BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 April, 2005, 14:47 GMT 19:47 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
 
زمین جیسے سیاروں کی افزائش کے لیے وقت اور جگہ دونوں میسر ہیں
برطانوی محققین کا کہنا ہے کہ وہ یقین سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ ہماری اس زمین کے علاوہ بہت سی ایسی زمینیں بھی ہیں جن کا دریافت ہونا باقی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ اب تک دریافت کیے جانے والے سیاروں میں سے قریباً نصف پر زندگی موجود ہو۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر عجیب وغریب جگہیں ہوں گی جہاں عظیم الجثہ سیارے اپنے ستاروں کے نزدیک مدار میں گھوم رہے ہوں گے۔

سائنسدان بیری جونز اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان تمام عجیب وغریب سیاروں کے علاوہ کچھ چٹانی سیارے بھی موجود ہیں جہاں زندگی پائی جا سکتی ہے۔

اوپن یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیم نے اپنی ریسرچ کا اعلان منگل کو برطانیہ میں ہونے والی قومی فلکیات کانفرنس میں کیا۔

اس ریسرچ میں سیاروں کی تشکیل کے لیے ضروری عوامل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس بات کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ زمین جیسے کتنے اور سیارے اس کائنات میں موجود ہو سکتے ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے کہا ہے کہ ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نصف سے زیادہ سیاروں کے ایسے نظام موجود ہیں جہاں زمین جیسے عوامل پائے جا سکتے ہیں اور زندگی پنپ سکتی ہے۔ تاہم ابھی تک ایسی دوربین تیار نہیں کی جا سکی ہے جس کی مدد سے ان ’ایکسٹرا سولر‘ یا اضافی شمسی سیاروں کا جائزہ لیا جا سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ زمین جیسے سیاروں کے بڑھنے کے لیے کافی وقت اور جگہ دونوں میسر ہیں۔

بیری جونز، نک سلیپ اور ڈیوڈ انڈروڈ کی اس تحقیق کو آسٹروفزیکل جرنل میں شائع کیا گیا ہے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد