 | | | طویل مذاکرات کے بعد امریکہ نے انہیں فرانس کے حوالے کیا تھا |
خیلج گوانتانامو کے حراستی مرکز سے رہائی پانے والے چھ فرانسیسی قیدیوں پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات پر قائم کیئے جانے والے مقدمات کی سوموار سے پیرس میں سماعت شروع ہورہی ہے۔ ان چھ قیدیوں کو افغانستان پر امریکی حملے کے بعد افغانستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہیں طالبان کی طرف سے لڑنے کے لیئے بھرتی کیا گیا تھا۔ پیرس سے بی بی سی کے نمائندے نے کہا ہے کہ ان مقدمات کی سماعت سے ایک مرتبہ پھر گوانتانامو کے حراستی مرکز کے حالات زیر بحث آئیں گے۔ قیدیوں میں شامل خالد بن مصطفیٰ نے ایک فرانسیسی اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ گوانتانامو کے حراستی مرکز پر تعینات فوجی ان پر مسلسل تشدد کرتے رہے اور ان سے روزانہ مارپیٹ کی جاتی تھی۔ خالد مصطفیٰ نے کہا کہ وہ تجسس کی وجہ سے افغانستان گئے تھے اور ان کا لڑائی میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ گزشتہ دو سال کے دوران ان قیدیوں کو فرانس کے واپس کیا گیا ہے اور ان قیدیوں کے لیے امریکہ اور فرانس کے حکام میں طویل مذاکرات ہوئے تھے۔ |