 | | | نئی انتظامیہ کی قیادت سلام فیاد کر رہے ہیں اور حماس اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتی۔ |
نئی فلسطینی انتظامیہ نے اسرائیل کے خلاف مسلح مزاحمت کے لیے سابق حماس انتظامیہ کی پالیسی ختم کر دی ہے ۔ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کی نامزد کردہ نئی حکومت نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ ختم کرنے کے لیے کام کرے گی۔ اس حکومت کا مطالبہ ہے کہ غرب اردن اور غزہ کی پٹی کو ملا کر آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا صدر مقام یروشلم ہو۔ نئی فلسطینی حکومت نے فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کے منصفانہ حل کا بھی مطالبہ کیا۔ نئی انتظامیہ کی قیادت سلام فیاد کر رہے ہیں۔ حماس اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتی۔  | | | محمود عباس اور ایہود اولمرت | دریں اثناء فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے فلسطینی سکیورٹی کے سربراہ کا استعفیٰ منظور کرلیا۔ جمعہ کو ذرائع ابلاغ کے مطابق فلسطینی سکیورٹی کے سربراہ اور فتح کے قومی سلامتی کے مشیر محمود دلان نے اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ صدرمحمودعباس کو پیش کیا تھا۔ محمود دلان نے استعفیٰ دینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے نجی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دیا ہے ۔ دوسری طرف فلسطینی عہدہ داروں کا کہنا ہے کہ محمود دلان کو غزہ کی پٹی میں فتح پارٹی کی حماس کے ہاتھوں شکست کا ذمہ دار پانے کے بعد نکالنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس شکست کے باعث محمود دلان پر شدید نکتہ چینی کی گئی اوران کے استعفیٰ دینے کی بھی یہی وجہ ہے۔ |