آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’اگر اپنے وزن کو قبول کر لیں تو زندگی میں خوشی آ جائے گی‘
’اگر اپنے وزن کو قبول کر لیں تو زندگی میں خوشی آ جائے گی‘
پاکستان میں آج بھی وزن کی جب بات کی جاتی ہے تو زیادہ وزن والے لوگوں کو معاشرے کے منفی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مگر پہلے کے مقابلے میں اس میں کمی آئی ہے۔ جس کی مثال سوشل میڈیا انفلوئنسر علینہ فاطمہ اور شہلا زید ہیں، جنھوں نے اپنے وزن کو اپنے شوق کے آگے نہیں آنے دیا۔ علینہ کی تین سال قبل پہلے وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد آج وہ لوگوں کے منفی رویوں کا ڈٹ کے مقابلہ کر رہی ہیں، اور اسی طرح شہلا اپنے کنٹینٹ کے ذریعے پلس سائز لوگوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔
یہ سب وہ کیسے کررہی ہیں جانیے اس ویڈیو میں۔
رپورٹر: نازش فیض
ویڈیو: نعمان مسرور