آبنائے ہرمز میں دو انڈین پرچم پردار بحری جہازوں پر ’فائرنگ‘ اور انڈیا کی تشویش: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا نے آبنائے ہرمز میں دو انڈین جہازوں پر فائرنگ کر کے دو جہازوں کا رخ تبدیل کرنے کے واقعے پر ایران سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انڈین وزارت خارجہ نے سنیچر کے روز انڈیا میں تعینات ایرانی سفیر محمد فتح علی کو طلب کیا اور ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کے بعد آبنائے ہرمز میں انڈین کے پرچم والے دو بحری جہازوں کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے بعد سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔
انڈین وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ وکرم مصری نے اس واقعے پر اپنی ’گہری تشویش‘ سے آگاہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین سیکریٹری خارجہ نے ملاقات کے دوران سمندری راستوں کی سلامتی اور جہازرانی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔
انھوں نے کہا کہ ماضی میں ایران نے انڈیا سے آنے والے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے میں تعاون کیا تھا۔
انڈیا نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ انڈیا کی جانب آنے والے جہازوں کی آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ گزرگاہ کو دوبارہ یقینی بنائے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق، ایرانی سفیر نے انڈیا کے مؤقف کو تہران تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق ٹینکروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ٹینکر ٹریکرز نے بتایا کہ آڈیو ریکارڈنگز سے معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے مغرب میں سفر کرتے ہوئے دو انڈین جہازوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا اور اس دوران فائرنگ بھی ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قبل ازیں بی بی سی ویریفائی نے رپورٹ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھولے جانے کے دوران دو انڈین پرچم بردار بحری جہازوں کارگو جہاز ’جگ ارناو‘ اور آئل ٹینکر ’سنمار ہیرالڈ‘ کو پاسدارانِ انقلاب نے اپنے مقررہ راستے سے ہٹنے کا حکم دیا تھا۔
سمندری ٹریکنگ کے اعداد و شمار کے مطابق لارک جزیرے کو عبور کرنے کے بعد جہازوں کی رفتار کم ہوئی اور پھر وہ یو ٹرن لے کر واپس لوٹ گئے۔
’سنمار ہیرالڈ‘ تیل سے لدا ہوا ہے، جو حالیہ ٹریکنگ ڈیٹا کی بنیاد پر ممکنہ طور پر عراق سے آرہا ہے۔
انڈیا میں ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے نے کیا کہا؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انڈیا میں ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ کو بتایا کہ ’ایران اور انڈیا کے درمیان تعلقات بہت مضبوط ہیں اور میں اس واقعے سے واقف نہیں ہوں۔ ہمیں امید ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم یہ جنگ نہیں چاہتے، ہم امن چاہتے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ دوسرا فریق بھی امن کی پیروی کرے تاکہ ہمارے خطے میں امن قائم ہو۔‘
اس سے قبل برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر پر فائرنگ کی۔
’یو کے ایم ٹی او‘ کے مطابق یہ واقعہ عمان سے 20 ناٹیکل میل شمال مشرق میں پیش آیا۔ تاہم ٹینکر اور اس کا عملہ محفوظ بتایا جاتا ہے۔
دریں اثنا تین ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کو عبور کرنے کی کوشش کے دوران کم از کم دو تجارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کی گئی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے متعلق ایرانی میڈیا میں آنے والی خبروں کے بعد بہت سے بحری جہازوں نے اس سمندری راستے کو چھوڑ کر اپنا راستہ تبدیل کر لیا ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی فوج آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سنبھال رہی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوشل میڈیا پر ردِعمل
انڈین آئل ٹینکرز پر فائرنگ کا معاملہ انڈیا میں سوشل میڈیا پر بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ بعض انڈین صارفین ایران اور انڈیا کے تعلقات کے تناظر میں اس واقعے پر ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے ایک انڈین بحری جہاز کے عملے کی آڈیو بھی گردش کر رہی ہے جس میں وہ ایرانی فورسز سے بظاہر یہ التجا کر رہے ہیں کہ جہاز کو پہلے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اب فائرنگ کی جا رہی ہے۔
بی بی سی آزادانہ ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں کر سکا۔
تیجسوی پرکاش نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی سکیورٹی فورسز نے انڈین جہازوں پر فائرنگ کی اور ہمارے ٹینکرز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا اور ہماری حکومت نے صرف ایک احتجاج پر ہی اکتفا کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ایرانی سفیر کو ملک بدر کیا جائے اور اس کے ساتھ تجارت بھی روک دی جائے۔
اُنھوں نے سوال اُٹھایا کہ ’کیا یہ محض اتفاق ہے کہ پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران کے پرتپاک دورے کے فوراً بعد ایران نے ان جہازوں پر حملہ کیا؟ ہم ان سے لاکھوں بیرل تیل خرید رہے ہیں کیا یہ اس کا صلہ ہے؟‘
شیونک مشرا نامی صارف نے لکھا کہ ایران نے انڈیا کو دھوکہ دیا، پہلے انھوں نے ایک انڈین ٹینکر کو اجازت دی اور جب یہ آبنائے ہرمز پر پہنچا تو اُنھوں نے اس پر حملہ کر دیا۔
ڈاکٹر نیلما نامی صارف نے انڈین بحری جہاز کے عملے کی آڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’اس پر اعتبار نہ کریں۔ حکومتی ذرائع پہلے ہی اس واقعے کو قالین تلے دبا چکے ہیں۔ اس میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی جہاز کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آبنائے ہرمز کا دوبارہ کنٹرول اور کشیدگی میں اضافہ
ایران کے متعدد ذرائع ابلاغ نے ایرانی پاسدارنِ انقلاب کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز ’اپنی سابقہ حیثیت‘ پر واپس آ جائے گا اور مسلح افواج علاقے کو کنٹرول کر لیں گی۔
اس بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’ہم نے پہلے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے کچھ بحری جہازوں کا مشاہدہ کیا تھا، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے بحری جہاز اس راستے سے گزرے ہیں۔‘
بیان میں امریکہ پر ’بحری قزاقی‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کی نام نہاد ناکہ بندی ’قزاقی‘ کے مترادف ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ ہرمز میں ’امریکی ناکہ بندی‘ جاری رہے گی۔
ایران نے واضح کہا تھا کہ اگر امریکہ نے اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھی تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر بدھ تک ایران کے ساتھ کوئی بڑا معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر دوبارہ بمباری کی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ سے صحافیوں نے پوچھا کہ کیا وہ جنگ بندی میں توسیع کریں گے؟ ٹرمپ نے جواب دیا، ’میں شاید اس میں توسیع نہیں کروں گا۔ لیکن ناکہ بندی جاری رہے گی ۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمیں دوبارہ بمباری شروع کرنی پڑے گی۔‘
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی امیدیں ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’انھیں کچھ عرصہ قبل بہت اچھی خبر ملی۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ حالات بہتر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔‘
اہم خبریں
فیچر اور تجزیے
مقبول خبریں
مواد دستیاب نہیں ہے