چھاتہ بردار فوج یا ’ہائی رسک لینڈنگ‘: ایرانی جزیرے خارگ پر قبضے کے لیے امریکہ کیا کر سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, فرینگ گارڈنر
- عہدہ, بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے جزیرہ خارگ پر قبضے کے لیے زمینی افواج بھجوا سکتے ہیں۔
جزیرہ خارگ ایران کی تیل برآمدات کا سب سے بڑا مرکز ہے، جہاں سے لاکھوں ٹن تیل دُنیا کے مختلف ممالک کو بھجوایا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے جزیرے پر قبضے کا منصوبہ کیا ہے، یہ کتنا قابلِ عمل ہے اور اس میں کیا خطرات ہو سکتے ہیں؟
ایران کے جنوب مغرب میں واقع جزیرہ خارگ 20 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور یہ صوبہ بوشہر کا حصہ ہے۔
یہ جزیرہ ایران کی تیل کی برآمدات کے لحاظ سے بہت اہم ہے اور تیل کی برآمدات کا بڑا ٹرمینل بھی یہاں موجود ہے۔
خارگ کو خام تیل کی برآمد اور لوڈنگ کے لیے سب سے موزوں مقام سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف جنوبی تیل سے مالا مال خطوں سے قریب ہے بلکہ یہاں بڑے آئل ٹینکرز کے لنگر انداز ہونے کے لیے گہرے پانی جیسی سہولیات بھی موجود ہیں۔
ایران کی 90 فیصد تیل کی برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے ہوتی ہیں۔
سنہ 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران عراقی فضائیہ کی طرف سے اس پر اکثر بمباری کی گئی تھی اور اس سال 13 مارچ کو امریکہ نے اس جزیرے پر 90 فیصد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ تاہم اس نے تیل کے بنیادی ڈھانچے پر بمباری نہیں کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگر امریکہ جزیرہ خارگ پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو غالباً یہ ایک عارضی اقدام ہو گا جس کا مقصد ایران پر ایندھن کی برآمدات کو کم کر کے اس پر دباؤ ڈالنا ہو گا جب تک کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنا تسلط ترک نہ کر دے۔
ایرانی حکومت کے تیور دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ آیا امریکی کی یہ حکمت عملی کام آئے گی یا نہیں۔
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی افواج کسی بھی حملہ آور امریکی افواج پر ’آگ برسائے‘ گی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ایران نے جزیرے پر اپنے دفاع کو مضبوط کیا ہے، جس میں زمین سے فضا میں مار کرنے والی میزائلوں کی بیٹریاں بھی شامل ہیں۔

ایران نے امریکہ پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ دھمکیاں دے کر دوغلی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
امریکہ خطے میں زمینی افواج بھی بھجوا رہا ہے، جس میں پانچ ہزار امریکی میرینز اور 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے دو ہزار چھاتہ بردار فوجی بھی شامل ہیں۔
اس کے بعد یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ امریکہ خارگ کے کنٹرول کے لیے دونوں طریقے استعمال کر سکتا ہے۔ چھاتہ بردار فوجی اس چھوٹے سے جزیرے، جس کا رقبہ صرف 20 مربع کلو میٹر ہے، پر اہم پوزیشنز پر قبضہ کرنے کے لیے شاید رات کے وقت حملہ کر سکتے ہیں۔
ایک آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ امریکی میرینز اوسپری ٹیلٹ روٹر ایئر کرافٹ اور لینڈنگ کرافٹ ایئر کشنڈ (ایل سی اے سی) جہازوں کے ذریعے خارگ میں لینڈ کریں، اسے ’ہائی رسک لینڈنگ‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن اس کے لیے طیارہ بردار بحری جہازوں کو ایرن کے زیر کنٹرول آبنائے ہرمز سے گزرنا ہو گا۔
اس صورت میں امریکی میرینز کا سامنا خلیج میں کسی بھی جگہ پر ایران کے خفیہ ڈرونز اور میزائل لانچ سائٹس سے ہو گا۔
سمندری راستے یا فضا کے ذریعے خارگ تک رسائی کی صورت میں امریکی فوجیوں کو بارودی سرنگوں اور لاتعداد ڈرونز حملوں کا بھی سامنا ہو گا۔ امریکی فوج اس پر قابو تو پا لے گی، لیکن اس دوران بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا بھی خدشہ ہے۔
اگر امریکی فوج اس جزیرے پر موجود رہتی ہے تو پھر اس کے الگ سکیورٹی چیلنجز ہوں گے۔
ماہرین اس صورتحال کا موازنہ بحیرہ اسود میں 'سنیک آئی لینڈ' سے بھی کرتے ہیں، جسے روس نے فروری 2022 میں حملے کے بعد قبضے میں لے لیا تھا۔ لیکن یوکرینی سرزمین سے مسلسل گولہ باری کی وجہ سے روس یہاں سے نکلنے پر مجبور ہو گیا تھا اور اسے بھاری جانی نقصان بھی اُٹھانا پڑا تھا۔
ایرانی سرزمین پر طویل امریکی کنٹرول بھی ایک غیر مقبول فیصلہ ہو گا۔ کیونکہ صدر ٹرمپ کے بعض حامیوں نے اُنھیں اس بنیاد پر ووٹ دیا تھا کہ وہ امریکہ کو اس نوعیت کے تنازعات میں اُلجھنے نہیں دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
حالیہ دنوں میں خارگ میں امریکی زمینی حملے کا اتنا شور مچایا گیا ہے کہ یہ کوئی فریب بھی ہو سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے لیے نہایت اہم سٹریٹجک جگہ ہے۔
لیکن خلیج میں دوسرے جزیرے بھی ہیں، جو امریکہ کی نگاہوں میں بھی ہو سکتے ہیں۔ ان میں جزیرہ لارک شامل ہے، جو بندر عباس کی کلیدی بندرگاہ سے دور اور آبنائے ہرمز کے دائیں طرف واقع ہے۔
ایران اس وقت تمام ٹینکر ٹریفک کی نگرانی کے لیے اس جزیرے کو استعمال کر رہا ہے اور مبینہ طور پر جہازوں کو جانے کی اجازت کے لیے 20 لاکھ ڈالرز تک طلب کر رہا ہے۔
اس کے بعد خارگ سے تقریباً 75 گنا بڑا قیشم جزیرہ ہے، جہاں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایران نے یہاں زمین کے نیچے میزائل اور ڈرونز رکھے ہوئے ہیں۔
تین مزید جزیرے ابوموسیٰ، تنب بزرگ اور تنب کوچک پر متحدہ عرب امارات بھی اپنا دعوی رکھتا ہے، تاہم یہ ایران کے کنٹرول میں ہیں۔
دوسرے ایرانی جزیروں کے ساتھ مل کر یہ خلیجی جزائر ایران کے لیے ایک حفاظتی ڈھال بناتے ہیں، جو جہاز رانی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور اسے ایک جغرافیائی فائدہ دے سکتے ہیں جو امریکہ کی زبردست فوجی قوت کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کا ایک طرح سے اثاثہ ہے۔
























