امریکی اڈوں، دفاعی معاہدوں کے باوجود ایرانی حملوں پر سوال: کیا خلیجی ممالک کو نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نسرین حطوم
- عہدہ, بی بی سی عربی
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
خطے میں حالیہ جنگ نے خلیجی ممالک میں دفاعی نظام کی افادیت کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے ہیں، خاص طور پر بڑی طاقتوں کے ساتھ دفاعی معاہدوں کے وجود اور ان ممالک کی سرزمین پر غیر ملکی فوجی اڈوں کی میزبانی کی روشنی میں۔
بظاہر یہ انتظامات کشیدگی کو روکنے یا خلیجی ممالک کی مکمل حفاظت کے لیے کافی نہیں تھے اور اسی وجہ سے دفاعی شراکت داریوں کی نوعیت اور ان کے مستقبل کے وسیع تر احاطے پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
اس حقیقت کے باوجود کہ متعدد خلیجی ریاستوں کے امریکہ اور مغربی شراکت داروں کے ساتھ سکیورٹی معاہدے ہیں، جنگ کے دوران بحران کے لمحات میں ان اتحادوں پر مکمل انحصار نے خلیجی حکام کو دفاعی آپشنز پر جامع نظرثانی کا مطالبہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔
ان میں قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری بھی شامل ہیں، جنھوں نے ایک حالیہ پریس کانفرنس میں اشارہ دیا کہ خلیجی ریاستوں کو موجودہ جنگ کی روشنی میں اپنے مشترکہ علاقائی سلامتی کے نظام کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ خلیجی ریاستوں کی دفاعی شراکت داری جنگ کے دوران دفاعی انداز میں کارگر ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ریاستوں کو موجودہ خطرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی رابطہ کاری کی سطح پر ایک متفقہ موقف کی ضرورت ہے۔
ماجد الانصاری کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ اتحادیوں کے ساتھ فوجی معاہدے دفاعی طور پر کامیاب رہے ہیں لیکن صرف اتحادیوں پر انحصار ناکافی ہے، اور یہ کہ خلیجی ریاستوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط کیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل کے کسی بھی خطرے کا متحد اور موثر جواب یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بحث ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے کہ آیا بڑی طاقتوں پر انحصار طویل مدت میں ایک مؤثر خلیجی آپشن رہے گا یا نئی دفاعی شراکت داری سامنے آ سکتی ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صحافی سیبسٹین روبلن دفاعی امور کے ماہر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ امریکہ نے (اسرائیل کے ساتھ مل کر) خلیجی ریاستوں میں واقع امریکی اڈوں کی بنیاد پر ایران کے خلاف جنگ شروع کی جس کے نتیجے میں ان ممالک کے خلاف ایرانی ردعمل سامنے آیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بی بی سی نیوز عربی کے ساتھ ایک انٹرویو میں روبلن نے کہا کہ خلیجی ریاستیں اس تنازع میں ذمہ داری سے مکمل طور پر مستثنیٰ نہیں ہیں۔ انھوں نے ان رپورٹس کا حوالہ دیا جن کے مطابق کچھ ممالک نے ’خاموشی سے‘ امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے کی ترغیب دی اور ایران کو کمزور کرنے کے موقع کے طور پر دیکھا کیوں کہ اسے ایک مستقل خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’یقیناً، قطر اور بحرین جیسی دیگر چھوٹی خلیجی ریاستیں بھی تھیں جو اس جنگ کی خواہشمند نہیں تھیں۔‘
واشنگٹن میں خلیجی بین الاقوامی فورم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر دانیہ ظفر کا ماننا ہے کہ ایران پر امریکی حملے سے خلیجی ریاستوں کی سلامتی پر کئی طرح سے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
بی بی سی نیوز عربی کے ساتھ ایک انٹرویو میں دانیہ ظفر نے کہا کہ ’ایران خلیجی ریاستوں پر امریکہ کے حملے سے پہلے کسی بھی طرح سے حملہ کرنے سے ہچکچا رہا تھا، جس کا مطلب ہے کہ امریکی موجودگی ایک رکاوٹ کا کام کرتی ہے، کیونکہ ایران نے اس عرصے کے دوران خلیجی ریاستوں میں سے کسی پر حملہ کرنے کی کوشش نہیں کی، جس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیٹرنٹ امن کے وقت میں کارآمد تھا۔‘
کویت یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر حماد التھونین کا خیال ہے کہ ’مسئلہ فوجی معاہدوں اور کوتاہیوں میں نہیں ہے، بلکہ فیصلہ سازوں کی صلاحیتوں میں ہے کہ وہ ملکوں کے درمیان تعلقات کو دانشمندی اور ذمہ داری کے ساتھ چلا سکتے ہیں۔‘
ان کے خیال میں ’بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ نے خلیجی مفادات کو مدنظر رکھے بغیر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی انتظامیہ کے مقاصد کو ترجیح دیتے ہوئے اس جنگ میں داخل ہونے کا انتخاب کیا۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی عربی کے ساتھ ایک انٹرویو میں التھونین نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ خلیجی ریاستوں کے تعلقات کشیدگی کے کئی مراحل سے گزرے ہیں، لیکن ان ممالک نے زیادہ تر سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دی ہے۔
بہت سے لوگوں نے حیرت کا اظہار بھی کیا ہے کہ خلیجی ریاستوں نے ایرانی حملوں کے جواب میں اب تک فوجی ردعمل کیوں نہیں دیا؟
دانیہ ظفر کہتی ہیں کہ خلیجی ریاستیں ایرانی حملوں کے خلاف مؤثر طریقے سے اپنا دفاع کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر کی میزائلوں کو روکنے کی شرح زیادہ تر دنوں میں 100 فیصد تک رہی۔
اگرچہ خلیجی ریاستیں ایران کے ساتھ براہ راست جنگ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، دانیہ ظفر کا خیال ہے کہ کسی بھی حملے کا ایران کی جانب سے کہیں زیادہ جارحانہ جواب دیا جائے گا، جس سے ان کے اہم انفراسٹرکچر کو خطرہ لاحق ہو گا اور اہم نقصانات ہوں گے۔
التھونین نے دعویٰ کیا کہ خلیجی فضائی دفاع نے تقریباً 94 فیصد ایرانی میزائلوں کو روکا، جو دفاعی سرمایہ کاری کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ان کا خیال ہے کہ ’خلیجی ریاستوں کی فوجی کارروائی کا سہارا لینے میں ہچکچاہٹ تین وجوہات کی وجہ سے ہے: یہ ہماری جنگ نہیں ہے، ہم نے اسے شروع نہیں کیا، اور یہ ہمارے مفاد میں نہیں ہے، یہ سٹریٹجک صبر کی عکاسی ہے، صلاحیت کی کمی نہیں۔‘
سیبسٹین روبلن کا خیال ہے کہ جنگ نے خلیجی ریاستوں کے لیے ایرانی ڈرونز کے خطرے کو بے نقاب کیا جنھیں ٹریک کرنا اور روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کم قیمت (US$20,000–40,000) ان کے خلاف پیٹریاٹ یا THAAD جیسے مہنگے میزائلوں کو معاشی طور پر ناکارہ بنا دیتی ہے۔
روبلن نے وضاحت کی کہ گلف ڈیفنس مانیٹرنگ کے یوکرائنی مبصرین کی طرف سے ایسی رپورٹس ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جنگ کے طویل ہونے کی صورت میں ذخیرے کو برقرار رکھنے کی ضرورت کے باوجود بعض اوقات ایک ہی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑی تعداد میں پیٹریاٹ میزائل داغے جاتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خلیجی دفاع اور ہتھیاروں کی دوڑ کا مستقبل
دفاعی نقطہ نظر سے، روبلن کا خیال ہے کہ ڈرون کا مقابلہ کرنے کے لیے کم لاگت کے طیارہ شکن ہتھیاروں کی ضرورت ہوتی ہے جیسے کہ لیزر گائیڈڈ APKWS میزائل (جو لڑاکا طیاروں یا زمینی نظاموں کے ذریعے استعمال کیے جا سکتے ہیں)، مختصر فاصلے کے توپ خانے پر مبنی دفاعی نظام جغرافیائی طور پر حساس علاقوں کی حفاظت کے لیے تقسیم کیے جاتے ہیں۔
جہاں تک میزائل ڈیفنس کا تعلق ہے، ان کا خیال ہے کہ ’انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخیرے کو بھرنے، دفاعی نظام کی اضافی تہوں میں سرمایہ کاری کرنے، اور زیادہ سینسرز کو تعینات کرنے کی ضرورت ہوگی، ترجیحاً ہوائی جہاز اور شاید سیٹلائٹ پر مبنی سینسرز بھی۔ ان کا خیال ہے کہ امریکہ کے ساتھ ساتھ یورپ اور جنوبی کوریا بھی ان ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’متبادل طاقتوں، جیسے روس اور چین، کے بھی تہران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ جب کہ خلیجی ریاستوں نے یورپ، چین اور روس کا رخ کر کے اپنے ہتھیاروں کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوشش کی ہے۔‘
دانیہ ظفر کو توقع ہے کہ ’خلیجی ریاستوں کی جانب سے واشنگٹن کے ساتھ تعاون بھی جاری رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں حالیہ واقعات کے بعد ہم خطے میں ہتھیاروں کی ایک بڑی دوڑ کے دہانے پر ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ امریکہ خلیجی سلامتی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھے گا۔‘
التھونین کا بھی خیال ہے کہ خلیجی ریاستوں اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور فوجی دونوں طرح کا سٹریٹیجک تعلق جاری رہے گا جب تک کہ یہ مشترکہ اور باہمی مفادات پر مبنی ہو۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
التھونین کا خیال ہے کہ خلیجی ریاستوں کی مستقبل کی سمت میں خلیجی فوجی انضمام کے ذریعے مزاحمتی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا اور کسی بھی قابل اور خواہشمند بین الاقوامی شراکت دار کے تعاون سے مقامی دفاعی صنعتوں کو ترقی دینا شامل ہو گا۔
اس تناظر میں، یہ بات قابل غور ہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے لی مونڈے کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں کیا اعلان کیا کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اپنے اڈوں کے حوالے سے ان کے ملک سے رابطہ کیا ہے۔ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن اور کویت نے بھی ان سے رابطہ کیا تھا۔ زیلنسکی نے نشاندہی کی کہ یوکرینی ماہرین زمین پر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور قیمتی تجربات کا اشتراک کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مشرق وسطیٰ میں کتنے پیٹریاٹ، THAAD، یا دیگر فضائی دفاعی نظام تعینات کیے گئے ہیں، مکمل طور پر موثر فضائی دفاع کے حصول کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے۔ بڑے پیمانے پر ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید انٹرسیپٹرز بھی بنائے گئے ہیں۔‘
زیلنسکی نے وضاحت کی کہ ’ان کا ملک اپنے شراکت داروں کو کوئی بھی اضافی نظام فروخت کرنے کے لیے تیار ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی مہارت کا اشتراک بھی کریں گے۔ ’انٹرسیپٹر ڈرون یوکرین کی مہارت کے بغیر مؤثر طریقے سے کام نہیں کرتے، کیونکہ بالآخر، یہ مربوط نظام ہے۔‘
اہم خبریں
فیچر اور تجزیے
مقبول خبریں
مواد دستیاب نہیں ہے