آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’بکنی کلر‘ چارلس سوبھراج: کسی سیریل کلر کی رہائی کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا جاتا ہے؟
1986 میں انڈیا کے شہر گوا میں فرانسیسی سیریل کلر چارلس سوبھراج کو گرفتار کرنے والی ٹیم کی قیادت کرنے والے 85 سالہ ریٹائرڈ پولیس افسر مدھوکر زینڈے کہتے ہیں کہ ’ایک سیریل مجرم کو کبھی بھی جیل سے رہا نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘
سوبھراج نے 1975 میں کھٹمنڈو میں دو سیاحوں کے قتل کے جرم میں نیپال کی جیل میں 19 سال گزارے ہیں لیکن 1970 کی دہائی میں وہ سیاحوں کے قتل کے دیگر واقعات سے بھی منسلک تھے اور انھوں نے فرانسیسی سیاحوں کو زہر دینے کے الزام میں انڈیا میں 20 سال جیل میں بھی گزارے۔
ان کا تعلق 1972 اور 1982 کے درمیان 20 سے زیادہ ہلاکتوں سے جوڑا جاتا ہے جن میں زیادہ تر نوجوان مغربی بیک پیکرز جو انڈیا اور تھائی لینڈ میں ہپی ٹریل پر تھے اور جنھیں نشہ آور مواد دیا گیا، گلا گھونٹ دیا گیا، مارا پیٹا یا جلایا گیا تھا۔
چارلس سوبھراج کے کیس کو حال ہی میں بی بی سی اور نیٹ فلکس کی شراکت میں بنی پروڈکشن ’دی سرپنٹ‘ میں پیش کیا گیا۔
21 دسمبر کو نیپال کی سپریم کورٹ نے 78 سالہ فرانسیسی شہری کو زیادہ عمر اور اچھے برتاؤ کی وجہ سے رہا کرنے کا حکم دیا۔
سوبھراج چالیس سال کا بیشتر حصہ جیل میں گزارنے کے بعد آزاد ہوئے’ تو مدھوکر زینڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ مستقبل میں ان جیسے سیریل کلرز کی رہائی کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
لیکن کسی سیریل کلر کو رہا کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ آخر کیسے ہوتا ہے؟
گھناؤنے جرائم
طویل سزائیں کاٹنے والوں کے وکلا عام طور پر قیدی کی عمر، جیل میں گزارے گئے وقت اور خراب صحت کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے مؤکلوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔ انھیں اکثر استغاثہ اور متاثرہ خاندانوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بات پر شاذ و نادر ہی اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ گھناؤنے جرائم کے مرتکب قیدی کو کب اور کن بنیادوں پر رہا کیا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ قانونی ماہرین میں بھی۔
نیپال کی سپریم کورٹ نے پایا کہ سوبھراج کو ’مسلسل جیل میں رکھنا قیدی کے انسانی حقوق سے متصادم ہے۔‘
اے ایف پی کے مطابق دل کی بیماری کے باقاعدہ علاج کو ان کی رہائی کا ایک اور عنصر قرار دیا گیا لیکن زینڈے کو عدالت کے فیصلے نے مایوس کیا۔
’میں نے اس جیسا مجرم کبھی نہیں دیکھا۔ اس نے کئی ممالک میں 40 سے زیادہ خواتین کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔‘
وہ مزید کہتے ہیں ’اس کا ماضی اس کے ایک خاص طرز عمل کا پتا دیتا ہے، اس نے لڑکیوں سے دوستی کی، انھیں لالچ دیا، ان کو نشہ آور چیز دی اور قتل کیا۔ وہ معاشرے کے لیے خطرہ ہے۔‘
سوبھراج ایک امریکی خاتون کونی جو برونزچ اور اس کے کینیڈین بیک پیکر دوست لارینٹ کیریری کو قتل کرنے کے جرم میں، 20 سال کی دوہری سزا کاٹ رہے تھے۔
مغربی انڈیا کے شہر پونے کے ایک پولیس افسر کا خیال ہے کہ سوبھراج نے اپنے کیے گئے جرائم کے لیے کافی سزا نہیں بھگتی۔
’شراب، دولت اور عورتیں عام محرکات ہیں جو ایک آدمی کو قاتل بناتے ہیں۔ اگر کسی شخص نے ایک یا دو قتل کیے ہیں تو اس بات کا امکان ہے کہ طویل مدتی قید اسے بدل سکتی ہے لیکن سیریل کلرز کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔۔۔ کچھ مجرم کبھی نہیں بدلتے۔‘
’انتقام جواب نہیں‘
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جرائم کے لیے انصاف کا نظام بہت پہلے ہی انتقام کے ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ والے تصور سے دور ہو چکا ہے۔
ڈاکٹر انوپ سریندر ناتھ کہتے ہیں کہ ’ہم اس مؤقف کے لیے بحث نہیں کر سکتے کہ بعض جرائم کے مرتکب تمام افراد کو کسی بھی حالت میں جیل سے رہا نہیں کیا جانا چاہیے۔ اصلاح اور بحالی کے عزم کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔‘
انوپ سریندر ناتھ، قانون کے پروفیسر ہیں اور دلی میں نیشنل لا یونیورسٹی میں فوجداری انصاف کے پروگرام ’پروجیکٹ 39A‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ انڈیا میں اکثر سخت اور لمبی سزاؤں کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ ’اس عمل میں بہت کم شفافیت ہے جو انڈین جیلوں میں پیرول اور معافی کا باعث بنتا ہے۔ ‘
’یہ ایک المناک مسئلہ ہے، ہم جانتے ہیں کہ ہماری جیلیں کسی بھی بامعنی طریقے سے اصلاح اور بحالی کی سہولت فراہم نہیں کرتی ہیں اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ریاستی ناکامی کو یہ دلیل دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ بعض جرائم کے مرتکب افراد کو رہا نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
ڈاکٹر سریندر ناتھ کے لیے، انصاف فراہم کرنے کا واحد راستہ سزا نہیں۔
وہ کہتے ہیں ’ہم متاثرین کے لیے انصاف کو مجرموں کے لیے دائمی قید کے طور پر نہیں دیکھ سکتے۔ جب کوئی جرم ہوتا ہے تو ریاست اور معاشرہ، شکار ہونے والے اور مجرم دونوں کے تیئں ناکام ہو جاتے ہیں۔ ‘
’متاثرین اور مجرموں دونوں کے تئیں ریاست کی ذمہ داری ہے اور ریاست مجرمانہ انصاف کا نظام قائم کرنے کے لیے متاثرہ شخص کی تکالیف کو پورا نہیں کر سکتی جو خالصتاً انتقام پر مبنی ہو۔‘
یہ بھی پڑھیے
’ہم خاندانوں کے مقروض ہیں‘
برطانیہ کی نوٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی میں سائیکالوجی کی سینیئر لیکچرار سرینا سیمنز نے بی بی سی کو بتایا کہ سوبھراج کے معاملے میں انھیں رہا نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ متاثرین کے خاندانوں کی سراسر بے عزتی ہے۔ وہ واضح طور پر ایک خطرناک آدمی ہے، جس نے اپنے قتل کو اپنا کیریئر بنایا اور ایسا کرنے میں بہت خوشی حاصل کی۔‘
سیمنز نے برطانیہ میں بہت سے سیریل کلرز کے ذہنی ساخت کا مطالعہ کیا ہے (وہ لوگ جنھوں نے تین یا زیادہ لوگوں کو قتل کیا)۔
’ایک سیریل کلر کی عام پروفائل یہ ہے کہ وہ 23 سے 35 سال کی عمر کے درمیان ہوتا ہے، مرد اور ذہین ہوتا ہے۔ متاثرین کو راغب کرنے کے لیے اسے ایک خاص سطح کی نفاست کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ اپنے شکار کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں باقیوں سے بہتر ہوتے ہیں۔
تو کیا کبھی سیریل کلرز کو رہا کیا جانا چاہیے؟
سیمنز کا کہنا ہے کہ چار عوامل پر غور کیا جانا چاہیے:
- کتنے متاثرین تھے؟
- کیا ریپ کا کوئی ثبوت تھا؟
- جرائم میں کتنی منصوبہ بندی اور تنظیم شامل ہے؟ کیا انھوں نے اپنے اقدامات کو چھپانے/ثبوتوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی؟
- کیا دماغی صحت کے مسائل کا کوئی ثبوت ہے؟
سیمنز کا خیال ہے کہ فوجداری نظام انصاف کو کسی قسم کی نرمی دکھانے سے پہلے انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔
’سیریل کلرز پیچیدہ ہوتے ہیں اور اسی لیے خطرناک ہوتے ہیں۔ بہت سے قاتل تیز ڈرائیونگ کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان میں قتل کی خواہش ابھرتی ہے اور وہ جو کہ انتہائی نفیس ہوتے ہیں، وہ اپنے شواہد مٹاتے ہیں اور اپنے جرائم کی منصوبہ بندی اور انجام دینے میں وقت صرف کرتے ہیں، میری رائے میں بہت کم ثبوت ہیں جن سے اس بات کی نشاندہی ہو کہ وہ کمیونٹی میں واپس جانے کے لیے ’محفوظ‘ ہیں۔‘
’بہت سے لوگ پچھتاوے کی کوئی علامت نہیں دکھاتے ہیں، صرف اس حقیقت پر پچھتاوا ہے کہ وہ پکڑے گئے ہیں۔‘
برطانیہ میں سیریل کلرز کو پوری عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے جس کا مطلب ہے کہ انھیں کبھی رہا نہیں کیا جا سکتا لیکن سیمنز بتاتی ہیں کہ بہت سے ممالک میں وہ باہر نکل جاتے ہیں کیونکہ سوبھراج کی طرح، انھیں اپنے ہر جرم کی سزا نہیں ملتی۔
ان کے صرف چند جرائم ہی ٹرائل کے مرحلے تک پہنچتے ہیں اور کچھ کو ثبوت کی کمی یا مضبوط قانونی دفاع کی وجہ سے سزا نہیں دی جاتی۔
زینڈے انڈیا اور دیگر جگہوں کے فوجداری انصاف کے نظام میں تبدیلیاں دیکھنا چاہتے ہیں جو ایسے مجرموں کو بڑھاپے یا صحت کے مسائل کی وجہ سے جیل سے باہر جانے سے روکیں گے۔
’میں یقینی طور پر متاثرہ خاندانوں کی تکلیف محسوس کرسکتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ سوبھراج جیسے سیریل کلر کبھی جیل سے باہر نہ آئیں۔‘
’قید کی کوئی حد نہیں ہونی چاہیے، موت تک عمر قید ہی صحیح سزا ہے۔‘