’دا گریٹ مارچ آف ریٹرن‘، فلسطینیوں کے اسرائیل کی سرحد کے قریب مظاہرے پرتشدد مظاہرے

فلسطینیوں کی جانب سے لگاتار چوتھے ہفتے بھی غزہ اور اسرائیل کی سرحد کے قریب مظاہرے جاری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنفلسطینیوں کی جانب سے لگاتار چوتھے ہفتے بھی غزہ اور اسرائیل کی سرحد کے قریب مظاہرے جاری ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنہر جمعہ کے روز فلسطینی مظاہرین غزہ اور اسرائیلی سرحد کے قریب مظاہرے کرتے ہیں۔ ان مظاہروں میں حکام کے مطابق آنسو گیس اور فائرنگ کے نتیجے میں دو سو کے قریب مظاہرین زخمی ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناسرائیلی فوج کی جانب سے نہتے فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ کے باعث عالمی سطح پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنفرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق فلسطینی مظاہرین اس ہفتے ایک نئی ترکیب کا استعمال کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمظاہرین بڑی بڑی پتنگوں کے ساتھ مولوتوو لٹکا کر غزہ اور اسرائیلی سرحد کے قریب چھوڑ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمظاہرین کی کوشش ہے کہ وہ درجنوں پتنگیں سرحد کے اس پار اڑائیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنان میں سے کچھ پتنگوں کے ساتھ نوٹ لگے ہوئے ہیں جن پر اسرائیلیوں کے لیے لکھا ہے ’فلسطین میں تم لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں 15 سالہ لڑکے سمیت مزید 4 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں اور اب تک اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں ہلاکتوں کی تعداد 35 تک پہنچ گئی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنفلسطینیوں کی جانب سے ان مظاہروں کو ’دا گریٹ مارچ آف ریٹرن‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مظاہرے 30 مارچ کو شروع کیے گئے تھے اور امکان ہے کہ ان کا اختتام 15 مئی کو ہو گا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناسرائیلی سکیورٹی فورسز نے پمفلیٹ پھینکے ہیں جن میں فلسطینی مظاہرین کو سرحد کے قریب آنے سے منع کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنہر ہفتے فلسطینی مظاہرین اس جگہ ٹائر جلاتے ہیں جہاں پر اسرائیلی سنائپرز تعینات ہوتے ہیں