BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 August, 2005, 11:52 GMT 16:52 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
سمندری طوفان، 80 سے زیادہ ہلاک
 
بلاکسی کے قصبے میں ایک عمارت میں تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں
امریکی تاریخ کے شدید ترین سمندری طوفان ’ہریکین کترینہ‘ سے80 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ اربوں ڈالر مالیت کی املاک کو نقصان پہنچا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سے زیادہ ہلاکتیں ریاست مسیسپی کی ایک کاؤنٹی میں ہوئی ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ نیو آرلینز نامی شہر بھی زیرِ آب آ گیا ہے۔

مسیسپی کے ساحلی قصبے بلاکسی اور گلف پورٹ طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق امریکہ کے ساحلوں سے ٹکرانے والا یہ سب سے طاقتور سمندری طوفان ہے اور اس کے نتیجے میں اب تک چودہ ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

مسیسیپی کے گورنر ہیلی باربر نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’انہیں مزید اموات کا خدشہ ہے‘۔

ہیریسن کاؤنٹی ایمرجنسی سروسز کے ترجمان جم پولارڈ کا کہنا ہے کہ بلاکسی کے قصبے میں ایک عمارت میں تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں‘۔ مسیسپی میں ہی ایک درخت گرنے سے تین افراد ہلاک ہوئے جبکہ الاباما میں دو لوگ ایک ٹریفک حادثے میں مارے گئے۔

نیو آرلینز کی سڑکیں زیر آب آگئیں

سمندری طوفان نے ملک کے جنوبی ساحل پر تباہی مچا دی ہے۔ خاص طور پر نیو آرلینز میں شدید تباہی ہوئی ہے جہاں نشیبی حصوں میں چھ فٹ تک پانی کھڑا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ساحلی شہر نیواورلیانز میں بجلی کے کھمبے اور درخت اکھڑ گئے ہیں اور دکانیں تباہ ہو گئی ہیں۔ تین سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے باعث گاڑیاں دور دور جا گریں۔

اسی فیصد لوگ شہر چھوڑ چکے ہیں۔ باقیوں نے جس عمارت میں پناہ لے رکھی تھی اس کی چھت کے کئی حصے بھی اڑ گئے ہیں۔

اس طوفان کی وجہ سے خلیج میکسیکو کی تیل کی تنصیبات بند کر دی گئی ہیں۔ اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ ڈر ہے کہ یہ قیمت جو ابھی ستر ڈالر فی بیرل ہے، سو ڈالر فی بیرل تک نہ جا پہنچے۔

اس طوفان سے ریاست فلوریڈا میں پہلے ہی نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی صدر جارج بش نے ریاست لویزیانا کے علاوہ اس کی پڑوسی ریاست مسیسپی میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے تاکہ زیادہ تباہی کی صورت میں یہاں وفاقی امداد جلد از جلد پہنچائی جا سکے۔

نیو آرلینز
شہر میں دس ہنگامی شیلٹر بھی قائم کر دیے گئے ہیں

نیو آرلینز کے مئیر نے بتایا ہے کہ چونکہ یہ شہر سمندر کے سطح سے تقریباً چھ فٹ نیچے واقع ہے اس لیے یہاں سب سے بڑا خدشہ سیلاب کا ہے۔ میئر کا کہنا ہے کہ ’شہر میں لاشیں تیرتی پھر رہی ہیں‘۔

نیوآرلینز جنوب مشرقی ریاست لویزیانا کا اہم شہر ہے اور یہاں تقریباً پانچ لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ شہر خالی کرانے کے احکامات کے بعد شہر سے باہر جانے والی شاہراہوں پر ٹریفک کی لمبی قطاریں لگ گئی تھیں۔

بہت سے شہریوں نے جانے سے قبل اپنے گھروں اور دکانوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش میں ان کو تختے لگا کر بند کر دیا۔ حکام نے شہر کے ان لوگوں کے لیے دس ہنگامی شیلٹر یعنی پناہ گاہیں بنائیں جو شہر چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

 
 
66قطرینہ کی تباہی
امریکہ میں سمندری طوفان نے تباہی مچا دی
 
 
66زمین کی گردش
زمین کے اندرونی حصے کی گردش زیادہ تیز ہے
 
 
اسی بارے میں
 
 
بیرونی لِنک
 
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد