔

انھوں نے راہداری پر پابندی کے فیصلے کو مقامی افراد کے لیے ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’پہلے سرحدی علاقوں کے لوگ راہداری پر ایک دوسرے کی خوشی اور غمی کے موقع پر آسانی کے ساتھ مل سکتے تھے مگر شاید اب یہ اتنا آسان نہ رہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حکومت کی جانب سے پہلے ہی عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے کپکپار اور دیگر سرحدی علاقوں کے لوگ اپنے معاش اور روزگار سے محروم ہو رہے تھے مگر اب راہداری پر پابندی کی وجہ سے وہ آسانی کے ساتھ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ بھی نہیں مل سکیں گے۔‘

سردار جلیل محمدانی کا تعلق ضلع چاغی کے سرحدی شہر تفتان سے ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اُن کے قبیلے کے آدھے لوگ زاہدان اور ایران کے دیگر علاقوں میں مقیم ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’راہداری کے خاتمے سے سرحدی علاقوں کے لوگ ایک مشکل سے دوچار ہوں گے، اس لیے ہماری خواہش اور اپیل یہی ہے کہ حکومت اس کو ختم نہ کرے۔‘

تفتان سے تعلق رکھنے والے رفیق ساسولی بھی مقامی تجارت اور کاروبار کی غرض راہداری پر ایران کا سفر کرتے رہے ہیں۔

،تصویر کا کیپشنسرحدی علاقوں کے لوگوں کا ایرانی تیل اور خوراکی اشیا پر انحصار پہلے کے مقابلے میں زیادہ بڑھ چکا ہے

انھوں نے بتایا کہ اب راہداری کی سہولت کے خاتمے سے نہ صرف ان کو کاروبار کے حوالے سے مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ ملنا بھی آسان نہیں رہے گا۔

حکومت بلوچستان کے ایک سابق سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ قیام پاکستان کے بعد سے 1965 میں سرحدی لوگوں کے حوالے سے جو معاہدہ ہوا تھا اس میں ضلعی حکام کی جانب سے راہداری کا اجراء بھی شامل تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت راہداری پر پاکستان کے سرحدی علاقوں کے شہری 60 کلومیٹر تک ایران کے اندر تک جا سکتے تھے جبکہ ایران کے لوگ سرحد سے 60 کلومیٹر تک پاکستان میں آسکتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں زیادہ لوگوں کو راہداری دی جاتی تھی لیکن گزشتہ چند سال سے وفاقی حکام نے اسے صرف سرحد کے قریب لوگوں تک محدود کیا تھا جس کی وجہ سے ان کی تعداد کم ہوگئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ راہداری پر جس شخص نے جانا ہوتا تھا وہ ڈپٹی کمشنر کے پاس دو ضامنوں کے ساتھ آتا تھا جس پر ڈپٹی کمشنر ان کو 15 دن کے لیے راہداری دیتا تھا۔

سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ ایک فرد کو عام طور پر 6 ماہ کے لیے ایک راہداری دی جاتی تھی تاہم ایمرجنسی کی صورت میں تین ماہ کے لیے بھی ایک راہداری دی جاتی تھی۔

انھوں نے کہا کہ اب پاسپورٹ اور ویزا کے حوالے سے بھی لوگوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ان کے اجرا کے لیے سرحد پر 6 پوائنٹ قائم کیے جارہے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا جو اضلاع سرحد پر ہیں ان کے ہیڈکوارٹرز سرحد سے بہت زیادہ دور ہیں جس کے باعث پہلے لوگوں کو راہداری کے لیے ضلعی ہیڈ کوارٹر آنا پڑتا تھا اور پھر وہاں سے ایران جانا پڑتا تھا ۔

انھوں نے بتایا کہ اب تو سرحد پر ہی پاسپورٹ اور ویزا کی سہولت ہوگی اور پاسپورٹ اور ویزا کے حوالےسے بھی زیادہ سے زیادہ سہولیات زیر غور ہیں۔