انڈیا میں ہتھنی کی موت پر تنازع اور غیرملکی خاتون فوٹوگرافر پر الزامات: ’غلط معلومات شیئر کرنے سے پہلے تصدیق کر لیا کریں‘

،تصویر کا ذریعہJulia Buruleva/Facebook

،تصویر کا کیپشنفوٹرگرافر کے مطابق یہ شوٹ انھوں نے چار مہینے قبل کیا تھا
    • مصنف, موہر سنگھ مینا
    • عہدہ, جے پور
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

انڈیا کے شہر جے پور کے علاقے امیر میں ’چنچل‘ نامی بوڑھی ہتھنی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں اسے گلابی رنگ سے سجا دیکھا جا سکتا ہے۔

لیکن یہ تصویر وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر ایک تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ غیر ملکی خاتون فوٹوگرافر جولیا برولیوا کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی یہ تصویر نومبر 2025 کے دوران کیے گئے ایک فوٹو شوٹ کی بتائی جا رہی ہے۔

چنچل چار فروری 2026 کو مر گئی تھی، لیکن اس تصویر کے سامنے آنے کے بعد بعض افراد کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ چنچل کی موت پینٹ کے استعمال کے باعث ہونے والے انفیکشن کی وجہ سے ہوئی تھی۔

تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ اور مقامی لوگوں کے دعوے ان الزامات کے برعکس ہیں۔

جانوروں کے حقوق کی تنظیم ’پیٹا‘ نے کہا کہ اس واقعے نے قید میں رکھے گئے ہاتھیوں کی حالت زار پر پائی جانے والی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔

’پیٹا‘ سے وابستہ خوشبو گپتا نے سواری اور دیگر مقاصد کے لیے ہاتھیوں کے استعمال پر پابندی لگانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMohar Singh Meena

تنازع ہے کیا؟

غیر ملکی فوٹوگرافر جولیا برولیوا نے 24 مارچ کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک تصویر شیئر کی تھی۔

جے پور کے تفریحی مقام پانا مینا کا کند کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اُنھوں نے لکھا کہ ’میں نے جے پور میں چھ ہفتے گزارے۔ گلابی ملبوسات جے پور کے ہی ہیں۔ لوگ اسے پنک سٹی کہتے ہیں۔ اسی لیے میں نے اپنے تمام جے پور شوٹس میں اس گلابی تھیم کو فالو کیا ہے۔ میں نے تصور، سٹائل، پروڈکشن، شوٹنگ اور ایڈیٹنگ سب خود کیا ہے۔‘

اس سے چار روز قبل اُنھوں نے گلابی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس ایک ریستوران کی چھت پر کھڑی خاتون کی تصویر شیئر کی اور لکھا کہ ’میں نے جے پور میں چھ ہفتے گزارے اور یہ پنک سٹی سیریز بنائی، یہ میری انڈیا کی مہم کا حصہ ہے۔‘

اس کے بعد اُنھوں نے ایک اور تصویر شیئر کی جس میں ایک ہتھنی پر گلابی رنگ کیا گیا تھا جبکہ گلابی کپڑے پہنے ایک ماڈل اس پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس معاملے پر ایک تنازع کھڑا ہو گیا۔

،تصویر کا ذریعہX

تنازع کے بڑھتے ہی جولیا نے سوشل میڈیا پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’گلابی ہتھنی کے بارے میں بہت سی غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس نے شروع کیا، لیکن جو کچھ مجھے بتایا گیا ہے، وہ ہتھنی حال ہی میں بڑھاپے کی وجہ سے مر گئی ہے جو افسوسناک ہے۔‘

جولیا نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ فوٹو شوٹ چار ماہ پہلے ہوا تھا اور اس کا ہتھنی کی موت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ’براہ مہربانی غلط معلومات شیئر کرنے سے پہلے تصدیق کر لیا کریں۔‘

پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہMohar Singh Meena

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ہسپتال میں تین ڈاکٹروں کی ٹیم نے چنچل کا پوسٹ مارٹم کیا تھا۔ ٹیم میں سے ایک ڈاکٹر اروند ماتھر نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ چنچل کی موت طبعی تھی۔

اروند ماتھر کہتے ہیں کہ ’چنچل سب سے بوڑھی ہتھنی تھی۔ اس کی عمر تقریباً 70 سال تھی۔ بڑھاپے کی وجہ سے اس کے جسم میں بہت سی تبدیلیاں آ گئی تھیں۔ اس کی موت اعضا کے ناکارہ ہونے، سانس اور دل کی دھڑکن بند ہونے کی وجہ سے ہوئی۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا رنگ کی وجہ سے کوئی انفیکشن ہوا ہے تو اُنھوں نے اس امکان کو رد کیا۔

ڈاکٹر اروند ماتھر نے کہا کہ ’نہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔ یہ درست نہیں ہے کہ موت رنگ کی وجہ سے ہوتی ہے۔‘

ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر وجے پال سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اس کے بعد ہی ہم کچھ کہہ سکیں گے۔

محکمے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہمیں اس معاملے پر بات کرنے سے منع کیا گیا ہے، ابھی تک تحقیقات کے لیے کوئی باضابطہ احکامات نہیں دیے گئے ہیں۔

تاہم ہاتھی ولیج کمیٹی کا کہنا ہے کہ تصاویر وائرل ہونے کے بعد محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے اُنھیں پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا۔

عینی شاہدین کیا کہتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہMohar Singh Meena

28 سالہ دنیش کمار مینا اس دن موقع پر موجود تھے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ ’میرے سامنے ہتھنی اور ماڈل کو گلابی رنگ میں پینٹ کیا گیا تھا۔ فوٹو شوٹ کے اختتام تک رنگ لگانے میں تقریباً دو گھنٹے لگے تھے۔‘

دنیش کے مطابق اس دوران ہتھنی کو مکمل طور پر گلابی رنگ میں رنگ دیا گیا تھا، جو بعد میں تصاویر میں بھی نظر آتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے نومبر میں ہونے والے اس فوٹو شوٹ کی تصاویر صرف چار روز قبل سوشل میڈیا پر دیکھی تھیں۔

ہاتھی ولیج کمیٹی کے صدر بلو خان ​​کا خیال ہے کہ یہ سارا تنازعہ سوشل میڈیا کی پیداوار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فوٹوشوٹ حالیہ نہیں بلکہ تقریباً ایک سال پرانا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ تصاویر چند روز قبل سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تھیں جس سے ہنگامہ برپا ہو گیا تھا۔ بغیر کسی کیمیائی رنگ کے ہتھنی اور ماڈل کو پینٹ کیا گیا تھا۔

بلو خان ​​کا کہنا ہے کہ یہ تقریباً 20 منٹ کا فوٹو شوٹ تھا اور اس کے فوراً بعد ہتھنی کو پانی سے صاف کیا گیا تھا۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ چنچل کے بڑھاپے کی وجہ سے وہ پچھلے پانچ سالوں سے کسی قسم کی سواری میں استعمال نہیں ہو رہی تھیں۔

بلو خان کہتے ہیں کہ 140 ایکڑ اراضی پر پھیلے ہاتھی گاؤں میں کل 76 ہاتھی ہیں جن میں سے تین نر اور 73 مادہ ہاتھی ہیں۔

جانوروں کے حقوق کے کارکن کیا کہتے ہیں؟

جانوروں کے حقوق کی تنظیم ’پیٹا انڈیا‘ کی نائب صدر خوشبو گپتا نے بی بی سی نیوز ہندی کو بتایا کہ ’فوٹو شوٹ کے لیے گلابی رنگ میں رنگنے کے بعد ہاتھی چنچل کی موت کی خبر انڈیا میں قید ہاتھیوں کے لیے تشویشناک صورتحال کی علامت ہے جو جسمانی اور ذہنی طور پر استحصال کا شکار ہیں۔‘

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’سواریوں، شادیوں اور دیگر پرفارمنس کے لیے استعمال ہونے والے ہاتھیوں کو عام طور پر زنجیروں میں جکڑ کر رکھا جاتا ہے اور انھیں ہتھیاروں سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔‘

خوشبو گپتا کے مطابق، ’یہ حالات شدید تناؤ کا باعث بنتے ہیں اور خطرناک واقعات کا باعث بنتے ہیں، جیسے کہ پریشان ہاتھیوں کے لوگوں پر حملے۔ یہ ہاتھی اکثر بصارت سے محروم ہوتے ہیں اور کنکریٹ پر رہنے اور کام کرنے پر مجبور ہونے کی وجہ سے ٹانگوں میں دردناک مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ اکثر ذہنی تناؤ اور پریشانی کے آثار دکھاتے ہیں، جیسے مسلسل ہلنا، سر ہلانا وغیرہ۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’انسانوں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے پر مجبور، یہ مایوس ہاتھی غیر متوقع طور پر جارحیت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ راجستھان میں سواریوں اور دیگر پرفارمنس میں شامل ہاتھیوں کے حملوں کے واقعات باقاعدگی سے پیش آتے ہیں۔‘