 | | | لندن حملوں کا ایک بمبار صدیق خان |
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں مبینہ خود کش بمباروں کے تیار کردہ ویڈیو پیغامات حاصل ہوئے ہیں۔ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق یہ شہیدی ویڈیوز پولیس نے ان لیپ ٹاپ کمپیوٹرز سے برآمد کیئے ہیں جو چھاپوں کے دوران ضبط کیئے گئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں کئی گرفتار کیئے جانے والے کئی ملزمان کو دیکھا جا سکتا ہے۔ گزشتہ برس سات جولائی کو لندن کے بم حملوں کے بعد بھی ایسے شہیدی ویڈیو منظر عام پر آئے تھے جن میں دو خود کش بمباروں، صدیق خان اور شہزاد تنویر کو یہ بتاتے ہوئے دکھایا گیاتھا کہ انہوں نے یہ حملے کیوں کیئے۔ پولیس کو تفتیش کے دوران ایک سوٹ کیس بھی ملا ہے جس میں مبینہ طور پر بم بنانے کا سارا ساز وسامان موجود تھا لیکن پولیس نہ تو شہیدی ویڈیو ملنے کی ہی تصدیق کر رہی ہے اور نہ ہی اس سوٹ کیس کی لیکن یہ بتایا گیا ہے کہ اب پورے ملک کی پولیس فورس تفتیش میں تعاون کر رہی ہے۔ ادھر پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے جمعہ کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ برطانوی قانونی ماہرین کی ایک ٹیم اسلام آباد آئی ہوئی ہے اور مبینہ سازش کے بارے میں پاکستانی حکام سے بات چیت کر رہی ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ٹیم پاکستان میں گرفتار ہونے والے راشد رؤف سے متعلق تحقیقات کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہے۔ ایک اور سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ٹیم کے ارکان کو راشد رؤف سے پوچھ گچھ کی تاحال اجازت نہیں دی گئی ہے اور نہ ہی برطانوی حکومت نے راشد رؤف کو برطانیہ حوالے کرنے کی بات کی ہے۔ تاہم راشد رؤف کے والد عبدالرؤف کی گرفتاری کے بارے میں وزیر داخلہ نے لاعلمی ظاہر کی۔ ایک خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے سرکاری ذرائع سے خبر دی ہے کہ عبدالرؤف کے والد کو کچھ عرصہ قبل ایک ہوائی اڈے سے اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ پاکستان سے باہر جا رہے تھے۔ |