کورونا کے سائے تلے دنیا میں زندگی کیسی گزر رہی ہے، تصویری جھلکیاں

دنیا بھر میں روزانہ کی بنیاد پر کورونا کے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوئے ہیں، ایسے میں رواں ہفتے دنیا بھر میں کوویڈ-19 کے سائے میں زندگی کیسی گزر رہی ہے، دیکھیے چند منتخب کردہ تصاویر۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکیتھڈرل آف بارسیلا جہاں مسیحی برادری ایسٹر سے پہلے پام سنڈے کے موقع پر اکٹھی نہیں ہو سکی۔ وجہ کورونا وائرس کی وجہ سے لگی پابندیاں ہیں۔ سروس بند دروازوں کے پیچھے ہوئی تاہم اسے سوشل میڈیا پر نشر کیا گیا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیہ تھائی لینڈ کے پرنس ہسپتال کا منظر ہے جہاں ایک نرس نوزائیدہ بچوں کے چہروں پر حفاظتی شیلڈ لگا رہی ہیں تاکہ انھیں کورونا وائرس سے بچایا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیہ جوکر اسرائیل کے زیرِ قبضہ غزہ کی پٹی کی گلیوں میں اس لیے پھر رہے ہیں تاکہ وہ گھروں میں محدود فلسطینی بچوں کو محظوظ کر سکیں۔ گھروں میں محدود ہونے کے لیے یہ احکامات لک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر دیے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنآپ جلد صحت یاب ہو جائیں۔ یہ پیغام بطانیہ کے علاقے ویسٹ منسٹر میں سر ونسٹن چرچل کے مجسمے پر اس وقت آویزاں کیا گیا جب کورونا وائرس سے متاثرہ ملک کے وزیراعظم بورس جانسن آئی سی یو میں منتقل ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایکواڈر کے علاقے گوائےکل میں دیورن نامی قبرستان کے باہر کوونا وائرس کا شکار ہونے والوں کی آخری رسومات کے لیے ان کے عزیزو اقارب موجود ہیں۔ ان افراد کی نعشیں کئی روز تک ان کے گھروں میں رہیں کیونکہ مردہ خانوں میں جگہ نہیں تھی۔ یہ ایکواڈور کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیہ یوکرین کے گاؤں راہویکا کے باہر کا منظر ہے جہاں موجود جوہری پلانٹ چرنوبل کے بیرونی علاقے میں موجود جنگل میں لگی آگے سے دھواں اٹھ رہا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیہ چین کے شہر ووہان میں گاڑیوں کی کمپنی ڈانگفینگ ہنڈا کا پلانٹ ہے جہاں لوگوں حفاظتی ماسک چہرے پر لگائے اپنے کام میں مصروف ہیں۔ ۔ جو کورونا وائرس کی وبا کا مرکز تھا۔ یہاں سے آٹھ اپریل کو دو ماہ کے بعد لاک ڈاؤن ختم کر دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمیسیڈونیا میں پرندوں کے گھونسلے کے پیچھے موجود پِنک سپر مون کی تصویر۔ اسے پنک مون رنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ جنگلوں میں پھولوں کے کھلنے کے آغاز کے حوالے سے یہ نام دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنانڈونیشیا کے علاقے بوگور کے ہوٹل 101 کے چند کمروں میں بتیاں جلا کر دل کی شکل بنائی گئی ہے یہ دراصل طبّی عملے کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اظہار ہے۔