BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 September, 2004, 10:43 GMT 15:43 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کمپیوٹروں کو خطرہ بڑھ گیا
 
کمپیوٹروں پر حملہ آور ہونے والےمختلف وائرسوں اور دیگر نقصان دہ پروگراموں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

کمپیوٹروں کے تحفظ کے لیے سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی مکافی کا کہنا ہے کہ سباٹ کی قسم کے ایک وائرس کو کمپیوٹروں کی سیکیورٹی کے لیے لاکھواں خطرہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

یہ بگ کمپیوٹر میں داخل ہو کر وائرس کو پھیلنے میں مدد دیتاہے اور کمپیوٹر کے مالک کی ذاتی تفصیلات چراتا ہے۔

مکافی کا کہنا ہے کہ ایسے وائرسوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے جو ایسے موذی پروگرام پیدا کرنےکے لیے تیار کیے جاتے ہیں جو سکیورٹی سافٹ ویئرز کو دم بخود کر دیتے ہیں۔

مکافی کے ترجمان وینسینٹ گولاٹو کہتے ہیں کہ ’سپائی ویئر‘ اور ایڈ ویئر‘ انچاہے کمپیوٹر پروگراموں کے زمرے میں آتے ہیں کیوں بیشتر لوگ انجانے میں ہی ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ایڈ ویئر کے باعث پاپ اپ اشتہار صارف کے انٹرنیٹ پر براؤزنگ کے دوران یا براؤزنگ کے بغیر ہی کمپیوٹر میں آ جاتے ہیں جبکہ سپائی ویئر اس بات پر نظر رکھتا ہے کہ صارف کن سائٹس پر جاتے ہیں اور کمپیوٹر پر کیا کام کرتے ہیں۔

وینسینٹ گولاٹو کہتے ہیں کہ سن دو ہزار تین میں بائیس ہزار بگ سامنے آئے ہیں جن میں سے بیشتر ونڈوز کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کے مطابق بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سن دو ہزار میں اس سے بھی زیادہ بگ سامنے آئیں گے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد