سومو پہلوان سانس کیسے لیتے ہیں

سومو پہلوالوں کا کھانا، پینا، یہاں تک سانس لینا بھی جاپانی انداز میں ہوتا ہے

،تصویر کا ذریعہISSEI KATO/REUTERS

،تصویر کا کیپشنسومو کشتی کی روایت جاپان میں صدیوں پرانی ہے۔ ناگویا شہر کے بودھ خانکاہوں میں کچھ سومو پہلوان ہر روز تین گھنٹے سے زیادہ پریکٹس کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہISSEI KATO/REUTERS

،تصویر کا کیپشنکہتے ہیں کسی کا سومو پہلوانی کی دنیا میں شامل ہونے کا مطلب ہوتا ہے اس کا پوری طرح جاپانی ہو جانا۔

،تصویر کا ذریعہISSEI KATO/REUTERS

،تصویر کا کیپشنسومو پہلوانوں کی طرز زندگی پوری طرح جاپانی ہوتی ہے۔ ان کے کھانے پینے سے لیکر زندگی کے دیگر تمام کام تک سب کچھ۔

،تصویر کا ذریعہISSEI KATO/REUTERS

،تصویر کا کیپشنلیکن سخت محنت اور روایتی بندشوں کی وجہ سے جاپانی نوجوانوں میں اس فن میں دلچسپی گھٹ رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہISSEI KATO/REUTERS

،تصویر کا کیپشنحالات اتنے بدل گئے ہیں کہ اس کھیل میں اب غیر ملکیوں کا دبدبا بڑھ رہا ہے۔ منگولیا کے کھلاڑی اب اس کھیل میں کافی آگے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہISSEI KATO/REUTERS

،تصویر کا کیپشنجاپان میں سومو پہلوانی کا ایک روحانی پہلو بھی ہے۔ جاپانی لوگوں کے لیے اس کھیل کی بڑی اہمیت ہے۔

،تصویر کا ذریعہISSEI KATO/REUTERS

،تصویر کا کیپشنزیادہ تر تربیت کے مراکز بودھ خانکاہوں سے جڑے ہیں۔ جب ان کی تربیت ختم ہوتی ہے تو ان کے چاہنے والے انہیں گھیر لیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہISSEI KATO/REUTERS

،تصویر کا کیپشنبچے ان کے آٹوگراف لیتے ہیں، چاہنے والے ان کی تصاویر لیتے ہیں اور پھر پہلوانوں کو دن کا پہلا کھانا ملتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہISSEI KATO/REUTERS

،تصویر کا کیپشنپہلوانوں کی دن کی خوراک طے ہے۔ ان کا کھانا جونیئر پہلوان تیار کرتے ہیں۔ انہیں روزانہ آٹھ ہزار کیلوری کی ضرورت پڑتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہISSEI KATO/REUTERS

،تصویر کا کیپشنپہلوان کھانے کے بعد کچھ گھنٹوں کے لیے سو جاتے ہیں۔ سانس لینے میں آسانی کے لیے وہ منہ پر ماسک کا استعمال کرتے ہیں۔