نیویارک میں فلسطین کی حامی کارکن کے گھر پر بم پھینکنے کے الزام میں ایک شخص گرفتار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننیردین کسوانی کا کہنا نے کہ وفاقی حکام نے انھیں جمعرات کے روز مطلع کیا تھا کہ ان کی 'جان لینے کی سازش' کی جا رہی ہے۔
    • مصنف, ناردین سعد
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نیویارک میں مقیم فلسطینی حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن کے خلاف مبینہ طور پر ’پرتشدد حملے‘ کی منصوبہ بندی کے الزام میں ایک 26 سالہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

فلسطینی حقوق کی کارکن نیردین کسوانی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک پیغام میں لکھا ہے کہ وفاقی حکام نے انھیں جمعرات کے روز مطلع کیا تھا کہ ان کی ’جان لینے کی سازش‘ کی جا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ الیگزینڈر ہیفلر نامی ایک شخص کو نیو جرسی سے حراست میں گیا ہے۔ ہیفلر پر غیر قانونی طور پر تباہ کن آلات بنانے اور اپنے پاس رکھنے کا الزام عائد ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق، حکام کو اس کے ہوبوکن، نیو جرسی میں واقع گھر سے آٹھ مولوٹوف کاک ٹیل ملے ہیں۔ مولوٹوف کاک ٹیل کو عام زبان میں پیٹرول بم کہا جاتا ہے۔

تاہم عدالتی دستاویز میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انھوں نے حملے کا منصوبہ کیوں بنایا تھا۔

امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق ہیفلر ایک امریکی شہری ہے۔

سی بی ایس نیوز کی خبر کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ایک ’انتہا پسند‘ ہیں جن کا نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ میں اس سے قبل کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں۔

پولیس کا خیال ہے کہ ہیفلر اکیلے کام کر رہا تھا اور وہ کسی بیرون ملک دہشت گرد گروپ کا حصہ نہیں اور نہ ہی کسی غیر ملکی حکومت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

نیویارک کی پولیس کمشنر جیسیکا ٹِش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ، ’نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کی تحقیقات کے دوران الیگزینڈر ہیفلر کی جانب سے نیردین کسوانی کے خلاف پرتشدد حملہ کرنے کی مبینہ سازش سامنے آئی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

،تصویر کا کیپشننیردین کسوانی نیو یارک شہر میں قائم فلسطینی حامی تنظیم ودِن آور لائف ٹائم کے شریک بانی ہیں۔
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ سازش گذشتہ ماہ کے اوائل میں شروع ہوئی جب ہیفلر نے 10 فروری کو ایک ’سیلف ڈیفنس‘ گروپ کے ساتھ ایک ویڈیو کال میں حصہ لیا۔ اس کال میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کا ایک خفیہ افسر بھی شامل تھا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس گروپ کال کے دوران ہیفلر نے مبینہ طور پر پوچھا کہ کیا اس گروپ میں کوئی کسی ایسی جگہ کی نشاندہی کر سکتا ہےجہاں وہ ’مولوٹوف‘ پھینک سکیں۔ بعد ازاں انھوں نے کسوانی کے گھر میں توڑ پھوڑ کرنے کے منصوبوں پر بات کی۔

اس کے بعد ہیفلر نے خفیہ ایجنٹ کے ساتھ ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران ہیفلر نے مبینہ طور پر ایجنٹ کو بتایا کہ انھوں نے کسوانی کا پتہ حاصل کر لیا ہے جس کے بعد ان دونوں نے چار مارچ کو کسوانی کے گھر کی نگرانی کی۔

ہیفلر نے مبینہ طور پر کہا کہ مولوٹوف کاک ٹیل بنانا مشکل نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے ملک چھوڑنے کے لیے فرار کا منصوبہ بنا لیا ہے۔

26 مارچ کو ہیفلر نے منصوبے کے مطابق کسوانی کے گھر کے قریب ایجنٹ سے ملاقات کی۔

فردِ جرم عائد کرنے کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ہیفلر کے پاس شراب کی ایک بڑی بوتل کے ساتھ دیگر مواد بھی تھا جسے وہ متعدد مولوٹوف کاک ٹیل بنانے کے لیے استعمال کرنے والے تھے۔ وہ ان بموں کو کسوانی کی رہائش گاہ اور کاروں پر پھینکنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق اس ملاقات کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے ہیفلر کی رہائش گاہ کی تلاشی لی جہاں سے آٹھ مولوٹوف کاک ٹیل برآمد ہوئے۔

نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ نیو یارک شہر میں قائم فلسطینی حامی تنظیم ودِن آور لائف ٹائم کے شریک بانی کسوانی کو ہیفلر کی گرفتاری کے بعد ان کی جان کو لاحق خطرے سے آگاہ کیا گیا۔

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ ہیفلر یہودی ڈیفنس لیگ کا مبینہ رکن تھا۔ ایف بی آئی نے اس تنظیم کو ایک معروف پرتشدد انتہا پسند تنظیم کے طور پر نامزد کر رکھا ہے۔

ممدانی کا کہنا ہے کہ اس نے ’سیاسی تشدد اور قاتلانہ سازش کے تحت نیردین کسوانی کے گھر کو اڑانے کی کوشش کی۔‘

کسوانی فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے قبضے کی کھلم کھلا مخالفت کرتی آئی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ انتہائی دائیں بازو کے گروہ ان کے اور دیگر فلسطین حامی کارکنوں کا ’مسلسل تعاقب، ہراساں کرنے، ڈرانے دھمکانے اور شہری حقوق کی خلاف ورزیوں کی مہم میں مصروف ہیں۔‘