’خوشی ہے ایران اور امریکہ نے اعتماد کا اظہار کیا‘: اسلام آباد میں چار وزرائے خارجہ کی ملاقات اور ٹرمپ کا بیان
،تصویر کا ذریعہISHAQ DAR/X
مصر، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی آمد کے باعث اتوار کو پاکستان کا دارالحکومت سفارتی سرگرمیوں اور ملاقاتوں کا مرکز بنا رہا۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں کو اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔
اتوار کو تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں چار ملکی اجلاس میں شرکت کی، جس کے بعد اتوار کو رات گئے تینوں وزرائے خارجہ واپس روانہ ہو گئے۔
اجلاس کے بعد جاری کیے گئے بیان میں پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پاکستان آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی میں فخر محسوس کرے گا، تاکہ اس تنازع کے دیرپا اور مستقل حل کی کوئی راہ نکل سکے۔‘
اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ اُنھیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ’امریکہ اور ایران نے پاکستان کی سہولت کاری میں مذاکرات پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ مصر، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے پاکستان کی جانب سے اس تنازع کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں پر اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں چار وزرائے خارجہ کا مشاورتی اجلاس اس سے پہلے 19 مارچ کو ریاض میں ہونے والے اس نوعیت کے پہلے مشاورتی اجلاس کا دوسرا حصہ تھا۔
،تصویر کا ذریعہX/@MIshaqDar50
پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کو امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات کے بارے میں آگاہ کیا، جنھوں نے اس معاملے میں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر ان کی چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ٹیلیفون پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’چین ایران اور امریکہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے پاکستان کے اقدام کی مکمل حمایت کرتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے بھی ٹیلی فونک بات چیت ہوئی۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سیکرٹری جنرل نے بھی پاکستان کے امن اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ اور وزیر اطلاعات تصدیق کر چکے ہیں کہ اسلام آباد، واشنگٹن اور تہران کے مابین مذاکرات کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس حوالے سے اسلام آباد میں مذاکرات کی تیاریاں بھی ہو رہی ہیں۔
امریکی صدر کے مشرق وسطی کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے بھی تصدیق کی تھی کہ پاکستان اس معاملے میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
تین ممالک کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں مصروفیات
واضح رہے کہ مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر العاطی اور ترک وزیر خارجہ حقان فیدان سنیچر کی شب اس چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچے تھے۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود ان مذاکرات میں شرکت کے لیے اتوار کی دوپہر اسلام آباد پہنچے تھے۔
چار ملکی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد پاکستانی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے بیان جاری کیا گیا کہ مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے بھی شہباز شریف ملاقات کی ہے۔
بیان کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف نے دونوں وزرائے خارجہ کو پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے آگاہ کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ایران سمیت متعدد برادر مسلم ممالک میں جاری کشیدگی کے نتیجے میں قیمتی جانوں، معیشت اور املاک کا بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔
،تصویر کا ذریعہMOFA
اسحاق ڈار کی پوسٹ اور صدر ٹرمپ کا بیان
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس سے قبل سنیچر کو اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’مجھے ایک بڑی خبر بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ حکومت ایران نے پاکستانی پرچم والے مزید 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ روزانہ دو جہاز آبنائے سے گزریں گے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ایران کی طرف سے یہ ایک خوش آئند اور تعمیری اقدام ہے اور لائق تحسین ہے۔ یہ امن کا ضامن ہے اور اس سے خطے میں استحکام لانے میں مدد ملے گی۔‘
اسحاق ڈار کی اس پوسٹ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا۔
بعدازاں ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمارے ایران کے ساتھ براہ راست اور بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔ پہلے اُنھوں نے 10 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے اور اب اُنھوں نے ہمارے احترام میں 20 تیل سے لدے بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔‘
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم ان مذاکرات میں بہت اچھا کر رہے ہیں، لیکن آپ ایران کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ کسی ڈیل پر پہنچ جائیں گے۔ ہم پہلے ہی رجیم تبدیل کر چکے ہیں، کیونکہ اب ہم جن افراد سے گفتگو کر رہے ہیں، وہ پہلے والوں سے مختلف ہیں اور میں اسے رجیم چینج ہی قرار دُوں گا۔‘
،تصویر کا ذریعہScreengrab
’مسلم کواڈ‘ کی اہمیت
چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے پر سوشل میڈیا پر بھی بات ہو رہی ہے اور ماہرین بھی اس پر مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
سینئر سیاست دان اور سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے ایکس پر لکھا کہ ’مسلم کواڈ میٹ‘ کی تین گنا اہمیت ہے۔ ایک یہ کہ یہ تنازعات کے حل کے لیے اسلامی دُنیا کے اندر پہلا اجتماعی اقدام ہے۔ یہ قابل اعتبار ہے، کیونکہ اس میں پاکستان اور ترکی شامل ہیں۔‘
دوسرا یہ کہ ’اس میں ایران کے پڑوسی دو اہم ممالک شامل ہیں جبکہ تیسرا اہم پہلو یہ ہے کہ جنگ کے دوران ایران اور امریکہ، دونوں نے اسلام آباد پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔‘
سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے ایکس پر لکھا کہ ’چاروں ممالک کو ایک ’چمکدار‘ مشترکہ اعلامیے جاری کرنے کے بجائے فی الحال خاموش سفارتکاری کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنا چاہیے۔‘
صحافی اور تجزیہ کار نسیم زہرا نے ایکس پر لکھا کہ اسلام آباد میں وزرائے خارجہ کا اجلاس ’ایک نازک عمل کا صرف آغاز ہے۔ ایک ایسے وقت میں ہے جب دنیا کا بیشتر حصہ یا تو فریقوں کا انتخاب کر چکا ہے یا سٹریٹجک خاموشی اختیار کر چکا ہے، پاکستان نے اس سے کہیں زیادہ سخت کوشش کی ہے۔‘
’پاکستان نے کھل کر جنگ کی مخالفت کی ہے اور حملے کی زد میں آنے والی ریاست کا ساتھ دیا ہے اور اب بھی نتائج پر اثر انداز ہونے کے قابل تمام فریقوں کے ساتھ مصروف عمل ہے۔‘
اہم خبریں
فیچر اور تجزیے
مقبول خبریں
مواد دستیاب نہیں ہے