BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 12 January, 2009, 17:22 GMT 22:22 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
عراق پر غلطیاں ہوئیں: بش
 
بش اور لارا بش وائٹ ہاؤس میں آٹھ سال رہے
صدر بش نے صدر کی حیثیت میں اپنی آخری پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ان سے عراق کے بارے میں غلطیاں ہوئی ہیں اور عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے نہ ملنے پر وہ مایوس ہوئے تھے۔

نو منتخب صدر باراک اوبامہ کو اقتدار حوالے کرنے سے آٹھ دن قبل صدر بش نے اپنے پیش رو کو خبردار کیا کہ امریکہ حملہ کا ابھی خطرہ موجود ہے۔

صدر بش نے ایران اور شمالی کوریا کو بدی کا محور قرار دیتے ہوئے کہا وہ بھی خطرناک ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی کوریج کرنے والے اخبارنویسوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنے آٹھ سالہ دورۂ اقتدار میں پریس کی طرف اُن کو حاصل تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برس میں انہیں اتوار کے سوا روزانہ سکیورٹی بریفنگ دی گئی۔

اخبارنویسوں کی طرف سے سوالات میں یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا عراق پر حملے کی وجہ سے امریکی کی اخلاقی برتری کو نقصان پہنچا ہے تو بش نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ عراق میں دو ہزار تین میں ’مشن کامیاب‘ کے بینر تلے امریکی فوج سے خطاب کرنا ایک غلطی تھی۔

صدر بش نے کہا کہ ابو غریب میں قیدیوں پر تشدد کی خبر بھی ان کے لیے شدید مایوسی کا باعث تھی۔

امریکہ کے اندر انہوں نے کہا کترینہ طوفان میں حکومت کا ردعمل ٹھیک تھا تاہم انہوں نے کہا کہ اس سے بہتر کیا جا سکتا تھا۔

 
 
اسی بارے میں
صدر بش کا سب سے بڑا پچھتاوا
02 December, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد