سکھ خاتون کو مسلمان سمجھ کر ریپ کرنے والے شخص کا اعتراف جرم: ’اس نے کہا مجھے دی ماسٹر کہو‘

،ویڈیو کیپشنسی سی ٹی وی فوٹیج میں جان ایشبی کو ایک خاتون کا پیچھا کرتے ہوئے ان کے گھر تک جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس کے بعد اس نے خاتون کا ریپ کیا۔
    • مصنف, کلوی ہیوز
    • عہدہ, بی بی سی
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

برطانیہ میں ایک شخص نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے ایک سکھ خاتون کے گھر میں داخل ہو کر ان کا ریپ کیا اور اس دوران مذہب کی بنیاد پر نفرت انگیز زبان بھی استعمال کی۔

32 سالہ جان ایشبی نے یہ اعتراف اپنے خلاف مقدمے کے دوسرے دن سماعت کے دوران کیا۔ یہ مقدمہ برمنگھم کراؤن کورٹ میں پیر کے روز شروع ہوا تھا۔

انھوں نے پہلے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے انکار کیا تھا، تاہم منگل کے روز انھوں نے تسلیم کر لیا کہ وہ اکتوبر 2025 میں والسال میں ہونے والے اس حملے کے ذمہ دار ہیں۔

ایشبی نے اپنے وکیل سے بات کرنے کی درخواست اس وقت کی جب ایک شخص نے عدالت میں ان کے خلاف سخت الفاظ کہے اور کارروائی میں خلل پڑا۔

استغاثہ کے وکیل فل بریڈلی کے سی نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ خاتون کے لیے یہ ایک خوفناک تجربہ تھا جس کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ پچھلے سال خزاں میں بس سے اتریں تو ملزم نے ان کا پیچھا شروع کر دیا۔

خاتون کو معلوم نہیں تھا کہ وہ شخص ان کے گھر میں بھی داخل ہو چکا ہے، جہاں وہ باہر سے اٹھائی گئی ایک دو فٹ لمبی لکڑی بھی ساتھ لے آیا تھا۔

مقدمے کے آغاز پر جیوری کو بتایا گیا کہ گھر میں آواز سن کر خاتون، جو ملزم کو نہیں جانتی تھی، خود کو باتھ روم میں بند کرنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن ملزم زبردستی اندر داخل ہو گیا اور اس نے ان کا ریپ کیا۔

استغاثہ کے مطابق ’باتھ روم میں داخل ہونے کے بعد اس نے لائٹ بند کر دی اور کہا کہ وہ ’یہاں مزے کرنے آیا ہے‘۔‘

عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ دورانِ حملہ ملزم نے متاثرہ پر اسلام مخالف نفرت انگیز جملے بھی کہے، کیونکہ غلط فہمی کی بنیاد پر وہ سمجھتا تھا کہ خاتون مسلمان ہے۔

جان ایشبی کو دو دن بعد برمنگھم کے علاقے پیری بار میں گرفتار کیا گیا۔

جیوری کو بتایا گیا کہ پولیس انٹرویو کے دوران جب ایشبی کو متاثرہ خاتون کی تصویر دکھا کر پوچھا گیا کہ کیا وہ انھیں جانتا ہے، تو اس نے سوال کیا کہ وہ حجاب کیوں نہیں پہنتیں؟

عدالت کو یہ بھی معلوم ہوا کہ جب اسے حراست کے دوران پولیس سٹیشن میں رکھا گیا تو اس نے کہا: ’اب پیری بار میں آپ کو زیادہ انگریز مرد نظر نہیں آتے۔‘

،تصویر کا ذریعہWest Midlands Police

،تصویر کا کیپشنجان ایشبی نے منگل کے روز جرم کا اعتراف کر لیا۔

’میں مزے لینے آیا ہوں‘

پیر کے روز متاثرہ خاتون کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے وکیل فل بریڈلی نے عدالت کو بتایا: ’خاتون کی چیخ و پکار کے باوجود ملزم نے انھیں کپڑے اتارنے کو کہا، لکڑی کے ڈنڈے سے انھیں مارا، اور ان کے گلے پر ہاتھ رکھ کر اسے دبا دیا اور انھیں باتھ ٹب میں جانے کا حکم دیا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ملزم نے گرم پانی کا نل کھولا اور ان پر پانی ڈالنا شروع کر دیا، اور اس دوران انھیں کہا کہ وہ کہیں ’ہیللوجاہ‘۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ایشبی نے خاتون کو بتایا کہ اس کا نام جان ہے اور اس نے ان پر زور دیا کہ وہ کہیں کہ وہ ’دی ماسٹر‘ ہے۔

استغاثہ کے مطابق حملے کے بعد ملزم نے خاتون کو بیڈ روم میں جا کر بستر پر لیٹنے کا حکم دیا اور پھر دوبارہ کہا کہ وہ ’مزے کے لیے آیا ہے‘، اس موقع پر اس نے اپنے جسم کے حوالے سے نسلی اور سفید فام برطانوی ہونے سے متعلق نامناسب باتیں کیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ یہ حملہ اس وقت ختم ہوا جب ملزم باہر کسی آواز سے گھبرا گیا اور موقع سے فرار ہو گیا، جاتے ہوئے وہ متاثرہ خاتون کے زیورات اور موبائل فون بھی لے لیا۔

جیوری کو بتایا گیا کہ خاتون نے فوراً پولیس کو اطلاع دی اور پولیس چند منٹوں میں موقع پر پہنچ گئی۔

بعد ازاں شناختی پریڈ میں خاتون نے ملزم کو بطور حملہ آور شناخت کیا۔

منگل کے روز ایشبی نے زیادتی، ڈکیتی، جان بوجھ کر گلا گھونٹنے اور مذہبی بنیادوں پر کیے گئے حملے کے الزامات کا اعتراف کر لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عدالت میں گالیاں

عدالت میں ایشبی اور عوام میں سے ایک شخص کے درمیان یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایشبی مبینہ طور پر زیرِ لب گالی دیتا نظر آیا۔

اس پر ایک شخص، جسے سکھ کمیونٹی کا رکن اور کیس میں دلچسپی رکھنے والا بتایا گیا ہے (جو متاثرہ خاتون کو نہیں جانتا تھا)، خاموشی سے ڈاک (عدالتی کٹہرے) کے قریب تقریباً تین فٹ تک آیا اور اس نے بھی جواباً گالی دی۔

عدالت کے ایک عملے نے صورتحال کو نہایت پُرسکون انداز میں سنبھالا، جس پر جج جسٹس پیپیرال نے ان کی تعریف کی۔

ایشبی کو جمعے کے روز سزا سنائی جانی ہے، اور جج نے انھیں خبردار کیا ہے کہ وہ عمر قید کی سزا دینے پر غور کر رہے ہیں۔

جج نے کہا: ’مجھے لگتا ہے کہ جو شخص ایک اجنبی کے گھر میں گھس کر ایسے جرائم کرے اور متاثرہ کے فرضی مذہب کی بنیاد پر اس سے دشمنی ظاہر کرے، وہ ایک خطرناک شخص ہے۔‘